الجمعة، 24 صَفر 1448| 2026/08/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

مغربی کنارہ: آتش فشاں کے دہانے پر!

 

تحریر: ڈاکٹر مؤمن عبد اللہ

 

(ترجمہ)

 

شہروں اور دیہاتوں پر چھاپے اور یلغار، گھروں کی تلاشی، گرفتاریاں، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ اور کرفیو کا نفاذ؛ جگہ جگہ رکاوٹیں، راستوں کی بندش اور زمینوں پر قبضہ؛ آباد کاروں کے حملے، مویشیوں کی چوری اور فصلوں کو آگ لگانا اور انہیں تباہ کرنا؛ آباد کاروں کا مقابلہ کرنے اور اپنے اہل و عیال، مال اور جان کا دفاع کرنے والوں کا قتل، مار پیٹ اور ان پر تشدد؛ مسماری، زمین پر قبضے، گھروں کو ڈھانے اور رہائشیوں کو بے دخل کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والے اسرائیلی پارلیمان (کنیست) کے قوانین اور عدالتی فیصلے... مغربی کنارے میں حالات و واقعات کی یہی سرخیاں ہیں جو چوبیس گھنٹے گردش کر رہی ہیں، بلکہ بسا اوقات یہ تمام مظالم ایک ہی وقت میں اکٹھے رونما ہوتے ہیں!

 

ان واقعات اور خبروں پر نظر رکھنے والا واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت یہودی وجود کے سیاست دانوں کے رجحانات کا عملی ترجمہ ہے، کیونکہ اب مغربی کنارے کے حوالے سے اس وجود اور اس کی قوم پرست اور توراتی قوم پرست جماعتوں کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ اس کے قائدین، جن میں بن غفیر اور سموتریچ سرِ فہرست ہیں، کے بیانات بالکل علانیہ، واضح اور دو ٹوک ہیں۔ یہ تمام اقدامات نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے اس اتحاد کی چھتری تلے انجام پا رہے ہیں جو ٹرمپ اور مغربی رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں لبنان، شام، ایران اور ترکی کے بارے میں تو باتیں کرتا ہے، لیکن اس کا حال یہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی کنارے کا معاملہ اب خارجہ پالیسی اور وزیر اعظم کی سطح کی ملاقاتوں کا موضوع نہیں رہا، بلکہ اسے اپنے ارد گرد موجود خون کے پیاسے اور لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے لیے بے تاب وزراء کے ایک گروہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

 

یہودی وجود اور اس کے موجودہ اتحاد کی پے در پے پالیسیوں کے نتیجے میں مغربی کنارہ اب بکھرے ہوئے ٹکڑوں، الگ تھلگ علاقوں، ایسی زمینوں جن تک رسائی ناممکن ہے، ایسی فصلوں جنہیں کاٹنے کی اجازت نہیں اور ایسے گھروں کی شکل اختیار کر چکا ہے جن پر مسماری کی تلوار لٹک رہی ہے؛ بلکہ ان میں سے کچھ تو اب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں جس میں وہ گھریلو سامان بھی دب چکا ہے جسے نکالنے کی لوگوں کو مہلت تک نہ مل سکی۔ مغربی کنارہ، جو منحوس اوسلو معاہدے کے تحت ارضِ مبارک فلسطین کے 22 فیصد جغرافیے پر مشتمل تھا، اس وجود کے نئے قوانین اور ضوابط کے مطابق اب سکڑ کر 9 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسماری اور زمینوں پر قبضے کا یہ سلسلہ اب ان علاقوں (زون A اور B) تک بھی جا پہنچا ہے جو بظاہر اس بقیہ 9 فیصد کا حصہ ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام تصور کیے جاتے ہیں۔

 

مغربی کنارے کو درپیش خطرہ ایک حقیقی خطرہ ہے، کیونکہ مغربی کنارہ کبھی بھی یہودی وجود کی پالیسیوں کے حاشیے پر نہیں رہا بلکہ ہمیشہ ایک مرکزی مسئلے کی حیثیت رکھتا رہا ہے۔ اس وجود کے قیام کے وقت سے دہائیوں تک اس کی پالیسیاں ترتیب دینے والی لیبر پارٹی کے نزدیک یہ علاقہ وہ سٹریٹیجک گہرائی (strategic depth) تھا جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بن گوریان سے لے کر رابن اور پیریز تک اس سیاسی دھارے کے تمام یہودی قائدین نے ہر اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں جو مغربی کنارے کو ان کے وجود سے الگ کرتا ہو، بشمول دو ریاستی حل کے۔ دائیں بازو کی قوم پرست یا لادین (سیکولر) جماعتوں کے نزدیک مغربی کنارہ یہودی وجود کا وہ اٹوٹ انگ ہے جس سے دستبرداری ممکن نہیں؛ جبکہ توراتی اور مذہبی قوم پرست جماعتوں کے نزدیک یہ وہ مقدس سرزمین ہے جس میں ان کے بقول اہم ترین مقدس مقامات اور وہ شہر واقع ہیں جنہیں توراتی مذہبی حیثیت حاصل ہے، جن میں سرِ فہرست بیت المقدس، الخلیل، نابلس اور اریحا ہیں۔ ان کی نظر میں یہ مقامات حیفا، یافا اور عکا سے بھی زیادہ مقدس اور اہم ہیں، بلکہ ان میں سے بعض کا تو یہ ماننا ہے کہ اس ریاست کا قیام اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک مغربی کنارے یا جسے وہ "یہودا اور سامرہ" کے علاقے کہتے ہیں، پر (1967 کے بعد) مکمل کنٹرول حاصل نہ کر لیا جائے۔

 

اس خطرے کو ماضی میں امریکہ کے دباؤ اور ان اقتصادی، سیاسی اور حفاظتی "ریڈ کارڈز" کے ذریعے روکا جاتا رہا ہے جو اکثر اس وجود کی پالیسیوں اور رجحانات کی راہ میں رکاوٹ بنتے تھے، جس کا اثر ان کے سیاسی حساب کتاب اور جماعتوں پر بھی پڑتا تھا۔ چنانچہ مغربی کنارے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یا وہاں بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کے وقت یہ جماعتیں ایک دوسرے کو لگام دیا کرتی تھیں، اور وہ خطے کے سیاسی و فوجی واقعات، عالمی تبدیلیوں اور امریکی انتخابات و ان کے نتائج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بستیوں کی تعمیر کے "سرطانی پھیلاؤ" اور بتدریج حقائق مسلط کرنے کی پالیسی کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ لیکن جب سے قوم پرست اور توراتی قوم پرست جماعتیں یہودی وجود کی قیادت پر فائز ہوئی ہیں، اور 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کے پے در پے بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں، یہ خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے، دباؤ ختم ہو چکا ہے، ریڈ کارڈز کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے اور اب خطرہ بالکل سر پر ہے اور صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔

 

چنانچہ ایک طرف فلسطینی اتھارٹی برسوں سے لوگوں کو کنگال کرنے اور مغربی کنارے کو معاشی، طبی، تعلیمی اور اخلاقی طور پر تباہ کرنے میں مصروف ہے اور عوام کے لیے پہلے سے تنگ حالات کو مزید مشکل بنا رہی ہے، تو دوسری طرف غاصب وجود اس دوران ہزاروں آباد کاروں کو مغربی کنارے لانے اور ان میں سے دسیوں ہزار کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کر کے اسلحہ چلانے کی تربیت دینے میں منہمک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عربوں کو قتل کرنے، انہیں بے دخل کرنے اور ان سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے ایک مجرمانہ فکری ذہن سازی بھی کی جا رہی ہے۔ اب اس رجحان کے عملی پہلو کی طرف بڑھتے ہوئے رام اللہ، الخلیل، نابلس اور دیگر علاقوں کے دیہاتوں میں اس جرم کے چھوٹے پیمانے پر تجرباتی مناظر  پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آباد کاروں کی ایک ایسی فوج تیار کرنے کی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں جو جرائم میں سرکاری فوج سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی فوج ہوگی جو 1948 میں قتل عام کرنے والے "ہگاناہ" اور "ارگون" جیسے دہشت گرد گروہوں کی طرز پر ہوگی، اور یہ اس خونی تاریخ کو دہرانے کے لیے تڑپ رہی ہے۔

