الخميس، 30 صَفر 1448| 2026/08/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    26 من صـفر الخير 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/05
عیسوی تاریخ     اتوار, 09 اگست 2026 م

 

پریس ریلیز

 

 

جمہوریت مغرب کا نظام حکومت ہے، اس کی ناکامی لازم ہے۔ وحی پر مبنی سیاسی اور حکومتی نظام خلافت ہے جس کا قیام امت اور اہلِ نصرۃ پر فرض ہے

 

 

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو پاکستان کے آرمی چیف کے قریبی ساتھی اور فرنٹ مین سمجھے جاتے ہیں، کی 29 جولائی کو اسلام آباد میں اکنامک سمٹ میں تقریر جس میں انہوں نے "موجودہ نظام کے انہدام" کا ذکر کیا اور اس کے اگلے دن، 30 جولائی کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے گڈ گورننس کے حوالے سے بیان نے ایک بار پھر ملک بھر میں حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی کی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم تبدیلی کی یہ بحث اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان کے مسائل کو حل کیا جائے، بلکہ دراصل یہ بحث قانون سازی اور ریاستی فنڈز کے اوپر اختیار اور کنٹرول کے لیے سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان ایک اداراجاتی لڑائی ہے۔ اس معاملے پر حزب التحریر امت کے سامنے تین نکات واضح کرنا چاہتی ہے۔

 

1) جمہوریت ایک غیر اسلامی نظامِ حکومت ہے جس کو برصغیر میں برطانیہ نے متعارف کرایا۔ جمہوریت میں قانون بنانے کا اختیار انسان کے پاس ہے جو معاشرے کے لیے جائز و ناجائز، جزا و سزا اور حلال و حرام کا تعین کرتا ہے۔ جمہوریت میں معاشرے کے لیے اعلیٰ مقاصد، معاشرے کی سمت کا تعین اور معاشرے کی ریڈ لائن وغیرہ قانون ساز اسمبلی کے ذریعے انسان خود مقرر کرتے ہیں۔ اسلام کی رو سے قانون بنانے کا اختیار انسان کے پاس نہیں، بلکہ کائنات کے خالق اور مالک اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی قانون ساز اور اقتدار اعلیٰ کے مالک ہیں۔ انسان کے پاس قانون بنانے کا اختیار اور خصوصاً قانون کے ذریعے معاشی وسائل کے حصول اور انہیں خرچ کرنے کا اختیار جمہوریت میں اشرافیہ اور مختلف اداروں کے درمیان لڑائی اور مقابلہ بازی کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے پارلیمانی جمہوریت ہو یا صدارتی، جمہوری نظام حکومت میں فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے درمیان قانون بنانے کے اختیار کے لیے رسہ کشی جاری رہتی ہے، یہی قانون بنانے کے اختیار کی طاقت ہے جس کے حصول کے لیے سیاسی پارٹیاں اور فوجی قیادت الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے من پسند قوانین بنائے جا سکیں۔ اور اگر سیاسی اشرافیہ اور فوجی قیادت الیکشن میں مداخلت نہ بھی کریں تو جمہوری نظام حکومت میں قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں، ان کے ووٹ کی خرید و فروخت اور ان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آمادہ کرنے کی تحریکیں جمہوری نظام حکومت اور جمہوری سیاست کا خاصہ ہیں اور اس کا مشاہدہ پاکستان اور ہر اس ملک میں کیا جاسکتا ہے جس میں جمہوری نظام حکومت قائم ہے۔ یہ صرف خلافت کا نظام ہے جس میں قانون سازی کا اختیار نہ خلیفہ کو حاصل ہے نہ ہی مجلس امت کو، بلکہ خلافت میں صرف شرعی قوانین ہی نافذ ہوتے ہیں، اور یہ خلیفہ کی بیعت کے عقد کا حصہ ہے کہ لوگ خلیفہ کی بیعت، شریعت کے نفاذ کی شرط پر کرتے ہیں۔ جمہوریت اور سرمایہ درانہ نظام کی ناکامی ایک فطری بات ہے اور صرف خلافت کا نظام ہی پاکستان کو دیرپا استحکام اور ترقی کی راہ پر ڈالے گا۔

 

2) پاکستان میں جس نظام کی ناکامی پر بحث چل رہی ہے وہ مغربی تہذیب، مغربی سیاسی تجربے اور مغربی تاریخی تجربے پر مبنی حکومتی، سیاسی، عدالتی اور معاشرتی نظام ہے۔ یہ نظام مغرب کے سیکولر نظریات اور دین اور دنیا کی جدائی کی سوچ پر تشکیل دیا گیا ہے۔ حکمرانی سے متعلق وہ تصورات جو آج پاکستان میں نافذ ہیں، کفریہ اور غیر اسلامی تصورات ہیں۔ فیڈرلزم پر مبنی تین سطحی حکومتی نظام، مقننہ، عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کی تقسیم، ذاتی ملکیتی کا تصور، رائے اور مذہبی آزادیوں کا تصور، آزاد منڈیوں پر مبنی وسائل کی تقسیم، سود پر مبنی سرمایہ کاری، کاغذی کرنسی کا اجراء، عالمی آرڈر کی ماتحتی، انگلش کامن لا کا عدالتوں میں نفاذ، قومی ریاست پر مبنی خارجہ پالیسی کی تشکیل اور دنیا کی بڑی طاقتوں سے قرضوں کا حصول اور ان پر فوجی ساز وسامان کے لیے انحصار۔ یہ ہیں وہ سیاسی تصورات جن کے نفاذ نے پاکستان کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، اور جن کا اسلام، اس کے قانون اور مسلمانوں کی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک ان سیاسی تصورات کو ترک کر کے اسلام کے نظام خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کے احکامات کو نافذ نہیں کیا جاتا، پاکستان اور مسلم دنیا ترقی اور قوت کے راستے پر گامزن نہیں ہو پائے گی۔

 

3) مسلم امت موجودہ ہائبرڈ اور اس سے پہلے نافذ جمہوری نظام دونوں کو مکمل طور پر مسترد کر چکی ہے۔ کیونکہ یہ نظام حکومت مسلمانوں کے عقیدے اور ان کے دنیا کے بارے میں نقطہء نظر سے متصادم ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ امت نے کبھی ان نظاموں کو اپنایا ہی نہیں۔ یہ مغربی نظام مسلم امت پر جبراً اور طاقت کے زور پر خلافت عثمانیہ کے انہدام کے بعد مغربی استعمار نے نافذ کیے۔ برصغیر میں مسلمانوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی مگر وہ برطانیہ کو تو اس خطے سے نکالنے میں تو کامیاب ہو گئے مگر اس کے رائج نظام سے چھٹکارا نہ پا سکے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے 1947 سے کے کر آج تک برطانیہ کا چھوڑا ہوا نظام ہی نافذ کیا اور چلایا ہے۔ اس نظام کو چلانے کیلیے سیاسی، فوجی اور تکنیکی اشرافیہ مغربی یونیورسٹیوں اور مغربی اداروں سے مدد اور ٹرینگ لے کر ہی اس نظام کو چلا رہے ہیں اور اس نظام کا امت، اسلام، اسلام کی تاریخ، اسلام کی ثقافت اور اسلامی قانون و فقہ سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت آج اس نظام کو مکمل طور پر دفن کرنے کے لیے تیار ہے۔

 

پاکستان سمیت مسلم دنیا میں حقیقی استحکام صرف خلافت کے نظام کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے، جب قانون سازی کا اختیار مختلف انٹرسٹ گروپس کے بجائے صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو حاصل ہو۔ مسلم امت پر یہ فرض ہے کہ وہ موجودہ کفریہ نظام کے خاتمے اور خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرے۔ وحی پر مبنی نظام حکومت کے قیام میں ہی امت کی دنیا اور آخرت کی کامیابی منحصر ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾

"اور جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت نہیں کرتے، وہی لوگ تو کافر ہیں۔" [المائدۃ :44]

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک