بسم الله الرحمن الرحيم
21 ستمبر 1919ء: خلافت کی حمایت میں لکھنؤ میں کانفرنس
برطانوی استعماریت کے قبضے میں ہونے کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کی حمایت کے لیے اپنی پوری کوشش کی، کیونکہ خلافت کی تباہی کے آثار افق پر نمایاں ہو چکے تھے۔
21 ستمبر 1919ء کو مسلمانوں نے لکھنؤ میں خلافت کی حمایت اور اس کی تقسیم کی مخالفت میں ایک کانفرنس منعقد کی۔ کانفرنس میں اعلان کیا گیا: ’’ترکی کو تقسیم کرنے اور سلطنتِ عثمانیہ کے مختلف علاقوں کو الگ کر کے متعدد چھوٹی ریاستیں قائم کرنے کا منصوبہ، جن پر غیر مسلم طاقتوں کو سرپرست (Mandatories) مقرر کیا جائے، خلافت کے معاملات میں ناقابلِ برداشت مداخلت ہے اور اس سے عالمِ اسلام میں مستقل بے چینی کے بیج بوئے جائیں گے۔‘‘
17 اکتوبر 1919ء کو خلافت کی سلامتی کے لیے دعا کرنے کی غرض سے ’’یومِ خلافت‘‘ (Khilafat Day) منانے کا اعلان کیا گیا۔ اردو میں خلافة کو ’’خلافت‘‘ کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان ’’خلافت کمیٹیاں‘‘ قائم کی گئیں اور ’’خلافت کانفرنسیں‘‘ منعقد کی گئیں۔ خلافت کو بچانے کے لیے چندہ جمع کیا گیا، قرآنِ کریم کی آیات کے ترجمے سے مزین ’’خلافت روپیہ‘‘ جاری کیا گیا اور ’’خلافت‘‘ کے نام سے ایک جریدہ بھی شائع کیا گیا۔
پھر جب ترک قوم پرست مصطفیٰ کمال نے 3 مارچ 1924ء کو خلافت کو ختم کرکے اسے مہلک ضرب لگائی تو برصغیر کے مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہوگئے۔ 9 مارچ 1924ء کو مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے لیے آئندہ کے اقدامات اور سرگرمیوں کو منظم کرنے کی غرض سے اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر ایک تار بھی جاری کیا گیا، جس میں خبردار کیا گیا کہ خلافت کا خاتمہ ’’شرپسندانہ عزائم کے لیے دروازہ کھول دے گا‘‘۔ ایک سرکلر بھی جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ معزول خلیفہ عبدالمجید ثانی (Abdülmecid II) کا نام نمازِ جمعہ میں ضرور ذکر کیا جائے۔
اے برصغیر کے مسلمانوں! اے پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مسلمانوں!
یقیناً خلافت کی تباہی نے اُن ’’شرپسندانہ عزائم‘‘ کے لیے دروازہ کھول دیا ہے جن سے ہمارے دوراندیش اسلاف نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ پوری امت کے لیے ایک طاقتور خلافت کی ریاست کے بجائے ہمیں درجنوں چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جن میں سے بعض کی آبادی ایک بڑے شہر سے بھی کم ہے۔ مغربی کفار نے پہلے براہِ راست مینڈیٹ کے ذریعے ہماری سرزمینوں پر حکومت کی، پھر اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ہم پر ایسے حکمران مسلط کیے جو دور بیٹھ کر ہم پر حکمرانی کرنے میں ان کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔ مغرب کے ایجنٹ ہماری وسیع معاشی دولت اور منڈیوں تک مغربی ریاستوں کی کمپنیوں کو کھلی رسائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ ہمارے نوجوان بے روزگاری کا سامنا کرتے ہیں یا روزگار کی تلاش میں دور دراز علاقوں تک خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مغرب کے ایجنٹوں نے استعماریت پسندوں کے ساتھ فوجی اتحاد قائم کیے، تاکہ ہماری افواج ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر ان کے مقاصد کو محفوظ بنائیں۔ حکمرانوں نے فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے بھی ہماری افواج کو متحرک ہونے سے روک رکھا ہے۔ حکمران قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے ماخوذ شرعی احکام نافذ نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ کفار کے وضع کردہ قوانین کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، جن میں سیکولرازم، لبرل ازم، جمہوریت اور قوم پرستی شامل ہیں۔ اور جو لوگ اسلام کے نظامِ حکمرانی کے قیام کی دعوت دیتے ہیں، یہ حکمران انہیں ظلم و جبر کا نشانہ بناتے ہیں؛ ان کے خلاف مقدمات قائم کرتے، انہیں قید و بند میں ڈالتے، اغوا اور تشدد کا نشانہ بناتے، حتیٰ کہ انہیں قتل تک کر دیتے ہیں۔
یہ تمام تباہ کاریاں دنیا میں خلافت کے خاتمے کے نتائج ہیں۔ جہاں تک آخرت کے انجام کا تعلق ہے، تو تمام مسلمانوں کے لیے ایک خلیفہ کا تقرر امت پر شرعی فرض ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ، قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ» ’’بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی نبی وفات پاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرو، پھر جو اس کے بعد ہو اس کی بیعت کو۔ اور ان کا حق ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا جن کی ذمہ داری اس نے انہیں سونپی ہے‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
فتح الباری شرح صحیح البخاری میں امام ابن حجر عسقلانیؒ نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: «والمعنى أنه إذا بويع الخليفة بعد خليفة فبيعة الأول صحيحة يجب الوفاء بها وبيعة الثاني باطلة» ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جائے تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اس کی پاسداری واجب ہے، جبکہ دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے‘‘۔
شرح النووي على مسلم میں کتاب الامارۃ کے تحت امام نوویؒ نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: «ومعنى هذا الحديث : إذا بويع لخليفة بعد خليفة فبيعة الأول صحيحة يجب الوفاء بها ، وبيعة الثاني باطلة يحرم الوفاء بها ، ويحرم عليه طلبها ، وسواء عقدوا للثاني عالمين بعقد الأول أو جاهلين ، وسواء كانا في بلدين أو بلد ، أو أحدهما في بلد الإمام المنفصل والآخر في غيره» ’’اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب ایک خلیفہ کی بیعت پہلے ہو چکی ہو اور اس کے بعد کسی دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جائے، تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اس کی پاسداری واجب ہے، جبکہ دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے؛ یعنی نہ اس بیعت کی پاسداری جائز ہے اور نہ دوسرے خلیفہ کے لیے اس بیعت کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم اس صورت میں بھی ہے جب دوسرے خلیفہ کی بیعت کرنے والوں کو پہلے خلیفہ کی بیعت کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ اسی طرح اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دونوں خلیفہ الگ الگ علاقوں میں ہوں یا ایک ہی علاقے میں، یا ایک خلیفہ موجودہ امام کے زیرِ اقتدار علاقے میں ہو اور دوسرا کسی دوسرے علاقے میں‘‘۔
تو پھر آخرت میں ہمارے لیے اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ ایک خلیفہ کے بجائے، جو اسلام کے ذریعے ہم پر حکمرانی کرے، آج ہمارے اوپر درجنوں حکمران مسلط ہیں جو کفر کے قوانین کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں۔ آئیے، شبابِ حزب التحریر کے ساتھ نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے دوبارہ قیام کی جدوجہد کے ذریعے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان