الثلاثاء، 10 ربيع الثاني 1448| 2026/09/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جبل الشيخ کی چوٹی سے نتنياهو اور كاتس کے تکبر اور غرور کا خاتمہ صرف اسلام کے لشکروں کے ذریعے ہی ہو گا

 

تحریر: استاد ناصر شیخ عبد الحئی

(ترجمہ)

 

 

یہودیوں کا وزیراعظم نتنياهو بروز بدھ، 9 ستمبر 2026ء کو، آنے والے اکتوبر میں متوقع کنسیٹ کی انتخابی مہم کے عین وقت، مقبوضہ شامی علاقوں کے جبل الشيخ کے علاقے میں اپنے تکبر اور فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے آیا، اور اس نے موقع پر بلٹ پروف جیکٹ پہنے ایک ویڈیو کلپ میں کہا: "ہم یہاں جبل الشيخ کی چوٹی پر کھڑے ہیں... اور ہم اس پورے علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں، جبل الشيخ سے لے کر دریاۓ یرموک تک، اور وہاں سے بحیرہ روم تک، اور یہ ایک ایسا مطلق کنٹرول ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی"، اور اس نے عزم ظاہر کیا کہ وہ "کسی بھی دہشت گرد فوج کو اپنی سرحدوں پر قدم جمانے کی اجازت نہیں دے گا"۔ جبکہ اس کے ساتھ موجود كاتس نے کہا: "ہم یہاں سے شام کے صدر کو، جو یہاں سے 35 کلومیٹر دور دمشق میں اپنے محل میں بیٹھا ہے، ایک انتہائی مضبوط اور واضح پیغام دیتے ہیں: ہم یہاں جبل الشيخ پر موجود ہیں، ہم سیکیورٹی زون میں ہیں، اور ہم یہاں سے ہرگز نہیں ہٹیں گے"، نیز اس نے زعم ظاہر کیا کہ شام میں اس کی افواج کی موجودگی کا تسلسل "کسی بھی جہادی عنصر کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے" کے مقصد سے ہے۔

 

اس کے مقابلے میں، شام کی وزارتِ خارجہ نے "نتنیاہو کے غیر قانونی داخلے اور جبل الشيخ میں گھومنے پھرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی"، اور اس عمل کو "ایک اشتعال انگیز قدم، شام کی خودمختاری، اس کی علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ شامی سرزمین کے اندر یہودی افواج کی مسلسل دراندازی اور جارحیت ایک خطرناک پیش رفت ہے جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے، اور اس نے ان خلاف ورزیوں کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری غاصب قبضے پر عائد کی، جبکہ (اپنی حسبِ معمول عادت کے مطابق) اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی تنظیموں اور فعال ممالک سے مطالبات کیے کہ وہ ان جارحانہ کارروائیوں کو روکنے اور عسکری علیحدگی (ڈس اینگیجمنٹ) کے معاہدے کی طرف واپسی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ جبکہ الشیبانی نے یہ بیان دیتے ہوئے کہا: ہم سفارتی حل کے انتخاب پر قائم ہیں اور اس کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اور اس نے زور دے کر کہا کہ شام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق ایک ذمہ دارانہ طرزِ عمل پر گامزن رہے گا، اور اپنے قومی حقوق کا دفاع قانونی سیاسی و سفارتی وسائل سے کرے گا۔

 

جہاں تک حقوقِ انسانی کونسل کے سامنے شام کے نمائندے یاسر الفرحان کا تعلق ہے، تو اس نے کہا: ہم کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ہاں زبردستی غائب کیے گئے شامیوں کے مستقبل اور ان کے ٹھکانوں کو بے نقاب کرنے پر توجہ دے، اور ان کی رہائی کے لیے کام کرے۔ جبکہ اقوامِ متحدہ میں شام کے مندوب ابراہیم علبی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ "مسلسل علاقائی کشیدگی کے حوالے سے شام کا موقف بالکل واضح رہا ہے، کیونکہ اس نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے کسی بھی پڑوسی کے لیے کبھی خطرہ نہیں بنے گا"۔ اور امریکی وساطت سے یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کے ادوار کی معلومات بھی سامنے ہیں، جن کے دوران استخباراتی معلومات کے تبادلے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق ہوا، ان کی جانب سے ایک وسیع تر سیکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے سایہ تلے۔

 

اور مبصرین نے اشارہ کیا کہ اس کا براہِ راست مقصد خطے میں نئے سیکیورٹی انتظامات تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں رکاوٹ ڈالنا، اور جبل الشيخ جیسے اہم اسٹریٹجک مقام پر قبضے کو قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی مطالبات کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہے، جبکہ صورتحال پر نظر رکھنے والوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غاصب حکام طاقت کی زبان کے سوا کچھ نہیں سمجھتے، اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ طے کرنا انہیں ان کے توسع پسندانہ عقیدے اور خطے میں ان کی غاصبانہ ہوس سے نہیں روک سکے گا۔ اسی طرح تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نتنیاہو کا بیانیے کا لیول بلند کرنے اور جغرافیائی نقشے پیش کرنے کی طرف رجوع کرنا، اپنے اندرونی سیاسی موقف کے ڈگمگانے کے درمیان، عسکری موجودگی کو ایک تاریخی فتح کے طور پر پیش کر کے ووٹروں کو لبھانے کی ایک کوشش ہے، جس میں اس نے خوف کے عنصر اور جغرافیائی پھیلاؤ کو قبل از وقت انتخابی پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جبکہ یہودیوں کے وزیرِ خارجہ گیدؤن ساعر نے شام میں ترکی کے عسکری اڈوں کی موجودگی کو یہودی وجود کی جانب سے قطعی طور پر رد کرنے کے موقف کو دہرایا، اور اس عمل کو ایک "سرخ لکیر" قرار دیا۔

 

جہاں تک امریکی مبعوث براک کا تعلق ہے، جو اسلام اور شام کے انقلاب کے خلاف اپنی خباثت اور سازشوں کے لیے جانا جاتا ہے، اس نے الشیبانی کی کوششوں کو سراہا اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ "ایک ایسے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے انتھک اور سنجیدہ ہے جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں"، اور اس نے ایک ایسے شریک کی موجودگی پر اپنی ممنونیت کا اظہار کیا جو یہ سمجھتا ہے کہ ضبطِ نفس اور مکالمہ بھی طاقت کا ہی ایک مظہر ہیں۔

 

بے شک شام کے سیاسی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے والا شخص یہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ شامی سرزمین پر کھڑے ہو کر نتنیاہو اور اس کے وزیرِ دفاع کی یہ شيخی اور غرور کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا تکرار پذیر واقعہ ہے جس کے مقابلے میں عزت و غیرت کا ایک بھی ایسا موقف سامنے نہیں آتا جو اس عظیم حادثے کے شایانِ شان ہو۔ پس جن پر غضب نازل ہوا وہ دن رات جنوبی شام میں دندناتے پھر رہے ہیں، آزادی سے گھومتے پھرتے اور عیش کرتے ہیں، قتل کرتے ہیں، اغوا کرتے ہیں، تباہی مچاتے ہیں اور تفتیش کرتے ہیں، گویا یہ زمین انہی کی زمین ہو اور یہ گھر انہی کے گھر ہوں، جبکہ اس کا جواب ، بلکہ اس کی آخری حد ، صرف مذمت، احتجاج اور عالمی نظام کے سامنے ایک شرمناک فریاد تک محدود ہے، جو کہ اس یہودی وجود کی غنڈہ گردی اور جرائم میں اس کا شریکِ کار ہے۔ اور اس سرکش غنڈے کی یہ مجال نہ ہوتی کہ وہ اپنے بیانات سے یوں تکبر کرتا، اگر حکومت سے اسلام کے وہ مردِ میدان غائب نہ ہوتے جو اسے کہتے: "اے کافرہ کے بیٹے! جواب وہ ہے جو تو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا، نہ کہ وہ جو تو سنے گا"۔

 

وہ ذلت، اطاعت اور بے بسی کا اظہار دیکھ کر وہ کڑکتا اور جھاگ اڑاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے  اجازت دیتا ہے یا اجازت نہیں دیتا،، چنانچہ وہ ایک ایسے دشوار مقام پر چڑھ بیٹھا ہے جہاں اسے اس کی اصل اوقات صرف اللہ کے وہ مخلص بندے ہی دکھائیں گے جو گھروں میں گھس جائیں گے اور اسے اور اس کے مجرموں کو نیست و نابود کر کے داستانِ پارینہ بنا دیں گے۔

 

اس سرکشی اور جرم کے مقابلے میں انتقالی دور کی شامی انتظامیہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لینے والا شخص انہیں یہودیوں کے ہر تکبر اور پھیلاؤ کے وقت وہی ناگوار اور بار بار دہرائے جانے والے بیانات پاتا ہے، جو ہر جارحیت کے وقت دشمنوں کے سامنے شرمناک التجا اور عاجزی سے باہر نہیں نکلتے۔ اللہ تعالی خلیفہ ہارون الرشيد پر رحم فرمائے اور ان کے اس موقف پر جسے تاریخ نے ان لوگوں سے نمٹنے کے طریقے کے طور پر جاویداں کر دیا جو مومنوں کے بارے میں کسی رشتہ داری اور عہد و پیمان کا پاس نہیں رکھتے۔ ہم نے یہ بات بارہا کہی ہے اور ہم اسے پھر دہراتے ہیں: یہودی وجود بہتان تراش اور غدار قوم ہے، وہ صرف انہی باتوں کی پروا کرتے ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کریں اور ان کے اس وجود کو مستحکم کریں جس کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ یہ عارضی ہے، اور ان کے یہودی وجود کو درپیش وجودی خطرے کے بارے میں ان کے بار بار کے بیانات امت کے اس آنے والے طوفان کا احساس ہی تو ہیں جو انہیں اور ان کے حواریوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔

 

اور نارملائزیشن (سفارتی تعلقات کی استواری) کے جرم اور ابراہیمی معاہدوں کی تمہید کے طور پر ان کے ساتھ ذلیلانہ مذاکرات ، جن کی طرف ٹرمپ دھکیل رہا ہے ، آخرت سے پہلے دنیا میں بھی رسوائی، ذلت اور ندامت کا راستہ ہیں؛ کیونکہ امریکہ تمام بیماریوں کا گھر اور تمام بلاؤں کی جڑ ہے، اور وہی اپنے مقاصد، مفادات اور پالیسیوں کی خدمت کے لیے ہمارے دکھوں اور زخموں کو طویل کر رہا ہے، اور جو حکمران اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں ان کا مقدر صرف منہ کی کالک اور برا انجام ہی ہوتا ہے، جیسا کہ پاکستان کے بعض ان حکمرانوں نے صراحت سے اعتراف کیا تھا جو اس کے تابعدار اور خادم بنے ہوئے تھے، کہ جیسے ہی آلات اور اجرت داروں کے ساتھ اس کے مفادات ختم ہوتے ہیں، وہ انہیں استعمال شدہ جوتوں کی طرح کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

 

اور ہم ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ اللہ کی رضا اور امریکہ و مغرب کی رضا دو ایسی ضدیں ہیں جو کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں، تو کیا وقت گزرنے سے پہلے کوئی عبرت حاصل کرنے والا ہے؟! اور ایک بحران زدہ یہودی وجود کے ساتھ موہوم سلام (امن) کی بات کرنا ایک ایسا سراب ہے جسے پیاسا پانی سمجھ بیٹھتا ہے، اس کے راستے پر صرف وہی ہلاک ہونے والا اور گمراہ شخص چلتا ہے جو امت کے اصولوں اور اس کے انقلاب سے انحراف کرتا ہے۔ وہ امت جس کے سرِ فہرست ایک ایسی ریاست کے سایہ تلے اسلام کو نافذ کرنا ہے جو قیدیوں اور اسریٰ (مسجدِ اقصی) کو آزاد کرائے اور مبارک سرزمین فلسطین کو ایک خالص اسلامی سرزمین کے طور پر بحال کرے جس کو اور جس کے مقدسات کو کوئی غاصب دشمن ناپاک نہ کر سکے۔ بے شک یہودی وجود ایک غاصب، بزدل اور ڈرپوک یہودی وجود ہے، جو ہم سے صرف محفوظ قلعوں کی اوٹ (دیواروں کے پیچھے) سے ہی لڑتا ہے، وہ مسلمانوں کے اس قائد اور امام کی عدم موجودگی کے سایہ تلے دندناتا پھر رہا ہے جو زمین کے مشرق و مغرب میں کسی ایک عورت یا بچے کی فریاد رسی کے لیے افواج کو روانہ کرتا تھا، ایسا قائد جو مسلمانوں کی منتشر قوت کو جمع کرے، ان کی طاقت کو متحد کرے اور ان کی توانائیوں کو اس طرف موڑ دے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہوں اور اللہ کے تمام دشمنوں کا منہ کالا ہو۔

 

ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا کی، پس اگر ہم اسلام کے سوا کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا، اور ہم حق کے ساتھ اس بہترین امت کے مقام پر واپس نہیں لوٹ سکتے جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، اور نہ ہی اس دین کی عزت و مجد تب تک لوٹ سکتی ہے جب تک امتِ اسلامیہ کے فرزند ، بالخصوص اس کے صاحبِ قوت لوگ ، یہ نہ سمجھ لیں کہ ہماری نجات کی کوئی راہ نہیں سوائے اپنی اس ریاست کی بحالی کے جو ہماری قوت کا سرچشمہ ہے؛ کیونکہ اس امت کے آخری حصے کی اصلاح بھی صرف اسی چیز سے ہو گی جس سے اس کے پہلے حصے کی اصلاح ہوئی تھی: یعنی معاملہ اس کے اہل کے سپرد کرنا، اسلام کی ریاست کے سایہ تلے اسلام کے ذریعے حکومت قائم کرنا خواہ اللہ کے دشمنوں کی ناک خاک آلود ہو، تب فتح اور آزادی کی افواج دعوت اور جہاد کے ذریعے زمین کے مشارق و مغارب میں حق کے ساتھ اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے نئے سرے سے پیش قدمی کریں گی، اور بلا شبہ اللہ کے حکم سے وہ دن آنے والا ہے، ضرور آنے والا ہے۔ یہی نجات کا راستہ اور اس کے دروازے کی چابی ہے، اور اسی عظیم خیر کی خاطر عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

 

 

ولایہ شام میں  حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onمنگل, 22 ستمبر 2026 05:46

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک