بسم الله الرحمن الرحيم
اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ کا مسئلہ: ایک بیماری کی علامتیں اور ایک ہی علاج
تحریر: پروفیسر خالد سعید
(ترجمہ)
مجرم یہودی وجود کی جیلوں میں قیدیوں کا مسئلہ اہل فلسطین کے مصائب کا ایک نمایاں ترین پہلو ہے، جن کے خلاف یہ مجرم وجود ہر طرح کے ظلم و ستم اور تشدد کے نت نئے طریقے آزماتی ہے۔ یہ سلسلہ فلسطین پر قبضے کے وقت سے جاری ہے اور اب تقریباً روز کا معمول بن چکا ہے۔ آئے دن اس کے فوجی دیہاتوں، شہروں اور کیمپوں پر دھاوا بولتے ہیں، گھروں کو مسمار کرتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد فلسطین کی مبارک سرزمین پر اپنے ناپاک وجود کے خلاف اہل فلسطین کے عزم و استقلال اور ان کی مزاحمت کو توڑنا ہے۔
اگرچہ مختلف تنظیموں اور عوامی سطح پر اسیروں کی حمایت اور مدد کے لیے طرح طرح کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، یہاں تک کہ ہر سال ایک دن "یومِ اسیر" کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ان کی آواز بلند کی جا سکے اور میڈیا، تعلیمی اداروں، مسجدوں، سڑکوں اور چوراہوں پر ان کے دکھوں کا تذکرہ کیا جائے۔ ان کے لیے احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، تقاریر، سیمینارز، کانفرنسیں، مذاکرے اور دستاویزی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، اور ان کی شان میں نظمیں اور کہانیاں لکھی جاتی ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کی اپنی اہمیت ہے اور ان میں کی گئی کوششوں کی تحقیر مقصود نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام قیدیوں کے مسئلے کا اصل علاج ہیں اور نہ ہی کبھی بن سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں اس معاملے کو بند کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گی جو فلسطین کے ہر گھر کو بے چین کیے ہوئے ہے اور جو فلسطین کی بہت سی ماؤں، باپوں، بیویوں اور بچوں کے دلوں میں ایک نہ ختم ہونے والا درد اور رستا ہوا زخم بن چکا ہے۔ ان کے پیارے اور جگر گوشے برسوں سے جیلوں میں غائب ہیں، یہاں تک کہ بعض تو جیل کی دیواروں اور سلاخوں سے مانوس ہو چکے ہیں۔ انہیں بھوکا رکھا جاتا ہے، کڑکتی سردی میں برہنہ چھوڑ دیا جاتا ہے، ان کی عزتِ نفس پامال کی جاتی ہے، ان کی انسانیت کو کچلا جاتا ہے، بیماریاں ان کے جسموں کو چاٹ رہی ہیں اور انہیں علاج سے محروم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے جائیں۔
اس مجرم وجود نے محض تشدد، ظلم اور تذلیل پر بس نہیں کیا، بلکہ اس نے اپنے جرائم میں اضافہ کرتے ہوئے اسیروں کے لیے تختہ دار بھی نصب کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسا قانون وضع کیا گیا ہے جو اسیروں کو سزائے موت دینے اور ان کے قتل کو قانونی جواز فراہم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس طرح اس وجود نے تمام روایات اور قوانین کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی ذمہ دارانہ تحریک کی عدم موجودگی میں ہو رہا ہے جو ان سے یہ ظلم دور کرے، ان کی بیڑیاں کاٹے اور ان کے پیاروں کے سینوں کو ٹھنڈک پہنچائے۔
تاریخی طور پر، امتِ مسلمہ نے تمام ادوار میں دشمن کے قبضے میں موجود مسلمان قیدیوں کے حوالے سے اپنے فرض کی ادائیگی میں کبھی سستی یا کوتاہی نہیں برتی۔ یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی پیروی اور عزم کا نتیجہ تھا: «فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ» (قیدی کو رہا کراؤ، بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور بیمار کی عیادت کرو)۔
علماءِ اسلام اور ائمہ کرام کے اقوال بھی اسیروں کی رہائی کی اہمیت اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے کی شناعت پر متفق ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر مشرق میں کوئی عورت قید کر لی جائے تو اہل مغرب پر اس کی رہائی واجب ہے"۔ یعنی پوری امت پر، خواہ وہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، یہ لازم ہے کہ وہ امت کی اس ایک بیٹی کو رہا کرانے کے لیے حرکت میں آئے جو دشمن کے قبضے میں ہو۔ تو پھر ان درجنوں بیٹیوں اور ہزاروں اسیروں کا کیا حال ہوگا جو اس مجرم وجود کی جیلوں میں قید ہیں؟!
بلکہ امام نووی رحمہ اللہ نے تو کسی ایک مسلمان کے قید ہونے کو مسلم ممالک پر فوجی جارحیت کے مترادف قرار دیا ہے، جس کے خلاف جارحیت کو روکنے اور اسیروں کو چھڑانے کے لیے جہاد (نفیر) واجب ہو جاتا ہے۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر وہ ایک یا دو مسلمانوں کو قید کر لیں، تو کیا یہ دارِ اسلام میں داخل ہونے کے حکم میں ہے؟ اس بارے میں دو رائیں ہیں جن میں سے صحیح ترین یہ ہے کہ 'ہاں' ایسا ہی ہے، کیونکہ ایک مسلمان کی حرمت گھر (سرزمین) کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔"
سلطان العلماء عز بن عبد السلام رحمہ اللہ نے بھی اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "مسلمان قیدیوں کو کفار کے ہاتھوں سے نجات دلانا اللہ کے قریب کرنے والی بہترین نیکیوں میں سے ہے"۔
امام قرطبی سورۃ النساء کی پچھترویں آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے، فرماتے ہیں:
﴿وَمَا لَكُمْ لا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرا﴾
"اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس و لاچار مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو (دعا کرتے ہوئے) کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی حامی پیدا فرما دے اور ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی مددگار بنا دے۔" (سورۃ النساء:آیت 75)
"تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرائیں، خواہ لڑائی کے ذریعے یا مال کے ذریعے۔ اور یہ (مال خرچ کرنا) زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ جان کی قربانی دینے سے کم تر (آسان) کام ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے تمام تر مال کے بدلے قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑائیں۔ اور اس معاملے میں (اہلِ علم کے درمیان) کوئی اختلاف نہیں ہے"۔
امام ابن العربی مالکی اپنی کتاب "احکام القرآن" میں اسلام کے کمزور و ناتواں قیدیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کتنا عظیم قول نقل فرماتے ہیں: "ان کے ساتھ (مسلمانوں کا) رشتہ اور ولایت برقرار ہے، اور ان کی بدنی مدد و نصرت ہم پر واجب ہے، یہاں تک کہ ہماری کوئی آنکھ نہ جھپکے جب تک کہ ہم انہیں چھڑانے کے لیے نہ نکل کھڑے ہوں۔ بشرطیکہ ہماری تعداد اس کی استطاعت رکھتی ہو، یا پھر ہم انہیں نکالنے کے لیے اپنا تمام مال خرچ کر دیں، یہاں تک کہ کسی کے پاس ایک درہم بھی باقی نہ رہے"۔
تاریخ نے ایسے کئی واقعات رقم کیے ہیں کہ کس طرح اسلامی وجود نے اپنے قیدیوں کو دشمنوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے اقدامات کیے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "کسی ایک مسلمان کو مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑانا مجھے پورے جزیرہ عرب سے زیادہ عزیز ہے"۔ آپ کا حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ مشہور ہے۔ اسی طرح جب منصور بن ابی عامر (اندلس کے مسلمان حکمرانوں میں سے ایک) فرنج پر جنگ اور فتح حاصل کرنے کے بعد اپنے دارالحکومت واپس پہنچے، تو ایک مسلمان خاتون ان سے ملی اور کہنے لگی: آپ اور باقی سب لوگ تو خوشیاں منا رہے ہیں، لیکن میں رو رہی ہوں اور غمگین ہوں! انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: میرا بیٹا فرنج کی قید میں ہے! منصور (یہ سن کر) اپنے محل میں نہیں گئے، بلکہ فوراً لشکر روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ فرنج سے تب تک لڑیں جب تک اس کے بیٹے کو قید سے چھڑا نہ لیں، اور وہ اسے آزاد کروا کر لے آئے۔ عموریہ کی فتح بھی ایک مسلمان خاتون کی پکار کا جواب تھا جس نے مدد کے لیے پکارتے ہوئے 'وا معتصماہ' کی دہائی دی تھی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قسطنطنیہ میں قید مسلمان قیدیوں کو خط لکھا: "اما بعد: تم خود کو قیدی سمجھتے ہو، اللہ کی پناہ! بلکہ تم تو اللہ کی راہ میں (اجر کے لیے) روکے گئے لوگ ہو۔ جان لو کہ میں اپنی رعایا میں کوئی چیز تقسیم نہیں کرتا مگر تمہارے گھر والوں کو اس میں سے زیادہ اور بہترین حصہ دیتا ہوں۔ میں نے تمہاری طرف فلاں بن فلاں کے ہاتھ پانچ دینار بھیجے ہیں، اور اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ رومیوں کا سرکش بادشاہ یہ رقم تم سے چھین لے گا، تو میں اس سے زیادہ بھیجتا۔ اور میں نے تمہاری طرف فلاں بن فلاں کو بھیجا ہے تاکہ وہ تم میں سے چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام، غرض ہر ایک کا فدیہ دے کر اسے چھڑا لائے۔ پس خوش ہو جاؤ، پھر خوش ہو جاؤ۔ والسلام"۔
قیدیوں کے مسئلے اور اس کے علاج کی تحقیق میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی جڑوں میں مسئلہ فلسطین سے جڑا ہوا ہے۔ اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ (مسرٰی) کا مسئلہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ دونوں ایک ہی بیماری کی دو علامتیں ہیں۔ یہ بیماری اس قبضے اور مجرم وجود کی صورت میں ہے جو اس مبارک سرزمین پر مسلط ہے۔ اس کا حل اور علاج بھی ایک ہی ہے، اور وہ ہے امت کی ایسی بھرپور حرکت جو اس مشن کو مکمل کرے اور اس مسئلے کو جڑ سے ختم کر دے۔ یہ مقصد فوجوں کی حرکت، یہودیوں سے قتال، ان کی ناجائز وجود کے خاتمے، اور اس مبارک زمین کو ان کے ظلم، اندھیروں، سرکشی اور طاغوت سے پاک کرنے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس لیے آج امتِ مسلمہ پر وہی فریضہ عائد ہوتا ہے جو اس نے تاریخ کے ہر دور میں ادا کیا ہے۔ یعنی حضرت فاروقِ اعظم، عمر بن عبدالعزیز، معتصم باللہ اور صلاح الدین ایوبی کے دور والا فریضہ۔ امت کو حرکت میں آنا ہوگا اور اپنی فوجوں کو متحرک کرنا ہوگا، نہ کہ صرف مذمت اور احتجاج پر اکتفا کرے اور اپنے حکمرانوں کی خیانت، اور فلسطین، مسجدِ اقصیٰ اور اسیروں کے خلاف ان کی بزدلی اور سازشوں پر خاموش رہے۔ امتِ مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے تخت الٹ دے اور اپنی فوجوں کا رخ مسجدِ اقصیٰ کی طرف موڑ دے تاکہ وہ اسے فتح کرتے ہوئے اور تکبیریں بلند کرتے ہوئے وہاں داخل ہوں:
﴿وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيراً﴾
"تاکہ وہ مسجد (اقصیٰ) میں اسی طرح داخل ہوں جس طرح پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر بھی ان کا غلبہ ہو اسے پوری طرح تباہ کر دیں۔" (سورۃ الاسراء:آیت 07)
اس فریضے کی ادائیگی کے علاوہ کوئی بھی دوسری کوشش اللہ، اس کے رسول ﷺ، رسول اللہ ﷺ کی جائے اسراء (مسجدِ اقصیٰ) اور اہل فلسطین کے خون اور ان کے اسیروں کے ساتھ صریح خیانت ہے۔
Latest from
- الرایۃ کے متفرقات - شمارہ نمبر 600
- یمنی بندرگاہیں: بااثر افراد کی بدعنوانی اور ایجنٹوں کی کشمکش سے نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ تک
- بے تحاشہ مہنگائی کی لہریں اور حکومتی پالیسیوں کا بانجھ پن
- شام کے معاشی بحران کا صحیح حل، موجودہ صورتحال کا تجزیاتی جائزہ اور اسلامی متبادل
- ٹرمپ کے دورۂ چین کے نتائج!