بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کے دورۂ چین کے نتائج!
تحریر: الأستاذ أحمد الخطواني
(ترجمہ)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین نے میڈیا کی بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی اور یہ دورہ شہ سرخیوں میں چھایا رہا، جس کے ساتھ شاندار اور متاثر کن رسمی تقاریب کا مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ تاہم، اس دورے کے عملی نتائج کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی واضح ہو سکے، اور وہ اس دورے سے وابستہ توقعات کے مقابلے میں کافی محدود دکھائی دیتے ہیں۔
جمعہ، 15 مئی 2026ء کو اپنے دورے کے اختتام پر، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین بڑے مسائل کو حل کرنے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدوں کو انجام تک پہنچانے میں لیڈران کے مابین ذاتی نوعیت کے تعلقات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ”آپ ایک عظیم رہنما ہیں۔ بعض اوقات لوگ میرا یہ کہنا پسند نہیں کرتے، لیکن میں پھر بھی یہ کہتا ہوں کیونکہ یہ سچ ہے۔ اور میں صرف سچ ہی کہتا ہوں... آپ کا دوست ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے“۔ اس کے بعد اس نے وعدہ کیا کہ ”چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں“۔ اس طرح، ٹرمپ نے عملی اور سرکاری پہلوؤں کے بجائے ذاتی اور تعلقاتِ عامہ کے پہلو پر زیادہ توجہ مرکوز کی۔
ٹرمپ نے اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بہت مضبوط تھی، اور اس نے اس بات پر زور دیا کہ چین امریکی سویا بین کی خریداری میں اضافہ کرے گا، جس سے امریکی کسانوں کو مدد ملے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بوئنگ کمپنی سے 200 امریکی طیارے خریدنے کا وعدہ کیا ہے، اور یہ معاہدہ 750 طیاروں تک بڑھ سکتا ہے اگر بوئنگ کمپنی اور جنرل الیکٹرک کمپنی اچھی کارکردگی دکھائیں، یعنی اگر بوئنگ کے طیاروں میں جنرل الیکٹرک کمپنی کے انجن استعمال کیے جائیں۔
تاہم، اس مفروضہ کامیابی کے گرد گھومتی تمام تر میڈیا تشہیر کے باوجود، ٹرمپ نے چین کی طرف سے سویا بین اور طیاروں کی خریداری کی نہ تو کوئی تفصیلات ظاہر کیں اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن بتائی۔ چین کی جانب سے ان طیاروں کی خریداری کی خبر سربراہی اجلاس سے پہلے ہی معلوم تھی؛ یہ خبر کوئی نئی بات نہیں تھی اور نہ ہی خود اس اجلاس کا نتیجہ تھی۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ خریداریاں محض وعدے ہیں، کوئی یقینی خریداری کے معاہدے نہیں ہیں۔ اس بات کا ثبوت چین کے اکنامک انٹیلیجنس یونٹ (EIU) کے امور کی ماہر چیف اکانومسٹ 'یو سو' (Yue Su) کے بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ دونوں اطراف نے صرف اپنے اپنے وعدے کیے ہیں۔
تائیوان کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ اس نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس پر تفصیلی بات چیت کی ہے، اور دعویٰ کیا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس جزیرے کے حوالے سے کوئی تنازعہ موجود ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ چینی صدر کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران اس نے تائیوان کے حوالے سے ”کوئی وعدے نہیں کئے“، اور اس معاملے کو مبہم چھوڑتے ہوئے کہا کہ اس نے ابھی تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا: ”شاید میں ایسا کروں، اور ہو سکتا ہے کہ نہ کروں“ لیکن اس نے اس بات پر زور دیا کہ ”یہ ایک اچھی سودے بازی ہو گی“، اور اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس اہم مسئلے پر کوئی معاہدہ طے نہیں پایا اور نہ ہی کوئی سنجیدہ گفتگو ہوئی۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے چینی عہدیدار نے واضح کیا کہ چین عملی طور پر جو کچھ کر سکتا ہے اس کی ایک حد ہے۔ ایرانی حکومت بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور وہ کسی بھی دوسرے معاملہ کے مقابلے میں اپنے مفادات اور ایجنڈے کو فوقیت دے گی۔ دوسرے الفاظ میں، چین نے ایران پر دباؤ ڈالنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا، اور نہ ہی اس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے رضامندی حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی۔
