بسم الله الرحمن الرحيم
الرايہ میگزین کے متفرق مضامین
شمارۃ نمبر 620
(ترجمہ)
صفحہ اول کی سب سے نمایاں سرخی
اہلِ سوڈان پر لازم ہے کہ وہ دارفور کو الگ کرنے کی امریکی سازشوں سے باخبر رہیں اور فریب و گمراہ کن پروپیگنڈے کے جال میں پھنسنے سے بچیں،بالکل اسی طرح جیسے اس سے قبل وہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے جرم کے دوران اس کا شکار ہوئے تھے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بااثر اور طاقتور طبقات (اہلِ قوت و اثر) کو حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرنے پر آمادہ کر کے امریکہ اور دیگر استعماری ممالک کے ہاتھ کاٹ ڈالیں۔ اس کا مقصد نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کا قیام ہے، جو نہ صرف سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے روکے گی،بلکہ اسے باقی تمام مسلم سرزمینوں کے ساتھ یکجا کر دے گی،تاکہ استعماری کافروں کا تسلط ختم کیا جا سکے اور اس دنیا میں ہدایت، نور اور رحمت پھیلائی جا سکے جسے سرمایہ داریت (کیپٹلزم) نے گمراہی، فساد اور کمزوروں کی غلامی سے بھر دیا ہے۔
===
ہماری فوج کے کمانڈر دشمن فوج کے کمانڈروں سے ملاقات کیوں کرتے ہیں؟
ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے عسکری سربراہان کے درمیان امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر اور یہودی وجود کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر کے ساتھ ایک خفیہ، بند کمرہ ملاقات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ ملاقات جرمن وزارتِ دفاع کے علم میں لائے بغیر جرمنی میں منعقد ہوئی۔
خبر رساں ویب سائٹ 'ایکسیس' (Axios) کے مطابق ایڈمرل کوپر نے شریک ممالک کو یقین دہانی کرائی کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کے باوجود امریکی فوج خطے سے اپنے فوجی واپس نہیں بلائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہاز رانی کو وسعت دینے کے امریکی منصوبے پر بھی شرکائے اجلاس کو بریفنگ دی۔
یہودی وجود کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جنرل ایال زمیر نے شرکاء کو مختلف محاذوں پر اپنے وجود کی عسکری کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، عسکری رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی تعاون کو مستحکم بنانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
ہمارے عسکری قائدین کے اس گھناؤنے اقدام کے تناظر میں حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں درج ذیل نکات کی وضاحت کی گئی:
پہلا یہ کہ امت ان کمانڈروں سے یہ توقع کر رہی تھی کہ وہ اپنے حکمرانوں کی غداری اور امت کے دشمنوں کے ساتھ ان کی ملی بھگت کا تدارک کرنے کے لیے اکٹھے ہوں گے، تاکہ وہ ان حکمرانوں کو معزول کرنے اور مسلمانوں کے ایک واحد خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔ لیکن اس کے برعکس، انہوں نے امت کے خلاف غداری اور سازش میں اپنے ہی حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہودیوں کے چیف آف اسٹاف سے ملاقات کی، جس کے ہاتھ اب بھی فلسطین، لبنان اور شام میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ سے بھی ملاقات کی، جو عراق، افغانستان، یمن اور ایران میں مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ اللہ کی قسم، یہ یقیناً ایک انتہائی سنگین اور ہولناک معاملہ ہے!
