Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اے افغانستان کے مسلمانو! امریکی سانپ کو سامنے کے دروازے سے نکالنے کے بعد اسے پچھلے دروازے سے دوبارہ داخل نہ ہونے دو!

 

 

خبر:

افغانستان کے وزیرِ خارجہ، امیر خان متقی، نے کابل میں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’’ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کا باب ختم ہو چکا ہے، اور اب ہم باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کا آغاز چاہتے ہیں‘‘۔ مسٹر متقی نے کہا کہ امریکہ ’’اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول سکتا ہے، سفارتی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے اور افغانستان کی وسیع معدنی دولت، ڈیموں اور سڑکوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے‘‘۔

 

نیویارک ٹائمز، 14 اگست 2026

 

https://www.nytimes.com/2026/08/14/world/asia/afghanistan-us-taliban.html?eafs_enabled=false

تبصرہ:

طالبان قیادت، پاکستان کی ہم آہنگی اور سہولت کاری سے، اور امریکہ کے درمیان 29 فروری 2020 کو دوحہ، قطر میں طے پانے والے معاہدے کے خدوخال اب مزید واضح ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سرکاری طور پر "افغانستان میں امن لانے کا معاہدہ" کا عنوان دیے گئے اس معاہدے میں چودہ ماہ کے دوران افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے تدریجی انخلا کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ضمانتوں اور افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی شقیں شامل تھیں۔ اس معاہدے کا ایک اہم پہلو طالبان رہنماؤں کی طرف سے افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ کے تسلسل کی ضمانت معلوم ہوتا ہے، جسے روایتی مذہبی شخصیات کی جگہ کرزئی، غنی اور دیگر جیسی امریکہ کی حمایت یافتہ شخصیات کو لا کر حاصل کیا گیا۔

 

یہ امر نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے کہ مجاہد افغان عوام، جو ’’سلطنتوں کا قبرستان‘‘ کہلانے والی سرزمین کے باشندے ہیں، کا ایک نمائندہ امت مسلمہ سے دشمنی میں سرفہرست کافروں میں سے ایک، یعنی امریکہ، کے ساتھ ’’باہمی احترام‘‘ اور ’’مثبت روابط‘‘ پر مبنی تعلقات قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ خود امریکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ برپا کرتا ہے، ان کی سرزمینوں پر قبضہ کرتا ہے، ان کی مقدسات کی پامالی کرتا ہے، ان کے وسائل کو لوٹتا اور ان کے دین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امت مسلمہ کے خلاف اپنی جنگوں میں یہودی وجود اور ہندو ریاست کی مدد بھی کرتا ہے۔

 

ایک متقی شخص آخر امریکی صلیبیوں کے ساتھ ’’مثبت روابط‘‘ پر کیسے غور کر سکتا ہے، جبکہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے واضح طور پر متنبہ فرمایا ہے کہ ظالم وہ ہے جو ان لوگوں سے دوستی اور تعلق قائم کرے جنہوں نے ہمیں ہمارے دین کی وجہ سے جنگ کا نشانہ بنایا، ہمیں ہمارے گھروں سے نکالا اور دوسروں کو بھی ہمیں بے دخل کرنے میں مدد دی؟ ﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ ’’اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی، تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہیں نکالنے میں دوسروں کی مدد کی؛ اور جو لوگ ان سے دوستی کریں گے، وہی ظالم ہیں‘‘ [سورۃ الممتحنہ: 9]۔

 

یقیناً کوئی بھی متقی شخص کافرِ حربی بالفعل کے بارے میں شریعت کے احکام پر کافروں کے وضع کردہ بین الاقوامی قانون کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ ان احکام کی وضاحت امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد، محمد بن حسن بن فرقد الشیبانیؒ کی تصنیف السیر الکبیر میں موجود ہے، جو جنگی مہمات اور جنگ سے متعلق شرعی احکام پر ایک معروف کتاب ہے۔

 

ایک متقی شخص آخر ان دشمن امریکیوں سے اس سرزمین میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے جو شہداء کے خون سے سیراب ہوئی ہے، جبکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکہ اپنے جاسوسی مراکز کو سفارتی مشنز کا لبادہ پہناتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے یہ سفارت خانے اس کے وسیع فوجی ڈھانچے کا حصہ ہیں، جس میں امریکی فوجی اڈے اور مسلمانوں کے حکمرانوں میں موجود اس کے ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ ان ذرائع کے بغیر امریکہ کسی بھی مسلم ریاست پر حملہ کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ وہ دنیا کے ہر مسلم ملک سے سمندروں کے ذریعے جدا ہے! آخر ہم نے بیس سال جہاد کرتے ہوئے امریکی سانپ کو سامنے کے دروازے سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنے میں گزارے، صرف اس لیے کہ اب اسے ’’باہمی احترام‘‘ کے نام پر پچھلے دروازے سے دوبارہ داخل ہونے کی اجازت دے دیں؟!

 

ایک متقی شخص آخر کافروں سے افغانستان کے وسیع معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے، جبکہ یہ وسائل ملکیتِ عامہ ہیں، جن کا فائدہ اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہے، نہ کہ امریکی صلیبی کمپنیوں کی نجی ملکیت؟ اس بات کی دلیل کہ یہ وسیع اور بے شمار معدنی ذخائر ملکیتِ عامہ میں شامل ہیں، حضرت ابیض بن حمّال المازنیؓ سے مروی یہ روایت ہے: «أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ فَقَطَعَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ؟ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعَدَّ. قَالَ: فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ» ’’وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے نمک کی کان عطا کرنے کی درخواست کی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں عطا فرما دی۔ جب وہ واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا چیز عطا کی ہے؟ آپ نے تو انہیں وافر مقدار میں موجود پانی کے برابر چیز عطا کر دی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ ان سے واپس لے لی‘‘۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وہ وسائل جو کثرت اور فراوانی کی صورت میں موجود ہوں اور جن سے پوری امت استفادہ کرتی ہو، کسی فرد کی نجی ملکیت نہیں بن سکتے، بلکہ وہ مسلمانوں کی ملکیتِ عامہ ہوتے ہیں۔

 

یقیناً کوئی متقی شخص معدنیات اور ایندھن کی نجکاری پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کو ملکیتِ عامہ کے بارے میں شریعت کے واضح حکم پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ چھٹی صدی ہجری کے جلیل القدر حنفی فقیہ، برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانیؒ نے اپنی معروف کتاب الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی میں لکھا ہے: «لَا يَجُوزُ لِلْإِمَامِ أَنْ يَقْطَعَ مَا لَا غِنَى بِالْمُسْلِمِينَ عَنْهُ كَالْمِلْحِ وَالْآبَارِ الَّتِي يَسْتَقِي النَّاسُ مِنْهَا» ’’حاکم کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی چیز کسی فرد کو بطورِ نجی ملکیت عطا کرے جس سے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر ناگزیر ضرورت ہو، جیسے نمک کی کانیں اور وہ بڑے کنویں جن سے لوگ اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں‘‘۔

 

اے افغانستان کے مسلمانو، اس کے مجاہدین اور علمائے کرام!

 

ہم اپنے تمام معاملات، بشمول معیشت اور خارجہ تعلقات، میں دین کو قائم کرکے اپنے دشمنوں کے لیے اپنے دروازے بند رکھتے ہیں۔ اللہ ﷻ کی شریعت کا مکمل نفاذ ہی امت مسلمہ کو اتحاد، سلامتی اور خوش حالی فراہم کر سکتا ہے۔ خلافتِ راشدہ ان دشمن کافروں کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر دے گی جو مسلمانوں پر حملہ آور ہیں، خواہ وہ سفارتی ہوں، عسکری ہوں یا معاشی۔ یہ تمام مسلم ریاستوں کو ایک طاقتور اسلامی ریاست میں متحد کرے گی اور دین کی بالادستی کے قیام کے لیے وسیع فوجی اور معاشی وسائل کو متحرک کرے گی۔ یہ دشمنوں کے خلاف جہاد کا آغاز کرکے، کافروں کے دلوں میں رعب پیدا کرکے اور منافقین کو بے نقاب کرکے اہلِ ایمان کے درمیان دشمنی کا خاتمہ کرے گی۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مسلمانوں کی جماعت اپنے معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائے، اور ان وسائل کی ملکیت کے حقوق نجی کمپنیوں کے حوالے کیے بغیر، امت کے قابل اور ماہر بیٹوں اور بیٹیوں کو مقرر کرکے مسلم دنیا میں معدنیات کی تلاش، استخراج اور ریفائنری کے نظام کو قائم کرے گی۔

 

حزب التحریر آج بھی آپ ہی کے درمیان موجود ہے اور آپ کے معاشرے کا حصہ ہے۔ وہ امت مسلمہ کی حکمرانی دین کے شرعی احکام کے مطابق کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حزب التحریر نے دوسری خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے آپ  میں موجود اہلِ قوت و منعت سے نصرت، یعنی فوجی حمایت، طلب کی ہے۔ لہٰذا انہیں اس پکار پر لبیک کہنے اور نصرت فراہم کرنے کے لیے آمادہ کریں!

 

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

 

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

Last modified onہفتہ, 22 اگست 2026 17:56

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.