دوسری جانب چینی صدر نے ٹرمپ کو واضح کیا کہ چین کو امریکہ کے عالمی سٹیج پر لانے کی کس قدر اہمیت ہے۔ اور اس سلسلے میں چینی صدر نے یونانی مورخ 'تھوسیڈائیڈز' (Thucydides) کی کتاب ”پلوپونیشین جنگ کی تاریخ“ (The History of the Peloponnesian War) کا حوالہ دیا، جو سپارٹا اور ایتھنز کے درمیان دہائیوں پر محیط خونریز لڑائیوں کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ چینی صدر نے سوال کیا، ”کیا چین اور امریکہ نام نہاد 'تھوسیڈائیڈز ٹریپ' (Thucydides Trap) سے بالاتر ہو کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا نمونہ وضع کر سکتے ہیں؟“، چینی صدر نے جس واقعے کو تنبیہی مثال کے طور پر استعمال کیا، وہ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح اس وقت کی سب سے بڑی طاقت سپارٹا نے ایتھنز کی ابھرتی ہوئی طاقت کو کوئی اہمیت نہ دی اور اسے کم تر سمجھے رکھا، جس کے نتیجے میں ایک طویل جنگ چھڑ گئی اور دونوں فریقین کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں اس نے یہاں یہ پیغام دیاکہ امریکہ کو چین کی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے اور عالمی سطح پر اس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے چاہئیں، ورنہ وہ 'تھوسیڈائیڈز ٹریپ' (Thucydides Trap) کا شکار ہو جائے گا۔
اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ حساس اور اہم مسائل، خواہ وہ سیاسی نوعیت کے ہوں جیسے کہ کثیر القطبی نظام میں تائیوان، یا ایران؛ یا پھر اقتصادی اور تکنیکی نوعیت کے ہوں جیسے کہ تجارتی تنازعات، جدید ٹیکنالوجی کی برآمدات، اور نایاب زمینی معدنیات (rare earth minerals) کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرنا؛ ان میں سے کسی میں بھی کوئی ٹھوس یا نمایاں پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ دورہ رسمی پروٹوکول کی چکا چوند کے سائے میں دب کر رہ گیا جس میں معاہدوں کی اصل نوعیت اور دونوں فریقین کے مابین ہونے والے مذاکرات کی حقیقی کیفیت کو پسِ پشت ڈال دیاگیا۔
یہ بات واضح ہے کہ اس دورے پر تجارتی اور تکنیکی پہلو غالب رہا، جیسا کہ ٹرمپ کے بڑے اقتصادی اور تکنیکی وفد سے بھی ثابت ہوتا ہے، جس میں مالیاتی، بزنس، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور صنعتی شعبوں میں کام کرنے والی بڑی امریکی کمپنیوں کے کاروباری لیڈران اور نمائندے شامل تھے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں بوئنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کیلی اوربرگ (Kelly Orberg)، نویڈیا (Nvidia) کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ (Jensen Huang)، اور دیگر بڑی کاروباری شخصیات شامل تھیں، جن میں ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک (Tim Cook) اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک (Elon Musk) بھی شامل تھے۔
ان امریکی کمپنیوں کا مقصد چین جیسے بڑے ملک کے ساتھ معاہدے حاصل کر کے بھاری منافع کمانا ہے، جو کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور عالمی سطح پر زیادہ تر اشیاء کا سب سے بڑا مینوفیکچرر اور ایکسپورٹر بھی ہے۔ یہ کمپنیاں چینی مارکیٹ کی اہمیت اور اس کے وسیع حجم، اس کی بے پناہ اقتصادی صلاحیتوں اور عالمی منڈیوں اور سپلائی چینز پر اس کے مجموعی اثر و رسوخ سے بخوبی واقف ہیں۔
امریکی کمپنیاں چین کی اس شدید ضرورت کو بھی سمجھتی ہیں کہ وہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے امریکی ٹیکنالوجی کی برتری سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اور چین کی یہ ضرورت اس کو جدید امریکی چپس اور آلات کی برآمد پر عائد امریکی پابندیاں ہٹانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ بالفاظِ دیگر، اگر ان پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں چین نایاب زمینی معدنیات (REEs) کی فراہمی کو آسان بنانے پر آمادہ ہو جائے، جن کی امریکہ کو اپنی اہم صنعتوں کے لئے ضرورت بھی ہے اور اس کے پاس ان معدنیات کی کمی بھی ہے، تو یہ ان دونوں کے حق میں ایک کامیاب مذاکراتی دورہ تصور کیا جائے گا۔
بہرحال، اس دورے نے گزشتہ ایک دہائی سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر چھائی ہوئی جمود کی کیفیت کو توڑ دیا ہے، اور تنازعات سے بھرپور دنیا میں ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان ایک قسم کا اسٹریٹجک استحکام پیدا کیا ہے۔
Latest from
- الرایۃ کے متفرقات - شمارہ نمبر 600
- یمنی بندرگاہیں: بااثر افراد کی بدعنوانی اور ایجنٹوں کی کشمکش سے نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ تک
- بے تحاشہ مہنگائی کی لہریں اور حکومتی پالیسیوں کا بانجھ پن
- شام کے معاشی بحران کا صحیح حل، موجودہ صورتحال کا تجزیاتی جائزہ اور اسلامی متبادل
- اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ کا مسئلہ: ایک بیماری کی علامتیں اور ایک ہی علاج




