الجمعة، 20 ذو الحجة 1442| 2021/07/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنا مسلم دنیا کے موجودہ حکمرانوں کا مقصد ہے!

 

خبر: 

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' کہتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں  اور یہودی قبضے کے اندر موجود فلسطینیوں کوایک عرصے سے منتشر کردیا گیا ہوا ہے اور وہ کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔  بہر حال ، انھیں (فلسطینیوں کو) اب یروشلم اور غزہ کی پٹی، دونوں جگہ، میں مشترکہ مقصد اور آواز مل گئی ہے ، جس کے بعد حالیہ "اسرائیلی" سیکورٹی اور فوجی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار نے ذکر کیا کہ فلسطینی – اسرائیلی تنازعہ کئی نسلوں سے جاری ہے، لیکن یہ  بھی کہا کہ،"حالیہ دور ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہا ہے۔ اس صورتحال نے مغربی کنارے، غزہ اور اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں کو اس طرح سے یکجا کردیا ہے جس کی نظیر 1948 کے بعد سے نظر نہیں آتی جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا۔"

 

تبصرہ:

         مسلم سرزمین میں وقوع پزیر ہونے والا ہر سیاسی واقع مسلم دنیا کے حکمرانوں کے مجرمانہ تعاون اور مسلم امت اور اس کے مسائل کے حوالے سے مغرب کے متعصبانہ عمل کی تصدیق کرتا ہے۔  یہودی وجود ایک شاخِ نازک اور مصنوعی ریاست ہے جو کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا سامنا نہیں کرسکتی چاہے اُس کے پاس کتنا ہی اسلحہ اور افواج موجود ہوں کیونکہ کامیابی ہمیشہ اُن لوگوں کا مقدر ہوتی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے مخلص ہوتےہیں۔

 

         بارحال، یہاں کچھ لوگ ہیں جو ہمیشہ یہود اور اُن کے وجود کو بچانے کے حوالے سے پریشان رہتے ہیں۔ عرب اور مسلم دنیا کے حکمران وہ ہیں جنہوں نے اِ س وجود کے قیام میں مدد فراہم کی تھی، اور خود پر یہ ذمہ داری عائد کی تھی کہ وہ اس وجود کی حفاظت کریں گے۔ یہودی وجود نے غزہ کے لوگوں، القدس  میں یروشلم کے لوگوں اور شیخ الجرّح کے محلے پر وحشیانہ حملہ کیا لیکن یہ حکمران   تقریباً دو ہفتوں تک خاموش رہے اور فلسطین کے لوگوں کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے۔  اور جب پوری دنیا میں مسلم امت فلسطین کی مقدس سرزمین کی حمایت میں یکجا ہوگئی اور مطالبہ کرنے لگی کہ مسلم افواج کو حرکت میں لاؤ، تو پھر اِن  حکمرانوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔

 

         اِن حکمرانوں نے جنگ بندی کا مطالبہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ مسلم علاقوں میں صورتحال قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے  اور یہودی وجود کو اسلامی امت سے تحفظ فراہم کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس خطرے کا اظہار  امریکی صدر بائیڈن نے یہودی وجود کے سربراہ ، نیتن یاہو، سے فون پر بات کرتے ہوئے کیا کہ معاملات ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں۔ اس سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ فلسطین کے لوگوں کے خلاف مسلسل حملے  معاملات کو اس قدر خراب کرسکتے ہیں جس سے امریکی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔  لہٰذا مسلم دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ ، جیسا کہ ترکی، مصر، پاکستان اور دیگر ممالک، درحقیقت ایک پرانے امریکی منصوبے کی حمایت ہے جس کے تحت اس مسئلے کا حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔

 

         میڈیا نے جنگ بندی کو ایسے پیش کیا جیسا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ مسلمانوں کی افواج کا مشترکہ حرکت میں آنا ہے تا کہ یہود کے وحشیانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ لیکن جنگ بندی ، یہودی وجود کو مجبور کرنا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور فلسطین کے لیے امریکی حل کو قبول کرے اور دو ریاستوں کے قیام کو مسلمانوں  پر مسلط کرنا،  اِن تمام اقدامات کا مقصد مسلمانوں کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنا ہے۔  پوری دنیا کے مسلمان مسجد الاقصی اور فلسطین کی مقدس سرزمین کے لیے یکجا ہوگئے اور انہوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم افواج سے حرکت میں آنے کا مطالبہ کیا۔  اس کامیابی کو  دو ریاستی حل کو مسلط کر کے شکست میں تبدیل کرنا مقصود ہے جبکہ امت کے سامنے اِس حل کو ایسے پیش کیا جارہا ہے جیسے یہ امت اور فلسطین کے لوگوں کی کامیابی  اور ان کے ساتھ انصاف ہے۔

 

         حقیقت یہ ہے کہ دو ریاستوں کے قیام کا حل یہود اور اُن کے شیطانی وجود کی کامیابی ہے۔ وہ جو دو ریاستوں کے قیام کے حل کے متعلق نہیں جانتے تو وہ یہ سمجھ لیں کہ اس کے نتیجے میں فلسطین کی 80 فیصد زمین پر یہود کی قبضے کو مکمل طور پر تسلیم کرلیا جائے گا جس کو ابھی  یہودی ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے میں مقدس سرزمین کے صرف 20 فیصد رقبے پر مشتمل ایک چھوٹی سے کمزور "فلسطینی" ریاست دی جائے گی، جس کےپاس کوئی فوجی صلاحیت نہیں ہو گی اور نہ ہی وہ مکمل طور پر خودمختار ہوگی، جسے اِس وقت فلسطینی اتھارٹی کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں القدس کو بین الاقوامی حیثیت مل جائے گی اور اس طرح مسجد الاقصی کے حوالے سے شدید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ یہ واضح ہے  کہ اِس حل کو کسی بھی جانب سے پیش کیا جائے، اس کا مقصد  امت کی قربانی دے کر صرف اور صرف یہودی وجود کو طاقتور بنانا ہے۔ یقیناً یہ حل امت اور فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔

وہ جو دو ریاستوں کے قیام کو حل کے طور پر پیش کرتے ہیں ، انہوں نے شریعت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عمری معاہدے کی بھی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں جس کے مطابق یہود بیت المقد میں رہائش اختیار نہیں کرسکتے۔ یہ لوگ یہود سے لڑائی، ان کے قتل اور فلسطین کی مقدس سرزمین کی مکمل آزادی  کے حوالے سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وعدے اور رسول اللہﷺ کی بشارتوں کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ فَيَقُولُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ

"(ایک دور آئے گا جب ) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے ۔ ( اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے ) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ ” اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال ۔"(بخاری) 

   

بلال المہاجر ، پاکستان

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر ریڈیو

Last modified onاتوار, 20 جون 2021 14:36

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک