الخميس، 24 شعبان 1447| 2026/02/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پاکستان میں بلوچستان کی بغاوت: جب مغلوں کے اسباق اور مسلم ممالک کی نقشہ کشی کا امریکی منصوبہ یکجا ہوتے ہیں

 

تحریر: پروفیسر عبد المجید بھٹی

(ترجمہ)

 

جنوری کے آخر اور فروری 2026 کے اوائل میں، بلوچستان لبریشن آرمی کے جنگجوؤں نے کوئٹہ، نوشکی، گوادر اور دیگر علاقوں میں منظم حملے کیے، جن میں سیکورٹی تنصیبات، شاہراہوں اور مزدوروں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً چالیس گھنٹوں کی لڑائی کے بعد، پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ 145 جنگجو، 31 شہری اور 17 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ کئی سالوں میں ہونے والے سب سے زیادہ خونریز واقعات میں سے ایک تھا۔

 

جو چیز ایک کم شدت کی بغاوت نظر آتی ہے، وہ تیزی سے ایک ایسی جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) جنگ میں بدل رہی ہے جو شام سے لے کر بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں چین، روس، بھارت اور یہودی وجود سبھی اس منظر نامے کا حصہ نظر آتے ہیں۔ یہ سارا کھیل مسلم ممالک کی دوبارہ تشکیل کے حوالے سے امریکہ کے اس بڑے عزائم کے گرد گھومتا ہے جس کا مقصد یہودی وجود اور بھارت کو مضبوط کرنا ہے، اور ساتھ ہی چین اور روس کا مقابلہ کرنا ہے۔ وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے بیانات میں، ریٹائرڈ امریکی جنرل ویزلی کلارک نے بتایا کہ اس نے 11 ستمبر کے واقعات کے بعد پینٹاگون کی ایک یادداشت دیکھی تھی جس میں پانچ سالوں کے اندر سات ممالک کی حکومتیں گرانے کے منصوبے کا ذکر تھا: جن میں عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور آخر میں ایران شامل تھا۔ اب دو دہائیاں گزرنے کے بعد، واشنگٹن ایران کی "بلقان سازی" یعنی اسے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، چاہے اس کے لیے اسے اس نظام کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے جس نے خمینی انقلاب کے بعد سے وفاداری کے ساتھ اس کے مفادات کی خدمت کی ہے، تاکہ نئے اسٹریٹجک اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

 

اسی طرح 2006 میں، ریٹائرڈ امریکی لیفٹیننٹ کرنل رالف پیٹرز نے اپنا نقشہ "خونی حدود" (Blood Borders) شائع کیا، جس میں اس نے بڑی اور کثیر النسلی ریاستوں کو نسلی اور فرقہ وارانہ طور پر ہم آہنگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر کے ایک "بہتر مشرق وسطیٰ" کی تصویر کشی کی تھی۔

 

ایران پر امریکہ کا موجودہ دباؤ اور بلوچستان میں جاری بدامنی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ واشنگٹن موجودہ اقتدار کے ڈھانچوں کو توڑ کر اور ان کی جگہ نئی ریاستیں بنا کر پرانی استعماری سرحدوں کو ازسرنو ترتیب دینے کے اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی ماہرین کے نقطہ نظر سے، تشویش صرف ایران کے ایٹمی پروگرام یا پاکستان کی کمزوری تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس امکان تک پھیلی ہوئی ہے کہ یہ دونوں ممالک چین کے ساتھ مل کر توانائی اور تجارت کا ایک ایسا مربوط محور بنا سکتے ہیں جو خلیج سے لے کر مشرقی ترکستان تک پھیلا ہوا ہو۔ ایک مستحکم ایران چین کو بڑی مقدار میں تیل اور گیس فروخت کرے گا، اور ایک فعال پاکستان ان وسائل کو 'سی پیک' (CPEC) منصوبے کی پائپ لائنوں اور بندرگاہوں کے ذریعے جوڑے گا، جس سے چین کو ایک ایسا زمینی راستہ مل جائے گا جو امریکی تسلط کے حامل سمندری راستوں کا متبادل بنے گا۔ اس کے برعکس، ایک بکھرا ہوا ایران اور بغاوت میں گھرا ہوا پاکستان چین کے لیے توانائی کی ترسیل کے ناقابل بھروسہ راستے ثابت ہوں گے، جو براہِ راست "بیلٹ اینڈ روڈ" اقدام کے مرکز پر ضرب لگائیں گے۔

 

وینزویلا میں میڈورو کی حکومت ختم کرنے کی امریکی کوششوں اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے ساتھ ساتھ، بلوچستان کی بغاوت امریکی عظیم  حکمت عملی (گرینڈ اسٹریٹجی) کے اہم پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔ وینزویلا کے تیل پر امریکہ کا غلبہ اور گرین لینڈ کے نایاب عناصر و حیاتیاتی معدنیات پر اجارہ داری امریکی براعظم میں چین کے وسائل اور توانائی کی سپلائی لائنوں کو کاٹ کر رکھ دے گی۔ مزید برآں، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے درمیان نئے حفاظتی روابط قائم کر کے امریکہ آرکٹک میں چین اور روس کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے اہم چوک پوائنٹس (Choke Points) بنا رہا ہے، جس سے مغربی نصف کرہ میں امریکی قلعہ بندی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

 

اس میں ایک روسی پہلو بھی شامل ہے۔ ایران کو کمزور کرنا اور پاکستان کو افراتفری اور بدامنی میں دھکیلنا روس کے جنوبی حصے کو، جو قفقاز سے وسطی ایشیا اور پھر خلیج تک پھیلا ہوا ہے—غیر یقینی صورتحال کے سمندر میں بدل دے گا۔ یہ افراتفری تیزی سے پھیل کر ترکی تک پہنچ سکتی ہے اور ان آزادی کی تحریکوں کو تقویت دے سکتی ہے جو کرد، بلوچ اور دیگر ریاستوں کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ خوفناک منظرنامہ کریملن کو اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ جنوب میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے اپنی فوجیں یوکرینی محاذ سے واپس بلا لے، جو نیٹو کو کنٹرول حاصل کرنے اور امریکہ کی شرائط پر جنگ بندی مسلط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

 

اس امریکی حکمت عملی کا ایک اور اہم حصہ وہ پرسکون مثلث ہے جو یہودی وجود، خلیجی ممالک اور بھارت کو آپس میں جوڑتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران یہودی وجود کے کچھ خلیجی ممالک اور بھارت کے ساتھ تعلقات دبے چھپے رابطوں سے بدل کر اب علانیہ طور پر سیکورٹی، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کی شراکت داریوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ابھرتے ہوئے منصوبے، جیسے کہ "بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری"، بظاہر تو باہمی رابطے کے منصوبوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت یہ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ" اقدام کے جزوی متبادل ہیں۔ یہودی وجود کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا بڑا سیکورٹی بازو بنا کر اور بھارت کو یوریشیا میں چین کے خلاف توازن پیدا کرنے والی طاقت کے طور پر ابھار کر، امریکہ ان اہم جغرافیائی میدانوں پر اپنا طویل مدتی کنٹرول مضبوط کر رہا ہے۔

 

جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، تو وہ جغرافیائی سیاست کی اس 'ری انجینئرنگ' (ازسرِ نو ترتیب) کو اس لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ چین کو ڈالر پر مبنی موجودہ مالیاتی نظام سے مکمل طور پر علیحدہ ہونے سے روکا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بین الاقوامی تجارتی لین دین 'سوئفٹ' (SWIFT) نظام کے ذریعے ہی جاری رہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ کا مقصد خام مال پر اپنے غلبے ، یعنی وینزویلا کے تیل اور مغربی نصف کرہ کے وسائل کو محفوظ بنا کر، چین کے ان نایاب معدنیات کے مستحکم ذخائر کے ساتھ سودا بازی کرنا ہے جو امریکی صنعت اور فوج کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاکہ اس دوران امریکہ ان معدنیات کی اپنی مقامی پیداوار کا شعبہ دوبارہ بحال کر سکے۔

 

اسی سٹریٹیجک نقطہ نظر سے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے بگل بج رہے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ پاک-ایران سرحد کے دونوں اطراف نام نہاد 'بلوچ مزاحمت' کی علانیہ حمایت بھی کی جا رہی ہے۔ اب بعض قدامت پسند حلقے ایران کو مکمل طور پر ختم کرنے کے خیال کی تائید کر رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے آٹھ صدیوں قبل مغلوں نے کیا تھا۔ ایک ایسی مکمل تباہی جو کچھ باقی نہ چھوڑے۔ اس وقت سلجوق، خوارزم شاہی اور دہلی کے سلاطین اپنے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہے تھے، چنانچہ ان کی تقسیم نے مغلوں کو اس قابل بنا دیا کہ وہ خوارزم شاہیوں کا خاتمہ کریں، سلجوقوں کو مغلوب کریں، بغداد کو لوٹیں اور سلطنتِ دہلی کو ہڈیوں تک کمزور کر دیں۔

 

اور آج، کیا ترکی، ایران اور پاکستان کے حکمران وہی غلطی دہرائیں گے، اور تاریخ کے بے رحم فیصلے کا جدید ورژن خود دعوت دے کر بلائیں گے، اور اپنے عوام کو نئی 'امریکی-یہودی-بھارتی' قید گاہوں میں جکڑ دیں گے؟!

 

 

 

Last modified onبدھ, 11 فروری 2026 20:42

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک