بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ کی سکیورٹی حکمتِ عملی میں مراکش
کیا یہ ایک نئے ایٹلانٹک پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہا ہے؟
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
مراکش اور امریکہ کے درمیان تیزی سے بدلتے ہوئے فوجی تعلقات کو محض ایک ایسی شراکت داری کے طور پر دیکھنا اب ممکن نہیں رہا جو صرف اثر و رسوخ کے لیے برطانیہ کا مقابلہ کر رہی ہو، بلکہ ہم اس وقت برطانیہ کے پیروں تلے سے قالین کھینچنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے سامنے ہیں، جو الجزائر کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے خلا سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایک مختصر عرصے کے دوران، یہ تعلق دوطرفہ دفاعی تعاون کی سطح سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ سطح پر منتقل ہو گیا ہے، جس کا مقصد ایک ایسی طویل مدتی شراکت داری کی تعمیر ہے جو ایک پوری دہائی پر محیط ہے اور مراکشی جغرافیے کو مغربی بحیرہ روم اور افریقہ میں امریکی سکیورٹی کے حساب کتاب سے جوڑتی ہے۔
16اپریل 2026کو امریکہ اور مراکش نے 'امریکہ مراکش ڈیفنس کنسلٹیٹو کمیٹی' کے چودھویں اجلاس کے اختتام پر 2026-2036کی مدت کے لیے فوجی تعاون کے ایک روڈ میپ پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تعاون کے اس معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر 2020میں دستخط کیے گئے تھے، جس نے اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دس سالہ دفاعی تعاون کا فریم ورک طے کیا تھا۔
لیکن ان دونوں معاہدوں کے درمیان فرق اس مرحلے کی نوعیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر 2020کے معاہدے نے سکیورٹی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی تھی، تو نیا روڈ میپ ایک وسیع تر شراکت داری کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے جس میں فوجی ٹیکنالوجی، دفاعی صنعتیں، سائبر سکیورٹی، تربیت اور تجربات کا تبادلہ شامل ہے۔ اس طرح یہ تعلق عارضی معاملات سے کم اور طویل مدتی اسٹریٹجک وژن سے زیادہ منسلک ہے۔
تقریباً تین ماہ بعد، 13جولائی 2026کو مراکشی شاہی مسلح افواج اور افریقہ میں امریکی فوجی کمانڈ (افریکوم) کے درمیان طانطان شہر میں 'افریقی مرکز برائے کثیر جہتی تربیت اور تجربات' (AMTEC) کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے ساتھ سب سے نمایاں عملی قدم اٹھایا گیا۔
اس یادداشت پر جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں "افریکوم" کے ہیڈ کوارٹر میں مراکشی شاہی مسلح افواج کے انسپکٹر جنرل اور جنوبی زون کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد بريظ اور افریقہ میں امریکی فوجی کمانڈ کے کمانڈر جنرل ڈاگون اینڈرسن نے دستخط کیے۔
یہ منصوبہ، جس میں کثیر جہتی تربیتی علاقہ، ڈرون اکیڈمی، اور جدت و تجربات کا مرکز شامل ہوگا، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اب داؤ محض روایتی فوجی مشقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان شعبوں کی طرف بڑھ رہا ہے جو نئی جنگوں کی نوعیت کا تعین کر رہے ہیں: مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر، بغیر پائلٹ کے نظام، اور حقیقی آپریشنل ماحول میں ٹیکنالوجی کو آزمانے کی صلاحیت۔
یہیں سے روڈ میپ اور مجوزہ مرکز کے درمیان تعلق کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ یہ مرکز کوئی الگ تھلگ منصوبہ نہیں ہے، بلکہ ایک وسیع تر تصور کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد امریکی معیارات اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ایک علاقائی فوجی صلاحیت کی تعمیر ہے۔
اسے سمجھنے کے لیے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ شمالی اوقیانوس کا معاہدہ (نیٹو)، جو اصل میں سوویت یونین کا مقابلہ کرنے اور بحر اوقیانوس کے دائرے کا دفاع کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، اپنے روایتی حریف کے خاتمے کے بعد اس کے کردار میں وسعت آگئی۔ اس کی سرگرمیاں اب اپنے ارکان کی حدود کے اندر اجتماعی دفاع تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ اپنے اصل دائرہ کار سے باہر کی کارروائیوں میں بھی شامل ہو گیا، جیسا کہ بلقان اور پھر 2011میں لیبیا میں ہوا۔
اس تبدیلی نے اتحاد کی اہمیت کو ختم نہیں کیا، بلکہ اس کے کام کرنے کی نوعیت کو بدل دیا۔ اب امریکہ باضابطہ رکنیت سے باہر کے شراکت داروں کے نیٹ ورک پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے، یعنی وہ ممالک جو اسٹریٹجک مقامات اور علاقائی صلاحیتوں کے حامل ہیں جو انہیں جدید سکیورٹی کردار ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ مراکش انہی معاملات میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے؛ وہ نیٹو کا رکن تو نہیں ہے، لیکن وہ اتحاد سے باہر امریکہ کا ایک بڑا اتحادی ہے، اور اس کے ساتھ جدید دفاعی تعلقات میں منسلک ہے۔ امریکہ ان پے در پے اقدامات کے ذریعے اسے اپنے اسٹریٹجک وژن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے جو کم لاگت والے ٹولز اور اتحادیوں پر زیادہ انحصار کے ذریعے اثر و رسوخ برقرار رکھنے پر مبنی ہے۔
مراکش کی اہمیت کسی بھی چیز سے پہلے اس کے محل وقوع میں پوشیدہ ہے۔ وہ بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع ہے، بحیرہ روم کے مغربی داخلی راستے کو کنٹرول کرتا ہے، اور ساحل (Sahel) کے علاقے کے قریب واقع ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم علاقوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس لیے امریکی حساب کتاب میں اس کی قدر صرف اس کی فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اس کے جغرافیے سے وابستہ ہے جو تین اسٹریٹجک فضائوں کو جوڑتا ہے: اوقیانوس (Atlantic)، بحیرہ روم، اور مغربی افریقہ۔
یہاں ایٹلانٹک جہت کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مقابلہ اب محض زمینی فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ بندرگاہوں، تجارتی راستوں، توانائی کی سکیورٹی اور سپلائی چینز کے گرد گھوم رہا ہے۔ افریقہ میں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی موجودگی اور روس کی سکیورٹی موجودگی کے ساتھ، امریکہ اب مغربی افریقہ سے لے کر بحیرہ روم تک پھیلے ہوئے وسیع علاقے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے قابل شراکت داروں کا نیٹ ورک بنانے میں زیادہ دلچسپی لینے لگا ہے۔
اس تناظر میں، مراکش اپنے کثیر جہتی تعلقات کی وجہ سے اضافی اہمیت حاصل کر رہا ہے: امریکہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری، یورپ کے ساتھ اقتصادی تعلقات (جنہیں کمزور کرنے کا ارادہ ہے)، مغربی افریقہ میں بڑھتی ہوئی اقتصادی موجودگی، اور کیانِ یہود کے ساتھ تعلقات کی استواری کے بعد دفاعی ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں تک رسائی۔
لیکن یہ تبدیلی علاقائی اثرات کے بغیر نہیں ہو سکتی، خاص طور پر الجزائر کے لیے۔ اگرچہ امریکہ-مراکش تعاون کھلے طور پر اس کے خلاف نہیں ہے، لیکن مغربی سکیورٹی نیٹ ورکس کے اندر مراکش کی پوزیشن میں تبدیلی بلاشبہ اس کے گردونواح کے اسٹریٹجک ماحول کو متاثر کرے گی۔
لہذاالجزائر خود کو ایک نئی حقیقت کے سامنے دیکھ رہا ہے: ایک مغربی شراکت دار جو مغرب میں اپنی فوجی اور ٹیکنالوجی کی پوزیشن کو مضبوط کر رہا ہے، اور ساحل کا علاقہ جو اس کے لیے ایک اہم دائرہ کار تھا، وہاں فرانسیسی اثر و رسوخ کے پسپائی اور امریکہ کے حق میں بین الاقوامی مقابلے کے بعد گہری نئی ترتیب دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم، ان تبدیلیوں کو ایک مختلف زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ الجزائر طاقت کے بڑے عناصر کا حامل ہے: ایک اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع، توانائی کے اہم وسائل، اور قابل ذکر انسانی و فوجی صلاحیتیں۔ موجودہ مرحلہ شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے، اور بیرونی انحصار کو کم کرتے ہوئے صنعتی اور ٹیکنالوجی کی مقامی جڑیں (خاص طور پر بھاری صنعتوں کے حوالے سے) بنانے کی بنیاد پر اپنی بین الاقوامی حیثیت کی از سرِ نو پہچان بنانے کا ایک موقع ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو ممالک اپنے فیصلے کی آزادی کو برقرار رکھتے ہیں وہ ضروری نہیں کہ وہ ہوں جو سب سے دور رہتے ہوں، بلکہ وہ ہیں جو بڑی طاقتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر معاملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سبق الجزائر اور ان تمام لوگوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے جو استعمار کے پھندے سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔
آخر میں، امریکہ مراکش فوجی روڈ میپ اور طانطان میں AMTECمنصوبہ اکیسویں صدی میں اثر و رسوخ کی تعمیر کی نوعیت میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں طاقت اب صرف فوجی اڈوں سے نہیں، بلکہ شراکت داری کے نیٹ ورکس، ٹیکنالوجی اور اثر و رسوخ کے مراکز سے بنتی ہے۔
سوال اب بھی باقی ہے: کیا مراکش واقعی بحر اوقیانوس اور افریقہ میں امریکی سکیورٹی ڈھانچے کے ستونوں میں سے ایک بن جائے گا؟ لیکن اس سے بھی گہرا سوال یہ ہے کہ کیا مغربِ عربی کا خطہ دوسروں کے منصوبوں کے درمیان مقابلے کا میدان بنا رہے گا، یا یہ ایک خود مختار تہذیبی منصوبے کے ذریعے اپنا تاریخی کردار دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہے جو اس خطے کو اس کا مقام واپس دلا دے؟
پس وعدہ شدہ دوسری خلافتِ راشدہ، علم، تعمیرِ وطن اور عدل کی اپنی اقدار کے ساتھ، ایک ایسی حقیقی نشاۃ ثانیہ کی تعمیر کا فریم ورک بن سکتی ہے جو شمالی افریقہ کو مستقبل کی تعمیر میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنائے، نہ کہ محض ایک ایسا میدان جہاں بین الاقوامی اثر و رسوخ کے نقشے بنتے ہوں۔
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (سورہ یوسف:آیت 21)





