Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بے تحاشہ مہنگائی کی لہریں اور حکومتی پالیسیوں کا بانجھ پن

 

تحریر: استاد یعقوب ابراہیم – ولایہ سوڈان

 

(ترجمہ)

 

 

سوڈان میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافے دیکھنے میں آ رہے ہیں، جس نے بازاروں میں شدید مہنگائی کی آگ بھڑکا دی ہے۔ اس مہنگائی کی زد میں روٹی، نقل و حمل و مواصلات کے کرایوں اور بجلی سمیت تمام بنیادی اشیاء آ گئی ہیں۔ رہی سہی کسر حکومت کے اس فیصلے نے پوری کر دی ہے جس کے تحت کسٹمز ڈالر کی قیمت میں 14 فیصد اضافہ کر کے اسے 3222 سوڈانی پاؤنڈ کر دیا گیا، جس نے قیمتوں کو ایک بار پھر ریکارڈ توڑ سطح سے بھی اوپر پہنچا دیا ہے۔ اس اقدام نے تمام تر اندازوں کو درہم برہم کر دیا، جس سے بازاروں میں اضطراب پھیل گیا اور مجموعی تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں۔ چنانچہ سوڈان کے ان لاکھوں لوگوں پر زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ ہو گئی ہے، جو منحوس امریکی جنگ کے نتیجے میں اپنے گھر بار اور ذرائع معاش سے محروم ہو چکے ہیں۔

 

مہنگائی کی اس لہر نے ایک تباہ کن صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے بارے میں ہجرت کی بین الاقوامی تنظیم (IOM) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 86 فیصد خاندانوں کو آمدنی میں کمی، بلند افراط زر اور مقامی بازاروں میں عدم استحکام کی وجہ سے اپنی ضروریات زندگی خریدنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ الجزیرہ چینل کی 29 دسمبر 2025 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، عوامی خدمات کی ابتر صورتحال، خاندانوں کی آمدنی میں کمی اور لوگوں کی اکثریت کے ذرائع معاش ختم ہونے کے باعث غربت کی شرح 2022 میں 21 فیصد سے بڑھ کر اب 71 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

 

اسی طرح 'غذائی بحرانوں کی عالمی رپورٹ' نے بھی خبردار کیا ہے کہ 2026 میں حالات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ یہ رپورٹ بھوک کے بحرانوں کی نگرانی اور ان کی تشخیص کا سب سے معتبر عالمی حوالہ ہے جسے 'گلوبل نیٹ ورک اگینسٹ فوڈ کرائسز' جاری کرتا ہے، جس میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور بڑے بین الاقوامی ادارے بشمول 'فاو' (FAO)، ورلڈ فوڈ پروگرام، ورلڈ بینک اور یونیسیف شامل ہیں۔

 

سوڈان آج جس صورتحال کا مشاہدہ کر رہا ہے وہ کوئی ہنگامی یا عارضی بحران نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دائمی اور وقت کے ساتھ جمع ہونے والے اس نمط (pattern) کا حصہ ہے جس نے ملک کی بحالی کی صلاحیت چھین لی ہے، کیونکہ یہاں ہر نیا صدمہ پہلے سے موجود صدموں کے ملبے پر مزید بوجھ بن کر جمع ہوتا جا رہا ہے۔

 

ان در پے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے، موجودہ حکومت اور سابقہ حکومتوں (انقاذ، عبوری اور بغاوتی حکومت) نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا رخ کیا تاکہ قرضوں اور ان کی واپسی کے شیڈول پر بات کی جا سکے اور ان کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ خاص طور پر آئی ایم ایف (صندوقِ عالمی) اور ورلڈ بینک وغیرہ سے رجوع کیا گیا، اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہ یہ استعماری ادارے ہیں جو ایسی سخت شرائط عائد کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ نشانہ بنائے گئے ممالک کی دولت پر قبضہ کر سکیں۔ اسی بات کا اظہار عالمی معیشت کے لٹیروں میں سے ایک، امریکی ماہرِ معاشیات جان پرکنز نے اپنی کتاب "ایک معاشی لٹیرے کے اعترافات" (Confessions of an Economic Hit Man) میں ان الفاظ میں کیا ہے: "ہم قرضے دیتے ہیں اور ہمیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ وہ (قرض دار ممالک) انہیں کبھی ادا نہیں کر سکیں گے... اور حقیقت میں ہم یہ چاہتے بھی نہیں کہ یہ ممالک اپنے قرضے ادا کریں، کیونکہ قرض کی عدم ادائیگی ہی ہمیں وہ اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے (جس سے ہم انہیں کنٹرول کرتے ہیں)۔" اسی طرح ایک بین الاقوامی معاشی ماہر نے ان اداروں کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: "ان کا ظاہر رحمت ہے اور باطن عذاب"۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ ادارے ہمیشہ ایک مددگار، حامی اور عطیہ دینے والے کے روپ میں سامنے آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان بہت سی معیشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں جن پر انہوں نے غیر ملکی کرنسی میں فنڈنگ کے ذریعے قابو پایا ہوتا ہے... اور اکثر اوقات یہی لوگ ممالک کو قرضوں میں ڈبو کر اور ایسے معاشی نسخے مسلط کر کے بحران پیدا کرتے ہیں جو تکلیف میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، علاج کا نہیں"۔

 

مہنگائی کے اس مسئلے کے اسباب بالکل واضح ہیں اور اس کا ذمہ دار بھی معلوم ہے۔ یہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے وہ نسخے ہیں جن پر وہ کٹھ پتلی حکمران اور سیاست دان عمل درآمد کر رہے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے خطرناک سرمایہ دارانہ تہذیب کے سحر میں مبتلا ہیں۔ ان نسخوں میں سے کچھ یہ ہیں: دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کرنا، سبسڈیز کا خاتمہ، اور کسٹمز ڈالر کی قیمت بڑھا کر اور اسے مکمل آزاد کرنے کی بھرپور کوشش کے ذریعے شرح مبادلہ کو یکساں بنانا۔ انقاذ حکومت نے اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کیا جو عوام کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا، پھر آنے والی حکومتوں نے اسی سمت میں مزید تیزی دکھائی۔ چنانچہ مارچ 2021 میں عبوری حکومت نے کسٹمز ڈالر کو 15 پاؤنڈ سے بڑھا کر 20 پاؤنڈ (33 فیصد اضافہ) کرنے کا اعلان کیا، اور اس مہلک پالیسی پر عمل درآمد میں اتنی تیزی دکھائی کہ رواں سال 2026 کی پہلی سہ ماہی تک کسٹمز ڈالر کی قیمت 3222 پاؤنڈ تک جا پہنچی! سوڈانی وزیر خزانہ جبریل ابراہیم نے خود اعتراف کیا کہ "کسٹمز ڈالر سوڈانی معیشت میں ایک بدعت اور سابقہ نظام کا ورثہ ہے"۔

 

ان مہلک پالیسیوں میں سے ایک ملک کی کرنسی کو ڈالر سے جوڑنا ہے۔ جو کہ مسلمانوں کے ممالک پر نظریں جمانے والی دنیا کی پہلی (استعماری) ریاست کی کرنسی ہے۔ مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کی پالیسیوں کے ذریعے یہ بڑی ریاست دیگر ممالک کو پچھاڑنے، ان کا گلا گھونٹنے اور ان کی گردنوں میں غلامی کا پھندا ڈالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

 

مہنگائی کے اسباب میں سے ایک نجکاری (پرائیویٹائزیشن) کی پالیسی اور عوامی ملکیتوں کو افراد اور نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا ہے۔ جیسا کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (عالمی تجارتی ادارہ) میں شمولیت کے لیے سوڈان کے تیار کردہ منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے جو نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، جبکہ ریاست معاشی انتظام سے دستبردار ہو کر 75 فیصد معاملات نجی شعبے کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔

مہنگائی کے عوامل میں مقامی پیداوار کا قتل اور سوڈان کی عظیم دولت کا ضیاع بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر، 2025 کے سیزن میں سوڈان میں گندم کی پیداوار کم ہو کر محض 4 لاکھ ٹن رہ گئی، جو ملک کی 16 لاکھ ٹن کی کل ضرورت کا صرف چوتھائی حصہ ہے، اور یہ ایک بہت بڑی تباہی ہے۔

 

عالمی استعماری سودی مالیاتی اداروں کے ساتھ مکمل وابستگی ہی وہ بنیاد ہے جس نے سوڈان کے عوام کے لیے دکھ، تکلیف اور تنگی پر مبنی یہ تلخ حقیقت پیدا کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان پالیسیوں کا سب سے خطرناک پہلو مقامی اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والا ریکارڈ توڑ اضافہ ہے، جس کا مطلب غربت میں مقداری اور معیاری اضافہ ہے، اور اس کے نتیجے میں معاشرے کے بڑے طبقات خطِ غربت کے نیچے چلے جائیں گے۔

 

حکومتوں کا ان معاشی نسخوں کے آگے جھکنا اور ان پر وفاداری سے عمل درآمد کرنا غریبوں کے لیے بدحالی اور دشمنوں کے لیے خوشی کا باعث بنا ہے! عالمی بینک (ورلڈ بینک) گروپ کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا: "میں سوڈانی حکومت کو اصلاحات کے حوالے سے اس کے عزم پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سوڈانی عوام کی مدد کے لیے ورلڈ بینک گروپ کے لیے مزید بڑے مواقع کا منتظر ہوں"۔ اسی طرح امریکی سفارت خانے نے بھی سوڈانی حکومت کے کرنسی کی قدر کو مارکیٹ پر چھوڑنے (فلوٹنگ) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے ایک "بہادرانہ فیصلہ" قرار دیا۔

پھر حکومت نے اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی معاشی پالیسیوں کے بانجھ پن اور اپنی سمت کے بھٹک جانے پر مہر ثبت کر دی۔ چنانچہ وزیر اعظم کامل ادریس نے انتہائی غیر سنجیدگی سے غذائی اشیاء، عام استعمال کی چیزوں اور صنعتی خام مال سمیت 46 مختلف اقسام کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کا اعلان کر دیا، جس پر تنقید کی ایک لہر دوڑ گئی۔ سوڈانی درآمد کنندگان کے قومی چیمبر کے صدر نے اس فیصلے کو "ناقص، معیشت کے لیے نقصان دہ اور غیر سنجیدہ" قرار دیا۔

حکومت کی یہ بوکھلاہٹ اور زہریلی امداد و عطیات پر بھروسہ دراصل استعماری ریاستوں کو سوڈان کی دولت لوٹنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ہے۔ یہ سرمایہ دار لوگ دولت سے اس قدر محبت کرتے ہیں جو تقدیس اور پرستش کی حدوں کو چھوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں افریقی امور کے بیورو کے سینئر عہدیدار نک چیکر نے 19 مارچ 2026 کو کرتے ہوئے کہا: "صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں ہم نے امداد فراہم کرنے کا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ امریکی غیر ملکی امداد کوئی خیراتی کام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک  سرمایہ ہے جسے امریکی مفادات کے حصول کے لیے دانشمندی سے لگایا جاتا ہے!" اس کے باوجود نادان حکومتیں ان زہریلی امدادوں کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا دامن تھام کر اور عالمی سودی اداروں کی شرائط پر عمل کر کے مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کا حل نکالنا ایک کھلی خودکشی ہے۔ حکومت نے ان تباہ کن معاشی نسخوں کے ذریعے اپنا اور اپنے عوام کا گلا گھونٹ دیا ہے، جنہوں نے مہنگائی، غربت اور محتاجی کو جنم دیا اور جس نے کھیتی اور نسل کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔

 

انسانیت کو آج اس وحشی سرمایہ دارانہ نظام سے نجات دلانے کے لیے کسی نجات دہندہ کی اشد ضرورت ہے جس نے دنیا کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دنیا کے سامنے اب نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، جو معاشی مسئلے کی بالکل درست تشخیص کرتی ہے کہ یہ دراصل "انفرادی غربت" کا مسئلہ ہے۔

 

چنانچہ وہ انسانی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے اور اسلام کے عطا کردہ معاشی نظام کے مطابق چلتی ہے، جس سے رعایا کی تمام بنیادی ضرورتوں کی تسکین یقینی بنتی ہے اور وہ غربت و مہنگائی کے خاتمے اور خوشحالی و رضائے الٰہی سے بھرپور زندگی کی طرف گامزن ہوتی ہے۔

 

 

 

Last modified onہفتہ, 23 مئی 2026 19:20

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.