الثلاثاء، 10 ربيع الثاني 1448| 2026/09/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جاکارتا میں مظاہروں کی لہر اور پرابوو حکومت سے عدم اطمینان کے اشارے

 

تحریر: استاد عبد اللہ اسوار

(ترجمہ)

 

 

اگست 2026ء کے پورے مہینے سے لے کر ستمبر 2026ء کے اوائل تک جاکارتا میں احتجاجی مظاہروں کی لہر میں شدید اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر، 18اگست کو طلبہ کے متعدد گروہوں نے "آزادی کا حصول" کے عنوان سے 'ہوٹل انڈونیشیا' کے چوراہے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں انہوں نے بنیادی ضرورت کی اشیاء اور ایندھن کی قیمتوں، کرپشن کے خاتمے اور حکومت کی مختلف پالیسیوں کی کارکردگی کے جائزے کا معاملہ نمایاں طور پر اٹھایا۔ گزشتہ جون میں بھی اسی قسم کے اقدامات سامنے آئے تھے، جن میں حکومت کی گوناگوں پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا؛ جن میں اقتصادی ناہمواری، کرپشن، روپیہ کی قدر میں کمی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر بوجھ بننے والے ٹیکسوں کے مسائل، نیز مفت غذائی پروگرام اور سرخ و سفید دیہی کوآپریٹو اسکیموں کی مخالفت شامل تھی۔

 

مظاہروں کی اگلی لہر 27اگست کو ایوانِ نمائندگان (پارلیمنٹ) کی عمارت کے گرد و پیش میں رونما ہوئی، جس میں مختلف مطالبات کے حامل متعدد گروہ شامل تھے۔ ان میں سے ایک گروہ نے کرپشن کے خاتمے کا معاملہ اٹھایا اور اثاثوں کی ضبطگی کا قانون پاس کرنے پر زور دیا، جبکہ دوسرے گروہ نے معاشی مسائل اور حکومتی پروگراموں کی عملداری پر روشنی ڈالی۔ تاہم انڈونیشیائی پارلیمنٹ کے ارد گرد بعض مظاہرین کے ڈٹے رہنے کے بعد یہ پرامن احتجاج ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو گیا، جس پر سیکیورٹی حکام نے تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث سمجھے جانے والے متعدد افراد کے خلاف کارروائی کی۔

 

ان مظاہروں کے نمایاں ترین مسائل میں سے ایک ریاست کے وسائل و اثاثوں کی دیکھ بھال میں کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے نظام کا انتہائی کمزور ہونا ہے۔ اسی طرح اثاثوں کی ضبطگی کے قانون کی فوری منظوری کا مطالبہ بھی اس احتجاج کا ایک اہم جزو ہے، کیونکہ عوام چاہتے ہیں کہ ریاست کے پاس کرپشن کے جرائم کے ذریعے حاصل کیے گئے اثاثوں کی واپسی کے لیے ایک مضبوط قانونی ہتھیار موجود ہو۔

 

کرپشن کے معاملے کے علاوہ، موجودہ حکومت کے دور میں معاشی مسائل بھی عوام کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، جیسے بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، قوتِ خرید میں کمی، اجرتیں، روزگار اور مختلف معاشی بوجھ جو بے چینی اور اضطراب کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات کی وجہ سے صورتِ حال مزید سنگین ہو گئی ہے، کیونکہ سبسڈی کے بغیر ملنے والے ایندھن اور پلاسٹک کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر مسلسل گر رہی ہے، جس سے سرکاری بجٹ پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، انڈونیشیا ایک ایسا ملک ہے جو شدید طور پر قرضوں پر منحصر ہے اور بیرونِ ملک سے طرح طرح کا سامان درآمد کرتا ہے۔

 

بنیادی اور اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے انڈونیشیائی حکومت کی پالیسی کو صدر کی انتخابی مہم کے وعدے یعنی 'مفت غذا کے پروگرام' کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی روزانہ کی لاگت 400ارب سے 1کھرب (ٹریلین) روپیہ کے درمیان ہے، جسے بہت سے لوگ قومی خزانے کا ضیاع قرار دے رہے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے کرپشن کے متعدد کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں تخمینہً 10.5کھرب روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، مفت غذائی پروگرام کی فراہمی کے بیشتر ٹھیکیدار اقتدار کے قریبی حلقوں یعنی پولیس، فوج یا حکومت سے منسلک سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سپلائرز کے متوقع منافع جات بے حد زیادہ ہیں، جو سالانہ 6ملین روپیہ سے لے کر تقریباً 1.8ارب روپیہ تک پہنچتے ہیں۔

 

تعلیم کے شعبے میں انڈونیشیا کو اب بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جیسے اساتذہ کی فلاح و بہبود، اسکولوں کے غیر تسلی بخش بنیادی ڈھانچے، اور دور دراز علاقوں میں اسکولوں تک مناسب راستوں کی عدم دستیابی۔ انہی مسائل کی بنا پر عوام اور مظاہرین نے مفت غذائی پروگرام پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

فوج کے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے اور آمریت میں اضافے کا مسئلہ بھی طلبہ کے مختلف مظاہروں کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ انڈونیشیا میں ہونے والے مختلف احتجاجی اقدامات کے دوران سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے اور سخت رویہ اختیار کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں متعدد فعال کارکنوں (ایکٹیوسٹس) کی گرفتاری بھی شامل ہے۔ پرابوو اکثر مظاہرین پر غداری، غیر ملکی کارندے ہونے، مفاد پرست گروہوں سے وابستگی، یا رقم لے کر مظاہرے کرنے کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

 

اسی دوران انڈونیشیائی فوج نے سال 2025ء میں 100علاقائی ترقیاتی بٹالینز قائم کر کے اپنے کردار میں توسیع کی ہے، جبکہ اگلا منصوبہ 2029ء تک انڈونیشیا کے تمام اضلاع اور شہروں کو اس دائرے میں لانا ہے۔ ان بٹالینز کا کام مختلف شعبوں جیسے زراعت، لائیو اسٹاک (مویشی پالنا)، ماہی گیری اور صحت کے شعبوں میں حکومتی پروگراموں کی نگرانی کرنا ہے۔ پرابوو انتظامیہ کے دور میں انڈونیشیائی مسلح افواج کے قانون میں ترمیمی منصوبے کے ذریعے فوج کے اس کردار کو مزید آسان بنایا گیا، جسے عوام نے اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ خیانت قرار دیا ہے؛ کیونکہ مسلح افواج کو شہری ایجنڈوں کے انتظام میں ملوث ہونے کے بجائے ملک کے دفاع اور سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری ملنی چاہیے۔ پرابوو کی اس پالیسی کو اس جابرانہ فوجی 'نیا نظام' (نیو آرڈر) کی واپسی کی راہ ہموار کرنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو 1966ء سے 1998ء تک تیس سال سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہا تھا۔

 

2026ء کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں اٹھائے گئے مسائل وہی ہیں جو اکتوبر 2024ء میں صدر کی حلف برداری کے چند ماہ بعد یعنی فروری 2025ء کے آغاز میں "تاریک انڈونیشیا" نامی تحریک سے لے کر اگست 2025ء میں پورے انڈونیشیا میں ہونے والے وسیع پیمانے کے مظاہروں کے دوران سامنے آئے تھے، جن کا عروج 28سے 30اگست 2025ء کے عظیم الشان مظاہرے پر ہوا تھا۔ یہ تحریک، جو شروع میں ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مراعات اور الائونسز کے معاملے سے شروع ہوئی تھی، بعد میں سیاسی اشرافیہ اور ریاستی اداروں پر ایک وسیع تر تنقيد کا روپ دھار گئی؛ جس میں پارلیمنٹ میں اصلاحات، بجٹ میں شفافیت، کرپشن کا خاتمہ، اثاثوں کی ضبطگی کے قانون کی منظوری، سیاسی جماعتوں کی اصلاح، مظاہرین کے خلاف تشدد کا خاتمہ اور شہری امور میں مسلح افواج کی مداخلت پر پابندیاں لگانے کے مطالبات شامل تھے۔

 

انڈونیشیا میں طلبہ اور عام لوگوں کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے یہ مظاہرے صدر پرابوو سوبيانتو اور ان کے نائب جبران راکابومنگ راكا کی حکومت سے عدم اطمینان کا مظہر ہیں۔ یہ بات 'ٹیمپو ڈیٹا سائنس' (Tempo Data Science) کی جانب سے 31جولائی سے 11اگست 2026ء کے درمیان بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں، روزگار کے مواقع اور آمدنی میں غیر یقینی کی صورتِ حال سے متعلق کیے گئے تازہ ترین سروے کے نتائج سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف 37فیصد انڈونیشیائی عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 62فیصد شرکاء نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، اور 1سے 10کے پیمانے پر حکومت کی کارکردگی کو صرف 5.7نمبر ملے ہیں۔ عوام کے اطمینان کی یہ سطح دسمبر 2025ء کے سروے سے نمایاں طور پر کم ہوئی ہے جب عوامی اطمینان 75فیصد تھا، جو مارچ 2026ء میں کم ہو کر 58فیصد رہ گیا، اور پھر اگست 2026ء میں گر کر 37فیصد پر آ گیا۔ حکومت کی کارکردگی سے عوام کی اس ناراضگی کی بنیادی وجوہات میں ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں، روزگار کی قلت اور آمدنی میں غیر یقینی کی صورتِ حال شامل ہیں۔

 

پرابوو سوبيانتو انتظامیہ کے دو سال مکمل ہونے پر، یہ مسلسل مظاہرے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ عوام میں اب بھی یہ قوی امید موجود ہے کہ یہ حکومت محض چند مخصوص افراد یا اقتدار کے قریبی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں کے بجائے پورے معاشرے کے لیے زیادہ مفید پالیسیاں ترتیب دے سکتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک یہ احتجاجی اقدامات جاری رہیں گے، بالخصوص جب حکومت کی جانب سے نافذ کردہ تمام پالیسیوں میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانے کے حوالے سے کسی نیک نیتی یا سنجیدہ ارادے کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 22 ستمبر 2026 05:51

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک