السبت، 12 شعبان 1447| 2026/01/31
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

عالمی منظرنامے سےآئیڈیالوجیکل اور فکری مباحثوں کی عدم موجودگی اور لیڈران کی بیان بازیوں سے اس امر کی راہ ہموارہو رہی ہے جو کہ بس آیا ہی چاہتا ہے !


(ترجمہ)

https://www.al-waie.org/archives/article/20107

الوعي میگزین – شمارہ نمبر 473

انتالیسواں سال، جمادی الآخر 1447 ہجری،

بمطابق دسمبر 2025 عیسوی

 

تاریخ کے تمام تر اوراق میں تصورات، اقدار اور آئیڈیالوجیکل مباحثہ جات ریاستوں اور رہنماؤں کی نظر میں محض کھوکھلے نعروں کی حیثیت نہیں رکھتے رہے کہ جنہیں وہ دوسروں کے سامنے اچھا تاثر دینے کے لئے استعمال کرتے رہے ہوں۔ بلکہ یہ تصورات، اقدار اور نظریاتی مباحثہ جات ریاستوں اور رہنماؤں کے لئے اس بنیاد کا کردار ادا کرتے رہے ہیں جس کے ذریعے وہ انسانیت کو اپنی جانب مائل کرتے اور اپنے گرد جمع ہونے کی دعوت دیتے تھے۔ اور جب یہ تصورات، عقائد اور رائے عامہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو یہ ان ریاستوں اور رہنماؤں کو یہ اختیار بھی دے دیتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان تصورات کو ان چند افراد پر بھی انہیں نافذ کریں جو ان کی مزاحمت کریں اور ان کو قبول کرنے یا ان کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہوں۔

 

مثال کے طور پر سرمایہ دارانہ نظام جاگیرداری اور تھیوکریسی کے دور کے بعد ایسے نظریات کے ساتھ سامنے آیا جیسے کسی قسم کی ریاستی مداخلت کے بغیر ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر شخصی آزادی، اداروں اور افراد کے درمیان آزادانہ مسابقت، ذاتی مفاد کا اصول، انفرادی اور معاشرتی مفادات کے مابین توازن اور ہم آہنگی، اور اقتصادی سرگرمیوں میں ریاست کی غیر جانبداری وغیرہ۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے لئے عالمی سطح پر یہ رائے عامہ بھی تشکیل دی کہ وہ آزادیوں کے حق میں ہے اور اس آمریت، طبقاتی نظام اور جاگیرداری کے خلاف ہے، جن کے تحت یورپ اور امریکہ کے عوام مشکلات کا شکار تھے۔ لوگوں نے اس رائے کو قبول کیا اور پرانے آمرانہ نظاموں کو گرانا شروع کر دیا، اور ان کی جگہ منتخب حکومتیں قائم کیں جن میں کسی حد تک آزادی اور ملکیت کا ایسا نظام تھا جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ انہیں انصاف فراہم کرے گا۔ بعد ازاں یہ نظریات سرحدوں سے ماورا ہو گئے، اور سرمایہ دارانہ فکر کے حامیوں کو اپنی آئیڈیالوجیکل بالادستی مسلط کرنے اور اقوام کو اس کی طرف لے جانے کے لیے طاقت کے استعمال کا جواز اور ذریعہ مل گیا۔

 

پھر سوشلسٹ نظریات ابھر کر سامنے آئے، اور ان کے بعد کمیونزم کا بھی ظہور ہوا، جو ایسےافکار لے کر آئے جو غریب، مظلوم اور کمزور عوام کو بہت بھا گئے — جبکہ یہ وہی طبقہ تھا جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی پیداکردہ تھا، اور اسی نظام کی مصیبتوں سے تنگ آ کر وہ لوگ اس نظام کے ظلم کی وجہ سے اس سے ناخوش تھے۔ پھر لوگوں اور تحریکوں نے اس یقین کے ساتھ کمیونزم کے تصور کو اپنانا شروع کیا کہ یہ انہیں سرمایہ داروں اور حکمران طبقے کے خلاف انصاف فراہم کرے گا، جنہوں نے ان کا استحصال کئے رکھا تھا اور ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا تھا۔ درحقیقت، مشرقی یورپ، روس، اور مشرق وسطیٰ میں رائے عامہ بدل گئی تھی، اور کمیونسٹ حکمران عوام کے درمیان اس بات کے لئے قبولیت حاصل کرنے لگے کہ وہ طاقت کے ذریعے اپنےافکار کو پھیلائیں، جنہیں وہ انسانیت کو بچانے کے ایک ذریعہ کے طور پر پیش کرتے تھے۔

 

تاہم، یہ فریب جلد ہی ختم ہو گیا، اور سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظام کی خامیاں اور کرپشن کھل کر ظاہر ہو گئیں۔ مغرب سرمایہ داریت کے نئے روپ یعنی جمہوریت اور شہری آزادیوں کے ساتھ واپس آ گیا، تاکہ وہ دنیا کو اپنی آئیڈیالوجی کے تحت منظم کرے اور بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں قائم کرے جو ان تصورات کو برقرار رکھیں اور انہیں فروغ دیں۔ امریکہ نے اس مشرقی بلاک کے خلاف مغربی بلاک کی قیادت کی، جس کی قیادت روس کر رہا تھا۔ بہرحال امریکہ اور مغرب چھا گئے اور انہوں نے اپنے لئے عالمی رائے عامہ اور وہ جواز بھی تیار کر لیا جو انہیں یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ دیگر ممالک اور عوام کے امور میں مداخلت کریں اور طاقت یا پابندیوں کا استعمال بھی کریں تاکہ جمہوریت اور مبینہ آزادیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اور یوں ہم اس مقام تک آن پہنچے جہاں ہم آج کھڑے ہیں، اور یہ وہ دور ہے جس کو ہم موجودہ حالات میں دیکھ  رہے ہیں اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

 

اصل نکتہ یہ ہے کہ روس نے مشرقی کمیونسٹ بلاک کی قیادت کی، جس نے مغربی بلاک کا مقابلہ کیا اور ایک مرحلے پر تو اسے تقریباً شکست دے ڈالی تھی، یا کم از کم اس کے ہم پلہ حیثیت حاصل کر لی۔ روس اس مقام تک اپنے ان آئیڈیالوجیکل بیانیے، اقدار اور افکار کے ذریعے پہنچا تھا، جنہیں اس نے انسانیت اور اپنی عوام کے تحفظ کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان افکار اور تصورات کے بغیر روس دیگر اقوام اور عوام کو اپنے گرد ہرگز جمع نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بعد جب امریکہ نے مغرب کی قیادت سنبھالی تو اس نے خود کو جمہوریت، انسانی حقوق، آزاد منڈیوں کی پالیسیوں اور آزادیوں کا علمبردار بنا کر پیش کیا۔ اور اسی بنیاد پر امریکہ نے مغربی اقوام اور ممالک کو اپنے گرد جمع کیا تاکہ کمیونسٹ خطرہ کا مقابلہ کیا جا سکے اور بالآخر اسے شکست دی جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ان مغربی اقوام اور ممالک کو صرف طاقت یا رعب سے ہی اکٹھا نہیں کیا بلکہ آئیڈیالوجیکل بیانیے، اقدار اور افکار کے ذریعے اپنے گرد مجتمع کیا۔

 

اس کے برعکس کی مثال کے طور پر، چین دنیا پر یا اس کے کسی ایک حصے پر، حتیٰ کہ کسی علاقائی خطے کی بھی قیادت نہ کر سکا اور نہ ہی کسی خطے کو اپنے مقاصد اور عزائم کی طرف لے جا سکا ہے، کیونکہ چین نے کوئی واضح اور منفرد آئیڈیالوجیکل فکر اختیار ہی نہیں کی اور نہ ہی اسے عالمی سطح پر فروغ دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ کمیونسٹ دور میں روس کے گرد گھومتا رہا، اور پھر سوویت یونین کی شکست کے بعد مغرب کی پیروی کرنے لگا، جس کے نتیجے میں سرمایہ داریت اور کمیونزم کا ایک ناکام امتزاج وجود میں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اپنے وسیع رقبے، بڑی آبادی، دولت اور حالیہ معاشی ترقی کے باوجود دنیا کی، یا حتیٰ کہ بااثر اقوام کی بھی قیادت کرنے سے قاصر رہا ہے۔

 

چنانچہ دنیا اور اقوام کی قیادت کا معاملہ اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ لیڈر اور ریاست کس حد تک اپنے افکار، تہذیب اور ایسی فکری بنیاد کے ذریعے دوسروں کو اپنے گرد جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جسے دوسرے قبول کریں یا اسے اپنا لیں۔ مسلمان ماضی میں دنیا کی قیادت کر چکے ہیں، اور اسلامی ریاست ایک ہزار برس سے زائد عرصے تک دنیا کی صفِ اول کی طاقت رہی تھی، اور یہ سب مسلمانوں کی اس نظریاتی فکر، تہذیب اور اقدار کی بدولت تھا جو ان کی تلواروں، معیشت اور عسکری قوت کے آگے بڑھنے سے پیشتر ہی اپنی جگہ بنا لیتی تھیں۔

 

اقوام اور لوگ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ نہیں ہوتے کہ جنہیں لاٹھی کے زور پر ہانک لیا جائے۔ ممکن ہے کہ آپ کچھ عرصے یا کسی مرحلے میں بعض اقوام یا ممالک کو اپنے تابع کر لیں، لیکن آپ انہیں طویل مدت تک نہ تو قیادت کے تحت رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے گرد جمع رکھ سکتے ہیں، کیونکہ جلد ہی حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور دوسرے لوگ غلامی اور لاٹھی و جبر کے شکنجے سے نکلنے کا موقع پا لیتے ہیں۔

 

دورِ حاظر میں کوئی بھی ذی شعور جو امریکی اور مغربی لیڈران کی بیان بازیوں کا مشاہدہ کر رہا ہو، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی وائٹ ہاؤس ٹیم کے بیانات کا، تو وہ یہ ادراک کر لے گا کہ دنیا اور اس کے عوام سے متعلق آئیڈیالوجیکل اور فکری بیانیہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ امریکہ اب خود کو دنیا میں آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار اور محافظ بنا کر پیش نہیں کرتا، جیسا کہ وہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے دعویٰ کرتا رہا تھا۔ اس کے برعکس، آج کل کا امریکی بیانیہ طاقت، غرور اور ذاتی مفاد پر مبنی ہے۔ اور وہ اپنے فیصلوں اور منصوبوں کو اس منطق کی بنیاد پر فروغ دیتا ہے کہ امریکہ سب سے طاقتور ہے اور دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے تاریخی اتحادی، یعنی یورپی ممالک بھی ٹرمپ کی تنقید سے محفوظ نہیں رہے، ٹرمپ نے یورپی ممالک کو کمزور و لاچار قرار دیا اور کہا کہ وہ باتوں کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ پولیٹیکو میگزین (Politico Magazine) کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے یورپی لیڈران کو کمزور اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم قرار دیا، اور کہا کہ ان کی پالیسیاں حد سے زیادہ اخلاقی درستگی اور محتاط بیانات کا شکار ہیں، جس کے باعث براعظم یورپ امیگریشن اور علاقائی تنازعات جیسے اہم مسائل کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ وہ کمزور ہیں۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ وہ حد سے زیادہ سیاسی طور پر درست بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ یورپ جانتا ہی نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا ہے‘‘۔

 

جبکہ ٹرمپ نے ترک صدر اردگان، شامی صدر احمد الشرع، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں اپنی تعریف کا اظہار کیا، اس بنیاد پر کہ وہ مضبوط رہنما ہیں۔

 

ٹرمپ نے شام میں ہونے والے اس حملے کے بعد بھی، جس میں امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، شامی صدر احمد الشرع پر اپنے مسلسل اعتماد کی تصدیق کی اور انہیں ایک مضبوط شخصیت قرار دیا۔ اسی طرح، مصر میں ہونے والی غزہ سربراہی کانفرنس سے قبل اردگان سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے اردگان کے ترجمہ نگار سے مخاطب ہو کر کہا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ شخص کتنا مظبوط آدمی ہے؟ میں اسے پسند کرتا ہوں۔ میں واقعی اسے پسند کرتا ہوں‘‘، اور ٹرمپ نے اردگان کو ایک ’’کڑے حالات کا شخص‘‘ قرار دیا۔

 

حتیٰ کہ روسی صدر پیوٹن، جنہیں بظاہر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے تنقید اور حملوں کا ہدف ہونا چاہیے تھا، انہیں بھی ٹرمپ کی جانب سے ان کی طاقت و مضبوطی کے باعث سراہا گیا۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ پیوٹن سے اس لئے متاثر ہیں کیونکہ پیوٹن ایک مضبوط حکمران ہے اور اپنے ملک پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ اور اس سابق عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی صدر عام طور پر دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں مضبوط رہنماؤں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح، ٹرمپ نے محمد بن سلمان اور قطر کے امیر کی بھی ان کی معاشی طاقت اور مالی صلاحیتوں کے باعث تعریف کی۔

 

امریکی انتظامیہ کی توجہ طاقت، مال اور معیشت پر مرکوز ہے، اور یہ وہ حقیقت ہے جسے ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ ٹیم چھپاتے بھی نہیں ہیں بلکہ یہی حقیقت ان کی تقاریر اور عملی اقدامات پر غالب نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ آئیڈیالوجی بھی جس کی بنیاد پر ٹرمپ اور اس کی نئی ٹیم ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ میگا (آئیں امریکہ کو پھر سے عظیم بنا دیں - MAGA: Make America Great Again) کا نظریہ ہے، جو ایک ایسا نعرہ ہے جو خود پسندی کی عکاسی کرتا ہے، اور ٹرمپ اور اس کے حامیوں کے معیار کے مطابق، سب سے پہلے ہر اس شخص کو مسترد کرنے کی بات کرتا ہے جو امریکی نہ ہو۔ یہ بات عملی واقعات میں بھی واضح جھلکتی ہے، خصوصاً امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنسی کے اقدامات میں، جو کہ امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی (Homeland Security) کا ایک ذیلی ادارہ ہے، اور جو ایک مقامی سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں بدنام ہو چکا ہے۔

 

دنیابھر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ سرکردہ ریاست کے مؤقف اور طرزِ قیادت پر مسلسل نظر رکھے اور اس کا جائزہ لیتی رہے۔ آج امریکہ اور اس کے اقدامات، ان اقدار، اصولوں اور آئیڈیالوجیکل بیانیے سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے جنہوں نے امریکہ کو عالمی طاقت ہونے کی چوٹی تک پہنچا دیا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اقوام اور لوگ امریکہ اور اس کی قیادت سے دور ہوتے جائیں گے، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ صف بندی کرنے کے بجائے متبادل راستے اور نئی سمتیں اختیار کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ بات امریکہ پر بھی صادق آتی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یورپ کے ان ممالک اور دیگر بڑی طاقتوں پر بھی، جو ابھی تک امریکہ کی عالمی قیادت کی سطح تک بھی نہیں پہنچ سکیں۔ وہ امریکہ اور اس کے لیڈران کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور اور بدتر پوزیشن میں ہیں۔

 

وہ یورپی ممالک، جو امریکی قیادت اور مغربی فکر سے سب سے زیادہ ہم آہنگ ہیں، انہوں نے آہستہ آہستہ دفاعی پالیسی، اقتصادی اور عالمی امور میں سیاسی موقف کے حوالے سے امریکہ سے اپنی راہیں الگ کرنا شروع کر دی ہیں۔ تاہم، اپنی کمزوری کے باعث، وہ اب تک اپنے آپ کو بڑی حد تک الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، لیکن بہرحال یہ صرف کچھ وقت کی ہی بات ہے۔ یہی حقیقت لاطینی امریکہ، چین، بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ان میں سے ہر ملک اپنی طاقت اور حالات کے مطابق خود کو آزاد کرنے اور عارضی متبادل کی کوشش کر رہا ہے، یہاں تک کہ ایک نئی عالمی قیادت سامنے آئے جو ایسی اقدار اور افکار کے ساتھ دنیا کی رہنمائی کرے جو لوگوں کو متحد کرے اور ریاستوں کو اپنی طرف راغب کرے۔

 

بلا شبہ، موجودہ دور کے ممکنہ اور متوقع حالات میں واحد امیدوار، جلد آنے والی اسلامی ریاست ہی ہے۔ اسلامی ریاست ہی واقعی عالمی قیادت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اہل ہے، اور اپنی آئیڈیالوجی اور اقدار کے ذریعے اقوام کو اپنی طرف راغب کر سکتی ہے، جن کی دنیا کو شدید ضرورت ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ کئی نسلیں سرمایہ داریت اور سوشلسٹ نظام کے ظلم و ستم کا شکار رہی ہیں۔ اگر مغرب، جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، اسی طرح اپنے آئیڈیالوجیکل بیانیے اور اصولوں و اقدار کی زبان کو ترک کرتا رہا، جو کہ بہرحال صاف ممکن بھی نظر آتا ہے، تو اس سے مغرب کے زوال کی رفتار بڑھ جائے گی اور اسلام کے عروج اور اس کے دوبارہ اقتدار اور قیادت کے سامنے  مغرب کی گراوٹ اور کمزوری تیز ہو جائے گی۔ دورِ حاظر میں دنیا میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہے: یعنی موجودہ قیادتوں کا خاتمہ، جو خود بھی ناکام ہو چکی ہیں اور اپنے عوام اور دنیا کو دینے کے لئے بھی ان کے پاس اب کچھ نہیں رہا، اور ایک نئی عالمی قیادت کا سامنے آنا، جو دنیا کی رہنمائی کرے گی اور جس کے گرد اقوام جمع ہوں گی۔ جب ہم اسلام کو دنیا کے لیے ایک تہذیبی اور قیادتی متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو اس سے مراد ایسی تہذیب اور قیادت ہے جس کی ایک طویل تاریخ رقم کردہ ہے، ایک بھرپور ورثہ ہے، اور ایک ثابت شدہ ریکارڈ ہے جسے انسانیت پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ اور یہ معاملہ اب بس آیا ہی چاہتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا،

﴿وَتِلۡكَ ٱلۡأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ ٱلنَّاسِ

’’ ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں‘‘۔  ]آل عمران؛ 3:140[

 

اور مزید ارشاد فرمایا،

﴿إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ

’’بیشک زمین اللہ ہی کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے، اس کاوارث بنادے ۔ اور بہترین انجام متقی لوگوں کے لئے ہے‘‘۔] الاعراف؛ 7:128[

 

 

 

Last modified onجمعہ, 30 جنوری 2026 19:48

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک