الأحد، 15 رجب 1444| 2023/02/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اسلام کا بین الاقوامی سمندری قوانین کے متعلق نقطہ نظر

 

منیب الرحمٰن

 

جب خلاء سے ہماری دنیا کی کھینچی ہوئی تصویریں آتی ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہماری دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ سمندر پر مشتمل ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ ہماری دنیا کو نیلی دنیا یعنی  Blue planetکہا جاتا ہے۔ بلاشبہ سمندر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے فائدے کے لیے بنایا ہے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر آج تک جب ہم پوری انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس سمندر سے ہم مچھلی کی صورت میں اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، اور اس سمندر پر ہماری کشتیاں تیرتی پھرتی ہیں جو ہمارا سامانِ تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتی ہیں، ہوائی جہاز کے سفر عام ہونے سے پہلے تک اسی سمندر سے لوگ دور دراز کا سفر طے کرتے تھے، اور اسی سمندر پر بحری فوج تیار کرکے مزید علاقوں کو فتح کیا جاتا تھا۔سائنس کی مدد سے ہمیں پتہ چلا کہ اس سمندر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے لیے اور بھی کئی خزانے دفن کررکھے ہیں جیسے پٹرولیم ، گیس اور معدنی ذخائر وغیرہ۔ یقیناً سمندر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔

 

﴿فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذبٰن﴾

"تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے"(سورۃ الرحمٰن)

 

جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان غنی ؓ کے دور میں پہلی بار شام کے والی امیر معاویہ کو بحری فوج تیار کرنے کا حکم ملا  جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ کی جانب پہلا لشکر روانہ کیا اوررسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق اس پر چڑھائی کی، اسی طرح امیر معاویہ کےدورخلافت  میں ہی بحری فوج کے ذریعے بحیرہ روم میں قبرص کے جزائر فتح ہوئے، اسی طرح اندلس اور سسلی کی فتح بھی بحری فوج کے ذریعے ہوئی جبکہ سندھ کی فتح میں بحری فوج نے نقل و حمل کی مدد فراہم کی[1]۔

 

بحری فوج کے ساتھ ساتھ مسلمان تاجروں نے بھی اسلامی دعوت کو پوری دنیا تک پھیلانے میں بحری راستوں کا بھرپور استعمال کیا۔ جنوبی ہند، سری لنکا ، انڈونیشیا اور ملیشیاء کے جزائر اور چین کے جنوبی علاقوں تک اسلام کی دعوت ان مسلمان تاجروں کے بدولت ہی پہنچی ۔

 

چونکہ اسلام میں نوآبادیات یعنی Colonization کا کوئی تصور موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کی مقامی آبادی کے اسلام قبول کرنے کے بعد وہاں کی حکمرانی فطری طور پر ان ہی میں سے مقامی مسلمانوں کو منتقل ہوئی اور جو عرب تاجر وہاں آباد بھی ہوئے ، وہ وہیں کے مقامی ماحول میں شریعت کے مطابق رچ بس بھی گئے اور کبھی مقامی لوگوں نے ان کو باہر کے لوگ یا استعمار کی طرح نہیں سمجھا کیونکہ اسلامی قانون تمام انسانوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔یہ اس بات سے مختلف ہے کہ جب یورپی اقوام نے امریکہ، افریقہ اور ایشیاء سمیت دنیا کے کثیر حصے کو اپنی کالونیاں بنایا  اور اپنے اور اپنی مفتوحہ اقوام کے لیے الگ الگ قوانین بنائے[2]۔

 

بہرحال ، خلفائے راشدین کے دور سے مسلمانوں نے اپنی بحری فوج کا آغاز کیا، جبکہ اموی خلافت نے روم کی بحری طاقت کو ختم کرکے  مسلمانوں کو دنیا کی واحد بحری طاقت میں تبدیل  کردیا جن کی سمندروں پر حاکمیت بحیرہ روم ، بحیرہ احمر، خلیج فارس اور بحیرہ عرب سے بحیرہ ہند تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ سلسلہ عباسی خلافت میں بھی جوں کا توں جاری رہا یہاں تک عثمانی خلافت کا دور آگیا ۔ مغرب یعنی یورپ کا مشرق یعنی ہندوستان اور چین سے تجارت کا سمندری راستہ مکمل طور پر مسلمانوں کے زیر نگین تھا ، البتہ ایک زمینی راستہ موجود تھا جس کی بدولت یورپ مسلم علاقوں سے گزرے بغیر ہندوستان اور چین سے تجارت کرپاتے تھے اور وہ راستہ قسطنطنیہ سے گرزر کر جاتا تھا۔ لیکن 1453 میں سلطان محمد فاتح کی جانب سے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یہ راستہ بھی یورپ کے لیے مفقود ہوگیا تھا ، یعنی اب یورپ مشرقی اقوام سے تجارت کرنے کے لیے مکمل طور زمینی اور سمندری راستے سے مسلمانوں کے آگے بے بس اور لاچار تھے[3]۔

 

لیکن یورپ کی خوش قسمتی تھی کہ اسی دوران اندلس  میں مسلمان پستی کا شکار تھے اور 1492 میں جب اندلس میں مسلمانوں کی آخری اتھارٹی غرناطہ کا خاتمہ ہوا تو مسلمانوں کے علمی خزانے سے فیضیاب ہوکر یورپ کو دو بڑی طاقتور ریاستیں نصیب ہوئیں، ایک اسپین اور دوسری پرتگال۔لیکن یہ ریاستیں بھی اتنی طاقتور نہیں تھی کہ کھلے سمندر میں عثمانی بحریہ کا مقابلہ کرسکیں اور اپنے لیے تجاری راستیں کھول سکیں، اس لیے ان کی بھی کوششیں متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں تھیں کہ کسی طرح اسلامی علاقوں سے گزرے بغیر ہندوستان ، چین اور مشرق بعید کی اقوام تک پہنچا جا سکے۔

 

کرسٹوفر کولمبس جو  کہ ایک اطالوی نیویگیٹر (navigator) تھا ، اس نے 1492 میں ایشیا ء کی طرف جانے والے راستے کی تلاش میں اسپین کے بادشاہ کی طرف سے سپانسر کردہ مہم کی قیادت کی۔ تاہم وہ ہندوستان پہنچنے کی بجائے امریکہ پہنچ گیا۔اس وقت تک امریکہ کو مسلمان جہاز ران اور چند دیگر اقوام دریافت کرچکے تھے اور وقتاَ فوقتاَ تجارت بھی کرتےر ہتے تھے لیکن کبھی اسے اپنی کالونی نہیں بنایا تھا[4]۔

 

بہرحال کولمبس کے بعد دیگر بحری جہازوں نے بھی امریکہ کا سفر کیا جس کے نتیجے میں اسپین اور پھر یورپ کا امریکہ میں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔ دوسری جانب پرتگال بھی متبادل راستے کی تلاش میں تھا اور ان کے نیویگیٹر  واسکو ڈی گاما نے بھی  ایک مسلمان نیویگیٹر"احمد ابن ماجد"  کی مدد سے افریقہ کے انتہائی جنوب سے چکر کاٹ کر بحیرہ ہندسے ہوتے ہوئے ہندوستان تک کا متبادل راستہ معلوم کرلیا۔واضح رہے کہ یہ راستہ بھی مسلمان جہاز رانوں کے استعمال میں پہلے سے   تھا اور مغربی افریقی اقوام اسی بحری راستے سے ہندوستان کے ساتھ تجارت کرتے تھے [5]۔بہرحال واسکو ڈی گاما کو اس راستے کے بارے میں معلوم ہونے کے نتیجے میں افریقہ کے ساحلی علاقوں میں پرتگال  اور بعد میں آنے والے وقتوں میں یورپ کے افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کی بنیاد پڑی۔

 

چونکہ اس وقت اسپین اور پرتگال یورپ کی دو بڑی سمندری طاقتیں تھیں، اسی لیے نئے راستوں کی دریافت پر اسپین اور پرتگال کے بادشاہوں میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ نئے راستوں کی تجارت اور نوآبادیات کو کون کنٹرول کرے گا ؟ پرتگال اس وقت اسپین کے مقابلے میں بڑی سمندری طاقت تھا۔ پرتگالی بادشاہ نے اپنے ہسپانوی ہم منصب کو ایک سخت خط بھیجا۔ ہسپانوی بادشاہ سمجھ گیا کہ اس کی ریاست کے پاس بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں اتنی بحری طاقت نہیں ہے کہ وہ پرتگالیوں کا مقابلہ کر سکے۔ اس لیے اسپین نے سفارتی راستہ اختیار کیا۔ دونوں یورپی طاقتیں رومن کیتھولک عیسائی تھیں۔ اسپین نے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پوپ الیگزینڈر ششم سے رابطہ کیا، ہسپانوی بادشاہ چرچ کے پسندیدہ تھے، کیونکہ وہ Reconquista کو پورا کرنے، اپنے مسلمان اور یہودی رعایا کی جبراَ مذہب تبدیلی اور  جلاوطنی کا حکم دینے کی وجہ سے عیسائی دنیا کے آنکھ کے تارے تھے۔ پوپ الیگزینڈر ششم نے انہیں "کیتھولک" کا خطاب بھی دیا تھا۔

 

4 مئی 1493 کو پوپ الیگزینڈر ششم نے مغرب کا سب سے آزمودہ ترین فارمولہ یعنی "حل وسط"  (compromise) پر عمل کرتے ہوئے بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے تقریباً درمیان میں ایک لکیر کھینچی اور فرمان جاری کیا کہ اس لائن کے مغرب میں تمام زمینیں ا سپین کی ہیں اور لائن کے مشرق کی تمام زمینیں پرتگال کی، یعنی اس نے غیر یورپی دنیا کو تقسیم کیا اور اسپین اور پرتگال کے درمیان کسی کیک کی طرح بانٹ دیا  ۔ لیکن پرتگال اس  حد بندی سے خوش نہیں تھا، پرتگالی بادشاہ نے اسپین کےبادشاہ فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ براہ ِراست مذاکرات کا آغاز کیا۔ وہ لائن کو مغرب کی طرف مزید بڑھانا چاہتا تھا تاکہ وہ زیادہ حصہ پر قبضہ جما سکے۔

 

معاہدہ ٹورڈسلاس Tordesillas:

نتیجاً جون 1494 میں، ہسپانوی قصبے (Tordesillas) کے نام پر ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس میں یہ طے کیا گیا کہ شمالی اور جنوبی لکیر کو برقرار رکھا جائے گا جو پوپ الیگزینڈرششم نے کھینچی تھی لیکن اسے مزید مغرب کی طرف 920 میل (1480 کلومیٹر) بڑھادیا گیا۔اس طرح  تمام افریقہ اور ایشیاء  پرتگال کے پاس آیا اور شمالی اور جنوبی امریکہ اسپین کے پاس۔

 

اسی کے ساتھ ویٹیکن پوپ نے اسپین اور پرتگال دونوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کالونیوں میں مقامی لوگوں کو عیسائی بنائیں۔ پوپ کے ان فرمانوں کو اسپین اور پرتگال دونوں نے اپنی نوآبادیکو قانونی حیثیت دینے کے لیے استعمال کیا یہاں تک کہ اسپین نے براعظم امریکہ پر اور پرتگال نے افریقہ اور ایشیاء پر اپنی نوآبادیکو اپنا "الہامی حق" قرار دیا۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ  یہ اس زمانے کے یورپ کا عالمی قانون تھا ، جس کا اسپین اور پرتگال دونوں پرچار کرتے تھے اور دفاع کرتے تھے کہ کوئی اس "قانون" کی خلاف ورزی نہ کرے اور امریکہ ، افریقہ اور ایشیاء پر ان دو ملکوں کے علاوہ کسی کو کالونیاں بنانے کی اجازت نہیں  اور ان سمندروں پر ان کی اجارہ داری کو قبول کیا جائے[6]۔

 

خلافت عثمانیہ جس کے لیے ظاہر سی بات ہے ان باتوں کی حیثیت نہیں تھی کیونکہ مسلمانوں کے لیے شارع صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سمندروں کو ہمارے لیے مسخر کردیا ہے ، اسی لیے ہم اپنی بحری طاقت کے بل بوتے پر سمندروں پر اپنی حاکمیت کو برقرار رکھتے ہیں اور اس کو دوام بخشتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلے مسلمان کئی صدیوں سے کرتے چلے آرہے تھے۔

 

نتیجاً افریقہ اور ہندوستان کے ساحلوں اور سمندروں پر عثمانی بحریہ اور پرتگال کے درمیان شدید بحری جنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ چونکہ اسپین کا محور امریکہ تھا جس میں خلافت عثمانیہ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے اسپین سے مڈ بھیڑ کے امکانات کم رہے سوائے اس  کے کہ بحیرہ روم میں عثمانی بحریہ اور اسپین کا آمنا سامنا وقتاَ فوقتاَ ہوتا رہا ۔ لیکن چونکہ پرتگال کا محور افریقہ اور ایشیاء تھا جس کے سمندروں پر خلافت عثمانیہ کی حاکمیت تھی، اس لیے پرتگال کے ساتھ معاملہ شدید تر رہا[7]۔

 

جب سترہویں صدی عیسوی میں نئی یورپی سمندری طاقتیں ابھریں جیسا کہ انگلینڈ، ہالینڈ اور فرانس، تو یہ پروٹسٹنٹ تھیں نہ کہ کیتھولک۔ اسی لیے پوپ والے معاہدے کو انہوں نے بھی مسترد کردیا ۔جبکہ اس دوران اسپین اور پرتگال کی طاقت بھی زوال کا شکار ہونے لگیں ، نتیجتاً کسی بھی یورپی ملک کے لیے اسپین اور پرتگال  کے زیر کنٹرول علاقوں کو اپنی نوآبادیات بنانا ممکن ہو گیا۔اسی کے ساتھ جب یورپ میں طاقت کا توازن بگڑا   تو سمندروں کے متعلق بھی نئے قوانین مرتب پانے لگے ۔ یعنی پرانی طاقتور ریاستوں نے پوپ کے فرمان جس کو وہ اپنے لیے عالمی قانون سمجھتے تھے، نئی طاقتور ریاستوں نے ان کو ختم کرکے اپنے حساب سے نئے عالمی قوانین   مرتب کرنے شروع کردیے[6]۔

 

اور اس میں سب سے زیادہ پیش پیش ہالینڈ تھا۔ ہالینڈ کے قانون دانHugo Grotius جن کو جدید عالمی قانون کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے، اس نے سب سے پہلے یہ تصور دیا کہ ساحلی ریاستوں کا ملحقہ پانیوں پر حق ہے، جس کی چوڑائی کا تعلق اس پر مؤثر کنٹرول کرنے کی صلاحیت سے ہے۔ اس کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ہالینڈ کے ایک اور قانون دان Cornelius van Bynkershoek نے Grotius کے خیال کو عملی طور پر یہ کہہ کر پیش کیا کہ اس طرح کے مؤثر کنٹرول کو ساحلی ریاست کے ہتھیاروں کی حد کے مطابق ہونا چاہئے۔ اطالوی وکیل Ferdinand Galiami اس وقت کی سب سے جدید توپ کی رینج تین سمندری میل تک طے کرتے تھے۔ پس یہ تصور عالمی قانون بن گیا اور اسے ‘Canon shot rule” کے نام سے جانا جاتا تھا۔17 ویں صدی کے آس پاس اسے علاقائی سمندر کی چوڑائی کا بین الاقوامی طور پر قبول شدہ پیمانہ تصور کیا جاتا تھا۔ لہذا "سمندروں کی آزادی" کا تصور وسیع طور پر یہ تھا کہ قومی اور ریاستی حقوق پانی کی ایک مخصوص پٹی تک محدود ہے جو کسی ملک کے ساحلی پٹی سے عام طور پر تین سمندری میل (3 میل کی حد) تک پھیلے ہوئے تھے۔قومی حدود سے باہر کے تمام پانیوں کو بین الاقوامی پانی (International water) سمجھا جائے گا، جو تمام اقوام کے لیے قابل رسائی ہوگا ، اور اس پر کسی کا بھی حق یا دعویٰ نہیں ہوگا [6]۔

 

20 ویں صدی کی شروعات میں کچھ ممالک نے مچھلی کے ذخیرے کی حفاظت کے لیے اور معدنی وسائل کو شامل کرنے اور آلودگی پر قابو پانے کے ذرائع فراہم کرنے کے لیے قومی سمندری حدود کو وسیع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ لیگ آف نیشنز نے 1930 میں The Hague میں ایک کانفرنس بلائی لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔

 

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سب سے بڑی سمندری طاقت بن کر ابھرا ، اور جیسا کہ تاریخ انسانی کااصول رہا ہے کہ ہمیشہ طاقتور ہی اصول اور قوانین بناتے ہیں جس کو وہ عالمی قانون کا نام دیتے ہیں۔ 1945 میں،امریکی صدر Harry S. Truman نے اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کسی قوم کے حق کے روایتی بین الاقوامی اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے، اس کے براعظمی جغرافیہ کے تمام قدرتی وسائل تک امریکی کنٹرول کو بڑھا دیا۔

 

دوسرے ممالک نے بھی اس حکمت عملی کو اپنانے میں جلدی کی، کچھ ممالک اپنے ماہی گیری پانیوں کو  200 سمندری میل تک لے جاتے ہیں۔جبکہ کچھ ممالک  نے اپنے قومی سمندروں کو 12 ناٹیکل میل تک پھیلا دیا۔

اس کے بعد ان تصورات کو تین قراردادوں، 1958 کی اونچے سمندروں کی جنیوا کنونشن، 1960 کی سمندروں کے قانون کی دوسری کانفرنس اور 1982 کی سمندروں کے قانون کی اقوامِ متحدہ کی کنونشن  کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی[6]۔

 

اب اگر ہم پاکستان کی طرف آئیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود بھی 200 ناٹیکل میل پر مشتمل ہے یعنی اس کے بعد بین الاقو امی سمندر شروع ہوجاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس بین الاقو امی سمندر میں جو بھی نقل و حمل ہوگی اس سے  پاکستان کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سالوں میں دو مرتبہ بھارتی آبدوز بین الاقو امی سمندر سے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہوگئی لیکن ہماری طاقتور بحریہ نے صرف انتباہدینے پر اکتفاء کیا اور ان کوبحفاظت بین الاقو امی سمندر میں واپس بھیج دیا ۔ اسی طرح ہم آئے دن خبروں میں سنتے اورپڑھتے رہتے ہیں کہ پاکستانی اور بھارتی ماہی گیر ایک دوسرے کی سمندری حدود میں داخل ہوگئے جن کو پاکستانی اور بھارتی بحریہ گرفتار کرلیتی ہے اور دونوں طرف کے غریب ماہی گیر ان نام نہاد عالمی سمندری قوانین کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور کئی کئی سال تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں[8][9]۔

 

اسی طرح 1999 میں بحرِ اوقیانوس کا واقعہ پیش آیا کہ جب پاکستانی بحریہ کے مسافر بردار طیارے کو بھارتی فضائیہ نے نشانہ بنایا اور ہمارے 16 سپاہی شہید ہوگئے، چونکہ طیارے کے ملبے کے ٹکڑے پاکستانی اور بھارتی سمندری حدود کے دونوں طرف پائے گئے تھے اس لیے دنیا نے بھارت کو مورد الزام ٹھہرانے سے گریز کیا جبکہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی روایتی بزدلی دکھاتے ہوئے زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کیا[10]۔

 

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی استعماری ممالک کی بحری افواج انہی  نام نہاد بین الاقو امی سمندرروں میں کھڑی ہوکر اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں (Aircraft carrier) سے مسلمان ممالک پر بمباری کرتی ہیں اور ہمیں لہو لہان کرتی ہیں، یہاں تک کہ ان کی بحری افواج مسلمان ممالک کی سمندری حدود سے بھی ہو کر  گذرتی ہیں جیسا کہ سوئز کینال اور آبنائے ہرمزیا  Malacca strait ۔اور یہ سب کچھ ہمارے اوپر مسلط ان "روبیضہ" حکمرانوں کی وجہ سے ہے[11]۔

 

اسی طرح اگر عالمی سطح پر دیکھیں تو چین اپنے شمالی سمندر میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کے لیے مصنوعی جزیرے  بنارہا ہے تاکہ ان کو جواز بناکر وہ اپنی سمندری حدود کو وسعت دے سکے۔ جبکہ امریکہ اور مغرب اس کو بین الاقو امی سمندر کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔اسی طرح آرکٹک سمندر میں امریکہ، کینیڈا، شمالی یورپی ممالک اور روس کے درمیان سمندری حدود کی بنیاد پر تنازعہ چلتا رہتا ہے کیونکہ وہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے ۔غرض یہ کہ 200 ناٹیکل میل کا سمندری حدود والا معاملہ اُن ممالک کے درمیان شدید پیچیدگی اور تنازعہ کا باعث بنتا ہے جو آپس میں انتہائی قریب قریب ہوں یا جن کے درمیان سمندری فاصلہ 400 میل سے کم ہو کیونکہ ایسی صورت میں دونوں ممالک اپنے 200 ناٹیکل میل سمندری حدود والے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر ایک دوسرے کے سمندروں پر اپنا دعویٰ اور حق گردانتے ہیں[12][13]۔

 

حاصل کلام یہ ہے کہ عالمی قانون یا  بین الاقوامی سمندر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ پوری انسانی تاریخ میں ایک ہی اصول چلتا رہا ہے جس کو "جس کی لاٹھی ، اس کی بھینس" کہا جاتا ہے یعنی جو طاقتور ہوتا ہے وہ ہی اصول اور قوانین بناتا ہے ۔ موجودہ دور کے تمام اصول اور قوانین امریکہ اور مغرب نے اپنی استعماری فائدوں کو مد نظر رکھ کر بنائے ہیں جن کو وہ باقی دنیا کو عالمی قانون   یعنی بین الاقوامی قوانین بنا کر اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے یہ ان کے مفاد میں بھی ہے تاکہ وہ بھی ان قوانین کو اس طرح اختیار کریں جیسے یہ ان کے قوانین ہوں ، اس کی پاسداری کریں، پرچار کریں اور اس کا دفاع کریں ، جیسے انہی میں ان کی بقا ہو۔ نتیجاً امریکہ اور مغرب نے اپنے بنائے ہوئے استعماری قوانین کو دنیا پر صرف مسلط نہیں کیا ہے بلکہ اس کو قبولیت دلوائی ہےاور باقی دنیا کو اس کی اپنائیت دلوائی ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا امریکہ اور مغرب کے استعمار کو بین الاقوامی قوانین کے نام پر دوام بخش رہی ہے ، یعنی اپنے ہاتھوں اپنی ہی پیروں میں بیڑیاں ڈال کر اپنے آپ کو غلام بنارہے ہیں اور اپنی غلامی کی قانونی حیثیت کی توثیق بھی کررہے ہیں۔

 

جس طرح زمین پر استعمار کی کھینچی ہوئی لکیریں باطل ہیں، اسی طرح استعمار کی بنائی ہوئی یہ سمندری حدود بھی باطل ہیں۔ جس طرح ویسٹ فیلیا کے تصور پر مبنی ان زمینی سرحدوں کو مقدس سمجھنا حرام ہے ویسے ہی معاہدہ ٹورڈسلاس پر مبنی ان سمندری حدود کو مقدس سمجھنا بھی حرام ہے۔جس طرح قومی ریاستوں کے تصور کا مقصد خلافت عثمانیہ کےبڑھتے ہوئے قدم کو روکنا  تھا، ویسے ہی سمندری حدود کے تعین کے تصور کے پیچھے بھی سمندروں سے عثمانی بحریہ کی حاکمیت کا خاتمہ مقصود تھا۔

 

پس مسلمانوں کے لیے یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں کہ وہ طاغوت کے بنائے ہوئے ان قوانین کو قبول کریں اور ان پر یقین رکھیں اور اپنے مسائل کے تصفیے کے لیے ان کی طرف رجوع کریں، جیسا کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے،

 

﴿اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّـهُـمْ اٰمَنُـوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوٓا اَنْ يَّكْـفُرُوْا بِهٖۖ وَيُرِيْدُ الشَّيْطَانُ اَنْ يُّضِلَّهُـمْ ضَلَالًا بَعِيْدًا ﴾

"کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس چیز پر ایمان لانے کا دعوٰی کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اسے نہ مانیں، اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور جا ڈالے"(سورۃ النساء: 60)

 

جہاں تک آنے والی ریاستِ خلافت کا تعلق ہے جس کا قیام اللہ کے اذن سے بہت قریب ہے، اس کا طرزِ عمل  اور پالیسی وہی ہوگی جو کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی تھی، جس کی بنیاد اللہ سبحان و تعالیٰ کے اس ارشاد پر مبنی ہے،

 

﴿وَاَعِدُّوْا لَـهُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّـٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِـهِـمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَـهُـمُ اللّـٰهُ يَعْلَمُهُـمْ ﴾

"اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے"(سورۃ الانفال:60)

 

پس اسلامی ریاستِ خلافت کی بحری پالیسی اسی آیت پر مبنی ہے، جس میں مسلمانوں کو عام حکم دیا جارہا ہے کہ وہ ان کافروں کے مقابلے بھر پور قوت حاصل کریں۔ اس کے لیے جدید جنگی بحری جہاز ، آبدوزیں ، طیارہ بردار جہاز تیار کیے جائیں تاکہ جس طرح اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کیا جائے، ویسے ہی اللہ کے سمندروں پر اللہ کے نظام کی حاکمیت قائم کی جائے۔ اسی طرح جیسے زمین پر جہاد و قتال کے ذریعے کفر کی اتھارٹی کو ملیامیٹ کیا جائے ویسے ہی سمندروں کو حربی کفار کو منہ توڑ جواب دیا جائے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے،

 

﴿وَقَاتِلُوْهُـمْ حَتّـٰى لَا تَكُـوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَكُـوْنَ الدِّيْنُ لِلّـٰهِ ﴾

اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے اور اللہ کا دین قائم ہو جائے(سورۃ البقرۃ: 193)

 

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاستِ خلافت اس بات کو بھی ممکن بنائے گی کہ کسی کا استحصال نہ ہو، کیونکہ ریاستِ خلافت کوئی استعماری اور نو آبادیاتی ریاست نہیں ہے۔ اسی طرح ریاستِ خلافت عالمی رواج کا بھی اس حد تک احترام کرے گی جہاں تک شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے۔ پس   چونکہ سمندر کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے  تمام انسانوں کے لیے عوامی ملکیت قرار دیا ہے ، اس لیے ریاستِ خلافت کسی کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکے گی۔ پس وہ غریب ماہی گیر جن کا تعلق حربی کفار ممالک سے بھی ہو ان کو سمندر سے رزق حاصل کرنے سے نہیں روکا جائے گا[14]۔ البتہ وہ معدنی ذخائر جیسا کہ تیل اور گیس وغیرہ جس سے وہ حربی ممالک طاقت حاصل کر سکیں ، اس کو حاصل کرنے سے ان کو ممکنہ حد تک روکا جائے گا۔ اسی طرح ریاستِ خلافت خود بھی سمندر میں سائنسی تحقیق کو فروغ دے گی اور باقی اقوام کو بھی اس سلسلے میں نہیں روکے گی۔ جہاں تک تجارتی بحری جہازوں کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ریاستِ خلافت چار طرح کا معاملہ کرے گی ،

  1. وہ تجارتی بحری جہاز جو ریاستِ خلافت کے اپنے شہریوں کے ہیں ، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ، ان کے لیے سہولیات اور آسانی فراہم کرے گی اور انسے کسی بھی قسم کا ٹیکس لینا حرام ہے۔
  2. وہ تجارتی بحری جہاز جن کا تعلق ان ممالک سے ہو جن کے ساتھہمارے اقتصادی ،تجارتیمعاہدات ہیں ، یعنی اہلِ معاہد ، ان کے ساتھ ان کے معاہدات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔
  3. وہ تجارتی جہاز جنکا تعلق استعماریممالک سے ہو، لیکن فی الحال حالتِ جنگ میں نہ ہو، ان کے متعلق ہر طرح کی احتیاط برتی جائے گی، ان کے تجارتیجہازوں کی تلاشی لی جائے گی کہ کہیں کوئی ایسا سامان تو نہیں جارہا جس سے ان کو عسکری تقویت حاصل ہورہی ہے، اور ان کےتجارتی جہازوں سے اتنا ہی ٹیکس لیا جائے گا جتنا وہ ہمارے جہازوں سے لیتے ہیں۔
  4. وہ تجارتی بحری جہاز جن کا تعلق ان ممالک سے ہو جن کے ساتھ مسلمان عملاَ حالتِ جنگ میں ہوں، ایسے تجارتی جہازوں کو ان کے تجارتی سامان سمیت ضبط کر لیا جائے گا اور ان کے تجارتی جہاز کے عملے کو قیدی بنا لیا جائے گا[15]۔

خلاصہ کلام یہ کہ  اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے اور شریعت محمدی  تمام انسانوں کے لیے قانون ہے، جس کی اتباع ہی میں ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔ پس جس طرح ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اللہ کے پیغام کو ہم تک پہنچایا ، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے تمام انسانوں تک پہنچائیں اور ان کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر اسلام کی روشنی سے منور کریں۔ اور اس کے لیے اسلام نے ہمیں جو طریقہ کار دیا ہے وہ دعوت و جہاد ہے۔ پس جس طرح قرونِ اولیٰ کے مسلمان تاجروں نے بحری راستوں کے ذریعے اسلامی  دعوت  کو  مشرقِ بعید کے جزیروں تک پہنچایا، اور جہاد کے ذریعے مغرب میں اندلس کو فتح کیا، ویسے ہی آج ہمارے لیے یہ مثالیں مشعلِ راہ ہیں کہ ہم بھی ہر ممکن ذریعے سے دینِ اسلام  کو پوری دنیا تک دعوت و جہاد کے ذریعے پھیلائیں۔اور ایسا صرف اس وقت ہی ہوگا جب اللہ کے نظام کو قائم کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کو دنیا تک پھیلانے والی ریاست موجود ہوگی کیونکہ خلیفہ کو امت اسی بنیاد پر بیعت دیتی ہے کہ وہ  اسلام کو اندرونی طور پر نافذ کرے گا اور بیرہونی طور پر پوری دنیا تک پھیلانے کے لیے دعوت و جہاد کے  طریقہ پر ہر ممکن ذرائع کو استعمال کرے گا۔

 

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں موجودہ عالمی آرڈر  کی حقیقت ، ا س کی تاریخ اور پس منظر، اور اس کے فریب کو سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ ہم وہ فکری اور سیاسی بصیرت حاصل کرسکیں جس کے ذریعے ہم آنے والی  ریاستِ خلافت کو فکری اور سیاسی طور  مضبوط کرسکیں، خلیفہ کو وزنی فکری اور  سیاسی دلائل کی بنیاد پر مشورہ دے سکیں اور اس پر امت کو قائل کرسکیں۔ خلیفہ کی ممکنہ فکری اور سیاسی غلطیوں کی نشاندہی کرسکیں تاکہ اس کی اصلاح ممکن ہو اور اس کا احتساب کرسکیں۔کیونکہ یہی وہ عوامل تھے  جن کی   خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں بتدریج پستی اور عدم موجودگی اس  کے زوال کا سبب بنیں اور یہی وہ عوامل ہوں گے جن کی موجودگی امت کے دوبارہ احیاء کا سبب بنے گی۔

 

حوالہ جات:

  1. سیرۃ الصحابہ خلفائے راشدین (شیخ شاہ معین الدین احمد ندوی)
  2. اسلامی ریاست (شیخ تقی الدین نبھانی)
  3. سلطنتِ عثمانیہ (ڈاکٹر علی محمد الصلابی)
  4. The African, and Muslim, Discovery of America – Before Columbus, Book by Dr. Abdullah Hakim Quick
  5. مسلمان جہاز ران (تابش صدیقی)
  6. Elements of Blue Economy by Vice Admiral Retd Iftikhar Ahmed Rao
  7. https://historyofislam.com/contents/onset-of-the-colonial-age/the-portuguese-devastations-in-the-indian-ocean
  8. https://www.dawn.com/news/1678075
  9. https://www.dawn.com/news/1698694
  10. 10.https://en.wikipedia.org/wiki/1999_Pakistan_Breguet_1150_Atlantic_shootdown
  11. https://maritime-executive.com/editorials/beyond-the-gulf-broadening-u-s-maritime-security-ops-in-the-mideast
  12. 12.https://www.aljazeera.com/news/2021/11/19/china-supports-maritime-militia-to-assert-south-china-sea-claim
  13. https://en.wikipedia.org/wiki/Territorial_claims_in_the_Arctic#:~:text=The%20status%20of%20certain%20portions,km))%20or%20internal%20waters.
  14. سوال و جواب:دریاؤں سے متعلق شرعی قواعد (شیخ عطاء بن خلیل ابو رشتہ)
  15. مقدمہ دستور، دفعہ نمبر:189(شیخ تقی الدین نبھانی)
Last modified onپیر, 09 جنوری 2023 06:06

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک