بسم الله الرحمن الرحيم
قرآنِ کریم کے ساتھ
القضاء والقدر!
الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483
اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ
بمطابق، ستمبر 2026ء
تحریر : خليفة محمد- الأردن
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے،
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا،
﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ * لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾
’’زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج ہے، بے شک یہ اللہ پر آسان ہے۔ تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے، اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمہیں اللہ نے عطا کر دیا ہے، اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ ]سورة الحدید؛ 57: 22-23[
یہ آیتِ مبارکہ حرفِ نفی ’’مَا‘‘ سے شروع ہوتی ہے، جس کے بعد حرفِ استثناء ’’إِلَّا‘‘ آیا ہے۔ اس ترکیب کے ذریعے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے؛ یعنی تمام مصائب اور تکالیف کا احوال ایک کتاب میں بند درج ہے۔
اور ’’مصیبت‘‘ (مُصِيبَة) سے مراد ہر وہ امر ہے جو کسی انسان کو پیش آئے، جسے وہ ناپسند کرتا ہو اور جس سے اسے ضرر پہنچتی ہو۔ اس میں وہ مصائب بھی شامل ہیں جو خود انسان پر براہ راست لاحق ہوتے ہوں، مثلاً بیماری، کمزوری، خوف اور بھوک؛ اور وہ مصائب بھی شامل ہیں جو بالواسطہ طور پر زمین میں رونما ہوں، مثلاً قحط، سیلاب، زلزلے اور اسی نوعیت کی دیگر آفات۔ دوسرے الفاظ میں، مصیبت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو آزمایا جائے اور جو اسے ناگوار گزرتی ہو یا اسے نقصان پہنچاتی ہو۔ یہ لفظ ’’مُصِيبَة‘‘ یہاں اسم نکرہ کی صورت میں ہے اور اس کا سیاق نفی میں وارد ہوا ہے، جو اس کے عمومی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اور ’’آتی ہے‘‘ یا ’’پیش آتی ہے‘‘ (أصابَ) سے مراد ہے: نازل ہونا، واقع ہونا یا پیش آ جانا۔ اور اس کا فاعل لفظ (مصيبة) ’’مصیبت‘‘ ہے، جو حرفِ جر ’’مِنْ‘‘ کے بعد آیا ہے۔ لہٰذا ’’مصيبة‘‘ اعراب کے اعتبار سے مجرور ہے، لیکن محلِ نحوی کے اعتبار سے مرفوع ہے؛ یعنی یہ فاعل ہونے کی وجہ سے محلًا مرفوع ہے۔ اور اس فعل (أصابَ) کا مفعول، تو وہ یہاں محذوف ہے، جو بالواسطہ طور پر سیاق سے سمجھا جائے گا یعنی : (أصابكم) یا (أصابَ أحداً) ’’تمہیں پہنچے‘‘ یا ’’کسی شخص کو پہنچے‘‘۔ یعنی مراد یہ ہے کہ کوئی مصیبت تمہیں یا کسی بھی شخص کو لاحق ہو۔
اور (في الأرض) ’’زمین میں‘‘ ایک جار و مجرور کی ترکیب ہے، جو نکرہ لفظ ’’مصيبة‘‘ کے بعد واقع ہوئی ہے۔ جو اس (مصيبة) کے لئے صفت کے معنی میں ہے یا یہ کہ یہ ایک محذوف صفت سے متعلق (متعلقة بصفة محذوفة) ہے، جس کے معنی (مصيبةٍ كائنةٍ في الأرض)، یعنی ’’زمین میں واقع ہونے والی مصیبت‘‘، ہوگی۔ جو کہ عمومی مصائب ہیں جیسا کہ بیماری، قحط، سیلاب، زلزلے اور دیگر عمومی آفات کی مثالیں اوپر بیان ہوئیں۔
اور (ولا في أنفسكم) ’’اور نہ خود تمہاری جانوں میں‘‘ سے مراد وہ ذاتی اور شخصی مصائب ہیں جو ہر فرد کو انفرادی طور پر لاحق ہوتے ہیں۔ اسے زمین میں واقع ہونے والی عمومی مصیبتوں پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، تاکہ مصائب کی مختلف انواع اور ان کی جامع اور مکمل درجہ بندی کا مفہوم واضح ہو جائے۔ یعنی مصیبتوں کی وہ تمام قسمیں جو زمین میں عمومی طور پر پیش آتی ہیں اور وہ بھی جو براہِ راست انسان کی ذات سے متعلق ہوتی ہیں، سب اس بیان میں شامل ہیں۔ یہاں حرفِ نفی (لا) کو دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، تاکہ اس تکرار میں ان انفرادی مصائب کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے جو فرد پر اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ انسان کو پیش آنے والی ذاتی مصیبتوں کا اس کی جان، نفس اور باطنی کیفیت پر گہرا اور شدید اثر ہوتا ہے۔
اور (إلا في كتاب من قبل أن نبرأها) ’’مگر یہ کہ وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے وجود میں لائیں‘‘ یہاں نفی کے بعد آنے والا حرفِ استثناء ہے جوکہ حصر کا مفہوم ظاہر کرتا ہے۔ یعنی معنی یہ ہے کہ زمین میں یا خود تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی، مگر یہ کہ وہ پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ فعل (بَرَأَ) کے معانی (خَلَقَ) ’’پیدا کیا گیا‘‘ کے ہیں۔ اور اس میں ضمیر (ها) جو کہ (نبرأها) سے متصل ہے جو کہ ’’الأرض‘‘ (زمین) کی طرف لوٹتی ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے ’’الأنفس‘‘ (جانیں/نفوس) مراد ہوں، یا پھر خود ’’المصيبة‘‘ (مصیبت) کی طرف بھی اس ضمیر کے لوٹنے کا احتمال کیا جا سکتا ہے۔ شریعت کی نصوص سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مصائب اور تمام مقدرات کا لکھا جانا آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔
ابو داؤد، ترمذی اور احمد نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا، (يا بُنَيَّ، إنَّك لن تَجِدَ طَعمَ حقيقةِ الإيمانِ حتى تعلَمَ أنَّ ما أصابَك لم يكُنْ لِيُخْطِئَك، وما أخطَأَك لم يكُنْ لِيُصيبَك، سَمِعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقولُ: «إنَّ أولَ ما خلق اللهُ القلمُ، فقال لهُ: اكتبْ، قال: ربِّ وماذا أكتبُ؟ قال: اكتُبْ مقاديرَ كلِّ شيءٍ حتى تقومَ الساعةُ.» يا بنيَّ إني سمعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقول: من مات على غيرِ هذا فليسَ مِني) ’’اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک یہ نہ جان لو کہ جو مصیبت بھی تمہیں پہنچی ہے وہ تم سے چوکنے والی نہ تھی، اور جو مصیبت تم سے چوک گئی ہے وہ تمہیں پہنچنے والی ہی نہ تھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ، ’’اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، پھر اس سے فرمایا: ’لکھ!‘ قلم نے عرض کیا: ’اے میرے رب! کیا لکھوں؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’ہر شے کی تقدیریں لکھ، یہاں تک کہ وہ گھڑی (قیامت) قائم ہو جائے‘‘۔ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ، ’جو شخص بھی اس ایمان کے علاوہ کسی اور (عقیدے) پر مر جائے، تو وہ مجھ سے نہیں‘‘‘۔
’’ایک کتاب میں درج ہونے‘‘ سے مراد دراصل اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو ازل سے علم ہونے کی طرف کنایہ (كنايةٌ) ہے۔ تاہم کسی معنی کا کنایہ ہونا اس کے حقیقی مفہوم کی نفی نہیں کرتا؛ یعنی یہ بات اس امکان کو ختم نہیں کرتی کہ حقیقتاً ایک ایسی کتاب بھی موجود ہو جس میں مصائب لکھے گئے ہوں۔ شریعت کی متعدد نصوص اس امر کی دلیل و تصدیق کرتی ہیں کہ ایسی کتاب موجود ہے، اور وہ لوحِ محفوظ (اللوح المحفوظ) ہے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے فرمایا،
﴿أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾
’’کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے؟ بے شک یہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ بے شک یہ اللہ کے لئے بہت آسان ہے‘‘ [سورۃ الحج؛ 22:70]
یہ آیتِ مبارکہ آسمانوں اور زمین کے متعلق اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے خاص علم کو اس حقیقت کے ساتھ یکجا کرتی ہے کہ ایک ایسی کتاب حقیقتاً موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس علم کو لکھ دیا ہے۔ نیز یہ آیت اس بات کی بھی دلالت کرتی ہے کہ یہ امر اللہ تعالیٰ کے لئے نہایت آسان ہے۔
اسی طرح جس آیت پر ہم آج غور و تدبر کر رہے ہیں، اس میں بھی آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی قبل پیش آنے والے مصائب کو ایک کتاب میں درج کئے جانے کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے لئے ایک آسان امر قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾
’’بے شک یہ اللہ کے لئے بہت آسان ہے‘‘۔
مومن کا اپنے اوپر پیش آنے والے مصائب کے بارے میں رویہ صبر اور اجر کی نیت رکھنا (الصبر والاحتساب) ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ صبر کرتا ہے اور اپنے اس صبر پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہے، اور جب بھی اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتا ہے، (إنا لله وإنا إليه راجعون) ’’بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘‘، اس طرح وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رحمت کا مستحق قرار پاتا ہے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتا ہے،
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الأَمْوالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُوْلَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُوْلَئِكَ هُمْ الْمُهْتَدُونَ (157) ﴾
’’اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، کبھی بھوک سے، (کبھی) مال وجان اور پھلوں میں نقصان سے (کمی کرکے)۔ اور جو لوگ (ایسے حالات) میں صبر سے کام لیں، اُن کو خوشخبری سنادو ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘‘۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں اور رحمت۔ اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں‘‘ [البقرة؛ 2: 155-157]
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، «عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللهَ وَكَانَ لَهُ خَيْرٌ، وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنُ» ’’مجھے مومن کے معاملے پر تعجب ہوتا ہے؛ بے شک اس کا ہر معاملہ خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے کوئی ایسی چیز پیش آئے جسے وہ پسند کرتا ہے تو وہ اللہ کی حمد بیان کرتا ہے، اور یہ اس کے لئے خیر ہے؛ اور اگر اسے کوئی ایسی چیز پیش آئے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لئے خیر ہے۔ اور یہ کیفیت کسی دوسرے شخص کے لئے نہیں، سوائے مومن کے کہ اس کا پورا معاملہ خیر ہی خیر ہو‘‘ [اسے احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے]۔
یہ مصائب جو زمین میں یا انسانوں کی زندگیوں میں پیش آتے ہیں، قضاء و قدر سے تعلق رکھتے ہیں؛ کیونکہ انسانی افعال کے دو دائرے ہیں۔ پہلا دائرہ وہ ہے جس میں انسان اپنے افعال پر اختیار رکھتا ہے اور اپنے تمام اعمال اپنی مرضی اور ارادے سے انجام دیتا ہے؛ مثلاً کھانا، سونا، کام کرنا وغیرہ۔ وہ یہ سب اعمال اپنے اختیار و ارادے سے کرتا ہے۔ یہی وہ دائرہ ہے جس میں انسان شرعی جواب دہی کا مکلف ہے۔ چنانچہ اگر اس کے اعمال اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے احکام و نواہی کے مطابق ہوں تو اسے ان پر اجر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و نواہی کے خلاف عمل کرے تو ان اعمال پر اسے سزا دی جاتی ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتا ہے،
﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ* وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾
’’پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا‘‘ [سورۃ الزلزلة؛ 99: 7-8]۔
افعال کا دوسرا دائرہ وہ ہے جس میں افعال انسان کی طرف سے یا اس پر بغیر اس کے اختیار و ارادے کے واقع ہوتے ہیں، اور وہ انہیں روکنے یا ان سے بچنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس میں وہ امور بھی شامل ہیں جو نظامِ وجود کے تقاضوں کے تحت واقع ہوتے ہیں؛ مثلاً انسان کی جسمانی ساخت، اس کا قد و قامت، رنگت اور اس کی محدود صلاحیتیں، نیز وہ طبعی خواص اور قوانینِ فطرت جنہیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے آسمانوں میں، زمین میں اور جو کچھ اس نظامِ قدرت میں ہے، ان میں رکھ دیا ہے، مثلاً کششِ ثقل، دن اور رات کا آنا جانا، بارش، ہواؤں کا چلنا وغیرہ۔ ان میں وہ اوامر بھی شامل ہیں جو اس نظام الوجود کی ترتیب کے علاوہ ہیں، جیسا کہ کار کے ساتھ ٹکر ہو جانا، ہوائی جہاز کا کریش ہو جانا، چھت سے یا پہاڑ کی چوٹی سے گر جانا، کسی مرض میں مبتلا ہو جانا یا اسی طرح کے دیگر واقعات۔ انسان ان واقعات کے لئے ذمہ دار نہیں کیونکہ وہ یا تو اس کے ذریعے سے ہوئے ہیں یا پھر اس پر وقوع پذیر ہوئے ہیں جس میں اس کی یہ استطاعت نہ تھی کہ وہ ان پر قابو پا لے یا انہیں وقوع ہونے سے روک دے۔
اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا یہ فرمان،
﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾
’’تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے، اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمہیں اللہ نے عطا کر دیا ہے‘‘۔
تو یہاں ’’لِكَيْلَا‘‘ کے ذریعے تعلیل بیان کی گئی ہے، یعنی اس امر کی حکمت واضح کی گئی ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ہمیں یہ بتلایا کہ ہم پر نازل ہونے والی مصیبتیں اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہیں، اور یہ کہ وہ ﷻ ان کے وقوع ہونے سے پہلے ہی ان کے بارے میں علم رکھتا تھا، انہیں لکھ چکا تھا اور ان کا فیصلہ فرما چکا تھا، حتیٰ کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بھی پہلے۔ اس حقیقت سے آگاہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ مومنوں کو تسلی دی جائے اور انہیں صبر عطا ہو، تاکہ وہ پختہ یقین رکھیں کہ جو بھی تکلیف انہیں پہنچ گئی، وہ ان سے چوکنے والی نہ تھی، اور جو تکلیف ان سے چوک گئی، وہ انہیں پہنچنے والی ہی نہ تھی۔ چنانچہ مومن کسی ایسی بھلائی یا نعمت پر مایوس نہیں ہوتا جو اس سے چوک گئی ہو اور وہ اسے حاصل نہ کر سکا ہو، اور نہ ہی ایک مومن اپنے اوپر آن پڑنے والی کسی مصیبت پر افسوس کرتا ہے، بلکہ وہ صبر کرتا ہے اور اجر کی امید رکھتا ہے۔
اسی طرح مومن اس نعمت پر بھی حد سے زیادہ اتراتا نہیں جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہو۔ یہاں جس مذموم فرحت کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد ایسی حد سے بڑھی ہوئی خوشی ہے جو انسان کو تکبر، سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری تک پہنچا دے؛ جیسا کہ قارون کا اترانا (فرحت) تھا۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتا ہے،
﴿إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ﴾
’’جب اس کو اس کی قوم نے کہا، اترا نہیں، بے شک اللہ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ [القصص؛ 28:76]۔
یہ وہ فرحت ہوتی ہے جو انسان کو خود پسندی، خود فریفتگی اور گھمنڈ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اسی مفہوم کی مزید وضاحت اسی آیت کے بعد کے الفاظ سے ہوتی ہے،
﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾
’’اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ ]سورة الحدید؛ 57:23[۔
البتہ کسی محبوب شے کے حصول پر انسان کے دل میں پیدا ہونے والی فطری خوشی مذموم نہیں ہے۔ مثلاً شہداء کی وہ خوشی جو انہیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اعزاز اور فضل کو دیکھ کر حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
﴿فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ﴾
’’وہ اس سے خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کر دیا ہے‘‘ ]آل عمران؛ 3:170[،
اور اسی طرح ایک روزہ دار کی وہ خوشی جو اسے افطار کے وقت اور اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہونے والی خوشی بھی مذموم فرحت میں شامل نہیں؛ کیونکہ یہ ایسی فطری اور جائز خوشی ہے جو نہ تکبر و غرور کا باعث بنتی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے غفلت یا ناشکری کی طرف لے جاتی ہے۔
اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے،
﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾
’’اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو پسند نہیں کرتا‘‘ ]سورة الحدید؛ 57:23[،
تو اصولِ فقہ (أصول الفقه) میں یہ بات مقرر شدہ ہے کہ جس امر کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ناپسند فرمائے، وہ ممنوع اور حرام ہوتی ہے۔ چنانچہ ’’والله لا يحبُّ‘‘ (اور اللہ پسند نہیں کرتا) کا اسلوب یہاں ایک ایسا قرینہ ہے جو طلبِ ترک میں جزم پر دلالت کرتا ہے؛ یعنی اس کے بعد مذکورہ عمل سے قطعی طور پر رکنے کا حکم ہے اور یوں اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اور ’’الاختيال‘‘ سے مراد انسان کا اپنے پاس موجود یا اسے عطا کی گئی چیزوں پر تکبر، خود پسندی اور تفاخر میں مبتلا ہونا ہے۔ جبکہ ’’فخر‘‘ سے مراد انسان کا اسے حاصل ہونے والی نعمت یا عطا پر اظہارِ شیخی، اپنی بڑائی جتانا اور خود ستائی کرنا ہے۔ لہٰذا یہ دونوں امور ممنوع و حرام ہیں، اور ان کا ارتکاب کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔ اور لفظ ’’فخور‘‘، ’’الفخر‘‘ سے اخذ کردہ صیغۂ مبالغہ ہے، جس کے معنی ہیں، بہت زیادہ فخر کرنے والا، کثرت سے اپنی بڑائی بیان کرنے والا یا حد سے بڑھ کر اترانے والا شخص۔




