Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

الرایہ کے متفرقات – شمارہ نمبر 592

 

 

صفحہ اول کی پیشانی پر۔

 

افواج اس لیے بنائی گئی تھیں کہ وہ امت کی ڈھال بنیں اور ایسی تلوار ہوں جو اس کے مقدسات کا دفاع کرے اور اس کی سرزمین کو آزاد کرائے، نہ کہ وہ مغرب کے ہاتھ میں ایک آلہ کار بنیں یا اس کے مفادات کا چوکیدار بنیں۔ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب سپاہی اپنے عقیدے سے جڑے رہے تو وہ ایک ایسی طاقت بن گئے جسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا تھا، اور جب انہیں ان کے عقیدے سے الگ کر دیا گیا تو وہ دوسروں کے تنازعات میں محض آلہ کار بن کر رہ گئے۔ ایک سپاہی اپنی امت کے لیے جو سب سے بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی وفاداری کو ہر دوسری مصلحت سے بالا تر ہو کر اپنے دین اور اپنی امت کے لیے وقف کر دے، اور اس حقیقت کو جان لے کہ یہ امت اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی فوج اس کی اپنی فوج ہو، نہ کہ اس کے دشمنوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار۔

===

 

صفحہ اول کے لیے۔

مغربی فوجی اڈے اور ہمارے ممالک میں ان کا کردار

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ کے حالات و واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور دیگر تمام مغربی استعماری فوجی اڈے، اور اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں پھیلا ہوا نام نہاد دفاعی اور قبل از وقت اطلاع دینے والا  نظام، مسلمانوں کے ممالک کے لیے بدبختی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں لایا۔ مسلمانوں کو ان سے صرف تکلیف ہی پہنچی ہے، بلکہ اکثر اوقات یہ ان جنگوں کی چنگاری بنے جو ان پر زبردستی مسلط کی گئیں، اور ان کی سرزمین کو حملوں اور جارحیت کی زد میں لے آئے۔ وہ اڈے جن کے بارے میں ایجنٹ ہمیشہ یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ یہ ملک کی حفاظت اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، حالات نے اس کے برعکس ثابت کر دیا ہے کہ وہ دراصل دشمنوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کے ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لیے ہیں، اور اب خود ملک اور اس کی فوجی صلاحیتیں ہی ان اڈوں کی حفاظت پر مامور ہیں!

 

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ: امریکہ اور برطانیہ و فرانس جیسے دیگر مغربی ممالک، اسلامی ممالک میں ان فوجی اڈوں کو اس لیے برقرار رکھتے ہیں تاکہ وہ جس پر چاہیں حملہ کرنے کے لیے انہیں استعمال کریں اور جہاں چاہیں اپنے استعماری مقاصد اور اپنے پالے ہوئے یہودی وجود کی توسیع پسندانہ کوششوں کی تکمیل اور اسلامی ممالک، بالخصوص مشرق وسطیٰ کو اپنی لالچ کے تابع کرنے کے لیے آگ بھڑکائیں۔ وہ اس بات کو چھپاتے بھی نہیں بلکہ کھلے عام اس کا اظہار کرتے ہیں، جیسا کہ یہودی وجود کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا: "توراتی روایات اسرائیل کو ان زمینوں پر حقوق دیتی ہیں جو مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر پھیلی ہوئی ہیں، جو 'نیل سے فرات تک عظیم اسرائیل' تشکیل دیتی ہیں"۔ امریکی وزیر جنگ، پیٹ ہیگستھ نے بھی اسلام کے خلاف اپنی صلیبی نفرت کے مکنون کو ظاہر کر دیا جب اس نے کہا: "وہ نظام جو اسلامی نبوی تصورات  پر قائم ہیں، وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتے"۔

 

بیان میں مزید کہا گیا: چنانچہ امریکہ جو اس خطے میں کم از کم 18 مقامات پر فوجی مقامات کے ایک وسیع نیٹ ورک کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے، اور برطانیہ جس کے 23 اڈے موجود ہیں، اور اسی طرح فرانس جس کے پاس کئی اڈے اور آپریشن سینٹرز ہیں، اور دیگر استعماری ممالک نے سیکورٹی معاہدوں، اتحادوں اور مشترکہ مفادات کے بہانے مسلمانوں کے ممالک کو پامال کر دیا ہے، تاکہ مسلمانوں کے علاقے ان کی مجرمانہ فوجی کارروائیوں کا تھیٹر بن جائیں جن کے ذریعے وہ ہم پر حملے کرتے ہیں۔ وہ ان اڈوں اور مراکز کو فضائی اور بحری کارروائیوں اور اپنے استعماری مفادات اور یہودی وجود کے تحفظ کے لیے جاسوسی کی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 

اور جہاں تک مسلم افواج کا تعلق ہے تو پریس ریلیز میں کہا گیا: لہذا امت مسلمہ کی افواج پر، جو کہ مسلمانوں کے ممالک کی حفاظت کی ذمہ دار ہیں، یہ واجب ہے کہ وہ ان اڈوں کو فوری طور پر ہمارے ممالک سے نکال باہر کریں۔ یہ ان خیانتوں میں سے ایک ہے جو حکمرانوں نے ہمارے خلاف کی ہیں، اور یہ اپنی سادہ ترین صورت میں ایک ایسے دشمن کے ساتھ تعاون ہے جس کے ساتھ وفاداری یا جس سے مدد طلب کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ»"پس ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیتے"۔ اس کے علاوہ، اس نے کافروں کو ہم پر غلبہ پانے کا راستہ فراہم کر دیا ہے، اور یہ بھی ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

 

﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً

 

"اور اللہ ہرگز کافروں کے لیے ایمان والوں پر کوئی راستہ (غلبہ) نہیں بنائے گا"(سورۃ النساء: آیت 141)

 

بیان کے آخر میں اسلامی ممالک کی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا: حقائق ہر صاحبِ بصیرت پر واضح ہو چکے ہیں، اب صرف یہ باقی ہے کہ امت مسلمہ کی افواج میں موجود مخلص لوگ استعمار اور اس کے ایجنٹوں کے اثر و رسوخ سے چھٹکارا پانے اور نبوت کے نقش قدم پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے حرکت میں آئیں، تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت بخشیں،۔

 

﴿هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ

 

"یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے ڈرائے جائیں"(سورۃ ابراہیم: آیت 52)

===

 

اسلامی ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہمیں دو مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے

 

 

آج اسلامی ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمیں دو مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے:۔

 

پہلی بات: استعماری کافر مغرب کے سامنے بچھ جانے کی تمام تر دعوتیں، چاہے وہ اس کی اذیت سے بچنے کے لیے ہوں یا اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے، ایک ایسی سیاسی خودکشی ہے جس کا انجام اس کے علمبرداروں کے لیے صرف تباہی اور بربادی ہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ عمل حرام ہے کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے اور ان کے خلفائے راشدین کی سنت کے خلاف ہے، اور یہ دنیا و آخرت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ﴾.

 

"اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے" (سورۃ الممتحنہ: آیت 1)

 

دوسری بات: امت استعماری کافر مغرب اور اس کے ایجنٹوں کے ان دعوؤں سے دھوکہ نہ کھائے کہ وہ ان سے اپنا اقتدار واپس لینے کی سکت نہیں رکھتی۔ مغرب کے پاس جو صلاحیتیں ہیں وہ اس سے زیادہ نہیں ہیں جو ظاہری آنکھ دیکھتی ہے۔ چنانچہ یہ وہی امریکہ ہے جس کی فوج کے بارے میں دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت ہے، لیکن وہ اس وہم کو پورا کرنے میں ناکام رہا جس میں اس نے دنیا کو مبتلا کر رکھا تھا کہ ایران کے ساتھ اس کی جنگ وینزویلا کی طرح محض ایک سیر سپاٹا ہوگی۔ لیکن یہ جنگ طویل اور پیچیدہ ہوگئی، اور ٹرمپ اور اس کے آقاؤں کے لیے حالات تنگ ہو گئے، چنانچہ انہوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے بارے میں ایک کے بعد ایک جھوٹ بولنا شروع کر دیا جبکہ وہ خود اس مشکل سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

 

اسی لیے ہم امتِ مسلمہ کو پکارتے ہیں کہ وہ یاد رکھے کہ خلافت ہی وہ سیاسی نظام ہے جس کی رہنمائی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی، اور یہی وہ سیاسی نظام ہے جسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نافذ کیا، جس نے پوری تاریخ میں امتِ مسلمہ کی عزت و وقار کی ضمانت دی، اور امت کو کبھی اس کے سائے کے علاوہ کہیں عزت نصیب نہیں ہوئی۔ لہٰذا امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے دوبارہ قائم کرنے کی جدوجہد میں ابھی شامل ہو جائے اور اسے اپنا زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لے۔

 

حزب التحریر نے اسلامی ثقافت اور سیاسی شعور کے ذریعے اس عظیم فریضے کی دوبارہ ادائیگی کے لیے پوری تیاری کر رکھی ہے۔ اس کے نوجوان آپ کے درمیان اور آپ کے ساتھ موجود ہیں جو آپ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا رہے ہیں، شاید کہ اللہ ہمیں اور آپ کو فتح اور غلبہ (تمکین) کی توفیق عطا فرمائے۔

===

جب مصر کی دولت ہی اسے غریب بنانے کا آلہ بن جائے!

 

 

مصر نے حالیہ برسوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی ایک مسلسل لہر دیکھ لی ہے، یہاں تک کہ تقریباً دس سالوں میں پیٹرول کی بعض اقسام کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ چند سال پہلے تک پیٹرول کی فی لیٹر قیمت محض چند پاؤنڈ سے زیادہ نہیں تھی، جو آج بیس پاؤنڈ کے قریب پہنچ چکی ہے اور بعض اقسام میں اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ اضافے اچانک نہیں ہوئے، بلکہ یہ اس واضح راستے کا حصہ ہیں جو حکومت کی جانب سے نام نہاد "اقتصادی اصلاحات" کے پروگراموں کو اپنانے سے شروع ہوا، جس کا سب سے نمایاں نکتہ توانائی پر دی جانے والی مبینہ سبسڈی کو ختم کرنا اور قیمتوں کو عالمی منڈی سے جوڑنا تھا۔

 

اے مصر (اہلِ کنانہ) کے لوگو! زندگی کی یہ تنگی اور قیمتوں میں یہ اضافہ وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان غلط معاشی پالیسیوں کا براہِ راست نتیجہ ہے جن کے تحت ملک چلایا جا رہا ہے۔ مصر کوئی غریب ملک نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے وسائل، محلِ وقوع اور صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک امیر ملک ہے، لیکن ان وسائل کا انتظام آج اس طرح نہیں کیا جا رہا جو آپ کے معاملات کی بہتر دیکھ بھال کی ضمانت دے سکے۔ اس حقیقت کا ادراک ہی تبدیلی کی راہ میں پہلا قدم ہے، تاکہ آپ کی دولت آپ کو واپس ملے اور اسے اس طرح چلایا جائے کہ آپ کے درمیان عدل اور رحمت قائم ہو۔

 

اے مصر کے جری سپاہیو! آپ بھی اسی عوام کا حصہ ہیں جو ان پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی افواج ہمیشہ سے انصاف کی پشت پناہ اور لوگوں کے حقوق کی محافظ رہی ہیں، نہ کہ ان پالیسیوں کا آلہ کار جو امت کو تھکا دیں اور اس کی کمر توڑ دیں۔ ملک اور اس کے وسائل کی حفاظت میں آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، اور آپ کو ان تمام چیزوں کے سامنے ڈھال بننا چاہیے جو ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں یا اس کے اثاثوں کو ضائع کرتی ہیں۔ لہٰذا اپنی امت کا ساتھ دیں، اس کا درد بانٹیں اور اس کا وہ اقتدار اسے واپس دلائیں جو خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے سائے میں اسلام کے ذریعے اس کے معاملات کی نگہبانی کرے۔

===

پاکستان کے حکمران، مسلمانوں کو رسوا کرنے اور ان کے دشمنوں کی مدد کرنے کے عادی ہو چکے ہیں

 

 

پاکستان کے سیاسی اور فوجی قائدین نہ تو اللہ سے شرماتے ہیں اور نہ ہی اس کے بندوں سے۔ چنانچہ اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بجائے، انہوں نے انہیں ویسے ہی تنہا چھوڑ دیا جیسے غزہ کے بھائیوں کو تنہا چھوڑا تھا۔ اور امریکہ کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے، انہوں نے اس کی ایجنٹی میں مزید اضافہ کیا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس طرح وہ اسے راضی کر لیں گے اور وہ انہیں ان کے ٹیڑھے تختوں پر برقرار رکھے گی۔ انہوں نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی جو امریکہ نے ایران، شام، عراق اور دیگر ممالک میں اپنے حلیفوں اور وفاداروں کے ساتھ کیا۔ اور انہوں نے صرف ایک عاجز کی خاموشی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ شیخی بگھارنے لگے کہ وہ امریکہ کی جنگ میں شامل ہوں گے، جیسے وہ پہلے اس کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ" نامی صلیبی جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے ابوجہل جیسی غیرت کا ذرہ برابر بھی پاس نہیں رکھا، اور نہ ہی اسپین جیسے صلیبی ملک جیسا موقف اپنایا! چنانچہ ان پر رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے: «إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»"پہلی نبوت کے کلام میں سے جو لوگوں نے پایا وہ یہ ہے: جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو"

 

اے مسلمانوں اور پاکستان کے مخلص سپاہیو! ان ’رویبضات‘ (نااہل اور گھٹیا لوگوں) کی حکمرانی اور قیادت پر خاموش رہنے والے کے لیے اب کوئی عذر باقی نہیں رہا، کیونکہ اب ہر صاحبِ بصیرت پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہی تمام مصائب کی جڑ اور بیماری کی اصل بنیاد ہیں، اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اگر آپ یہ کام کر گزریں گے تو آپ کافر امریکہ کی زنجیروں سے آزاد ہو جائیں گے، اور اپنے معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے کے قابل ہو جائیں گے۔ پس اپنے ہاتھ حزب التحریر کے ہاتھوں میں دیں اور اس کی نصرت کریں تاکہ آپ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ قائم کر سکیں، کیونکہ صرف اسی کے ذریعے آپ اپنے رب کو راضی کریں گے اور اپنے آپ کو اور اپنی امت کو آزاد کرائیں گے، ورنہ آپ کے نقصانات، ناکامیاں اور ذلت اسی طرح بڑھتی رہے گی یہاں تک کہ آپ اسفل سافلین (پستی کی انتہا) کو پہنچ جائیں گے۔

===

جمہوری نظام سے نہیں بلکہ نظامِ خلافت سے ہی امت اپنے دشمنوں پر فتح پائے گی

 

 

ایران، امریکہ اور یہودی وجود کے درمیان جاری جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور یہودیوں کا محاذ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے جتنا کہ بہت سے لوگ سمجھتے تھے۔ وہ جنگ جس کے بارے میں امریکہ کا خیال تھا کہ یہ ایک فوجی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی جس میں وہ نظام کے سربراہ کو گرا کر اس کا متبادل مقرر کر دے گا، جیسا کہ اس نے وینزویلا میں کیا تھا، تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ ایسی جنگ ہے جو جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی، اور نہ ہی ویسے ہو رہی ہے جیسا امریکہ نے منصوبہ بنایا تھا یا چاہا تھا۔ لیکن اس کے برعکس، ایرانی جمہوری نظام کی توقعات کی حد جنگ کو روکنے اور دوبارہ نقطہ آغاز پر واپس جانے سے زیادہ نہیں ہے، یعنی نئے مذاکرات اور ملک کو اس کی قوت کے عناصر؛ ایٹمی پروگرام اور اسٹریٹجک ہتھیاروں سے محروم کرنے تک محدود ہے۔ اور امریکہ اس کی تاک میں رہے گا اور اسے کمزور کرنے کے لیے کام کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اس کی مکمل تابعداری کے جال میں پھنس جائے، اور اس طرح وہ مذاکرات کی میز پر وہ حاصل کر لے جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے سے ہمیشہ عاجز رہا ہے۔

 

ایران میں جمہوری نظام کو نظامِ خلافت میں بدل دینا ہی امریکہ کے خلاف امت اور خود ایران کی فتح کا واحد راستہ ہے، کیونکہ خلافت اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکمرانی کرے گی، دیگر تمام اسلامی ممالک کے ساتھ سرحدوں کو ختم کر کے انہیں متحد کرے گی، اور امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے عام پکار (نفیرِ عام) بلند کرے گی۔ اور اس طرح امت اپنی خلافت کے ذریعے ایک ایسی ہیبت ناک قوت بن جائے گی جو آسانی سے امریکہ کے بحری بیڑوں کو سمندر میں غرق کرنے اور اسے سمندروں کے پار تنہائی اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھے گی، خاص طور پر جب مغربی صلیبی اتحاد میں اس کے یورپی اتحادی بھی اسے چھوڑ چکے ہوں۔ اور اس وقت بین الاقوامی سطح پر خلافت کی ریاست کا موقف منفرد ہوگا اور وہ حق کے ساتھ پوری دنیا پر غالب آ جائے گی۔

===

 

یہود اور ہندؤوں کا شر انگیز اتحاد، تو پھر اس کے خلاف کون کھڑا ہوگا؟

 

 

اے مسلمانو! تمہارے حکمران یہود اور ہندؤوں کے اس شر انگیز اتحاد کا ہرگز مقابلہ نہیں کریں گے۔ فکری طور پر یہ حکمران قوم پرست (نیشنلسٹ) ہیں، اور جب وہ "وطن کی تعمیر" کی بات کرتے ہیں تو ان کی نظر قوم پرستی کی ان سرحدوں سے آگے نہیں جاتی جنہوں نے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور تمہیں کمزور کر دیا۔ وہ امت کی تعمیر کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں گے، جس کے لیے ضروری ہے کہ قومی سرحدوں کو ختم کیا جائے اور اسلامی ممالک کو متحد کر کے دنیا کی عظیم ترین ریاست بنائی جائے۔ اور سیاسی طور پر وہ امریکہ کے وفادار ہیں، جو یہودی وجود اور ہندو ریاست کا حلیف ہے، اور ان حکمرانوں کا کردار تمہاری افواج کو لگام ڈالنا ہے، جبکہ تمہارے بھائی یہود اور ہندؤوں کے ہاتھوں ذبح ہو رہے ہیں۔ تو کیا اس کے بعد اس ضرورت میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے کہ ہم ان کی جگہ ایسی اسلامی قیادت لائیں جو اسلام کے مطابق حکمرانی کرے، تمہیں متحد کرے اور تمہارے دشمنوں سے لڑے؟

 

اے امتِ مسلمہ کی افواج! عقلِ سلیم تمہاری امت کی وحدت کو واجب قرار دیتی ہے اور یہ وقت کا تقاضا ہے، اور اس سے پہلے یہ تم پر ایک شرعی واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا﴾

 

  "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو"(سورۃ آل عمران: آیت 103

 

حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا ہے: "أمرهم بالجماعة ونهاهم عن التفرقة"(اللہ نے انہیں جماعت (اکٹھے رہنے) کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع فرمایا)۔ چنانچہ یہ آیتِ کریمہ مسلمانوں کا ایک متحد وجود (یعنی ایک ریاست) میں جمع ہونے کے وجوب پر شرعی دلیل ہے۔ یہ مدینہ کے انصار ہی تھے جنہوں نے اسلام کی حکمرانی قائم کرنے اور مسلمانوں کو ایک وجود میں متحد کرنے کے لیے اپنی نصرۃ (عسکری مدد)  پیش کی تھی، تو اللہ نے انہیں ان کے زمانے کے یہود اور مشرکین پر غلبہ عطا فرمایا۔ اور ہمارے زمانے میں، آپ میں سے جو مخلص اور سچے لوگ ہیں وہی یہود اور ہندؤوں کے ہاتھوں ذلت اور خیانت کے باب کو ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیں گے۔ اور یہ حزب التحریر ہے جو آپ کے درمیان اور آپ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، وہ آپ کی خیر و بھلائی کو قریب سے جانتی ہے، اور آپ کو یقین دلاتی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اسے خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں۔

===

جس صبر کی اسلام دعوت دیتا ہے وہ ظلم پر صبر (خاموشی) نہیں ہے

 

 

اسلام جس صبر کی دعوت دیتا ہے وہ ظلم پر صبر کرنا یا فاسد حقیقت کو تسلیم کر لینا نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی زندگی کے ازسرِ نو آغاز کے لیے کام کرنے پر صبر (ثابت قدمی) ہے۔ یہ حق بات کہنے کی راہ میں پہنچنے والی تکلیف پر صبر ہے، راستے کی طوالت پر صبر ہے، اور کفر کے ساتھ حکمرانی کرنے والے نظاموں میں جذب ہوئے بغیر یا ان کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر اپنے منصوبے (مقصد) پر ثابت قدم رہنا ہے۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ سچا ہے جس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ اس شرط سے وابستہ ہے کہ مقصد دین کا قیام ہو، اور زمین پر اسلام کے غلبے (سلطان) کے لیے کام شعوری اور منظم ہو۔ اور تبھی خلافت  حاصل ہوگی، ظلم کا خاتمہ ہوگا، اور امت کی وحدت اور قوت اسے دوبارہ مل جائے گی۔

 

چنانچہ اسلامی فکر محض ایک روحانی دعوت یا فاسد نظاموں کے اندر جزوی اصلاح کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کا ایک جامع منصوبہ ہے، جس میں حاکمیت  شریعت کی ہو، اقتدار  امت کا ہو، اور جو دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچائے۔ اور یہی نصرت کا حقیقی راستہ ہے، اور امت پر یہ واجب ہے کہ وہ اس کے لیے کوشش کرے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس نے وہ کام پورا کر دیا جو اس پر فرض کیا گیا تھا۔

===

 

ٹرمپ اور اس کے پادری صلیبی جنگوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں

 

 

بہت سی ویب سائٹس نے ایک ویڈیو شائع کی ہے جس میں پادریوں کو اوول آفس (White House) میں امریکی صدر ٹرمپ کے اوپر دعا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی جارحیت جاری ہے۔

 

الرایہ: یہ وہ کفار ہیں، جو باطل کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں، وہ اپنے باطل سے شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ میڈیا پر اپنی صلیبیت کا اعلان کر کے اس پر فخر کرتے ہیں اور اسے اپنی سیاست کا نشان  بناتے ہیں۔ ٹرمپ اور اس کے پادریوں نے جو کچھ کیا وہ محض ایک ذاتی رسم نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سیاسی و مذہبی نمائش ہے جسے جارحیت کا جواز فراہم کرنے اور صلیب کے جھنڈے تلے مسلمانوں کے خلاف مغربی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