 

آباد کاروں کی اس فوج کی نگرانی کرنے والی یہی وہ جماعتیں ہیں جن کی نیتن یاہو کو اگلے انتخابات کی صورت میں حکومت بنانے کے لیے ضرورت ہوگی۔ یہی جماعتیں اب مغربی کنارے کو اپنے ان ووٹروں کے لیے ووٹ کھینچنے کا ذریعہ بنا رہی ہیں جو جرائم کے پیاسے ہیں، اور انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے نیتن یاہو کے اتحاد کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ اس دن کی منتظر ہیں کہ جب وہ نیتن یاہو کی میز پر اپنے اہم منصوبے رکھیں گی، جن میں زمینوں کے الحاق، جبری بے دخلی اور دو ریاستی حل سے متعلق ہر قسم کی میڈیا اور سیاسی گفتگو کا خاتمہ شامل ہے، کیونکہ زمین پر اس منصوبے کو عملی طور پر پہلے ہی ختم کیا جا چکا ہے۔ نیتن یاہو ہمیشہ سے یہی خواب دیکھتا رہا ہے، لیکن اس کا یہ خواب مقامی رکاوٹوں جیسے کہ آبادیاتی ڈراؤنا خواب (demographic nightmare) اور تیس لاکھ مسلمانوں کا انتظامی بوجھ، علاقائی طور پر دو ریاستی حل پر مبنی عرب مفاہمتوں، اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف امریکی ویٹو سے ٹکراتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ متکبر شخص مغربی کنارے کے مستقبل، اس کے اگلے عنوان اور وہاں کے باشندوں کے مقدر کے بارے میں بات کرنے میں پہلے سے زیادہ بے باک ہو گیا ہے۔

 

مغربی کنارے کے لوگوں کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ جو شخص اس "رضاکارانہ ہجرت"  سے بچ نکلتا ہے جسے یہ مجرم وجود، کٹھ پتلی اتھارٹی کی مدد اور اس کے بدعنوان کارندوں کی نگرانی میں نافذ کر رہا ہے، اسے اب اس وجود کی فوج اور آباد کاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے کے اندر یا باہر "جبری ہجرت" کا خطرہ لاحق ہے۔ مسلم ممالک کے حکمران نظاموں کی جانب سے کسی بھی قسم کی مخالفت کی امید رکھنا فضول ہے، اور امریکی ویٹو، سیاسی حساب کتاب اور ممالک کے مفادات و منصوبوں پر بھروسہ کرنا ایک انتہائی خطرناک جؤا ہے، خاص طور پر موجودہ تبدیلیوں کے تناظر میں۔ جہاں تک یہودی وجود کے انتخابات سے کوئی امید وابستہ کرنے کا تعلق ہے، تو یہ سراسر دیوانگی ہے۔ مسلم ممالک کے سیاست دانوں، فوجیوں اور عوام کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے، بالخصوص سرحدی ممالک یعنی مصر، شام، اردن اور لبنان کو، کیونکہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ مغربی کنارے کا خطرہ ان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ان کے اپنے ممالک کا خطرہ مغربی کنارے کے خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے، خاص طور پر جنوبی لبنان سے تقریباً دس لاکھ لوگوں کی بے دخلی، دمشق کے لیے شدید خطرات اور جنوبی شام کے دیہاتوں پر چھاپوں کے بعد۔ جی ہاں، سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ ہر اس سیاسی عمل کا حصہ بنیں جو ایک ایسی فوجی حرکت کی طرف لے جائے جو بساط پلٹ دے اور حالات کا رخ موڑ دے۔ فوجیوں کو صورتحال بچانے کے لیے فوری حرکت میں آنا چاہیے اور اس مرحلے کا عنوان "بغاوت" ہونا چاہیے۔  عوام کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کے لیےسیاست دانوں کی حمایت کریں اور افواج پر دباؤ ڈالیں تاکہ مغربی کنارے اور پورے فلسطین کے اپنے بھائیوں کی جان بچائیں اور خود کو اور اپنے ممالک کو بھی اس تباہی سے بچا لیں۔

Last modified onجمعہ, 07 اگست 2026 06:21

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک