الرایہ کے متفرقات – شمارہ نمبر 592
- Published in آرٹیکل
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
الرایہ کے متفرقات – شمارہ نمبر 592
الرایہ کے متفرقات – شمارہ نمبر 592
خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور صورتحال کو ازسرنو ترتیب دینے کے لیے بین الاقوامی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ہی، مصری حکومت نے عرب مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے اور نام نہاد "خطرات" کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کی کوششوں پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی قانون کی جڑیں سترہویں صدی کے وسط تک جاتی ہیں۔ یورپی ممالک نے آپس کے تعلقات کو منظم کرنا شروع کیا اور 1648 میں 'معاہدہ ویسٹ فیلیا' پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کو قانونی حیثیت دینے کا آغاز تھا جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے ممالک کو متاثر کیا۔ اس طرح یورپ کی مسیحی ریاستوں نے اپنے درمیان عشروں سے جاری جنگیں بند کر دیں اور اپنی مشترکہ طاقت کا رخ خلافتِ عثمانیہ کی طرف موڑنے کی کوشش کی
مضيقِ ہرمز وہ واحد بحری راستہ ہے جو خلیجی عرب ممالک کو سمندر اور پھر وہاں سے پوری دنیا سے جوڑتا ہے کیونکہ عراق میں بصرہ، کویت میں برآمدی مراکز، سعودی عرب میں راس تنورہ اور جبیل کی بندرگاہوں، اور متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی برآمدی تنصیبات جیسی اہم جگہوں سے نکلنے والے جہازوں کو عمان کی خلیج اور پھر بحر ہند پہنچنے سے پہلے لازمی طور پر اسی راہداری سے گزرنا پڑتا ہے۔
امریکہ اور یہودی وجود کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ محض خلیجی خطے میں ہونے والی کوئی فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ امریکی طاقت کی حدود اور ایک ایسے عبوری دور میں جہاں عالمی طاقتوں کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، نئے علاقائی تنازعات سے نمٹنے کی عالمی نظام کی صلاحیت کا ایک پیچیدہ امتحان ہے۔
ایران کے خلاف شیطانی محور ،امریکہ اور اس کے غنڈے، یہودی وجود کی جارحیت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ یا بین الاقوامی عدالت انصاف یا کسی اور بین الاقوامی فورم پر مسلمانوں کی سرزمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ سب سے بڑے شیطان، امریکہ اور بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں
...یا یہ ایک طویل انہدام کا آغاز ہے؟
خوشنما اصطلاحات سے قطع نظر، حکومت، اقتدار اور ریاست بنیادی طور پر ایسی غالب اور بے مثال قوت کی متقاضی ہوتی ہے جس کا کوئی مدمقابل نہ ہو، تاکہ حکمران اپنے احکامات کو نافذ کر سکے