رہی بات ہماری، یعنی سچے دین والے مسلمانوں کی، تو ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اگر ہم اپنے دین کے شعائر کو ظاہر کریں۔ چنانچہ بہت سے ممالک میں ہم پر اذان دینے کی پابندی ہے، ہماری خواتین کو اسکولوں، یونیورسٹیوں اور کام کی جگہوں پر حجاب پہننے سے روکا جاتا ہے، اور جو جہاد کی دعوت دے یا کفار کے ساتھ اتحاد کو مسترد کرے اسے قید کر دیا جاتا ہے اور اس پر 'دہشت گرد اور انتہا پسند' کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اور یہ اصطلاحات اتفاقیہ نہیں ہیں، بلکہ انہیں امریکہ اور اس کے میڈیا و انٹیلی جنس اداروں نے اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے، مسلمانوں کے اپنے دین سے وابستگی کو کمزور کرنے اور انہیں مغلوب اور شکستہ حال رکھنے کے لیے گھڑا ہے۔

 

جبکہ صلیبی پادری اعلیٰ ترین دفاتر میں بیٹھ کر اپنی جنگ کو بابرکت بنا رہے ہیں، ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے بغیر ہمارے لیے کوئی نجات، عزت یا وقار نہیں ہے۔ ایسی خلافت جو ہماری زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کو نافذ کرے، ہماری ہیبت کو بحال کرے، ہمارے خون، عزت اور مال کی حفاظت کرے، اور کفار سے امن کی بھیک مانگنے کے بجائے حق کے ساتھ کفر کا مقابلہ کرے۔

===

 

مسجدِ اقصیٰ، حکمرانوں کی خیانت اور مسلمانوں کی بے حسی کے سائے میں

 

 

59 برسوں میں پہلی بار مسجدِ اقصیٰ سے تکبیرات کی آوازیں غائب ہیں، اور اس کے صحنوں میں نمازیوں کو عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کے میدان خالی پڑے ہیں اور اس کے ان برآمدوں میں ایک بوجھل خاموشی چھائی ہوئی ہے جو ہمیشہ نمازیوں اور محافظوں کی وجہ سے ایک دھڑکتے ہوئے دل کی مانند رہے ہیں، اور جو ان کی نمازوں، آنسوؤں اور صبر کی لازوال داستانوں کے گواہ رہے ہیں۔

 

اس سال مسجدِ اقصیٰ میں عید الفطر کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ اس سے قبل ایک طویل بندش رہی جس میں آخری جمعہ، لیلۃ القدر اور آخری عشرہ بھی شامل تھا (الجزیرہ نیٹ)۔

 

الرایہ: یہ مسجدِ اقصیٰ کی حالت ہے اور یہی ہماری حالت ہے، اور اس کی وجہ ہمارے ان حکمرانوں کی خیانت ہے جو اپنی افواج کو یہودی وجود سے لڑنے اور اسے اس مبارک سرزمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے سے روک کر اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ کمزوری کی یہ حالت جس میں ہم جی رہے ہیں، اس کی وجہ ہمارے اس خلیفہ کا نہ ہونا ہے جس کے پیچھے رہ کر ہم جنگ لڑتے ہیں اور جس کے ذریعے خود کو (دشمن سے) بچاتے ہیں۔

 

اسی لیے اب ہم پر یہ عظیم فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم پوری تگ و دو کریں اور اپنی افواج کو یہود سے قتال کرنے اور مسجدِ اقصیٰ کو ان سے پاک کرنے کے لیے حرکت میں آنے پر ابھاریں۔ اور اگر خائن حکمران انہیں ایسا کرنے سے روکیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ ان حکمرانوں کو ان کے تختوں سے اتار پھینکیں، ان کے اقتدار کے ایوانوں کو مسمار کر دیں اور خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرت فراہم کر کے اللہ کے دین کی مدد کریں، تاکہ ان کے ذریعے اقصیٰ اور پورا فلسطین آزاد ہو سکے،

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

"اور اس دن اہلِ ایمان اللہ کی نصرت پر خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور وہی نہایت زبردست اور رحم کرنے والا ہے"(سورۃ الروم: آیت 5،4)

===

 

 

 

 

 

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 06:07

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.