السبت، 03 ربيع الأول 1448| 2026/08/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بحرانوں کی تند و تیز ہوائیں خطۂ کردستان کو جھنجھوڑ رہی ہیں تو پھر نجات اور خلاصی کی راہ کیا ہے؟

 

تحریر: استاد ریان عیسیٰ – ولایہ عراق

(ترجمہ)

 

 

پچھلے ۱۵ سال یا اس سے زائد عرصے سے عراق کا خطۂ کردستان ان مصنوعی بحرانوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے جنہیں یہاں کی پے در پے آنے والی حکومتیں خود کھڑا کرتی اور ان کا انتظام چلاتی ہیں؛ چنانچہ تنخواہوں کے دیرینہ بحران سے لے کر پانی، بجلی، مٹی کے تیل، گیس اور پٹرول کے بحرانوں تک، اور ان جیسے بے شمار دیگر بحرانوں نے اس خطے کے لوگوں کو زندگی کی پستیوں میں دھکیل دیا ہے اور دور دور تک حل کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ تو کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ ہم سال ۲۰۲۶ میں جی رہے ہیں اور کردستان کے عوام کے قدموں تلے بے پناہ وسائل موجود ہیں، لیکن وہ اب بھی چند لیٹر پٹرول کے لیے مہنگی قیمتوں پر دستِ سوال دراز کیے ہوئے ہیں یا بجلی کے محض چند گھنٹوں کے لیے ترس رہے ہیں؟!

 

اور جب یہ بحران شدت اختیار کر جاتے ہیں، تو حکومت لوگوں کی جیبوں کی طرف لپکتی ہے، چنانچہ یہ حکومتیں پٹرول، مٹی کے تیل، گیس، بجلی اور پانی کے نرخوں اور جائیدادوں اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کے واجبات میں اضافہ کر دیتی ہیں، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اتنی تاخیر کرتی ہیں کہ یہ تاخیر پچاس تنخواہوں یا اس سے بھی بڑھ چکی ہے؛ اور اس طرح یہ یہاں وہاں اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے عوام سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نچوڑتے ہیں!

جی ہاں، جب حکومتیں ٹیکس بٹورنے والی حکومتیں ہوں نہ کہ نگہبانی اور دیکھ بھال کرنے والی، اور وہ کھلم کھلا یہ اعلان کریں کہ ان کی حکومت ایک سیکولر سرمایہ دارانہ حکومت ہے اور ان کے قوانین ان وضعی (انسان کے بنائے ہوئے) قوانین پر مبنی ہیں جنہیں مغربی استعماری طاقتوں نے مسلم ممالک پر مسلط کیا تھا، تو پھر ہم عوام کے ساتھ برتاؤ میں زوال اور گراوٹ کے اس درجے کے سوا اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟ یہاں تک کہ اب عوام یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ گویا ہم حکومت کے دشمن ہیں، اس کے اپنے بچے نہیں!!

 

اس خطے کے لوگوں کا حال ان پے در پے اور قحط سالی کی طرح مسلسل کئی سالوں سے جاری مصنوعی بحرانوں کی ہولناکی سے چیخ اٹھنے تک پہنچ چکا ہے، جنہوں نے انہیں بری طرح پیس کر رکھ دیا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ ٹی وی چینلوں کی اسکرینوں پر آ کر کہنے لگے: 'کاش ہم مر جائیں تاکہ ہمیں اس زندگی اور ان بحرانوں سے سکون مل جائے!' اور دوسروں نے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کی حکومتوں کے ساتھ ان کا یہ حال ہونا ہے، تو وہ اس بات کے لیے کبھی نہ لڑتے اور نہ مارے جاتے کہ اس خطے کے لوگ خود اپنے اوپر حکمران بن جائیں۔ لیکن حکومت نہ تو کچھ سنتی ہے، نہ دیکھتی ہے اور نہ ہی کوئی جواب دیتی ہے، لوگ کسی اور ہی وادی میں ہیں اور حکومت کسی بالکل الگ ہی دنیا میں مگن ہے؛ اقتدار اور دولت کی طاقت اور ان پر لوگوں کی خاموشی نے انہیں مدہوش کر دیا ہے۔

 

اے مسلمانو! بے شک جو شخص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے راستے سے دور ہو گیا اور آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گیا اور اپنے دین اور عقیدے پر اپنی قوم، برادری اور حسب و نسب کو ترجیح دی، تو اس کی زندگی تنگ ہی ہوگی، جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تصدیق ہے: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى * قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا * قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى﴾ 'اور جس نے میری  نصیحت سے منہ موڑا، تو اس کے لیے یقیناً تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا؟ وہ فرمائے گا: اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئی تھیں تو تو نے انہیں بھلا دیا، اور اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔' (سورة طه:آیت 124-126)

 

اے خطۂ کردستان کے بھائیو اور عزیز دوستو! جو اسلام میں عزم و ہمت، غیرت اور شجاعت کے غازیوں کا مسکن ہے؛ اے وہ لوگو جنہوں نے اپنے دین کی سربلندی اور اپنی امت کی عروج و سربلندی کے لیے اپنے بے مثال کارناموں اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی، جس کی بدولت آپ لشکروں کی قیادت کرتے تھے اور مسلمان آپ کے پیچھے صف آرا ہوتے تھے جیسے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کی قیادت میں پوری امتِ مسلمہ پر یہ احسانِ عظیم فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی جائے اسریٰ (مسجدِ اقصیٰ) کو آزاد کرایا، اور آپ نے اس کے ذریعے نصرت، غلبہ (تمکین)، عزت اور فخر حاصل کیا جب اللہ نے آپ کو اس فتحِ مبین سے سرفراز فرمایا؛ اپنے اسی ماضی کے مبارک طرزِ عمل کی طرف لوٹ آئیے اور اسلام کو، پورے کے پورے اسلام کو، اپنی زندگیوں میں دوبارہ نافذ کر دیجیے، کیونکہ صرف اسی کے ذریعے آپ کو عزت اور وقار حاصل ہوگا، اور اسی کے ذریعے آپ دنیا اور آخرت کی کامیابی و کامرانی حاصل کر سکتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾

'بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر  ہے، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟' (سورة الأنبياء:آیت 10)

 

 

 

 

 

Last modified onہفتہ, 15 اگست 2026 21:04

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک