Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

کیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہونے والا ہے؟

 

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

امریکہ "ششدر و پریشانی"  کی کیفیت میں مبتلا ہو چکا ہے، معاملات الجھ گئے ہیں اور صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ کبھی وہ ایران پر فیصلہ کن ضرب لگانے کی دھمکی دیتا ہے، مگر کیا یہ اس کے مقصد کے حصول کے لیے کارگر ثابت ہوگا؟ اور کبھی وہ مذاکرات اور معاہدے پر دستخط کا مطالبہ کرتا ہے؟

 

امریکہ کا صدر ٹرمپ، جو کہ بڑائی کے خبط  میں مبتلا ہے، چین تو جاتا ہے مگر سر جھکائے ہوئے، تاکہ وہ چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے آمادہ کر سکے کہ ایران اس کی شرائط مان لے، لیکن وہ وہاں سے ناکام و نامراد (خالی ہاتھ) لوٹتا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ "امریکہ اور چین کا نقطہ نظر بہت حد تک مطابقت رکھتا ہے" لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس نے "ایران کے حوالے سے کوئی مدد طلب نہیں کی"۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے اپنے مقصد میں ناکام رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ تجارتی تبادلہ روک دیا جائے، جو کہ اصل میں ایران پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ چین نے ان پابندیوں کی پاسداری نہیں کی اور وہ ایران کی تیل کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد خرید رہا ہے۔

 

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مطابقت 14 مئی 2026 کو وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان میں پوشیدہ ہے جس میں کہا گیا: "چینی صدر نے آبنائے ہرمز کو فوجی چھاؤنی بنانے اور اس کے استعمال پر ٹیکس  عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی ہے، اور دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا"۔ یہ معاملات چین کے مفاد میں ہیں جو نہیں چاہتا کہ کوئی اس آبنائے پر قابض ہو کر اس کے بحری جہازوں پر ٹیکس لگائے، اور نہ ہی وہ چاہتا ہے کہ ایران ایک ایٹمی ریاست بنے، کیونکہ مستقبل میں ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایران اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین اسلام کی بطورِ ایک عالمی سپر پاور واپسی سے خوفزدہ ہے، اور اس کا یہ خوف ملک کے اندر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے اور وسطی ایشیا میں اسلامی گروہوں کے خلاف اس کی جنگ سے واضح ہے، جہاں اس نے وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ "شنگھائی معاہدہ" کر رکھا ہے۔

 

چینی وزارت خارجہ نے 15 مئی 2026 کو امریکی بیان کے ردعمل میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: "یہ تنازع، جو سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، اس کے جاری رہنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے، اور چین ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس سے اس جنگ کا خاتمہ ہو سکے جس نے توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین ایران کے خلاف جنگ کے حق میں نہیں ہے کیونکہ وہ امریکہ کی ایسی جیت نہیں چاہتا جس سے چین کے خلاف امریکہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے۔

 

چینی صدر کا جواب اس وقت سامنے آیا جب روسی صدر پیوٹن نے ان سے ملاقات کی اور 20 مئی 2026 کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا: "کچھ ممالک کی جانب سے یکطرفہ طور پر عالمی امور کو چلانے، پوری دنیا پر اپنے مفادات مسلط کرنے اور استعماری دور کے جذبے کے تحت دوسرے ممالک کی خودمختارانہ ترقی کو محدود کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں"۔ یہ اس بات کی تصدیق  ہے کہ ٹرمپ چین میں اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، چنانچہ روس کے ساتھ اس مشترکہ بیان کے ذریعے چین نے امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا۔

 

جب امریکہ چین سے مایوس ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی بحالی اور معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان میں موجود اپنے مہروں کو متحرک کر دیا، چنانچہ پاک فوج کے سربراہ اور پاکستان کے (عملی) حکمران عاصم منیر نے، جو امریکہ سے اپنی شدید وفاداری کی بنا پر اس کا بھرپور اعتماد حاصل کیے ہوئے ہیں، 23 مئی 2026 کو ایران کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں کے صدر، وزیر خارجہ، اسپیکر پارلیمنٹ اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سے ملاقات کی۔ اس حوالے سے پاک فوج نے بتایا کہ "ان کے سربراہ نے تہران میں انتہائی مفید مذاکرات کیے جن کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے"۔

 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے اعلان کیا کہ "ایران نے امریکہ کے ساتھ ہفتوں جاری رہنے والی بات چیت کے بعد قربت کی طرف جھکاؤ محسوس کیا ہے۔ تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اہم مسائل پر مفاہمت ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان ایک قابلِ قبول تصفیہ ہے اور یہ کہ آخری مرحلے میں ایٹمی معاملہ یا پابندیوں کی تفصیلات شامل نہیں ہیں، ان پر بحث واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کے بعد ہوگی۔ منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری کا معاملہ مذاکرات کی میز پر ہے، جبکہ ایٹمی معاملے پر بحث کا آغاز اگلے 30 یا 60 دنوں میں ہوگا جو کہ مذاکرات کے اگلے مراحل سے وابستہ ہے۔ پاکستان اس بات چیت میں ایک باضابطہ ثالث ہے، اور قطر بھی اس میں سہولت کاری کے ذریعے مدد کی کوشش کر رہا ہے"۔

 

امریکی صدر نے 23 مئی 2026 کو کہا: "ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے ایک بڑے حصے پر مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا باعث بنیں گے، اور جلد ہی اس کا اعلان کر دیا جائے گا"۔ ان کے وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا: "اس بات کا امکان ہے کہ دنیا آنے والے چند گھنٹوں میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے اچھی خبریں سنے گی"۔

 

ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ ہم بہت جلد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے"۔ ان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا: "امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ایک مثبت اور پائیدار نتیجے تک پہنچنے کی امید پیدا کرتی ہے"۔ ان دونوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کی وابستگی کی تعریف کی، حالانکہ وہ وہی شخص ہے جس نے ایران کے خلاف جارحیت، اور لبنان پر حملے اور غزہ میں نسل کشی و تباہی میں "یہودی وجود"  کی حمایت کر کے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

 

اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے بتایا: "پاکستانی فوج کے سربراہ نے مذاکرات میں زیرِ بحث دو بنیادی مسائل، یعنی آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل، کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے"۔ اخبار نے مزید کہا کہ "ایرانی حکام جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو اس وقت تک ملتوی کرنا چاہتے ہیں جب تک کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ طے نہ پا جائے"۔

 

تمام فریقین کے بیانات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ معاہدہ ہونے والا ہے جو جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی جوہری پروگرام کے مذاکرات کو ملتوی کرنے کے گرد گھومے گا۔

 

"فارس" اور "تسنیم" نیوز ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ "معاہدے کے مسودے میں دونوں فریقوں اور خطے میں ان کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کی دفعہ شامل ہے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ "یہودی وجود" کو ایران اور خطے میں اس کے حامیوں پر حملہ کرنے سے روکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے مرحلے میں "ایران کے تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکلز پر سے پابندیاں اٹھانا اور اس کے منجمد اثاثوں کا ایک حصہ واگزار کرنا بھی شامل ہے"۔

 

یہ اپنی جنگ میں امریکہ کی ناکامی کی دلیل ہے، اور اب وہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر بحث کرنے لگا ہے جو سرے سے موجود ہی نہیں تھا بلکہ خود امریکہ کی وجہ سے پیدا ہوا، حالانکہ  آبنائے ہرمزکھلی ہوئی تھی، غیر عسکری تھی اور کسی قسم کے ٹیکس  سے پاک تھی۔ امریکہ کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا اور اسے اپنا تابع ملک بنانا تھا، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔

 

اب ایران اس پوزیشن میں آ گیا ہے کہ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے، امریکی دباؤ کا مقابلہ کر سکے اور اس کی تمام شرائط ماننے سے انکار کر دے۔ ایران کے اس موقف کو چین کے رویے نے مزید تقویت دی ہے جس نے ایران پر دباؤ ڈالنے سے انکار کر دیا اور تجارتی تبادلے کے تسلسل پر اصرار کیا، جو کہ امریکی اور یورپی پابندیوں کے سائے میں ایران کے لیے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے واسطے یہ بہت اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس کا موقف بھی ہے جو امریکہ کی جنگ کا مخالف ہے اور چین کے ساتھ قربت بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ امریکہ ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح قطر کی تگ و دو ہے جس نے دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کی تکمیل میں شرکت کے بہانے ایران کے ان حملوں کو فراموش کر دیا ہے جو اس پر کیے گئے تھے۔

 

اس طرح صومالیہ، عراق اور افغانستان میں شکست کے بعد امریکہ مسلمانوں کے خلاف ایک اور عسکری معرکہ ہار گیا ہے۔ لیکن اب اسے سیاسی طور پر بھی شکست دینے کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ اس کا کوئی سیاسی اثر و رسوخ باقی نہ رہے، چاہے وہ سیاسی تابعداری کی صورت میں ہو یا اس کے مدار میں گھومنے کی شکل میں یا کسی اور طرح سے، کیونکہ اب امریکہ مسلمانوں کی نظر میں گر چکا ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے جلد ہی نبوت کے نقشِ قدم  پر دوسری خلافتِ راشدہ  قائم ہوگی، تو مسلمان اسے شکست دینے اور خطے سے نکال باہر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

 

 

 

Last modified onجمعہ, 29 مئی 2026 23:10

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.