اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنگ دوسری جنگِ عظیم تھی۔ ان دنوں، اس جنگ کے فاتح فریق، 9 مئی کو بڑے پیمانے پر "یومِ فتح" کے طور پر مناتے ہیں۔ ان ممالک میں کرغزستان بھی شامل ہے، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اور اس دن کو وہاں سرکاری تعطیل بھی سمجھا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے یکم مئی 2026 کو باضابطہ طور پر اوپیک (OPEC) اور اوپیک پلس (OPEC+) اتحاد سے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ، جو پہلی نظر میں محض ایک تکنیکی معاشی قدم معلوم ہو سکتا ہے تاکہ تیل کی پیداوار کو 3.4 ملین سے بڑھا کر 5 ملین بیرل یومیہ کیا جا سکے، درحقیقت موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں رونما ہونے
یہ بات قابلِ غور ہے کہ جب بھی امریکی انتظامیہ کسی خاص طریقے میں ناکام ہوتی ہے، اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے، یا یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے نقصانات فوائد سے زیادہ ہیں، تو وہ فوراً اپنا راستہ بدل لیتی ہے۔
سینا کی آزادی کی چوالیسویں برسی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مصر ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ وہ شدید معاشی بحرانوں کا شکار ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) طوفان کے مرکز میں ہے جو خون اور آگ کے ذریعے خطے کی نئی تشکیل کر رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 16 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں مراکش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا عنوان "امریکہ-مراکش دفاعی تعاون کا روڈ میپ" ہے، اور اس کی مدت 2036 تک ہے۔ یہ دستخط امریکہ-مراکش دفاعی مشاورتی کمیٹی (DCC) کے چودہویں اجلاس کے اختتام پر ہوئے۔
ایسی دنیا میں جہاں جنگوں کا اعلان اب ہمیشہ میڈیا پلیٹ فارمز پر نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کا فیصلہ صرف جنگی طیاروں کی گھن گرج سے ہوتا ہے، ایک مختلف قسم کا تنازع جنم لے رہا ہے۔ ایک خاموش، بین السرحدی تنازع، جو جغرافیہ سے ماورا ہے، جہاں طاقت کا توازن نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے، اور بڑی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی حدود کا امتحان لیا جا رہا ہے۔