الأحد، 16 ذو القعدة 1447| 2026/05/03
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

امریکہ اور زوال کا سفر

 

 

تحریر: شیخ عدنان مزیان

 

(ترجمہ)

 

جو شخص بھی جدید اقوام کی رفتار کا مشاہدہ کرنے کا ملکہ رکھتا ہو، اور عروج و زوال کے اسباب پر ماہرانہ نظر رکھتا ہو، وہ اس نازک مرحلے کو بخوبی سمجھ لے گا جس سے امریکہ اس وقت گزر رہا ہے۔ دہائیوں سے وہ زوال کی جانب گامزن ہے، باوجود اس کے کہ وہ چوٹی کے بے مثال مقام پر فائز ہے۔ اس کا مسلسل غلبہ بالادستی، ثقافتی اور مادی قیادت کی سیڑھی پر کسی جاری چڑھائی کا مرہونِ منت نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ فی الوقت کوئی ایسا مضبوط حریف موجود نہیں ہے جو اسے اس چوٹی سے بے دخل کر سکے۔

 

اس کے زوال کی وجوہات بحرانوں کے انبار اور ان کے حل میں اس کی بدترین ناکامی میں پنہاں ہیں، جس کے ساتھ ساتھ اصلاح کے لیے اپنائے گئے بے ترتیب اور غیر مستحکم طریقے بھی شامل ہیں۔ چونکہ خلا کا کوئی وجود ممکن نہیں، اس لیے اس طاقتور ملک کو درپیش چیلنج میں مزید شدت اس لیے آ رہی ہے کہ دنیا بھر میں اس کے دشمن اسے گرانے اور اس کی بالادستی کو ختم کرنے کے طریقے سرگرمی سے تلاش کر رہے ہیں۔

 

جہاں تک بحرانوں کا تعلق ہے، بہت سے مبصرین نے ان پر بحث کی ہے، جن میں سے اہم ترین کو درج ذیل نکات میں نمایاں کیا جا سکتا ہے:

 

نظریاتی اور تہذیبی اقدار کا بحران:

 

امریکہ نے خود کو دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر پیش کیا، جو آمریت، ظلم اور پسماندگی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ اس نے خود کو آزاد سرمایہ دارانہ معیشت کے قائد کے طور پر بھی پیش کیا، جو ہر کسی کو سرمایہ کاری، مقابلے اور خوشحالی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، یہ جھوٹ اس لالچی اور استعماری سرمایہ دارانہ نظریے کی حقیقت کے سامنے جلد ہی چکنا چور ہو گیا، جو تمام نام نہاد اقدار اور حقوق پر صرف دولت مندوں کے مادی فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا ناگزیر نتیجہ دنیا کی اقوام کے ساتھ ظلم، لوٹ مار اور استعمار کے ذریعے مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ کی درندگی کی شکل میں سامنے آیا۔ اس جھوٹ کا شعور خود مغربی عوام تک بھی پھیل گیا، جو خود لوٹ مار، جبر اور استبداد کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام پر ان کا ایمان ختم ہو گیا اور وہ الجھن اور متبادل کی تلاش کے دور میں داخل ہو گئے۔

 

مالی اور معاشی بحران:

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی پالیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بڑے مالیاتی بلبلے نے، جو کہ فرضی  سود پر مبنی معیشت اور سونے یا حقیقی اشیاء کے پشت پناہ کے بغیر ڈالروں کی چھپائی، اور ساتھ ہی بے دریغ اخراجات اور لامحدود قرضوں کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے، صفِ اول کے معاشی ماہرین کو اس بلبلے کے جلد پھٹنے اور امریکی معیشت کے ایسے تاریخی خاتمے کی وارننگ دینے پر مجبور کر دیا ہے جس کے سامنے گزشتہ صدی کا 'عظیم بحران' (Great Depression) ایک معمولی واقعہ معلوم ہوگا۔ امریکہ اب مالیاتی افراطِ زر اور معاشی جمود کو روکنے کے قابل نہیں رہا، سوائے ٹریژری بانڈز پر سود کی شرح کو اوپر نیچے کرنے کی ناکام کوششوں کے، یا دوسری قوموں سے اربوں ڈالر لوٹنے اور جگہ جگہ جنگیں چھیڑ کر اسلحے کی صنعت کو ایندھن فراہم کرنے کے۔ حقیقت میں یہ کوئی بنیادی حل نہیں ہے بلکہ صرف نئے مسائل کی طرف فرار ہے جو پچھلے بحرانوں کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ لہٰذا، یہ توقع کی جاتی ہے کہ امریکی معیشت اچانک بیٹھ جائے گی، اور امریکی عوام خود کو دیوالیہ یا دیوالیہ ہونے کے قریب پائیں گے، جب وہ وہم ختم ہو جائے گا جس میں وہ بینک بکسوں اور اسٹاک ایکسچینج کے جدولوں میں جمع ڈیجیٹل نمبروں کی بنیاد پر جی رہے تھے۔

 

اندرونی اور بیرونی سیاسی بحران:

 

امریکہ اس وقت اپنے مختلف مقتدر حلقوں کے درمیان شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے، جہاں متعدد مسائل پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ان میں سفید فاموں کی برتری (white supremacy) کا نظریہ شامل ہے، جو امریکہ کو دنیا بھر سے آنے والے رنگدار تارکین وطن کی وجہ سے ایک وجودی خطرے کا سامنا کرتے ہوئے دیکھتا ہے؛ لبرل آزادیوں، صنف (gender)، ہم جنسی پرستی اور جنس کی تبدیلی سے متعلق جاری بحران؛ یہودی وجود کی بربریت کی حمایت پر پیدا ہونے والا شدید اختلاف کا نیا بحران؛ ریاستہائے متحدہ کے اندر امیر ریاستوں میں وفاقی یونین سے آزادی کی بڑھتی ہوئی خواہش؛ اور ملک کو چلانے کے طریقے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر تنازعہ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل ایک قریب الوقوع خانہ جنگی، یا کم از کم انقلابات اور بے چینی کی پیش گوئی کرتے ہیں جو داخلی صورتحال کو غیر مستحکم کر دیں گے۔

 

خارجہ پالیسی کے حوالے سے، موجودہ امریکی انتظامیہ نے جان بوجھ کر تمام ممالک کے خلاف  اَن سنا متکبرانہ اور تحقیر آمیز رویہ اپنا کر دنیا بھر میں خود کو اتحادیوں کے بغیر تنہا کر لیا ہے۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس نے دوست ممالک پر حملہ کرنے، طاقت کے ذریعے ان کے علاقوں پر قبضہ کرنے اور انہیں ضم کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، اور عالمی سطح پر تیل، گیس اور توانائی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا کھلم کھلا اظہار کیا ہے تاکہ ان ممالک پر دباؤ ڈالا جا سکے جو اس کے غیر معقول اور ناقابلِ پیش گوئی مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔ نتیجے کے طور پر، امریکہ ایک ناپسندیدہ ملک بن چکا ہے، اور اب تمام ممالک اس متکبر اور غیر مستحکم وجود پر اعتماد کھونے کے بعد تعاون اور اتحاد کے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔

 

حریفوں اور مقابلوں کو قابو کرنے میں ناکامی کا بحران:

 

امریکہ چین کی صنعتی، سائنسی، معاشی، فوجی اور سیاسی ترقی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ چین واقعی کئی شعبوں میں قائدانہ حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ اگر چین امریکہ کو دنیا کی صفِ اول کی طاقت کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لے، تو وہ آج ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی یہ صلاحیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں، امریکہ روس کو توڑنے میں بھی ناکام رہا ہے، باوجود اس کے کہ اس نے یوکرین کا جال بچھایا جو جلد ہی خود اس کے اور یورپ کے لیے الٹا پڑ سکتا ہے۔ اس نے مسلم ممالک کی ان بعض حکومتوں کی وفاداری بھی کھونا شروع کر دی ہے جو کبھی اس کے مفادات کی خدمت کرتی تھیں اور وہاں اس کی مرضی نافذ کرتی تھیں۔

 

امریکہ جن اہم ترین کاموں میں ناکام رہا، ان میں سے ایک "اسلامی منصوبے" اور جسے "سیاسی اسلام" کہا جاتا ہے، کا خاتمہ تھا۔ باوجود اس کے کہ اس کے خلاف ہر سطح پر مسلسل حملے کیے گئے، خاص طور پر عوام میں امریکہ اور مغرب کی دشمنی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شعور، اسلامی اتحاد کی ضرورت، اور شریعت کی حکمرانی اور مکمل اسلامی ریاست یعنی "خلافت" کی طرف واپسی کے ادراک کے ساتھ۔ اس منصوبے کے لیے کام کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اسلامی دعوت کے میدان میں کام کرنے والوں کے درمیان خلافت کے تصور کے پھیلاؤ نے امریکہ اور مجموعی طور پر مغربی تہذیب کے لیے سب سے خطرناک دشمن کے اچانک ابھرنے کی نوید سنا دی ہے۔

 

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا بحران:

 

آخری بات جو اہمیت میں ذرا بھی کم نہیں ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ایران اور خطے میں اس کے حلیفوں کے ساتھ ایک تنازعے میں پھنس چکا ہے۔ ایک ایسی طاقت جس کا رعب دوسروں کو کسی کارروائی سے روکتا تھا، امریکہ کا وہ وقار اور تشخص اب خاک میں مل چکا ہے۔ وہ ایران کی حکومت کو اندر سے گرانے میں ناکام رہا، اور اس نے ان مخالفین کی ہمدردی بھی کھو دی جو حکومت کی مخالفت کے باوجود امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف دشمنی رکھتے تھے؛ ان مخالفین نے امریکہ اور صیہونی ریاست پر ملک میں قتل و غارت اور تباہی پھیلانے کا الزام لگایا، جبکہ امریکہ نے کھلے عام ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں بھی ناکام رہا، یہ وہ مقصد تھا جس کے بارے میں ٹرمپ نے ابتدائی دنوں میں خود کو اس وہم میں مبتلا کر رکھا تھا کہ وہ اسے حاصل کر لے گا۔ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے امریکہ کے لیے ذلت آمیز شرائط کے بغیر جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ اب جنگ جاری رکھنے کا مطلب امریکی میزائل دشمن دفاعی صلاحیتوں میں مزید کمی، خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی مزید تباہی، یہودی وجود کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان، اور جنوبی لبنان میں یہودی فوج کی قوت میں مسلسل کمی ہے۔

 

اگر ٹرمپ زمینی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اسے بھاری جانی نقصان کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ اس کے پاس اب واحد راستہ غیر روایتی ہتھیاروں کا سہارا لینا بچا ہے تاکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد جاپان کے ہتھیار ڈالنے جیسا منظر نامہ مسلط کیا جا سکے، لیکن یہ اقدام مکمل طور پر الٹا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی ایٹمی جنگ کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ مزید برآں، اس کے بعد بھی پاسدارانِ انقلاب کے ہتھیار ڈالنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس، پورا خطہ امریکہ اور اس کے لاڈلے پالے ہوئے وجود، یعنی یہودی وجود کے خلاف آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

 

مختصر یہ کہ، امریکہ آج جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ اس کے زوال کی رفتار کو تیز کر رہا ہے، تاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم سے عنقریب قائم ہونے والی خلافت اسے آخری اور مہلک ضرب لگا سکے۔

 

حزب التحریر  کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onہفتہ, 02 مئی 2026 02:04

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک