الأحد، 23 ذو القعدة 1447| 2026/05/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا مالی میں ریاست کے اقتدار کا خلا پُر کرنے کے لیے بغاوت دوبارہ لوٹ آئے گی؟

 

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

ایک ایسے جغرافیے میں جو بظاہر بین الاقوامی فیصلہ سازی کے مراکز سے بہت دور نظر آتا ہے، آج مغربی مالی میں ایک انتہائی خطرناک خاموش تبدیلی جنم لے رہی ہے، جہاں "ازواد" کا نام ایک بار پھر ابھر رہا ہے۔یہ ماضی کی کسی بغاوت کی محض ایک یاد نہیں، بلکہ افراتفری کے بطن سے جنم لینے والا ایک نیا منصوبہ ہے۔ "ازواد لبریشن فرنٹ" کا اپنی نئی شکل میں ظہور کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان توازنات کے ٹوٹنے کا براہِ راست عکس ہے جنہوں نے برسوں تک ساحل کے خطے پر حکمرانی کی، اور جو اب بین الاقوامی اثر و رسوخ میں کمی اور مرکزی ریاست کے اقتدار کے خاتمے کے بعد دم توڑ رہے ہیں۔

 

اس ہیجان خیز پس منظر میں، قومی شناخت کے مطالبات اقتدار کی جوڑ توڑ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور سیاست افراتفری کی معیشت میں الجھ کر رہ گئی ہے، جس نے ایک ایسا منظر نامہ پیدا کیا ہے جو محض ایک روایتی علیحدگی پسند تنازع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے جدوجہد نہیں ہے، بلکہ دنیا کے نازک ترین خطوں میں سے ایک میں "ریاست" کے تصور کا ایک کڑا امتحان ہے۔

 

روایتی بغاوت سے سیاسی صف بندی تک: مالی میں ازواد کی بغاوت ایک ساختی تنازع ہے جو 1960 میں اس کی نام نہاد آزادی کے بعد سے برقرار ہے، جس کا محور شمالی علاقے کے "تواریق" (Tuareg) باشندوں کے ازواد کے علاقے میں خود مختاری یا علیحدگی کے مطالبات ہیں۔ اس بغاوت کو شورش، جبر، مذاکرات اور جنگ بندی کے ایک ایسے شیطانی چکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دہائیوں سے خود کو دہرا رہا ہے۔

 

2012 میں "نیشنل موومنٹ فار دی لبریشن آف ازواد" (MNLA) کی جانب سے ازواد کے علاقے کی مختصر مدت کے لیے آزادی کے اعلان کے بعد سے، ایسا لگتا تھا کہ تواریق کاز ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم، اس ابھار کو غیر ملکی فوجی مداخلتوں، خاص طور پر فرانس کی قیادت میں "آپریشن سروال" کے ذریعے تیزی سے دبا دیا گیا تھا۔

 

آج، وہی نظریہ ایک نئے روپ میں دوبارہ سامنے آیا ہے: ایک ایسا بیانیہ جس میں کھلی علیحدگی پسندی کے بجائے خود مختاری اور سیاسی حقوق پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی اعتدال پسندی سے زیادہ طاقت کے توازن کے تحت اختیار کی گئی ایک حکمتِ عملی ہے۔ جہاں تواریق کی پچھلی بغاوتیں روایتی تھیں، وہاں یہ فرنٹ واضح طور پر ایک "ہائبرڈ" (مخلوط) نوعیت کا حامل ہے، جس کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

 

القاعدہ کے ساتھ شراکت داری میں دو رخی حکمتِ عملی: پہلی بار، ایک علیحدگی پسند فرنٹ القاعدہ سے وابستہ تنظیم "جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین" (JNIM) کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہا ہے، جس میں کرداروں کی واضح تقسیم موجود ہے۔ تواریق کا محور شمال میں اپنے کنٹرول کو بڑھانا ہے، جبکہ جنگجو ریاست کے اسٹریٹجک مراکز پر حملے کر رہے ہیں، جس سے ایک پیچیدہ مساوات جنم لے رہی ہے۔ اس حوالے سے الجزیرہ کے 28 اپریل 2026 کے ایک مضمون بعنوان "JNIM اور ازواد لبریشن فرنٹ کا اتحاد: ایک وقتی ضرورت کا رشتہ یا تزویراتی تبدیلی؟" میں رپورٹ کیا گیا تھا۔

 

جغرافیائی سیاسی خلا سے فائدہ اٹھانے کا وقت: 2023 کے آخر میں اقوام متحدہ کے مشن (MINUSMA) کی واپسی اور مالی میں ویگنر گروپ کے معاہدے کے خاتمے نے منظر نامے میں ایک خلا پیدا کر دیا اور اثر و رسوخ کی ازسرنو ترتیب کا دروازہ کھول دیا۔ جہاں "سہارا 24 ریڈیو لائیو" کے مطابق رپورٹ کیا گیا کہ "روسی گروپ نے مالی حکومت کے ساتھ اپنا سرکاری مشن مکمل کرنے کا بیان دینے کے بعد، 6 جون 2025 کو باضابطہ طور پر اپنے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا"۔ یہ صورتحال مالی کے حکام کو دو راستوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: یا تو وہ فوجی آپشن کو جاری رکھیں، جو بدلتی ہوئی گوریلا جنگ کے سامنے محدود ثابت ہوا ہے، یا پھر ریاست کے باقی ماندہ حصے کو بچانے کے لیے مسلح گروہوں اور علیحدگی پسند قوتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کو قبول کریں۔ اس طرح ملک سیاسی عدم استحکام کے ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہا ہے جو اقتدار کے ڈھانچے میں تبدیلی یا طویل مدتی ہنگامی حالت کے اعلان پر ختم ہو سکتا ہے۔تاریخ کو دوبارہ لکھ کر ایک اخلاقی فتح (کیدال پر دوبارہ قبضہ): رپورٹوں کے مطابق، 25 اپریل 2016 کو ملک کو فوجی مقامات اور اڈوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وزیر دفاع سادیو کامارا اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ دارالحکومت بماکو میں مودیبو کیٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گردونواح میں بھی اکا دکا دھماکوں کی اطلاع ملی، اور دور شمال میں واقع شہر کیدال باغیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس شہر پر دوبارہ قبضہ، اس کے ابتدائی دوبارہ قبضے کے تین سال سے بھی کم عرصے کے بعد، بماکو کے فوجی نقطہ نظر کی ناکامی کا اعتراف سمجھا گیا، جس نے روسی کرائے کے فوجیوں کے دستوں کی حمایت پر بہت زیادہ انحصار کیا تھا، جنہیں ایک میدانی معاہدے کے تحت پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا (افریقی سیکورٹی اسٹڈیز سینٹر، 29 اپریل 2016 کے مطابق)۔

 

سب سے اہم سوال اب بھی یہی ہے: اب کیوں؟

 

فرنٹ کی تشکیل کا فیصلہ مالی کی ساختی خامیوں میں جڑے اس جمع شدہ غصے کا نتیجہ ہے۔ اس کی سیاسی بنیادیں معاہدوں، خاص طور پر الجزائر معاہدے (جنوری 2014) پر عملدرآمد میں بار بار ہونے والی ناکامی میں پوشیدہ ہیں۔ 2015 کے الجزائر معاہدے کی منسوخی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جس نے تواریق دھڑوں سمیت مسلح گروہوں کے ساتھ لڑائی کو دوبارہ بھڑکا دیا۔ اس کشیدگی نے ازواد کی بعض تحریکوں کے لیے خود کو ایک زیادہ مؤثر اور متحد فریم ورک کے اندر دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس فرنٹ کی تشکیل حکمران فوجی جنتا کی طرف سے ورثے میں ملنے والی فوجی کشیدگی کا براہِ راست ردعمل تھی۔

 

سٹریٹیجک طور پر، فرنٹ کی چھتری تلے موجود دھڑوں نے ایک ایسے متحد ادارے کے ذریعے مستقبل کے کسی بھی خطرے کو پہلے ہی بھانپنے کی کوشش کی جو اجتماعی دفاع کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 

بدقسمتی سے، صورتحال دو اہم کھلاڑیوں کے درمیان ایک مہلک رقص کی مانند ہے:

 

ازواد نیشنل لبریشن فرنٹ (تواریق علیحدگی پسند)، جس کی نومبر 2014 میں تشکیل شمالی مالی میں جمع شدہ سیکورٹی اور سیاسی پیش رفت کا براہِ راست نتیجہ تھی۔ ان پیش رفتوں نے خطے میں مسلح کرداروں کے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ فرنٹ ازواد کے لیے حقِ خودارادیت اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لیے معتدل جواز کے ساتھ ایک طرح کی خود مختاری چاہتا ہے، لیکن اسے اپنے اتحاد کی کمزوری اور مستقبل میں ٹوٹ پھوٹ کے خدشے کا سامنا ہے۔

 

اور "جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین" (جنگجو)؛ 2017 میں القاعدہ سے منسلک کئی گروہوں کے انضمام کے بعد یہ جماعت ایک غالب قوت کے طور پر ابھری۔ اس کے نتیجے میں حملوں میں شدت آئی اور شمالی مالی میں اس کے کنٹرول میں وسعت پیدا ہوئی۔ یہ گروہ اس مساوات میں ایک اہم کردار بننے کے لیے حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اپنا رہا ہے، اور متضاد نقطہ نظر کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے ایاد آغ غالی جیسی ثالث شخصیت کی قیادت سے فائدہ اٹھا رہا ہے (الجزیرہ نیٹ، 28 اپریل 2016

 

فرنٹ کی تشکیل شمالی مالی میں سیکورٹی اور سیاسی حالات کی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ تھی۔ اس شدید نزاکت کے پیشِ نظر، مالی کی صورتحال ایک مکمل خانہ جنگی کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس میں دارالحکومت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فرنٹ گاؤ (Gao) اور ٹمبکٹو (Timbuktu) جیسے بڑے شہروں کی طرف پھیل رہا ہے، جس سے ملک کے ایک طویل علاقائی تنازع میں گھر جانے کا خطرہ ہے۔ متبادل کے طور پر، ہم ریاست کے بکھرنے اور صومالیہ کی طرح لسانی بنیادوں پر چھوٹی ریاستوں (کینٹنز) کی تشکیل کا منظر نامہ دیکھ سکتے ہیں، جس سے الجزائر اور موریطانیہ جیسی علاقائی مداخلتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مداخلتوں کی گنجائش پیدا ہوگی، خاص طور پر اثر و رسوخ کے لیے جاری مقابلے اور پورے خطے میں سرایت کرنے کی خواہش کے پیشِ نظر۔

 

لہٰذا، ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ محض ایک نئی بغاوت نہیں، بلکہ مالی میں مرکزی ریاست کے ماڈل کی ایک عبرتناک ناکامی ہے۔ ازواد فرنٹ اب محض خود مختاری کا مطالبہ کرنے والا ایک باغی گروہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ساختی بحران بن چکا ہے جس کا حل بماکو میں موجود فوجی جنتا کو یا تو مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا یا پھر جبر و تشدد کے اس طریقے کو جاری رکھ کر جو بار بار ناکام ثابت ہو چکا ہے۔

 

بدقسمتی سے، مسلمانوں کی سرزمینیں مختلف بہانوں سے ہر کس و ناکس کے استحصال کا شکار ہیں، جب تک کہ ان کی حفاظت کے لیے کوئی "خلیفہ" موجود نہ ہو۔ اس لیے خاص طور پر افریقہ کے عوام اور عام طور پر تمام مسلمانوں کو ایک باوقار زندگی کی طرف لوٹنا چاہیے جس کی اقدار اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ سے ماخوذ ہوں، اور رسول اللہ ﷺ کی اس بشارت کو پورا کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی۔" (مسند احمد)

 

اس طرح، ہم عصبیت اور فرقہ واریت کی زنجیروں سے آزاد ہو جائیں گے اور اسلام کے سانچے میں اسی طرح متحد ہو جائیں گے جیسے ہم کبھی تھے؛ یعنی ایک ایسے خلیفہ کے سائے تلے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں، دونوں کے معاملات کی یکساں دیکھ بھال کرے اور پوری دنیا میں عدل و انصاف اور علم کی روشنی پھیلائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے نبوت کے نقشِ قدم پر "خلافتِ راشدہ" کے قیام میں جلدی فرما۔

Last modified onہفتہ, 09 مئی 2026 20:34

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک