بسم الله الرحمن الرحيم
1447ھ بمطابق 2026ء کےعیدالفطر کے مبارک موقع پرممتاز عالم اور امیرحزب التحریر، عطاء
بن خلیل ابوالرشتہ کی طرف سے عید کی مبارکباد !
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو ہمارے آقا سیدنا محمدﷺ اور ان کی آل، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
امتِ مسلمہ کے لئے ... وہ بہترین امت جو کہ پوری انسانیت کے لئے اُٹھائی گئی ہے جو امربالمعروف ونہی عن المنکر کا حکم دیتی ہے اور صرف اللہ العزیز الحکیم پر ایمان رکھتی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾
”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے بھیجی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور منکر (برے کاموں) سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو“ (آل عمران؛ 3:110)۔
اسلام کی دعوت کا بار اٹھانے والے مخلص، پاکیزہ اور متقی داعیان کے نام، اور ہم اللہ ﷻ کے حضور کسی کے بارے میں اچھا برا ہونے کا قطعی فیصلہ نہیں کرتے، جو اللہ ﷻ کی طرف دعوت دینے میں احسن کلام کہتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، کیونکہ اللہ ﷻ نے ان صفات کے حامل لوگوں کی تعریف کی ہے۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِين﴾
”اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جس نے اللہ کی طرف بلایا، نیک عمل کیا اور کہا کہ 'بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں'“ (سورۃ فصلت؛ 41:33)
اس پیج کا وزٹ کرنے والے محترم حضرات کے لئے جو نہایت خلوص اور تقوٰی کے ساتھ اس کو دیکھتے ہیں اور وہ حق کا ساتھ دینے اور اس کے لوگوں کی حمایت کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے !
میں آپ سب کو عیدالفطر کے مبارک موقع پر تہنیت اور مبارکباد پیش کرتا ہوں اور میں اللہ القوی العزیز سے دعا کرتا ہوں کہ آپ سب لوگوں کے روزوں اور نمازوں کو قبول فرمائے اور آپ کو بہترین اجر سے نوازے، بے شک اللہ ﷻ نہایت فضل کرنے والا ہے۔
محترم بھائیو اور بہنو!
یہ عید ایک ایسے وقت میں آئی ہے کہ جب مسلمانوں کی حالت نہ تو دوستوں کے لئے خوشی کا باعث ہے اور نہ دشمنوں کے لئے باعثِ غیظ و غضب! ظالم ٹرمپ اور اس کے چیلے، نیتن یاہو نے 28 فروری 2026ء سے ایران اور لبنان پر وحشیانہ حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ بالکل اسی طرح سے تباہی مچا رہے ہیں، بمباری کر رہے ہیں اور قتل و غارت کر رہے ہیں جیسے وہ غزہ اور پورے فلسطین میں پہلے بھی کرتے آئے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس قدر تسلسل سے جاری جارحیت کے باوجود، ٹرمپ مسلمانوں کے ان حکمرانوں کو، جو متاثرہ علاقوں کے اردگرد موجود ہیں، کسی مؤثر اقدام سے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ بلکہ اس کے بجائے یہ حکمران ہیں کہ ان کے اطراف میں جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ اسے گنگ بنے دیکھ رہے ہیں اور کوئی انگلی تک نہیں اُٹھاتے، گویا وہ غیر جانبدار ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ٹرمپ اور یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں!
مسلم ممالک کے حکمرانوں کا ظلم و جبر شدت اختیار کر رہا ہے، اور کافر استعماری طاقتوں، خصوصاً امریکہ کے ساتھ ان کی وابستگی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ یہ حکمران اس خام خیالی میں ہیں کہ کفر کے ساتھ یہ اتحاد ان کے مکروہ اقتدار کو محفوظ بنا دے گا! وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کفریہ طاقتوں کے ساتھ یہ اتحاد ایک کبیرہ گناہ ہے، جو انہیں دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب کا مستحق بنائے گا۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُون﴾
”عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے، اللہ کے ہاں ذلت پہنچے گی اور ان کی مکاریوں کے بدلے سخت عذاب ہوگا“ (الانعام؛ 6:124)۔
یہ حکمران بھول چکے ہیں، یا دانستہ یہ حقیقت بھلانے کی کوشش کرتے ہیں، کہ جب امریکہ کے لئے ان کی خدمات کا وقت ختم ہو جائے گا، تو وہ انہیں کسی بے کار بیج کی طرح اٹھا کر پھینک دے گا۔ ان حکمرانوں سے پہلے گزرنے والے حکمرانوں کی مثالیں چیخ چیخ کر یہ حقیقت بیان کر رہی ہیں، کاش کہ وہ سمجھ سکتے۔
ان حکمرانوں کا کافر استعماری طاقتوں کے ساتھ اتحاد اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ جب ان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرے اس کی مدد کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ بلکہ ان میں سے قدرے بہتر وہ گردانے جاتے ہیں جو صرف شہداء اور زخمیوں کی گنتی ہی کرتے رہتے ہیں! امتِ مسلمہ کی صورتحال ایسی نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے، امت کی اصل کیفیت وہ ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا، مسلم کی حدیث (12/468) میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى» ”مومنوں کی آپس میں محبت، رحم اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے؛ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس درد میں مبتلا ہو جاتاہے“۔
لیکن اس امت نے اپنی وہ خلافت کھو دی ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق امت کے امور کو منظم کرتی تھی، اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتی تھی اور یہ خلافت ہی تھی جو اس امت کو حقیقت میں اور خلوص کے ساتھ ایک بدن کی مانند بنا کر رکھتی تھی کہ جب اس کا کوئی بھی عضو تکلیف میں ہوتا تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا احساس کرتا۔
اے مسلمانو!
تمہاری عزت تمہاری ریاست، خلافتِ راشدہ کی واپسی میں پنہاں ہے۔ رہنما جماعت حزب التحریر، جس کے ارکان قابلِ بھروسہ ہیں، اس جماعت نے اللہ کے حکم سے خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی نظامِ زندگی کے ازسرِ نو احیاء کے لئے خود کو مخلصانہ اور سنجیدہ جدوجہد کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ حزب التحریر ہی واقعی وہ رہنما جماعت ہے جو اپنے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتی، ایک ایسی جماعت جس کی خیر روشن و منور ہے اور اس خیر سے وہی لوگ دور ہو جاتے ہیں جو اس کے لائق نہیں۔ ہم اسے اسی طرح دیکھتے ہیں، اور ہمارا ایمان ہے کہ حزب کے ساتھ کام کرنے والے تمام ارکان سنجیدہ، محنتی اور مخلص ہیں، جو اللہ کے اذن سے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ دن رات کوشش کرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں کہ اللہ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت ان کے ذریعے پوری ہو۔ اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جو امت کو نجات دے گا، اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرے گا، اس کی طاقت کو مضبوط بنائے گا، اور اس کے دشمنوں کو حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ یہ سب صرف خلافت کے دوبارہ قیام سے ہی ممکن ہے،کہ یہ کرہ ارض خیر اور عدل و انصاف سے منور ہو جائے۔ جس طرح خلافت نے رومی قیصروں اور ایرانی شہنشاہوں کے تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا، بعینہٖ اسی طرح دوبارہ آنے والی خلافت ان کفر کے پیروکاروں، جیسے کہ ظالم ٹرمپ اور اس جیسے دیگر کافر استعمار پسندوں کے تکبر کو بھی خاک میں ملا دے گی۔
رہی بات یہودی وجود کی، تو وہ تو اس قدر معمولی ہے کہ اسے کسی سنجیدہ اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾
”وہ تمہیں معمولی اذیت کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے؛ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے، تو وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی“۔
یہ یہودی وجود اپنے بل بوتے پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہے، کیونکہ یہ دوسروں کی حمایت کے بغیر لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جیسا کہ قادرِ مطلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾
”ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے جہاں کہیں وہ پائے جائیں، سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے عہد یا لوگوں کے عہد کے ذریعے محفوظ ہوں“۔
یہودیوں نے اللہ کے ساتھ تو اپنا ناطہ توڑ دیا ہے، اور اب ان کے پاس صرف لوگوں کا ہی سہارا باقی رہ گیا ہے، یعنی امریکہ، یورپ، اور مسلم ممالک کے حکمرانوں میں شامل ان کے وہ غدار ایجنٹ جو یہودی وجود کی وحشیانہ جارحیت کے سامنے بے بس اور خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ یہودی وجود بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا اور اس کا نام و نشان تک مٹ گیا ہوتا۔ آج اصل مسئلہ مسلم سرزمینوں پر قائم موجودہ ریاستیں اور ان کے ان حکمرانوں کا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن، کافر استعمار پسندوں کے ساتھ اتحاد کئے ہوئے ہیں۔
چنانچہ، مسلمانوں کی مصیبت ان کے حکمرانوں میں پنہاں ہے؛ ان کا کافر استعمار پسندوں کے ساتھ اتحاد کرنا، ان کے احکامات کی اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ باتوں کی بجا آوری کرنا، بجائے اس کے کہ ان حکمرانوں کی وفاداری اللہ کے لئے ہوتی، وہ اس کے قوانینِ شریعہ کو نافذ کرتے، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کرتے۔ تب اسلام اور مسلمان معزز ہوتے، اور کفر و کفار ذلیل ہوتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
”اور اس دن مؤمنین خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے، وہ جسے چاہتا ہےمدد عطا کرتا ہے اور وہ بہت غالب اور مہربان ہے“( الروم؛ 30: 4-5)
آخر میں، میرے بھائیو اور بہنو! ہم دوبارہ اس خطاب کے آغاز کی طرف لوٹتے ہیں… میں آپ کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ اس بابرکت مہینے میں ہمارے صیام (روزے) اور ہماری نمازیں اس طریقے سے قبول ہوں جو اسے اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہوں۔ میں اللہ سے یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ یہ عید اسلام اور مسلمانوں کے لئے خیر، برکت اور عظمت کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُون﴾
” اور اللہ اپنے امور پر قادر ہےلیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“ ( یوسف؛12:21)
آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔
والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا بھائی
عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
امیر حزب التحریر
یکم شوال 1447ھ
بمطابق 19 مارچ، 2026ء




