بسم الله الرحمن الرحيم
جنگ امت مسلمہ اور کفار کے درمیان ہونی چاہیے، مسلم ریاستوں کے درمیان نہیں
مسلم ریاستوں کے درمیان ایک تباہ کن جنگ کی طرف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، 17 ستمبر 2026ء کو ایران کی Islamic Republic News Agency (IRNA) نے رپورٹ کیا کہ ’’وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں تازہ ترین علاقائی صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘‘
تین طاقتور مسلم ریاستوں کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان کے وزیر خارجہ نے 16 ستمبر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان مکہ مکرمہ کے مقدس شہر کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے قابلِ مذمت ڈرون حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘‘
جہاں تک یمن میں ایران کے پراکسی، یعنی حوثیوں، کا تعلق ہے، وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا ہدف مکہ صوبے کے اندر موجود فوجی تنصیبات ہیں۔ سفارتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہر مسلم ریاست سوشل میڈیا پر بھی ایک جنگ میں مصروف ہے، جس میں خانۂ کعبہ کی حرمت، مکہ رائل کلاک ٹاور اور مکہ صوبے کے طائف میں واقع کنگ فہد ایئر بیس (KFAB) جیسے معاملات زیرِ بحث ہیں۔
یوں موجودہ کشیدگی ایک ایسی تباہ کن علاقائی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں مسلم ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں گی، اور یہ صورتِ حال کئی ماہ بلکہ کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ قوم پرستانہ طرزِ فکر کے تحت ان کشیدگیوں کا کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔ ہر مسلم ریاست خطے کو قومی مفادات کے محدود زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ اپنی قوم پرستانہ سرحدوں کے اندر وہ وطن کے دفاع کے نقطۂ نظر سے معاملات کو دیکھتی ہے، جبکہ اپنی قومی سرحدوں سے باہر اپنے قومی ریاست کے لیے ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کے زاویے سے دیکھتی ہے، خواہ اس مقصد کے لیے پراکسیز استعمال کرے یا کوئی اور طریقہ اختیار کرے۔
قوم پرستی مسلمانوں کے درمیان کبھی حقیقی امن قائم نہیں کرسکتی، جیسا کہ گزشتہ ایک صدی نے ثابت کیا ہے۔ قوم پرستی نے مسلمانوں کے درمیان مسلسل جنگوں کو جنم دیا ہے، جن کی بے شمار مثالوں میں پہلی خلیجی جنگ، دوسری خلیجی جنگ اور سعودی-یمن تنازع شامل ہیں۔ ہر مسلم ریاست اس تباہ کن قوم پرستانہ سوچ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے اسی بنیاد پر اپنی پالیسیاں چلاتی رہی ہے، یہاں تک کہ اب اسے ایک ناقابلِ تغیر حقیقت سمجھنے لگی ہے۔
اے مسلمانو! قوم پرستی کے تحت آج ہماری ریاستیں یثرب کے قبائل، اوس اور خزرج، کی طرح مسلسل باہم برسرِپیکار ہیں، جب وہ قبائلیت کے زیرِ اثر تھے۔ صرف اسلام ہی ہمیں کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ اور ایک قوت بنا سکتا ہے، جیسا کہ اسلام نے اوس اور خزرج کے ساتھ کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِىِّ ﷺ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَثْرِبَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ أَنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ دُونَ النَّاسِ» ’’یہ محمد نبی ﷺ کی طرف سے قریش اور یثرب کے مسلمانوں اور اہلِ ایمان، اور ان لوگوں کے درمیان عہد ہے جو ان کے تابع ہوکر ان کے ساتھ شامل ہوں اور ان کے ہمراہ جہاد کریں۔ بے شک وہ تمام لوگوں سے الگ ایک امت ہیں‘‘ [السنن الکبریٰ للبیہقی]-
اوس اور خزرج نے قبائلیت کو ترک کیا اور اسلام کے ذریعے تمام مسلمانوں پر حکومت کرنے والی ایک واحد اتھارٹی کو قبول کرلیا، جس کے نتیجے میں یثرب، المدینۃ المنورۃ بن گیا۔ اس کے بعد مسلمان ایک متحد قوت کی حیثیت سے اپنے حقیقی دشمنوں کے خلاف لڑے، جن میں یہود، عرب کے مشرکین، فارس اور روم کے عیسائی شامل تھے۔
اے مسلمانو! ہم بھڑکتی ہوئی آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہیں، اور ہماری نجات صرف دینِ اسلام کے تحت متحد ہونے میں ہے۔ ایک تباہ کن جنگ کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے، لہٰذا ہمیں قوم پرستی اور اس کے تمام نتائج کے خاتمے کا مطالبہ کرنا چاہیے، جن میں مسلمانوں کے درمیان سرحدیں، الگ الگ فوجیں اور الگ الگ ریاستی خزانے بھی شامل ہیں۔ ہمیں خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے متحرک ہونا چاہیے، جو موجودہ تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد اسلامی ریاست میں متحد کرے گی۔ یہی خلافت اہلِ ایمان کو فلسطین کے یہودی قابضین، ہندو ریاست کے مشرکین اور امریکی صلیبیوں کے خلاف متحرک کرے گی، جنہوں نے کئی دہائیوں سے ہمیں عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾
’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، پھر اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان