الجمعة، 12 ذو الحجة 1447| 2026/05/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایہ کی متفرقات – شمارہ 601

 

صفحہ اول کی پیشانی پر

 

ہم الرایہ اخبار کی ٹیم کی جانب سے اپنی امتِ مسلمہ کو عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر پرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہیں؛ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ یہ عید ہمارے لیے خیر و برکت کا پیش خیمہ ثابت ہو، اور اگلی عید اس حال میں آئے کہ ہم عزت، نصرت اور غلبے کے سائے میں ہوں، جہاں ہم خلافتِ راشدہ کے پرچم تلے زندگی گزار رہے ہوں، وہ پرچم جس پر 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' منقش ہو، اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«...ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»"...پھر جابرانہ بادشاہت کا دور ہوگا، اور جب تک اللہ چاہے گا وہ رہے گی، پھر جب اللہ چاہے گا اسے ختم فرما دے گا۔ پھر دوبارہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہوگی"۔

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

فلسطین کی بیٹیوں کی نصرت کے لیے  ہماری افواج کب حرکت میں آئیں گی؟!

 

 

فلسطینی کلب برائے اسیران (نادی الاسیر) کا کہنا ہے کہ قابض حکام نے مقبوضہ علاقوں میں واقع 'دامون' جیل میں قید خواتین کے خلاف اپنے جرائم میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر منظم جبر و تشدد کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ ایک بیان میں وضاحت کی گئی کہ دامون جیل ان نمایاں ترین جیلوں میں سے ایک ہے جہاں ان کارروائیوں میں شدت دیکھی گئی ہے، جہاں 88 خواتین اسیرات کی اکثریت قید ہے، جبکہ کچھ خواتین تفتیشی اور حراستی مراکز میں بھی موجود ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض جیل انتظامیہ کے سرکوبی کرنے والے دستوں نے مارچ اور اپریل 2026 کے دوران کم از کم دس مرتبہ جبر و تشدد کی کارروائیاں کیں، جن میں شدید مار پیٹ، خواتین اسیرات کو زمین پر لٹانے، ان کے ہاتھ پیچھے باندھنے اور اسی حالت میں جان بوجھ کر ان پر تشدد کرنے جیسے واقعات شامل ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خواتین کو شدید چوٹیں آئیں۔

 

ارضِ مقدسہ فلسطین کی ان بیٹیوں کی اس ابتر صورتحال اور ان کے خلاف یہودیوں کے جرائم پر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے شعبہ خواتین نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا: "یہ ایک ایسا لرزہ خیز منظر ہے جسے عقل تسلیم نہیں کرتی؛ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر بیٹیاں قید، تذلیل اور تشدد کا نشانہ بنیں جبکہ امت اور اس کی افواج اس سے باخبر ہوں، اور پھر بھی ان کی مدد اور انتقام کے لیے ان کی رگوں میں خون نہ کھولے؟!"۔

 

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہود ی وجود کی جیلوں میں فلسطین کی بیٹیوں کو جن تکالیف کا سامنا ہے، وہ امتِ مسلمہ کی ان افواج کے ماتھے پر بدنما داغ ہے جنہوں نے ان کی مدد سے پہلو تہی کی۔ بیان میں کہا گیا: "ہماری بہنوں کو قابض دشمن کی جیلوں میں جن حالات کا سامنا ہے، وہ امتِ مسلمہ کے چہرے پر ایک تھپڑ اور مسلمان ملکوں کی ان تمام افواج کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے جو ان کی نصرت کے لیے حرکت میں نہیں آتیں"۔

 

پریس ریلیز میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ یہ سب کچھ ریاستِ خلافت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو ان کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ایک حفاظتی ڈھال اور مضبوط قلعہ تھی۔ بیان میں کہا گیا: "اگر مسلمانوں کی ریاست اور امام ہوتا تو مسلمانوں کی بیٹیوں کو ان مصائب کا سامنا نہ کرنا پڑتا"۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:«إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام  ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن سے) بچا جاتا ہے" (صحیح مسلم)۔ پس مسلمانوں کا امام ہی امت کے بیٹوں اور بیٹیوں کی اصل ڈھال ہوتا ہے۔

 

اللہ کی مخلوق میں سب سے بزدل قوم یعنی یہود کی ارضِ مقدسہ کے مکینوں پر اس جرات اور ان پر قتل و غارت، زخمی کرنے، گرفتاری، تشدد، قید و بند اور جلاوطنی جیسے مظالم ڈھانے کی وجہ بتاتے ہوئے پریس ریلیز میں کہا گیا: "لیکن جب یہودیوں نے دیکھا کہ مسلمان حکمرانوں نے امت اور اس کی افواج کو بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے اور ان کے اور فلسطین و اہل فلسطین کی نصرت کے درمیان حائل ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ مشکل ترین اور سنگین لمحات میں بھی جب ان کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تو وہ مطمئن ہو گئے کہ وہ جو چاہیں کریں، ان کی سرحدوں اور ریاست کے ایسے محافظ (حکمران) موجود ہیں جو امت اور افواج کے ہاتھ ان تک پہنچنے سے روکنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ اسی لیے اب انہیں امت یا افواج کے ردِعمل کی کوئی پرواہ نہیں رہی، جب تک وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ حکمرانوں کے تخت اب بھی اپنی جگہ قائم و دائم ہیں"۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے شعبہ خواتین نے اپنی پریس ریلیز کا اختتام اس راستے کی نشاندہی پر کیا جس میں فلسطین کے مرد و خواتین اسیروں کی نصرت، ارضِ مقدسہ کو یہودیوں سے پاک کرنے، اور اس سے بڑھ کر تمام مقبوضہ اسلامی ممالک کی آزادی اور کمزور مسلمانوں کی مدد کا حل پوشیدہ ہے۔ بیان میں کہا گیا: "تبدیلی کی ابتدا اور اس کا راستہ مسلمانوں کے سینوں پر سوار ان حکمرانوں کو ہٹانے سے شروع ہوتا ہے، اور پھر امت کے لیے ایک واحد خلیفہ راشد کی بیعت کرنے سے، جو امت اور اس کی افواج کی قیادت کرتے ہوئے دین کو قائم کرے، مظلوموں کی مدد کرے اور فلسطین سمیت باقی تمام مقبوضہ مسلم علاقوں کو آزاد کرائے۔ اے مسلمانوں! ہم تمہیں اسی کی طرف پکارتے ہیں، پس جلدی کرو، جلدی کرو...

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

"اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ غالب اور رحم والا ہے" (سورۃ الروم: 4-5)"۔

===

 

ایڈیٹوریل کے اوپر

 

عید الاضحیٰ  1447ھ کی مناسبت سے مبارکباد

 

 

 

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ... اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

 

نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ» "اللہ کے نزدیک (سال کے) تمام دنوں میں سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے"۔ پس اس مبارک موقع پر اور اللہ عزوجل کے شعائر کی تعظیم کی خاطر:

 

﴿ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾

 

"یہ (سن لو) اور جو اللہ کے شعائر (نشانیوں) کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے"۔ (سورۃ الحج: 32)

 

ان مصائب کے باوجود جن کا سامنا امتِ مسلمہ کو ان حکمرانوں کے سائے میں کرنا پڑ رہا ہے جنہوں نے اسے تنہا چھوڑ دیا اور اسے دشمن کے حوالے کر دیا، جس سے ہمارے دل دکھ اور حسرت سے بھر گئے ہیں، تاہم ہمیں اپنی عزیز، صابر اور اللہ سے اجر کی امید رکھنے والی امتِ مسلمہ کو عید الاضحیٰ کی پرخلوص مبارکباد پیش کرنی چاہیے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس عید کے ایام کو برکت، نصرت اور بلندی کے ایام بنا دے۔

 

ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہم اپنی جانب سے اور حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے سربراہ اور اس کے تمام شعبوں اور یونٹوں میں کام کرنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں کی جانب سے، حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ (حفظہ اللہ) کی خدمت میں مبارکباد پیش کریں۔ ہم باری تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ امت جلد ہی ان کی بیعتِ خلافت کرے، وہ خلافتِ راشدہ جو امت کی ذلت کے اس دور کا خاتمہ کرے گی تاکہ اس کے ساتھ ہی نصرت، آزادی اور غلبے کے دور کا آغاز ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:

 

﴿وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾

 

"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا"۔ (سورۃ النور: 55)

 

اس سال عید الاضحیٰ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب امتِ مسلمہ اب بھی استعمار کے ظلم و ستم تلے کراہ رہی ہے جو اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ استعمار امت کے لیے نہ عید کی کوئی خوشی چھوڑتا ہے اور نہ ہی روزمرہ زندگی کا سکون؛ چاہے وہ فلسطین ہو، لبنان، سوڈان، ایران، یمن، شام یا کوئی اور علاقہ، ہر جگہ امت کو عید کی بہاروں اور ان مبارک دنوں کی مسرتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے:

 

﴿وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾

 

"اور دس راتوں کی قسم"۔ (سورۃ الفجر: 2)

 

وہ متکبر ٹرمپ جھاگ اڑاتا اور گرجتا برستا ہے، مسلمانوں اور ان کے شہروں پر بمباری کرتا ہے اور انہیں ہلاکت کی دھمکیاں دیتا ہے اگر وہ اس کے سامنے نہ جھکیں۔ اور اس کا قریبی ساتھی اور ہم شکل نیتن یاہو ہے جو مسلم ممالک میں خونریزی اور بدترین ظلم کر رہا ہے، اور اپنے خوابوں اور خواہشات کے مطابق 'مشرقِ وسطیٰ' کی نئی تشکیل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ دیگر استعماری ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جرمنی وغیرہ یا تو ان کے ساتھ ہیں، ان کی تائید کرتے ہیں اور ان کی پشت پناہی کرتے ہیں کیونکہ ہم ہی نشانہ ہیں اور ماتم بھی ہم پر ہی ہوتا ہے، ان پر نہیں۔ یا پھر وہ خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں اور مظلوم کی نصرت یا پریشان حال کی مدد کے لیے کوئی حرکت نہیں کرتے۔ جہاں تک مسلم حکمرانوں کا تعلق ہے، وہ ان سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ ہمارے ساتھ ہونے کے بجائے ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ وہ امریکہ کی سرکشی اور یہودیوں کے جرائم میں ان کے مددگار بنے ہوئے ہیں، اور ان میں سب سے 'بہتر' وہ ہے جو محض تماشائی بن کر متاثرین کی گنتی کرتا ہے یا منافقت کی بنیاد پر زبانی کلامی مذمت اور احتجاج کرتا ہے۔

 

یہ وہ چند باتیں ہیں جو ہماری زندگیوں کو مکدر کرتی ہیں اور ہماری خوشیوں میں خلل ڈالتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، عنقریب آنے والی کشادگی کی بشارتیں مل رہی ہیں اور ایک ایسی بیداری کی لہر آرہی ہے جو استعمار کی بساط پلٹ دے گی اور سیاسی منظرنامے کو اس طرح تبدیل کر دے گی جس سے اہل ایمان خوش ہوں گے۔ امتِ مسلمہ کے عزم و حوصلے میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور وہ ایسی ثابت قدمی دکھا رہی ہے جس کی مغرب کو توقع نہ تھی۔ امت اپنے مجرم حکمرانوں سے بیزار ہو چکی ہے اور اب ان میں سے کسی پر بھروسہ نہیں کرتی کیونکہ ان کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں اور ان کی خیانتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں، اور انہوں نے مشکل ترین اوقات اور سنگین حالات میں امت کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ یہ پختہ یقین اور شعور بذاتِ خود مطلوبہ تبدیلی کے عمل میں بڑا فرق پیدا کرنے کے لیے کافی ہے:

 

﴿إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ

 

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں"۔ (سورۃ الرعد: 11)۔ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ دن قریب ہو۔

رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ» "ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے دس دن) میں کیے گئے نیک اعمال اللہ کے نزدیک دیگر دنوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہیں"۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» "اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلے اور پھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے"۔

پس یہ ہر اس بندے کے لیے موقع ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے کہ وہ ان مبارک ایام سے فائدہ اٹھائے اور اپنا ہاتھ اور اپنی کوشش ان دعوت دینے والوں کی کوششوں میں شامل کرے جو آج کے دور کے عظیم ترین فرض کی ادائیگی کے لیے کام کر رہے ہیں، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز۔ تاکہ ہم پھر سے وہ بہترین امت بن جائیں جو لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے نکالی گئی ہے اور اسلام کے ذریعے عزت پائیں۔

===

 

حزب التحریر/ ولایہ سوڈان کے وفد کی پورٹ سوڈان شہر میں ہوسا قبائل کے امیر سے ملاقات

 

 

 

جمعرات، 21 مئی 2026ء کو حزب التحریر/ ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے، جس کی قیادت ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین جناب ناصر رضا کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ رابطہ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر جناب عبداللہ اسماعیل بھی تھے، ریاست بحرِ احمر پورٹ سوڈان میں ہوسا قبائل کے امیر جناب صالح عبد الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

 

اس ملاقات میں درج ذیل شخصیات نے شرکت کی: 1۔ نور الدین محمد، ریاست بحرِ احمر میں ہوسا قبائل کے مجموعی سردار (عمدہ)۔ 2۔ حسن عثمان یوسف، قبیلے کے معزز رہنما۔ 3۔ ڈاکٹر عبداللہ حسن عبداللہ، قبیلے کے معزز رہنما اور جامعہ کے پروفیسر۔ 4۔ ڈاکٹر امیر احمد عثمان، قبیلے کے جنرل سیکرٹری۔

 

تعارف کے بعد، جناب ناصر رضا نے حزب التحریر کے نصب العین کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مقصد نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ آغاز اور دین کا غلبہ و اظہار ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کی شرعی فرضیت اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی نصرت و حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

 

انہوں نے اسلامی اخوت کے رشتے اور امت و ریاست کی وحدت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو کہ استعماری کافر کے اس منصوبے کے بالکل برعکس ہے جو خونی سرحدوں اور قبائلی عصبیت کے ذریعے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

تمام شرکاء نے ان پیش کردہ خیالات کی تائید کی اور انہیں بھرپور سراہا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہوسا قبیلہ ایک قدیم اور گہرا اسلامی رجحان رکھتا ہے اور یہ اسلام کے عظیم منصوبے کے لیے ایک انتہائی زرخیز زمین ہے، نیز یہ قبیلہ ملک کی وحدت اور سماجی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

آخر میں انہوں نے اس ملاقات کا خیرمقدم کیا اور اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کی خاطر اس منصوبے میں مستقل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

===

 

 

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ امتِ مسلمہ اپنے سینوں پر سوار ان خائن حکمرانوں کو اکھاڑ پھینکے؟!

 

 

یہ مسلمان حکمران ہی ہیں جنہوں نے امریکہ کو ہمارے ملکوں پر حملے کرنے اور ان میں سرایت کرنے کے قابل بنایا، اور انہوں نے ہی درجنوں فوجی اڈوں کی میزبانی کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے چوپٹ کھول دیے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے یہودی وجود کے ساتھ صلح کی، اس کے ساتھ تعلقات استوار کیے اور مشترکہ منصوبے شروع کر کے اسے مسلمانوں کے گھروں میں داخل کر دیا؛ چنانچہ ان سب باتوں کے بعد یہ ایک فطری نتیجہ تھا کہ ہمارے ملک ان مجرموں کے لیے ایک ایسی آماجگاہ اور چراگاہ بن جائیں جہاں وہ اپنے تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی مرضی کے منصوبوں اور پروگراموں پر عمل درآمد کریں۔

 

مسلمان حکمران ہی عراق اور افغانستان پر حملے کے دوران اور شام و یمن میں امریکی منصوبوں کی تکمیل میں امریکہ کے نقشِ قدم پر چلے یہاں تک کہ انہوں نے اسے وہاں مستحکم کر دیا۔ یہ حکمران اب بھی امریکہ اور یہودیوجود کو ان کے استعماری اہداف کے حصول کے لیے ہر قسم کی مالی، لوجسٹک، فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہے ہیں، جبکہ اس سب کا شکار صرف مسلمان، ان کے ملک اور ان کے وسائل ہو رہے ہیں۔

 

آخر کب تک یہ امت ان خائنوں کی قیادت پر خاموش رہے گی؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ امت انہیں اپنے سینوں سے اتار پھینکے اور ایک ایسا خلیفہ مقرر کرے جو اس کے بکھرے ہوئے شیرازے کو سمیٹ کر اسے متحد کر دے، اور ہمارے ملکوں سے استعمار کا ہاتھ کاٹ ڈالے؟ تاکہ یہ امت پھر سے ایک ایسی غیور امت بن جائے جو خود اپنی تاریخ اور عظمت رقم کرے، نہ کہ ایک ایسی کمزور قوم جو محض عالمی واقعات کا تماشہ بن کر رہ جائے؟ جی ہاں، خدا کی قسم! وہ وقت آ چکا ہے۔

===

 

 

اے مسلم ممالک کی افواج! کیا تم اپنے ملکوں کی مضبوط ڈھال نہیں ہو؟!

 

 

اے مسلم ممالک کی افواج: تم ان 'رویبضہ' (نااہل ) حکمرانوں کے کرتوتوں پر کب تک خاموش رہو گی؟ کیا تم اپنے ملکوں کی مضبوط ڈھال نہیں ہو؟! کیا تمہارا منصب ملک اور عوام کی حفاظت کرنا نہیں ہے، یا پھر حکمرانوں کی اطاعت کے بہانے تمہارا نظریہ ہی بدل چکا ہے؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی کوئی اطاعت جائز نہیں، اور جن کی تم آج اطاعت کر رہے ہو، وہ قیامت کے دن تم سے بیزاری اور لاتعلقی کا اظہار کریں گے، جبکہ تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اس عظیم پیشی کے دن ان سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکو گے! پس جان لو کہ تم اپنے ملکوں میں حکمرانوں کے ان جرائم کے ذمہ دار ہو، اور تم انہیں بدلنے کی طاقت رکھتے ہو، لہذا اس سے پہلے قدم اٹھاؤ کہ تمہیں پچھتانا پڑے، اور تب پچھتاوے کا کوئی وقت نہیں رہے گا!

 

اے مسلمانو! اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنے اوپر سے ذلت کی اس گرد کو جھاڑ دو، وہ ذلت جو تمہارے ان 'رویبضہ' حکمرانوں کی وجہ سے تم پر مسلط ہوئی جو اپنے استعماری کافر آقاؤں کی اطاعت کرتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ تم ان کی برائیوں (منکرات) کو بدلو؛ کیونکہ ان منکرات اور کھلے کفر کے علاوہ، جنہیں ان کے خود ساختہ دساتیر تحفظ فراہم کرتے ہیں، انہوں نے ملک کو ان استعماری کافر ممالک کی افواج کے لیے ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے جو تمہارا بھلا نہیں چاہتیں، بلکہ تمہارے وسائل اور عوامی ملکیتوں کو لوٹتی ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے یعنی اس کی شریعت کے نفاذ اور اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے سے روکتی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ، آپ کے صحابہؓ اور آپ کے بعد آنے والے خلفاء نے کیا تھا۔

 

اے مسلمانو! حالیہ برسوں کے ایام اور واقعات نے تم پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تم اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہو، اور تمہارا دشمن تمہارے حکمرانوں کی غداریوں اور سازشوں کے بغیر تمہارے ملکوں میں کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یاد رکھو کہ تم وہ بہترین امت ہو جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے:

 

﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾

 

"تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو" (سورۃ آل عمران: 110

 

پس اس حقیقی تبدیلی کی طرف پیش قدمی کرو جس کی دعوت تمہیں وہ مخلص رہنما 'حزب التحریر' دے رہی ہے جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ اس کے ساتھ مل کر ' نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ' کے قیام کے لیے کام کرو، تاکہ وہ کافر ممالک کی افواج کو ہمارے ملکوں سے پیچھے دھکیل دے، یا پھر ان کی سرزمین کو ان کا قبرستان بنا دے۔

===

 

اسلامی ممالک میں آبی گزرگاہیں: ایک سٹریٹیجک اثاثہ

 

 

ٹرمپ کی مشکل صرف اس کے مخالفین کی نوعیت میں نہیں ہے، بلکہ خود اس خطے کی فطرت میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا بین الاقوامی دباؤ کا حربہ ہے جو کسی بھی محدود تصادم کو عالمی بحران میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

یوں امریکی فیصلہ دو ایسے کڑوے انتخاب کے درمیان گھِر کر رہ گیا ہے جن میں سے ایک کا انتخاب کرنا بھی مشکل ہے: یعنی ایسا بگاڑ جو پورے خطے کو دھماکے سے اڑا دے، یا ایسی نرمی جسے طاقت کے بیانیے سے پسپائی تصور کیا جائے۔ آخر کار، ہرمز کا بحران بین الاقوامی سیاست کی اس اٹل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ فوجی طاقت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ تنازعات کے حتمی حل کے لیے ہمیشہ کافی نہیں ہوتی، خاص طور پر اس وقت جب جغرافیہ معیشت کے ساتھ جڑا ہو اور علاقائی و بین الاقوامی حساب کتاب پیچیدہ ہو جائیں۔

 

ان تبدیلیوں کے بیچ ایک ایسی حقیقت ابھر کر سامنے آئی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں، اور وہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے قلب میں واقع آبی گزرگاہیں محض جغرافیائی حدود یا بحری جہازوں کے گزرنے کے راستے نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ عظیم  اسٹریٹجک دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا فرمائی ہے۔ آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب تک، اور نہرِ سوئز سے لے کر آبنائے ملاکا اور دیگر اہم گزرگاہوں تک، مسلمان ہمیشہ سے عالمی تجارت اور توانائی کی چابیوں کے مالک رہے ہیں، لیکن وہ آج تک اس نعمت کو ایک ایسی متحد معاشی اور سیاسی قوت میں بدلنے میں ناکام رہے ہیں جو ان کے عوام کی خدمت کرے اور ان کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ کر سکے۔

 

پس یہ گزرگاہیں کوئی سیاسی بوجھ نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگ اسے پیش کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک عالمی معاشی طاقت بنانے کا ایک تاریخی موقع ہیں، بشرطیکہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کی بحالی کے لیے ان سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سیکھ لیں۔

===

 

 

قومیں سست الوجود لوگوں سے سر بلند نہیں ہوتیں اور نہ ہی محض بہانوں کی کثرت سے ان کے حالات بدلتے ہیں

 

 

اسلام کی نصرت کے واجب سے جی چرانا صرف قتال یا بڑے مواقع پر پیچھے ہٹ جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا آغاز ان کاموں سے ہو سکتا ہے جنہیں لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلی چیز لوگوں کی باتوں کے خوف سے برائی (منکر) پر خاموش رہنا ہے۔ اسی طرح سستی یا دنیا کی مصروفیات کی وجہ سے خیر کی دعوت کو چھوڑ دینا، اور مسلمانوں کے مسائل اور ان کے دکھ درد سے بے پروا ہو کر صرف نماز اور چند دیگر عبادات پر اکتفا کر لینا، یا پھر کام کاج اور مصروفیت کا بہانہ بنا کر دین کے لیے جدوجہد ترک کر دینا بھی اسی میں شامل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ راہِ فرار ایک عادت بن جاتی ہے، اور دل بہانے تراشنے کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی کوتاہی کا احساس تک کھو دیتا ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کوئی خیر کا موقع چھوٹ جاتا تو وہ شدید رنج اور ندامت محسوس کرتے تھے؛ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ زندگی مختصر ہے اور انسان کو ایک دن اللہ کے حضور کھڑا ہونا ہے جہاں اس سے اس کے دین، اس کے فرائض اور اس دین کی خاطر پیش کی گئی خدمات کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس کے برعکس آج بہت سے لوگ جب کوتاہی کرتے ہیں تو وہ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو ان کے لیے بہانے اور تاویلیں تراشیں، نہ کہ ان لوگوں کو جو انہیں اللہ کی یاد دلائیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ امت سست الوجود لوگوں کے ذریعے بلندی حاصل نہیں کر سکتی، اور نہ ہی محض بہانوں کی کثرت سے حالات میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔ امت تو ان سچے مردوں کے ذریعے اٹھتی ہے جو اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اپنے نفس کے خلاف جہاد کرتے ہیں اور اپنے دین کی خاطر عمل کرتے ہیں، چاہے وہ عمل بظاہر تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ﴾

 

"اور کہہ دو کہ تم عمل کرو، عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا"۔ (سورۃ التوبہ: 105)

 

لہٰذا ہمیں ہمیشہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے اسلام کے لیے کیا کیا ہے؟ اور کیا ہمارا شمار صدقِ دل سے کام کرنے والوں میں ہوتا ہے یا بہانے بنانے والوں میں؟۔

Last modified onجمعہ, 29 مئی 2026 23:04

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک