الأحد، 16 ذو القعدة 1447| 2026/05/03
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

چین اور آبنائے ہرمز کا بحران:  مضطرب بین الاقوامی نظام میں خاموشی سے ابھرنا

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ)

 

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے بحران کے ساتھ پیدا ہونے والے جغرافیائی و سیاسی (geopolitical) ہیجان کے دوران، چین ایک ایسے کردار کے طور پر ابھرا جو براہِ راست تصادم کی منطق سے ہٹ کر، توازن کو بگاڑنے کے بجائے اسے سنبھالنے کی ایک پرسکون حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ جب روایتی طاقتیں فوجی اور سیکیورٹی کشیدگی کو مینیج کرنے میں مصروف تھیں، چین ایک مختلف پوزیشن میں نظر آیا: یعنی ایک ایسا ثالث جو تنازع میں الجھے بغیر تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

اسی تناظر میں، چین نے ایران کے بحران میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ ایک بین الاقوامی ثالث کے طور پر اپنے کردار کو مستحکم کر سکے۔ اس کے وزیر خارجہ، وانگ ای نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ گہرے رابطوں کے ایک سلسلے کی قیادت کی، اور ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مشترکہ اقدام پیش کیا، جس نے ایران کو کشیدگی سے نکلنے کا ایک سفارتی راستہ فراہم کیا۔

 

چینی حکام کے مطابق، وانگ ای نے ان کوششوں کے حصے کے طور پر بین الاقوامی عہدیداروں کے ساتھ تقریباً چھبیس ٹیلی فون گفتگو کیں، جبکہ 31 مارچ کو چین-پاکستان منصوبے میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو ایک اہم بین الاقوامی راہداری کے طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری طرف، امریکی حکام کا خیال تھا کہ بیجنگ کے ایک سٹریٹیجک شراکت دار اور توانائی کے بڑے درآمد کنندہ کے طور پر ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی روشنی میں، اس اقدام نے ایران کو سفارتی جوڑ توڑ کے لیے وسیع تر گنجائش فراہم کی ہے (العربیہ، 10 اپریل 2026

 

یہ اقدامات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ بیجنگ خود کو ایک ذمہ دار قوت کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے ایک کثیر الجہتی سفارتی راستے پر گامزن ہے جو بین الاقوامی بحرانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سب کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی آئندہ ملاقات سے پہلے ہو رہا ہے، جو چینی نقل و حرکت کو عالمی سطح پر مذاکرات کی ایک نئی جہت عطا کرے گا۔ یورپی حکومتوں کے بیانات نے بھی، جن میں سپین کا موقف بھی شامل ہے، اس بات کی تصدیق کی کہ "جنگ روکنے اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی بحالی کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنے میں چینی کردار اہم ہے۔" ایسا لگتا ہے کہ سپین ان نمایاں ترین یورپی ممالک میں سے ایک ہے جو تجارت کو وسعت دینے اور چین کے ساتھ ایک سٹریٹیجک اتحادی کے طور پر پیش آنے کے حامی ہیں، نہ کہ اسے ایک معاشی اور جغرافیائی و سیاسی حریف کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ ٹرمپ کا نظریہ ہے۔(رائٹرز نے 14 اپریل 2026 کو رپورٹ کیا)

 

اس موجودگی کو ایک گہری ساختی حقیقت سے الگ نہیں کیا جا سکتا: وہ یہ کہ چین اب ان مادی صلاحیتوں کا حامل ہے جو اسے دنیا کی ایک بڑی طاقت بننے کا اہل بناتی ہیں۔ تاہم، یہ تبدیلی ابھی تک ایک ٹکرانے والی قوت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوئی، بلکہ اس کی بجائے معاشی اور سفارتی اثر و رسوخ کی صورت میں سامنے آئی ہے، جو روایتی طاقتوں کے چھوڑے ہوئے خلاؤں میں خاموشی سے پھیل رہا ہے۔

 

یہ متحرک صورتحال چینی حکمتِ عملی میں ایران کے مقام سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ بیجنگ اور تہران کے درمیان تعلقات "بیلٹ اینڈ روڈ" (Belt and Road) اقدام کے ستونوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایران وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک جغرافیائی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور توانائی و تجارت کے لیے ایک اہم راہداری ہے، جو براہِ راست سٹریٹیجک رکاوٹوں (strategic bottlenecks) پر غلبہ حاصل کرنے کے اس نظریے سے ٹکراتا ہے جسے امریکہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کے حصے کے طور پر اپنائے ہوئے ہے۔

 

یہاں بنیادی تضاد سامنے آتا ہے: چین اس بحران میں ایک ٹکرانے والی قوت کے طور پر نہیں، بلکہ ایک انتظامی قوت کے طور پر داخل ہوا۔ اس نے فوجی طور پر طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے خود کو اس کے مطابق ڈھالنے اور اسے سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ طاقت کے فلسفے میں فرق کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ ایک ماڈل کی دوسرے پر حتمی برتری کی۔

 

امریکہ، جس نے دہائیوں سے فوجی موجودگی اور بزورِ قوت اہم راہداریوں کو محفوظ بنا کر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے، اب بھی ٹھوس دفاعی ہتھیاروں اور وسیع تر اتحادی نیٹ ورکس پر بھروسہ کرتا ہے۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ معاملہ صرف جنگی جہازوں اور طیاروں سے حل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی نیٹو ممالک کو تنازعات میں گھسیٹ کر اور ایسی جنگ کی قیمت ادا کر کے جو انہوں نے شروع نہیں کی تھی۔ دوسری طرف، چین ایک مختلف ماڈل کی آزمائش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو ٹکراؤ کے بجائے اقتصادی باہمی ربط، باہمی انحصار، اور ثالثی کے ذریعے بحران کے انتظام پر مبنی ہے؛ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس نے جبوتی میں باب المندب کے قریب ایک امریکی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر اپنا فوجی اڈہ قائم کر لیا ہے۔

 

لہٰذا، بیجنگ عملی استحکام کی منطق کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، یعنی ایک کم از کم توازن برقرار رکھنا جس سے توانائی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہ سکے، اور ایسی براہ راست فوجی وابستگیوں میں پڑے بغیر جو اسے امریکہ کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی صورتحال میں لا کھڑا کر سکیں۔ اس طرزِ عمل نے چین کے امیج کو مختلف فریقین کے لیے ایک قابلِ قبول قوت کے طور پر مضبوط کرنے میں مدد دی۔ اس نے پہلے اپنے جہازوں کے گزرنے کو یقینی بنایا، پھر خود کو ایک توازن برقرار رکھنے والے کے طور پر پیش کیا نہ کہ تنازع کے ایک فریق کے طور پر، کیونکہ اس نے اپنے وزیر خارجہ وانگ ای کے ذریعے یہ موقف اختیار کیا کہ ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں ہے (رائٹرز، 13 اپریل 2026

 

تاہم، آبنائے ہرمز کے بحران کے اثرات چین کے براہ راست رویے سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے 6 اپریل 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، بین الاقوامی نظام میں طاقت کی پیمائش اب صرف فوجوں یا معیشتوں کے حجم سے نہیں کی جاتی، بلکہ سٹریٹجک رکاوٹوں (strategic chokepoints)، خاص طور پر سمندری راستوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، ایران اپنی جغرافیائی حیثیت کی بدولت عالمی توانائی کی حفاظت پر اثر انداز ہونے والے ایک اہم فریق کے طور پر ابھرا ہے، جس نے ایران کو ایک ایسی مساوات کا حصہ بنا دیا ہے جس کے اثرات چین تک پہنچتے ہیں، جو کہ توانائی کے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ اخبار 'دی انڈیپینڈنٹ' نے نشاندہی کی کہ چین پرسکون اور پراعتماد انداز میں اس بحران سے نکلا، اور بین الاقوامی نظام کی قیادت سنبھالنے کی پوزیشن میں آئے بغیر مغربی دنیا کے تنازع کو سنبھالنے کی مصروفیت کا فائدہ اٹھایا۔

 

اس پیش رفت کے باوجود، چین ایک عبوری مرحلے میں دکھائی دیتا ہے: وہ ابھی ایک غالب (hegemonic) طاقت نہیں بنا ہے، لیکن وہ اب کوئی معمولی طاقت بھی نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا بین الاقوامی کھلاڑی ہے جو ایک "ٹوٹتے ہوئے" بین الاقوامی نظام کے خالی خلاؤں میں حرکت کر رہا ہے، جیسا کہ چینی صدر نے ہسپانوی وزیر اعظم کے استقبال کے دوران اسے بیان کیا تھا (رائٹرز، 14 اپریل 2026

 

جیسے جیسے توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (الیکٹرک کاروں) کی طرف منتقلی ایک ممکنہ متبادل راستے کے طور پر ابھر رہی ہے، جس سے اس شعبے میں چینی کمپنیوں کی موجودگی مزید مضبوط ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ان کلیدی کرداروں میں شامل ہیں جو عالمی توانائی کی معیشت کی تشکیلِ نو سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

اگرچہ چین نے بیرونی طور پر براہِ راست تصادم سے بچنے اور تائیوان کے سیاسی میدان میں موجود تقسیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، جس کے لیے اس نے ایک حساس سیاسی موڑ پر بعض اپوزیشن قوتوں کے لیے اپنے دروازے کھولے تاکہ تائیوان کے لیے 40 ارب ڈالر کے امریکی اسلحے کے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا سکے، تاہم اس کے بین الاقوامی کردار کا مستقبل چار باہم مربوط امور کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت پر منحصر ہے: پھیلتی ہوئی معیشت، جیو پولیٹیکل نمائش (geopolitical exposure)، محتاط فوجی طاقت، اور مسلم سرزمینوں میں اس کا علامتی تشخص۔ جہاں مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اس کی توسیع اس کی معاشی موجودگی کو بڑھاتی ہے، وہیں وہ اس عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے جال میں بھی پھنسا ہوا ہے جس سے وہ نکل نہیں سکتا، اور ایغور مسلمانوں کا مسئلہ ایک حساس عنصر کے طور پر برقرار ہے، جس کا بین الاقوامی رقابت کے تناظر میں سیاسی اور اخلاقی استحصال کیا جا سکتا ہے اور یہ ایک ایسا "خاموش سیاہ سایہ" ہے جو چین کی عالمی توسیع کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

 

یہاں ہمیں یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ دہائیوں سے مشرقی ترکستان میں ایغور مسلمانوں کے خون سے کن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں؟ کیا چین نے خود کو اس مرحلے کے لیے تیار کر لیا ہے جس میں طاقت کی پیمائش اب صرف ان کامیابیوں سے نہیں کی جائے گی جو زمین پر حاصل کی جاتی ہیں، بلکہ اس سے بھی کی جائے گی جو ایک ایسا عالمی سیاسی شعور پیدا کرے جسے آج امتِ مسلمہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون سینچ کر تیار کر رہا ہے؟ تاکہ انسانیت کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جا سکے، جس کا عنوان ہے: نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ!

 

Last modified onہفتہ, 02 مئی 2026 02:14

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک