بسم الله الرحمن الرحيم
صحت: سرمایہ دارانہ لالچ اور اسلامی نگہبانی کے درمیان
کون سا نظام انسانی زندگی اور وقار کا تحفظ کرتا ہے؟
تحریر: استاد سعد سمير
(ترجمہ)
صحت کی دیکھ بھال محض کوئی تکنیکی یا خدماتی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی اصل میں اس بات کا اظہار ہے کہ کوئی نظام انسان کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ کیا وہ اپنی ذات میں ایک مکرم اور صاحبِ عزت وجود ہے، یا مفادات اور بجٹ کی منڈی میں محض ایک ہندسہ؟ اسی بنا پر، مصر اور دیگر تمام اسلامی سرزمینوں میں آج صحتِ عامہ کی صورتحال اس سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت کو واضح طور پر بے نقاب کرتی ہے جو ان پر مسلط ہے، اور یہ اس اسلامی نظام کے ساتھ ایک واشگاف تضاد کو ظاہر کرتی ہے جو عوام کے معاملات کی دیکھ بھال کو ریاست پر ایک فرض قرار دیتا ہے، نہ کہ کوئی احسان یا تجارت۔
مصر میں، جیسا کہ دیگر اسلامی سرزمینوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، سرکاری ہسپتال مریضوں سے اٹے پڑے ہیں اور لوگ طبی معائنے، آپریشن یا انتہائی نگہداشت کے بستر کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ناکارہ مشینیں، ادویات کی قلت، ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت، اور ان لوگوں کے درمیان ایک واضح طبقاتی فرق جو نجی ہسپتالوں میں مہنگے علاج کی قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور وہ جنہیں غفلت کا شکار سرکاری مراکز میں ان کے نصیب پر چھوڑ دیا جاتا ہے، آج کا تلخ سچ ہے۔ اس بھیانک صورتحال کا جواز وسائل کی کمی، بیرونی قرضوں کی شرائط اور ان مالیاتی اصلاحات کے نام پر دیا جاتا ہے جو اخراجات کی ہر شق کو محض نفع و نقصان کے ترازو میں تولتی ہیں۔
یہ تلخ حقیقت کوئی اتفاقی خرابی نہیں ہے، بلکہ اس سیاسی اور معاشی عقیدے کا ایک فطری نتیجہ ہے جو صرف مادی فائدے کو معیار بناتا ہے، اور ریاست کو رعایا کا نگہبان بنانے کے بجائے منڈیوں کا چوکیدار بنا دیتا ہے۔ چنانچہ جب سے خلافت کے خاتمے اور امت کی تقسیم کے بعد اسلامی سرزمینوں پر سرمایہ دارانہ ماڈل مسلط کیا گیا ہے، صحت، تعلیم اور عوامی سہولیات کے شعبے نجکاری اور سرمایہ کاری کے میدان بن کر رہ گئے ہیں۔ اب انسان کی قدر و قیمت اس کی ادائیگی کی صلاحیت سے لگائی جاتی ہے، نہ کہ اس کی انسانی حیثیت سے کہ جس کا زندگی اور بہترین دیکھ بھال پر بنیادی حق ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام، جو تاریخی طور پر صنعتی انقلاب کے عروج کے ساتھ یورپ میں پروان چڑھا اور پھر پورے مغرب میں پھیل گیا، اس کی بنیاد ہی دین کو زندگی سے الگ کرنے، اور حاکمیتِ اعلیٰ عوام کو دے کر قانون سازی کا اختیار انسانوں کے سپرد کرنے پر رکھی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر مغرب میں صحت کی پالیسیاں چلائی جاتی ہیں۔ جہاں ہیلتھ انشورنس محض تجارتی کمپنیاں ہیں، ہسپتال نفع کمانے والے ادارے ہیں اور علاج ایک بکنے والی چیز بن چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے بعض سرزمینوں نے سرکاری بیمہ (پبلک انشورنس) کی مختلف شکلیں اختیار کی ہیں، لیکن ان سب کا بنیادی اصول ایک ہی ہے، یعنی صحت کو منڈی کے منطق، بجٹ اور ٹیکسوں کے تابع کرنا، نہ کہ شرعی فرض اور واجب نگہداشت کے اصول پر استوار کرنا۔
تاہم اسلامی سرزمینوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین اور تکلیف دہ ہے۔ کیونکہ یہاں مغرب کی سیاسی و معاشی غلامی اور اندرونی انتظامی بدعنوانی کا ایک ایسا سنگم بن چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک نہایت کمزور اور کھوکھلا نظامِ صحت وجود میں آیا ہے۔ اس نظام میں ڈاکٹروں کا استحصال کیا جاتا ہے، مریض کی تذلیل ہوتی ہے، اور ریاست ہسپتال بنانے یا ادویات کی فیکٹریاں لگانے کے بجائے سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیتی رہتی ہے۔ اور اس سب کے باوجود لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ: "صبر کرو، یہ ناگزیر اصلاحات ہیں!"
لیکن اس حساس مسئلے پر اسلام کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کی تو لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کو محض انفرادی کوششوں یا منڈی کے میکانزم پر نہیں چھوڑا، بلکہ تمام معاملات کی دیکھ بھال اور بالخصوص صحت کو بحیثیت حکمران اپنے اولین فرائض میں شامل کیا۔ امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ؛ الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» (تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے۔ اور امام (حکمران) نگہبان ہے اور وہ اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے)۔ یہ ایک واضح اور صریح نص ہے کہ لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال حکمران کی شرعی ذمہ داری ہے، جس کا اسے اللہ کے حضور حساب دینا ہو گا۔
تاریخ میں ریاستِ خلافت کے دوران، صحت کی دیکھ بھال نہ تو کوئی تجارت تھی اور نہ ہی کوئی عیش، بلکہ یہ ایک ایسی خدمت اور نگہبانی تھی جو اپنے تمام شہریوں کو بلا معاوضہ فراہم کی جاتی تھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ امویوں، عباسیوں اور پھر عثمانیوں نے دمشق، بغداد، قاہرہ اور قرطبہ میں 'بیمارستان' (ہسپتال) قائم کیے جو ڈاکٹروں، دوا سازوں اور ادویات سے لیس ہوتے تھے، اور وہاں کام کرنے والے اپنی تنخواہیں مریضوں کی جیبوں سے نہیں بلکہ بیت المال سے وصول کرتے تھے۔ مریض سے اس کی ادائیگی کی سکت کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا تھا، بلکہ اس کی بیماری کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے۔
دونوں نظاموں کے درمیان بنیادی فرق انتظامی تفصیلات کا نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد کا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام انسان کو ایک ایسے فرد کے طور پر دیکھتا ہے جو اپنے ذاتی مفاد کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ معاشرے کی بنیاد مقابلے پر رکھتا ہے اور ریاست کو محض مختلف مفادات کے درمیان ایک ثالث (جج) قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام انسان کو اللہ کا ایک مکرم بندہ دیکھتا ہے اور ریاست کو احکامِ شرعیہ کے نفاذ، انصاف کے قیام اور عوامی معاملات کی دیکھ بھال کا ایک ذریعہ بناتا ہے۔ اسی لیے ریاستِ خلافت میں صحت کی دیکھ بھال کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر سمجھوتہ کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک شرعی واجب ہے جس کے لیے بیت المال سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح اسلام ذخیرہ اندوزی اور اجارہ داری (Monopoly) کو حرام قرار دیتا ہے اور ضروریاتِ زندگی کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنانے سے روکتا ہے۔ کسی کمپنی یا فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوا کا ذخیرہ کرے یا لوگوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافہ کرے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ» (جس نے ذخیرہ اندوزی کی، وہ گنہگار ہے)۔ تو پھر سرمایہ داری کے سائے میں ادویات ساز کمپنیوں کو قیمتوں پر قابو پانے اور نجی ہسپتالوں کو جراحی کے آپریشنوں پر آسمان سے باتیں کرتی فیسیں وصول کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
مزید یہ کہ اسلام کا معاشی نظام مستقل ٹیکسوں پر مبنی نہیں ہے جو لوگوں کی کمر توڑ دیں، بلکہ اس کے لیے مخصوص شرعی ذرائع مقرر ہیں۔ اسلام سود (ربا) کو قطعی طور پر حرام قرار دیتا ہے، لہٰذا ریاست اپنی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں ضائع نہیں کرتی، بلکہ اپنے اموال کو عوامی نگہبانی اور سہولیات کی طرف موڑ دیتی ہے۔ اس طرح ایک مکمل مربوط نظامِ صحت کی تعمیر کے لیے وسائل دستیاب ہوتے ہیں، جو مغربی مالیاتی اداروں کے احکامات کے مرہونِ منت نہیں ہوتے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاستِ خلافت محض جذباتی نعروں کی ریاست ہو گی، بلکہ یہ ایک جدید ریاست ہو گی جو طب اور سائنسی تحقیق میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ اسلام علم کی دشمنی نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مسلمان اپنے عروج کے دور میں طب، سرجری اور دوا سازی میں پیش پیش رہے ہیں، انہوں نے طبی کتابیں تصنیف کیں، طبی مدارس قائم کیے اور یورپ سے صدیوں پہلے اس میدان میں سبقت حاصل کی۔ یہ ترقی اس ریاست کی فطرت سے الگ نہیں تھی جو علم کی سرپرستی کرتی ہے اور اسے امت کی طاقت تصور کرتی ہے۔
جہاں تک آج کا تعلق ہے، تو مصر اور دیگر اسلامی سرزمینوں میں صحت کی دیکھ بھال کی تنزلی ایک خاص سیاسی و معاشی انتخاب کا نتیجہ ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی، امت کی تقسیم کو قبول کرنے اور ہر خطے کو تنہا اپنی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ دینے کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ امت ایک ریاست میں متحد ہوتی، جو اپنے تیل، معدنیات اور زرعی دولت کی مالک ہوتی اور احکامِ شرع کے مطابق اسے بہترین طریقے سے تقسیم کرتی، تو وہ ایسا نظامِ صحت قائم کرنے سے کبھی قاصر نہ ہوتی جو دوسروں سے کہیں بہتر ہوتا۔
آج مریض جس تکلیف سے گزر رہے ہیں اور اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنے اثاثے بیچنے والے خاندانوں کی اذیت محض انسانی کہانیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک پورے نظام کی ناکامی کے گواہ ہیں۔ ایک ایسا نظام جو انسانی زندگی کو ایک بکنے والی چیز بنا دیتا ہے، ہسپتال کو ایک سرمایہ کاری کا منصوبہ قرار دیتا ہے، اور ڈاکٹر کو ایک ایسا مہاجر بنا دیتا ہے جو اپنے ملک سے باہر اپنی مادی قدر و قیمت کی تلاش میں بھٹکتا ہے۔
اس کا متبادل کوئی انتظامی پیوند کاری یا بجٹ میں معمولی اضافہ نہیں ہے، بلکہ اس بنیاد میں ایک انقلابی تبدیلی ہے جس کے تحت ریاست اور معاشرے کو چلایا جا رہا ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو حاکمیتِ اعلیٰ کو شریعت کی طرف لوٹا دے، اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ قائم کرے، تاکہ صحت کی دیکھ بھال دیگر تمام معاملات کی طرح رعایا کے ہر فرد کا ایک یقینی حق بن جائے۔
آخر میں یہ کہ صحت کا مسئلہ کوئی ایسا فنی معاملہ نہیں ہے جس پر پارلیمانی کمیٹیوں میں بحث کی جائے، بلکہ یہ حکمرانوں کی گردنوں پر ایک امانت ہے، اور امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کے قیام کے لیے کوشش کرے جو اس حق کو صحیح معنوں میں ادا کر سکے۔
﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً﴾
"اور جس نے کسی ایک (انسان) کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی"۔ (سورۃ المائدہ: آیت 32)
ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کت رکن