الجمعة، 12 ذو الحجة 1447| 2026/05/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بغیر کسی الزام کے گرفتاری اور بے رحمانہ تشدد،یہودیوں کی جیلوں کے جہنم میں فلسطین کے بچے

 

 

تحریر: استاد عبد الخالق عبدون

 

(ترجمہ)

 

6 مئی 2026 کو اناطولیہ ویب سائٹ نے خبر دی کہ یہودی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار مہم چلائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں ایک بچہ اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ اسیران کے میڈیا آفس نے بتایا کہ یہ حملے روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی گرفتاریوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں جو یہودی افواج مغربی کنارے میں انجام دے رہی ہیں اور جن میں خواتین اور بچوں سمیت تمام طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

اسیران کے امور سے متعلق فلسطینی اداروں بشمول "نادی الاسیر" کا کہنا ہے کہ غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے بشمول القدس سے 1630 سے زائد بچوں اور غزہ کی پٹی سے درجنوں بچوں کو قابض فوج نے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ 'مجدو' جیل کے اندر ایک بچہ بھوک، محرومی اور تشدد کی پالیسیوں کی وجہ سے شہید ہو چکا ہے۔ ان میں سے 350 بچے اب بھی قابض دشمن کی جیلوں میں قید ہیں، جن میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جو انتہائی سخت حالات میں ہیں، جو کہ نابالغوں کے تحفظ کے تمام بین الاقوامی معیارات کے سراسر خلاف ہے۔ یہ بچے تشدد، فاقہ کشی، طبی غفلت، جنسی زیادتیوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی تنہائی اور ملاقاتوں سے محرومی جیسے جرائم کا سامنا کر رہے ہیں!

 

انسانی حقوق اور بین الاقوامی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ فلسطینی بچوں کو گرفتار کرنا یہودیوں کی ایک منظم اور مسلسل مشق ہے، جہاں ہر سال تقریباً 700 فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ دسمبر 2025 کے آخر تک یہودی وجود کے محکمہ جیل خانہ جات نے 351 فلسطینی نابالغوں کو سکیورٹی الزامات کے تحت، جبکہ 106 نابالغوں کو غیر قانونی موجودگی کے الزام میں حراست میں لینے کی اطلاع دی تھی!

 

قابض حکام انتہائی ظالمانہ پالیسیاں اپناتے ہیں، جہاں بچوں کی شہادتیں بتاتی ہیں کہ گرفتاری کے بعد ان میں سے 73 فیصد کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، 95 فیصد کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں اور 86 فیصد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی جاتی ہیں۔ بہت سے بچوں کو آدھی رات کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور والدین یا وکلاء کی موجودگی کے بغیر ان سے تفتیش کی جاتی ہے۔

 

بچوں کی فوجی عدالتوں میں سزا پانے کی شرح 95 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں عام الزامات پتھراؤ اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی شامل ہیں۔ یہودی وجود بچوں کے خلاف 'انتظامی حراست' (بغیر کسی الزام یا مقدمے کے گرفتاری) کی پالیسی استعمال کرتی ہے، اور القدس کے بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں ان کے سینکڑوں بچے زیر حراست ہیں۔

 

گزشتہ دہائیوں کے دوران غاصب یہودی وجود نے منظم پالیسیوں کے ذریعے قید بچوں کے خلاف جسمانی اور نفسیاتی تباہی کے عمل کو جاری رکھا ہے، جو انسانی اقدار کے منافی ہیں۔ بچے ہمیشہ ان کی زیادتیوں کا سب سے زیادہ شکار رہے ہیں، چاہے وہ قتل و زخمی کرنا ہو، تعلیم سے محروم کرنا ہو، یا وہ گرفتاریاں ہوں جن کا شکار دسیوں ہزار بچے ہوئے، چاہے وہ چھاپوں کے دوران ہو، جھڑپوں کے دوران، ناکوں اور سڑکوں پر، یا اسکولوں سے ہو۔ اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران غزہ کے بچوں کو اکثر انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے! اسی طرح نسل کشی کی دو سالہ جنگ کے دوران 20 ہزار بچے شہید ہوئے، اور 56 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوئے جنہوں نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو کھو دیا، جبکہ 5100 سے زائد بچوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے فوری طبی انخلاء کی ضرورت ہے۔

 

یہ پالیسی آج بھی جاری ہے اور یہ سوچ نسل کشی اور نسلی تطہیر پر مبنی ہے، اور یہی کچھ اب غزہ کی پٹی پر جارحیت میں ہو رہا ہے۔ قابض سپاہی قتل و غارت اور بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان کے رویوں کو نہ تو کوئی اخلاقی ضابطہ روکتا ہے اور نہ ہی انسانی اقدار۔ قابض دشمن کے اپنے پورے دورِ وجود کے جرائم کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے پیچھے انتہا پسندوں کے وہ فتاویٰ ہیں جو بچوں اور عورتوں کا خون بہانا جائز قرار دیتے ہیں، صرف اس خوف سے کہ وہ زمین، عزت اور حق کے دفاع میں اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلیں گے۔ چنانچہ وہ فلسطینی نسل اور مزاحمت کی نئی نسل کو ختم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

 

فلسطین اور غزہ کی پٹی کے بچے اور خواتین ہمیشہ سے قابض فوج کا واضح اور صریح ہدف رہے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ جن سالوں میں قابض دشمن غزہ کی پٹی پر جارحیت کرتا ہے، ان میں بچوں اور خواتین کے شہداء کی تعداد دیگر سالوں کے مقابلے میں دوگنی ہو جاتی ہے۔

 

اکثر گھروں میں بچے اور عورتیں ہیں، اور وہ (قابض دشمن) ان پر میزائلوں اور بموں سے بمباری کرتا ہے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، کیونکہ فلسطینی زمین پر موجودگی کے لیے آبادیاتی عنصر (Demographic factor) بہت اثر انداز ہوتا ہے، اور غاصب طاقت چاہتی ہے کہ اس کی تعداد فلسطینیوں سے زیادہ ہو؛ کیونکہ فلسطینیوں کی بڑی آبادی اس کے وجود کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن جائے گی، مزید یہ کہ قابض دشمن بلا امتیاز بمباری کرتا ہے اور اس کے ذریعے وہ اہل فلسطین کو خوف زدہ کرنا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ مزاحمت کاروں کی کوئی نئی نسل پیدا ہو۔

 

فلسطین میں ہونے والے ان المیوں اور ہمارے جگر گوشوں اور بچوں کی ان بلاجواز گرفتاریوں پر جو بے بس سیاسی موقف اپنایا گیا ہے، وہ درحقیقت مغرب اور خاص طور پر امریکہ کی غلامی کی ایک حقیقی عکاسی ہے، اور اسے مسلم ممالک کے حکمران نافذ کر رہے ہیں۔

 

امتِ مسلمہ تب تک آزاد نہیں ہو گی اور نہ ہی اہل فلسطین اور وہاں کے بچوں کو نجات ملے گی، اور نہ ہی اس مسخ شدہ (صہیونی) وجود کے جرائم رکیں گے، جب تک کہ ان حکومتوں اور ان آلہ کار وجودوں کا خاتمہ نہ کر دیا جائے جو ہمارے ممالک میں استعماری مغرب کی خدمت گزار ہیں اور اسی کے حکم پر چلتی ہیں۔ فلسطین میں جاری یہ جنگ ایک فیصلہ کن معرکہ ہے، جس نے امت پر اس ناتواں، کمزور اور ذلیل وجود کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے، اور یہ کہ اسے ان حکومتوں کا تحفظ حاصل ہے جو امت کو گمراہ کر رہی ہیں اور انہیں "دول الطوق" (فرنٹ لائن وجودیں)، "مزاحمت"، "جیش القدس" اور "دول الممانعت" (انکار کرنے والی وجودیں) جیسے ناموں سے خوش کن خواب دکھا رہی ہیں!

 

اسی لیے اب یہ پیغام ان حکمرانوں اور ان سیاسی حلقوں کے علاوہ کسی اور جہت کی طرف موڑنا ضروری ہو گیا ہے، اگرچہ شروع میں ان حکمرانوں کو صرف ایک وجہ سے خطاب سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا تھا کہ ان کی سیاسی غلامی ان کا اپنا اختیاری فعل ہے، یہ جبری غلامی نہیں ہے؛ حکمران صرف ایک فوری فیصلے کے ذریعے مغربی نظام سے ناطہ توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی چھاؤنیوں میں موجود فوجوں کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں فلسطین کی طرف روانہ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں کے لوگوں اور بچوں کی مدد کی جا سکے:

 

﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْـمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾

 

ترجمہ: "اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے (جو پکار رہے ہیں)؟" (سورۃ النساء:آیت 75

 

لیکن دہائیوں کی سستی، سازشوں اور خون کی ندیوں کے بعد ان حکومتوں کی طرف سے ہر بار ایک ہی واضح جواب ملا کہ: "ہم اپنے آقاؤں کی اطاعت سے باہر نہیں نکلیں گے!"۔ اب یہاں ناگزیر ہو گیا ہے کہ فوری طور پر امت اور اس کی افواج کو خطاب کیا جائے کہ وہ حرکت میں آئیں اور اس نظام کے خلاف بغاوت کریں جس کی دین، ریاست اور عوام کے مفادات سے غداری کھل کر سامنے آ چکی ہے، اور پھر سرحدوں کو عبور کر کے اہل فلسطین اور ان کے بچوں کی مدد کے لیے نکلیں جنہوں نے ان بوسیدہ قوم پرست وجودوں کے سائے میں ذلت و رسوائی کے کڑوے گھونٹ پیے ہیں۔ یہ اقدام اہل فلسطین کی مدد کے لیے فوری بنیادوں پر ہونا چاہیے جیسا کہ شریعت کا حکم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾

 

ترجمہ: "اور اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیں تو تم پر (ان کی) مدد کرنا واجب ہے۔" (سورۃ الانفال:آیت 72

 

جہاں تک ان حکومتوں کے خاتمے اور  نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کا تعلق ہے، جو اسلام کو ریاست اور عوام کے معاملات کو منظم کرنے والے بنیادی اصول کے طور پر نافذ کرے گی، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ افواج 'حزب التحریر' کو اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں، جو وہ واحد سیاسی قوت ہے جو خلافت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے پاس وجود کے ہر ہر جزو کا مکمل اور واضح تصور موجود ہے۔ تب ہی مسلمانوں کے تمام مسائل اور خاص طور پر مسئلہ فلسطین کو شریعت اور جہاد کی میز پر رکھا جائے گا۔

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Last modified onجمعہ, 29 مئی 2026 22:20

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک