الأحد، 23 ذو القعدة 1447| 2026/05/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اخبار الرایہ کے شمارہ 598 سے متفرق مضامین

 

پہلے صفحے کی پیشانی پر

 

یہودی وجود کا تکبر اور فلسطین و دیگر مسلم سرزمینوں میں اس کے بڑھتے ہوئے جرائم کا علاج محض مذمتی بیانات اور ناراضگی کے اظہار سے ممکن نہیں، اور نہ ہی نام نہاد بین الاقوامی قانون یا دیگر فرسودہ نعروں کی بنیاد پر ان کی مخالفت کرنے سے کچھ حاصل ہوگا۔ اس کی بجائے، اس کے خلاف ایک سنجیدہ اور حقیقی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے امت کی افواج کو متحرک کرنا لازم ہے تاکہ وہ اس یہودی وجود کو پوری طرح ذلیل و خوار کر دیں، اور جس چیز پر بھی قابض ہوں اسے تہس نہس کر دیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے ارشاد کی تصدیق ہوتی ہے جس نے فرمایا:

 

﴿فَإِذَا جَاء وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيراً﴾

 

"پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو مسلط کیا) تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح داخل ہوں جس طرح پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اسے تباہ کر کے رکھ دیں۔" [سورۃ الاسراء:آیت 7]

===

پہلے صفحے کے لیے

مسلم ممالک اور مصنوعی غربت!

 

اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کردہ اور 24 اپریل کو جاری ہونے والی ایک سالانہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی دو تہائی تعداد محض دس ممالک میں مقیم ہے، جن میں افغانستان بھی شامل ہے۔ ان ممالک کی اکثریت عالمِ اسلام میں واقع ہے۔

 

یہ بات حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہی گئی:

 

یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ افغانستان اور پورے عالمِ اسلام میں غربت اور بھوک کوئی عارضی مظاہر نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک گہرے اور ڈھانچہ جاتی بحران کا نتیجہ ہیں۔ بیان میں اس صورتحال کا ذمہ دار نہ صرف مغربی استعماری جنگوں کے اثرات، جابرانہ پالیسیوں، معاشی دباؤ، جبری نقل مکانی اور امریکی پالیسیوں کے نقشِ قدم پر چلنے والے حکمرانوں کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ انگیز تنازعات کو ہوا دینے کو قرار دیا گیا ہے، بلکہ اسے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے نفاذ اور ورلڈ بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے اداروں کی مسلط کردہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا براہ راست نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

 

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ: یہ نظام انسانیت کے بنیادی مسئلے یعنی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو حل کرنے کے بجائے، سطحی معاشی ترقی اور پیداوار میں اضافے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جبکہ دولت کی منصفانہ تقسیم کے مسئلے کو "مارکیٹ" کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ عملی طور پر، اس مارکیٹ نے دولت کو ایک محدود اقلیت کے ہاتھوں میں مرکوز کر دیا ہے، جس سے اکثریت غربت اور سختیوں کا شکار ہو گئی ہے۔

 

پریس ریلیز میں یہ بات جاری رکھتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان پر بیس سالہ استعماری قبضے کے دوران، عالمی طاقتوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے نظام مسلط کیے جنہوں نے برسرِ اقتدار طبقے میں انتظامی بدعنوانی، معاشی غلامی اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کو مستحکم کر دیا۔ نتیجتاً، وسیع قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود افغان عوام غربت کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ آج بھی، بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے لے کر نجکاری اور بھرتیوں و روزگار کے عمل میں شفافیت کے فقدان تک، غربت میں نہ صرف کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

 

بیان میں اس بات پر مزید زور دیا گیا کہ افغانستان اور عالمِ اسلام میں موجودہ غربت ایک مصنوعی کیفیت ہے جس میں ایک مالامال امت کو جبر و تسلط کے ذریعے دھکیل دیا گیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے معاشی مسئلہ وسائل کی قلت نہیں بلکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ اسلام میں غربت کی تعریف بنیادی ضروریات، یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی میں ناکامی ہے، اور ایسی صورتحال دین میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے برعکس، جو غربت کو ایک فطری اور ناگزیر امر قرار دیتا ہے، اسلام اسے ایک غیر معمولی صورتحال سمجھتا ہے جس کا بیخ وبن سے خاتمہ ضروری ہے۔ یقیناً اسلامی تاریخ غربت کے خاتمے کی عملی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

 

بیان میں مزید اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اس کا اصل حل جامع اسلامی معاشی نظام کی طرف واپسی میں پنہاں ہے؛ ایک ایسا نظام جس کے معاشی احکامات بشمول زکوٰۃ کی ادائیگی، سود کی ممانعت، قدرتی وسائل کی عوامی ملکیت اور عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے ریاست کی براہِ راست ذمہ داری دولت کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دیتی ہے۔ ایسے نظام میں معاشرے کا کوئی بھی فرد اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل سے محروم نہیں رہتا۔

 

آخر میں، حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ خلاصہ پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان اور عالمِ اسلام میں غربت کے بحران کا بنیادی حل صرف اور صرف منہجِ نبوت پر دوسری خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ایک ایسا نظام جو عالمی استعماری اداروں کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کیے بغیر اسلام کو مکمل طور پر نافذ کرے، بدعنوانی کو اپنا دشمن سمجھے، اور معیشت کی بنیاد انصاف، انسانی وقار اور دولت کی صحیح تقسیم پر رکھے، تاکہ اس طرح غربت کا حقیقی اور مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جا سکے۔

===

 

مرکزی سرخی کے تحت

 

حزب التحریر / ولایہ تیونس سالانہ خلافت کانفرنس "خلافت کے ذریعے ہی ہم امریکی بالادستی کا مقابلہ کریں گے"

 

حزب التحریر ولایہ تیونس نے اپنا سالانہ خلافت کانفرنس بروز ہفتہ، 2 مئی 2026ء کو دارالحکومت تیونس میں "سیمینارز اینڈ کانفرنسز ہال، سکرا-آریانہ جنکشن" میں منعقد کیا۔ کانفرنس کا عنوان تھا: "خلافت کے ذریعے، ہم امریکی بالادستی کا مقابلہ کریں گے"۔

 

کانفرنس میں تین اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی:

 

1۔ جمہوریت اور جدیدیت کا خاتمہ، اور ایپسٹین تہذیب کا زوال۔

2۔ اسلام اور خلافت... ایک نئے عالمی نظام کی جانب۔

3۔ دعوت اور نصرت کا سنگم، اور خلافت کی سحر۔

===

 

ازبک حکومت اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف جنگ کا ایک نیا مرحلہ

 

ازبکستان کے قانون ساز ادارے - لیجسلیٹو کونسل - نے ملک کے مسلمان عوام اور ان کی اسلامی اقدار کو نشانہ بنانے کے لیے ایک اور آمرانہ قدم اٹھایا ہے۔ 7 اپریل کو، نمائندگان نے پہلے مرحلے میں ایک ایسے قانونی مسودے کی منظوری دی ہے جس میں "انتہا پسندی کے خلاف جنگ" کے بہانے سزاؤں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

 

اس سلسلے میں، حزب التحریر ازبکستان کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ صرف افراد کو نشانہ بناتی ہیں، بلکہ یہ ریاست کے کنٹرول سے باہر غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور ایسے تمام گروہوں کو بھی نشانہ بناتی ہیں جو حکومت کے غیر منظور شدہ نظریات کو اپناتے ہیں۔

 

بیان میں مزید کہا گیا کہ نئے قانون میں غیر سرکاری تنظیموں کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی رضاکار گروہ جو مسجد سے باہر اسلام سیکھنے کی کوشش کرے یا معاشرے کے مسائل پر بحث کرے، اسے "انتہا پسند" گروہ قرار دے دیا جائے گا۔ اس کے ذریعے، حکومت معاشرے کے تمام پہلوؤں کو خوف اور مکمل نگرانی کے بوجھ تلے دبائے رکھنا چاہتی ہے۔

 

پریس ریلیز کے اختتام پر ازبکستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قانون خود حکومت کے خوف کا ثبوت ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلامی نظریات وسیع پیمانے پر پھیل رہے ہیں اور اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی پکار ملک کے نوجوانوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ اسی لیے وہ "انتہا پسندی" کے نام پر کسی بھی اسلامی سرگرمی پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جو بھی جابر حکومت اسلام سے لڑتی ہے، وہ صرف اپنی ہی تباہی کو تیز کرتی ہے۔ اور اللہ کے حکم سے منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اس کی تباہی قریب ہے۔

===

 

مصر کی تیل کی کمپنیوں کی نجکاری شرعی قانون کی رو سے باطل ہے

 

مصری حکومتی ذرائع نے تیل اور گیس کے شعبے کی 10 بڑی کمپنیوں کی ایک فہرست تیار کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مصری سٹاک ایکسچینج میں ان کے حصص (شیئرز) پیش کیے جا سکیں۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ قدم 'ریاستی ملکیتی پالیسی دستاویز' (State Ownership Policy Document) کے دائرہ کار میں اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد ہنگامی بنیادوں پر ڈالر کی صورت میں نقد رقم (liquidity) فراہم کرنا اور عوامی بجٹ پر دباؤ کم کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اسٹرٹیجک سرمایہ کاروں کی شمولیت سے ان تزویراتی اثاثوں کے انتظام کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

 

اخبار الرایہ: وہ شرعی حقیقت جسے موجودہ نظام نظر انداز کر رہا ہے، یہ ہے کہ تیل اور گیس عوامی ملکیت ہیں، نہ کہ ریاست کے ملکیتی اثاثے جن کی سٹاک مارکیٹ میں تجارت کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْكَلَأ وَالْمَاءِ وَالنَّارِ» "مسلمان تین چیزوں میں شراکت دار ہیں: چراگاہ، پانی اور آگ۔"

 

اور سوال یہ ہے کہ: اگر مقصد ملکیت کے دائرے کو وسیع کرنا اور مصری عوام کو اپنے ملک کی دولت میں حصہ دار بنانا ہے، تو کیا اس نظام میں اتنی جرات ہے کہ وہ ایک ایسا تاریخی فیصلہ جاری کرے جس کے تحت لوگوں کو بینکوں سے اپنی جمع پونجی اور ڈیپازٹس فوری طور پر اور بغیر کسی پابندی کے نکالنے کی اجازت دی جائے؟ تاکہ وہ خود کو قدر کھوتی ہوئی کاغذی کرنسی کے تسلط سے آزاد کرا سکیں اور اسے ان منافع بخش کمپنیوں کے حقیقی حصص خریدنے کے لیے استعمال کر سکیں؟ اس کا جواب یقیناً 'نہیں' میں ہے۔ یہ نظام بخوبی جانتا ہے کہ اگر لوگوں نے اپنی رقم واپس نکالنے کی کوشش کی تو بینکنگ کا سارا نظام دھڑام سے نیچے آ گرے گا، اس لیے وہ عوام کو تو مسلسل گھٹتے ہوئے ڈیپازٹس کے جال میں پھنسائے رکھنا پسند کرتا ہے، لیکن دوسری طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خودمختار فنڈز (sovereign funds) کے لیے دروازے چوپٹ کھول رکھے ہیں تاکہ وہ معیشت کی شہ رگ پر قبضہ کر سکیں۔

 

اے مصر کی فوج! تاریخ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑا، اور امت ان لوگوں کو کبھی نہیں بھولے گی جنہوں نے اس کے ساتھ غداری کی، جبکہ اس کی دولت ڈالروں کی خاطر بیچی جا رہی ہے۔ یہ دین، غیرت اور سرزمین کی امانت ہے۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی صاحبِ بصیرت ایسا نہیں جو اس معاشی خون ریزی کو روکے اور امت کے چھینے ہوئے اقتدار کو بحال کرے؟

===

 

اے مصر کی فوج! تمہاری مشقیں یہودیوں کو خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ تو کیا ہوگا اگر تم فوجی نقل و حرکت کا اعلان کر دو؟!

نبض (Nabd) ویب سائٹ نے پیر، 27/04/2026 کو رپورٹ کیا کہ "اسرائیلی" کنیسٹ کے رکن زوی سکوٹ (Tzvi Sukkot) نے نیتن یاہو سے اس وقت فوری مداخلت کا مطالبہ کیا جب یہ معلومات سامنے آئیں کہ مصری فوج سرحد سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر فوجی مشقیں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سخت گیر رکنِ کنیسٹ نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سرحد کے ساتھ لائیو فائر (اصلی گولہ باری) پر مبنی مصری فوج کی یہ سرگرمیاں ان کے وجود کی جنگی تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں اور اس علاقے کی آبادی کی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اخبار الرایہ: اپنے غدار حکمرانوں کے برعکس، امتِ مسلمہ یہودی وجود کو ارضِ مقدسہ (مبارک زمین) پر ایک غاصب وجود کے طور پر دیکھتی ہے، اور اس کا سوائے خاتمے کے کوئی شرعی حل موجود نہیں۔ یہودی سیاست دان اس حقیقت کو پوری طرح سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی وہ امت کی کسی بھی فوج کی طرف سے کوئی حرکت دیکھتے ہیں تو وہ خوف اور اندیشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

چنانچہ اے مصر کی فوج! یہودی فوجی تمہیں انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں (یعنی تمہاری قوت سے ڈرتے ہیں)۔ اگر تمہارے حکمرانوں نے اس مکار یہودی وجود کے ساتھ غداری کے معاہدے نہ کیے ہوتے، تو وہ محض ان مشقوں ہی سے ذلت اور خوف کی لپیٹ میں آ چکے ہوتے۔ تو پھر تم سیسی کی لگائی ہوئی ان زنجیروں کو کیوں نہیں توڑ دیتے جس نے تمہیں یہودی وجود کا نگہبان بنا دیا ہے؟ بلاشبہ، تم جانتے ہو کہ یہودی وجود کفار کی مغربی ریاستوں اور مسلمانوں کے حکمرانوں کی مدد کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ یہ حکمران تمہیں تمہارے ہی بھائیوں کے مقابلے میں اس کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں، تم اس رسوائی کو کیسے برداشت کر لیتے ہو؟

تم اس کی بقا کی شہ رگ کیوں نہیں کاٹ دیتے تاکہ یہ فنا ہو جائے اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے لوگ تتر بتر ہو جائیں؟ اے ارضِ کنانہ (ترکش) کے سپاہیو! اس (اعزاز) کا تم سے بڑھ کر اور کون حقدار ہے؟

===

اے پاک فوج کے مخلصو! ایک سنہری موقع جسے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہرگز ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے!

 

اے پاک فوج کے مخلص افسرو اور جوانو! اس امت کی مظلوم بیٹیوں کی اس مشترکہ پکار کو سنو جو تمہاری طرف متوجہ ہے، آخر تمہارے پاس کیا عذر باقی ہے؟ تمہارے پاس ٹینک، طیارے اور بھاری اسلحہ موجود ہے، تم اپنی فوجی طاقت پر فخر کرتے ہو اور دنیا کو دکھانے کے لیے اپنے سینوں کو تمغوں سے سجاتے ہو، لیکن تم اپنی بہنوں کو اس کچل دینے والے ظلم سے نجات دلانے کے لیے ایک بٹالین تک حرکت میں نہیں لاتے؟

 

اللہ تعالی نے تمہاری آنکھوں کے سامنے ایک سنہری موقع کھول دیا ہے، امریکہ کی جھوٹی برتری پاش پاش ہو رہی ہے، اور اس نام نہاد مقدس عالمی نظام کو خود اسے بنانے والوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔ استعماری طاقتیں منتشر اور زوال پذیر ہیں، اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ حقیقی مردوں والا قدم اٹھاؤ! اپنے غدار حکمرانوں کی زنجیریں توڑ دو اور اس امت کے انصار بن جاؤ!

 

اگر تم حرکت میں نہ آئے، تو آسیہ، عافیہ اور اس امت کی لاتعداد مظلوم بیٹیوں کی خاموش پکاریں اور بہتے ہوئے آنسو قیامت کے دن تمہارے خلاف ایک بڑی گواہی بن کر کھڑے ہوں گے۔ یہ غداری کا ایک ہولناک بوجھ ہے—وہ بوجھ جسے تم زمین و آسمان کے خالق کے سامنے کھڑے ہو کر برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ یہ غاصبانہ قبضہ عارضی ہے، اور اللہ کے حکم سے اسلام کی فتح ناگزیر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے:

 

﴿يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾

 

"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں، لیکن اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ لگے۔" [سورۃ التوبہ:آیت 32]

 

امت تمہاری نصرت کی منتظر ہے، کیونکہ صرف خلافتِ راشدہ ہی اس امت کی بیٹیوں کو کفار (کے چنگل) سے نجات دلائے گی۔ اے پاک فوج کے افسرو! اگر تم اب بھی حرکت میں نہ آئے، تو دنیا میں تمہارے لیے کیسی رسوائی ہوگی اور آخرت میں اللہ کو کیا جواب دو گے! اپنی بیڑیاں توڑ دو اور مظلوموں کی مدد کرو۔

Last modified onہفتہ, 09 مئی 2026 20:44

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک