بسم الله الرحمن الرحيم
پیوٹن کا دورہ چین اور چین روس قربت
تحریر: استاد احمد الخطوانی
(ترجمہ)
روسی صدر پیوٹن کے دورہ چین کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہ امریکی صدر کے دورہ چین کے فوراً بعد ہوا ہے۔ اسی لیے یہ دورہ اپنے اندر کئی معنی اور اشارے رکھتا ہے۔ اس دورے کا مشاہدہ کرنے والوں سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ روس اور چین کے درمیان ایک نیا تقارب پیدا ہو رہا ہے، اور یہ بھی واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان، خاص طور پر امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے، گہرا تعاون اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
یہ بات اب عیاں ہے کہ روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے حالیہ عرصے میں تجارت، توانائی، سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے کئی اہم اور حیاتی شعبوں میں اپنے تعاون کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس تمام تعاون کا عروج پیوٹن کا رواں ماہ کی انیس تاریخ کو ہونے والا حالیہ دورہ چین تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان 42 دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ ان دستاویزات میں سرِ فہرست ایک مشترکہ بیان ہے جس کا مقصد جامع شراکت داری اور سٹریٹیجک تعامل کو مزید مستحکم کرنا اور حسنِ سلوک، دوستی اور تعاون کے تعلقات کو گہرا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ایک کثیر القطبی (ملٹی پولر) دنیا کی تعمیر اور بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم کی تشکیل کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ بھی شامل ہے۔
پیوٹن کا دورہ چین، ٹرمپ کے دورے کے مقابلے میں ہر سطح پر انتہائی کامیاب رہا۔ ٹرمپ کا دورہ بالکل بے رنگ تھا اور اس میں ایجنڈے پر موجود کسی بھی اہم مسئلے پر کوئی قابل ذکر نتائج حاصل نہیں ہو سکے تھے، اور خالی خولی میڈیا تشہیر کے باوجود اس دورے پر صرف ذاتی نوعیت کا رنگ غالب رہا۔ ٹرمپ کے ان دعووں کے باوجود کہ انہوں نے اس دورے سے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ خود ان میں سے کسی ایک کی بھی نشاندہی نہیں کر سکے اور نہ ہی کسی کامیابی کو منوا سکے۔
چین کے ان دو دوروں کے ساتھ ہی،جو اب عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے،بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان نئے عالمی نظام کی شکل متعین کرنے کے لیے حقیقی کشمکش کا آغاز ہو گیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور چین کے درمیان یہ مقابلہ تیز ہو گیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اپنی اپنی سٹریٹیجک سوچ کے مطابق عالمی نظام کا رخ موڑنے اور اس کی نوعیت متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ وہ عالمی معاشی، سیاسی اور فوجی پہلوؤں پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔
ظاہری طور پر چین یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی اتحاد بنانا نہیں چاہتا، اور نہ ہی وہ دنیا کو مختلف کیمپوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ سرد جنگ کی زبان اور اصطلاحات کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کے تصورات کو اپناتا ہے۔ چنانچہ چین دستیاب معاشی شراکت داریوں کے ذریعے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات ظاہر کرتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ وہ سب سے یکساں فاصلے پر ہے اور کسی ایک کے حق میں دوسرے کے خلاف جھکاؤ نہیں رکھتا۔ چین کا موقف ہے کہ اس کا کوئی خاص محور یا اتحاد نہیں ہے، بلکہ اس کی شراکت داری سب کے لیے کھلی ہے۔ لیکن بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے چین کا یہ نظریاتی اور فلسفیانہ موقف عملی طور پر روس کے ساتھ اس کے مخصوص تعلقات سے متصادم نظر آتا ہے، کیونکہ روس کے ساتھ چین کے تعلقات اب ایک خاص اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
دونوں دوروں کے درمیان موازنہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران چینی قیادت انتہائی محتاط نظر آئی اور اس نے اپنے تمام بیانات اور موقف میں تحفظ کا اظہار کیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور تجارت کے معاملات میں۔ بلکہ ایران، آبنائے ہرمز اور تائیوان سے متعلق سیاسی امور میں تو وہ مزید محتاط اور مبہم دکھائی دی، جبکہ سٹریٹیجک اور بین الاقوامی معاملات میں ان کی خاموشی اور دھندلا پن مزید گہرا تھا۔ اس کے برعکس، پیوٹن کے دورہ چین پر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور سکون کا رنگ غالب رہا، جہاں روس کے ساتھ اقتصادی اور سٹریٹیجک طور پر جامع شراکت داری کی توثیق اور اسے عام کیا گیا۔ اسی طرح کثیر القطبی دنیا کی تعمیر کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سیاسی وژن پر زور دیا گیا، اور اس یک قطبی عالمی نظام کو مسترد کرنے پر اتفاق کیا گیا جسے امریکہ بنا رہا ہے اور دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین اور روس کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی پائی جاتی ہے اور یہ تمام شعبوں، خاص طور پر معاشی میدان اور بالخصوص تیل، گیس اور نایاب معدنیات کے معاملے میں ترقی کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تزویراتی تعلقات اور کثیر القطبی نظام کے معاملے میں بھی مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
معاشی میدان میں اگر اعداد و شمار کی زبان میں بات کی جائے تو چین اب روسی توانائی کی برآمدات کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے، اور یہ اسے ایسی ترجیحی قیمتوں پر مل رہی ہے جو چینی معیشت کے حق میں ہیں۔ رواں سال 2026 کے پہلے دو مہینوں میں چین نے روس سے تقریباً 21.8 ملین ٹن تیل درآمد کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ اس درآمد نے آبنائے ہرمز کے راستے خلیجی ممالک سے آنے والی چینی توانائی کی کمی کو پورا کیا، اور ساتھ ہی وینزویلا کی سپلائی کی کمی کو بھی، جس نے اپنے صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد مکمل طور پر امریکی تسلط کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
روس 2025 سے اور ایران پر جنگ چھڑنے سے پہلے ہی چین کو توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، جس نے اسے پائپ لائنوں اور مائع قدرتی گیس (LNG) کے ذریعے 101 ملین ٹن خام تیل اور 49 ارب کیوبک میٹر گیس برآمد کی ہے۔ مستقبل میں روس مجوزہ پائپ لائن "پاور آف سائبیریا 2" کے ذریعے چین کو توانائی کی فراہمی مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جو منگولیا کے راستے روسی گیس براہ راست چین منتقل کرے گی۔
دوسری جانب، امریکہ کے ساتھ ٹیکنالوجی اور تجارت پر بات چیت، خاص طور پر چین سے امریکہ کو نایاب دھاتوں کی برآمد کے حوالے سے اب بھی تعطل کا شکار ہے۔ اسی طرح امریکہ کی جانب سے چین کو نئی نسل کے الیکٹرانک چپس کی فروخت کی اجازت کا معاملہ اب بھی جوں کا توں ہے، اس کے علاوہ باہمی کسٹم ڈیوٹی کے معاملے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جس پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا، یہی صورتحال دونوں فریقوں کے درمیان باہمی تجارت، چین کی جانب سے امریکہ سے سویابین کی خریداری اور چین کو امریکی بوئنگ طیاروں کی فروخت کے حوالے سے بھی ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ چین امریکہ کے ساتھ سرد مہری اور احتیاط سے پیش آتا ہے، جبکہ روس کے ساتھ اس کا رویہ گرمجوشی اور ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیا بین الاقوامی منظرنامہ اب دو بڑے قطبوں یعنی امریکہ اور چین کی صورت میں ڈھلنا شروع ہو گیا ہے جس میں روس واضح طور پر چین کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے، جبکہ یورپ امریکہ سے دور ہو رہا ہے لیکن وہ چین کے قریب بھی نہیں آ رہا، بلکہ وہ ان چار بڑی طاقتوں کے درمیان اپنے لیے جگہ تلاش کر رہا ہے۔
مستقبل کی اس کثیر القطبی صورتحال کا ابھرنا ایک مشکل موڑ ثابت ہوگا، اور اسے اپنی نئی حالت پر مستحکم ہونے کے لیے نسبتاً طویل وقت درکار ہوگا۔ یہ عمل بین الاقوامی حالات میں پیدا ہونے والی دراڑوں کے ذریعے نئی طاقتوں کے ابھرنے کی راہ ہموار کرے گا جو اکثر بتدریج تشکیل پاتے ہیں، اور اللہ کے حکم سے اسلامی ریاست وہ نئی ابھرتی ہوئی طاقت ہوگی جو ان تمام بین الاقوامی توازنات کو الٹ کر رکھ دے گی، اور بلا مقابلہ دنیا کی پہلی ریاست بن جائے گی۔