دوسرا: مسلم ممالک میں امریکہ کے تمام تر اقدامات کا مقصد ان پر اپنا تسلط مضبوط کرنا، ان کے اسٹریٹجک مقامات پر اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا، اور اپنے روایتی یورپی حریفوں کو وہاں سے بے دخل کرنا ہے۔ اس منصوبے میں وہ ان عسکری رہنماؤں کو اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے محض آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ رویبضہ (کمینے اور نااہل حکمرانوں) کے ساتھ کرتا ہے۔
تیسرا: امریکہ کا مقصد خطے کے سیکیورٹی نظام میں یہودی وجود کو ضم کرنا ہے۔ ان رہنماؤں نے یہودی وجود کے چیف آف اسٹاف کی جانب سے اس کے مفرور اور اچھوت وجود کی مختلف محاذوں پر عسکری کارروائیوں کی تفصیلات کو یوں بیٹھ کر سنا گویا یہ کارروائیاں کسی دور دراز سرزمین پر ہو رہی ہوں، نہ کہ ان کے اپنے ہی خطے میں! اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی ذرہ برابر غیرت و شرم باقی ہوتی، تو وہ اس اجلاس میں بیٹھنے پر کبھی رضامند نہ ہوتے، جو امریکہ کے نقطہ نظر سے سیکیورٹی تعاون کو تقویت دیتا ہے۔“
اس پریس ریلیز میں ان عسکری کمانڈروں کو،اور ساتھ ہی بلادِ مسلمین کے دیگر عسکری کمانڈروں اور ان کی حمایت کرنے والوں یا ان کے اقدامات پر خاموش رہنے والوں کو بھی،خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا: ”حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس ان رہنماؤں، بلادِ مسلمین کے تمام عسکری سربراہان، امت کے دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف سازش کرنے اور اس کی غداری میں شریک ہونے والوں، اور رویبضہ کی خیانت پر خاموش تماشائی بنے رہنے والے تمام افراد کو دنیا اور آخرت میں ان کی غداریوں کے بھیانک انجام سے خبردار کرتا ہے۔ لہٰذا اے عسکری قائدین! اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کریں، امت کی صفوں میں لوٹنے کی جلدی کریں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور توبہ کریں، اور ان رویبضہ کو معزول کرنے اور ایک واحد خلیفہ کی بیعت کرنے کے لیے فوری طور پر اکٹھے ہوں جو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے تحت امت کو متحد کرے۔“
پریس ریلیز کے اختتام پر کہا گیا: ”حزب التحریر، وہ رہنما جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا، امت کے ہر مخلص فرد اور اس کے رہنماؤں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام میں اس کا ساتھ دیا جائے۔ اسی میں دنیا و آخرت کی عزت اور اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی خوشنودی مضمر ہے۔“
===
یمن کے لیے استعماری طاقتوں کے قدم جمانے والے آلات سے چھٹکارا پانے کے سوا کوئی نجات نہیں
”ہم یمن میں اینگلو-امریکن (برطانوی و امریکی) تنازع کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ تنازع علاقائی اور مقامی گماشتوں (پراکسیز) کے ذریعے لڑا جا رہا ہے۔ وہاں کے عوام اس تنازع کا ایندھن بنے ہوئے ہیں اور دہائیوں سے شدید مصائب جھیل رہے ہیں۔ ان گماشتوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ، یمن کی نجات محض ان آلات و مہروں کو ختم کرنے میں ہے جو باہم برسرِ پیکار استعماری طاقتوں کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور اپنے اثر و رسوخ کو پھیلانے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ مقصد صرف نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کا وعدہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾
”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور جانشینی (خلافت) عطا فرمائے گا“ [سورۃ النور:آیت 55]۔
اور یہ رسول اللہ ﷺ کی نویدِ جاں فزا تھی:«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»
”پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی۔“ (اسے احمد، طیالسی اور بزار نے روایت کیا ہے)۔
لہٰذا، ہم اہل یمن سے اپیل کرتے ہیں جن کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے یہ فرما کر کی تھی:«الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا»
”ایمان تو یمنی ہے، وہ یہاں ہے۔“ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)۔
اور آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:«الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»”دین کی سمجھ (فقہ) یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔“ (اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)۔
ہم ان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حزب التحریر کی نصرت و حمایت کریں تاکہ ہم سب مل کر اللہ القوی العزیز کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کریں، جس سے ہم دونوں جہانوں میں سرخرو ہو سکیں، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“
امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے جاری کردہ سوال کے جواب سے ایک اقتباس
===
فلسطین کی نصرت کا راستہ معلوم ہے، نامعلوم نہیں
فلسطین کی نصرت و مدد کا راستہ نامعلوم نہیں ہے؛ ہر کوئی جانتا ہے کہ اسے مکمل طور پر آزاد کرانے کے لیے مسلم افواج کی متحرک روانگی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:«لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ»”تم ضرور یہودیوں سے جنگ کرو گے اور انہیں قتل کرو گے، یہاں تک کہ پتھر بھی بول اٹھے گا: ’اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، آؤ اور اسے قتل کر دو۔‘“
اس کے باوجود مسلمانوں کے حکمران استعمار کے مجوزہ حل اور سازشوں کا راگ الاپ رہے ہیں اور حقیقی معنوں میں مؤثر اور عملی اقدامات سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾
”اور کہہ دیجیے کہ عمل کرو، پس اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا اور اس کا رسول اور اہلِ ایمان بھی، اور تم غیب اور ظاہر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے“ [سورۃ التوبہ:آیت 105]۔
یہ حقیقت کہ یہ حکمران یہودی وجود کے جرائم اور اقوامِ متحدہ کی ناکامی سے بخوبی واقف ہیں، انہیں امت کے مفادات کا دفاع کرنے والے ہیرو نہیں بناتی؛ بلکہ یہ تو استعماری کافروں کے ساتھ ان کی گٹھ جوڑ کی گواہی دیتی ہے، کیونکہ وہ سچائی کو جاننے کے باوجود فلسطین اور اس کے مظلوم عوام کی مدد کے لیے ایک انگلی تک نہیں ہلاتے۔ تمام تر امیدیں اور توقعات امت کی افواج کے ان مخلص عناصر سے وابستہ ہیں جو امت اور اس کے مسائل،بالخصوص فلسطین اور دیگر مقبوضہ مسلم علاقوں کی آزادی،کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور ان سازشی کٹھ پتلی حکمرانوں کو نظر انداز کر دیں۔ پس اے مسلمانوں کی افواج، آگے بڑھو اور تیزی دکھاؤ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾
”اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے لپکو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے“ [سورۃ آل عمران:آیت 133]۔
===
سوڈانی حکومت اور بحرانوں کی پیداوار: ایندھن بطور ایک عملی مثال
سوڈان کے دارالحکومت اور کئی ریاستوں میں ایندھن کا بحران شدید تر ہو گیا ہے، جہاں سروس اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ کئی دنوں سے پیٹرول پمپس کو سپلائی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے مالکان گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران ایندھن کی متوازی (بلیک) مارکیٹ خوب پھل پھول رہی ہے؛ جہاں پیٹرول کی فی گیلن قیمت تقریباً 60,000 پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیزل 65,000 سے 70,000 پاؤنڈ کے درمیان فروخت ہو رہا ہے،اس کے مقابلے میں سروس اسٹیشنوں پر قیمت تقریباً 45,000 پاؤنڈ ہے (جہاں پیٹرول کی فی گیلن سرکاری قیمت تقریباً 37,000 پاؤنڈ مقرر ہے)۔ (سوڈان ٹریبیون، 30 ستمبر 2026)۔
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو نشریات کے لیے لکھے گئے ایک تبصرے میں ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے آفیشل ترجمان ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے کہا: ”حکومت،جس کی نمائندگی وزارتِ پیٹرولیم کر رہی ہے،یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ایندھن اور اس کے ضمنی مصنوعات دستیاب ہیں، لیکن زمینی حقیقت بحران کے وجود کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کا کھلا ثبوت سروس اسٹیشنوں پر گھنٹوں سے کھڑی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہیں؛ علاوہ ازیں، ہوش ربا قیمتوں والی بلیک مارکیٹ کا وجود تقسیم کے نظام میں خرابی کو ثابت کرتا ہے۔ یہ مصنوعی بحران کبھی پیدا نہ ہوتے اگر نظام محض مالی وصولیوں اور ٹیکسوں کے بجائے عوام کے معاملات کی نگہبانی و راعی کے اصول پر استوار ہوتا،جیسا کہ اس وقت ہم پر اپنی بدترین شکلوں میں مسلط سرمایہ دارانہ نظاموں میں ہوتا ہے۔ جب تک یہ نظام ہم پر مسلط رہیں گے، وہ منافع خوری کے لیے اسی طرح بحران پیدا کرتے رہیں گے۔ ہماری واحد نجات عوام کی حقیقی نگہبانی کے لیے وقف نظام کے قیام میں ہے: یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ،ایک ایسا نظام جس کے ذریعے ہم اپنے رب کو راضی کر سکیں اور ایسے بحرانوں سے آزاد زندگی گزار سکیں۔“
===
معاشی بحرانوں کے حقیقی حل اور بنیادی علاج کی طرف
معاشی بحران کا حقیقی حل اور بنیادی علاج سود (ربا) کے حتمی اور ناقابلِ تنسیخ خاتمے، کرنسی پر اعتماد کی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط کے ازسرِ نو قیام، اور حقیقی معیشت کی خدمت کے لیے مالیاتی نظام کی درست سمت بندی سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں سونے اور چاندی کی بحیثیتِ خود مختار کرنسی واپسی، یا ان کی نمائندگی کرنے والے کاغذی نوٹوں کا اجرا، یا ان دونوں دھاتوں کی ایک مخصوص مقدار سے تائید شدہ سرٹیفکیٹس کا نفاذ بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں، ہم وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ خلافت کی ریاست کے سوا کوئی بھی ادارہ یا وجود یہ قدم نہیں اٹھا سکتا،جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اذن سے عنقریب قائم ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے کہ سونے اور چاندی میں لین دین ایک لازمی اور ناگزیر امر ہے،ایک ایسا شرعی حکم جس کا نفاذ واجب ہے،خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ سرمایہ دارانہ نظام کے کئی آلات، جیسے سود، اجارہ داری و ذخیرہ اندوزی، اور غرر (بے جا قیاس آرائی و سٹہ بازی)، شریعت میں قطعی حرام ہیں۔ لہٰذا، ہمیں نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس کا قیام ہر مسلمان پر ایک شرعی فرض ہے یہاں تک کہ یہ عملاً قائم ہو جائے؛ کیونکہ یہی خلافت ہے جو امت کو تاریکیوں کی گہرائیوں سے نکال کر اسلام کے عدل اور نور کی طرف لے جائے گی۔
اے مسلمانو! ہمیں اسلام کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہوگا اور اپنی زندگی کے طرزِ عمل کو اسی پر استوار کرنا ہوگا؛ کیونکہ شرعی طور پر ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اور ہم اس شرعی فریضے سے اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہو سکتے جب تک اسلام ہماری زندگیوں کی بنیاد نہ بن جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾
”کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں؟ پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں“ [سورۃ التوبہ:آیت 126]۔
===
امت ان لوگوں کی کثرت سے زندہ نہیں ہوتی جو اسلام کا محض زبانی دعویٰ کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ان لوگوں سے زندہ ہوتی ہے جن کے دل اسلام سے لبریز ہوں
ایک مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کو جان لینے سے ایمان کی حقیقی روح کو حاصل نہیں کر پاتا، بلکہ وہ اپنی زندگی میں ان کے اثرات کا مشاہدہ کر کے اسے پاتا ہے: یعنی مشکلات کے وقت اپنے دل کو ’الرحمٰن‘ سے وابستہ پانا، تقدیر کے فیصلوں کے سامنے ’الحکیم‘ کی ذات میں سکون و تسلی تلاش کرنا، اپنی کوتاہیوں کے باوجود ’الکریم‘ سے امید باندھنا، اور آزمائشوں میں ’العدل‘ پر بھروسا کر کے اطمینان محسوس کرنا۔ اس مقام پر عقیدہ محض یاد کیے گئے الفاظ سے ایک متحرک زندگی میں، اور بکھری ہوئی معلومات سے ایک دائمی جذبے و شعور میں بدل جاتا ہے جو فکر کی رہنمائی کرتا ہے، کردار کو سمت دیتا ہے اور قدموں کو ثابت قدم رکھتا ہے۔
درحقیقت امت ان لوگوں کی کثرت سے ترقی نہیں پاتی جو اسلام کا محض زبانی دعویٰ کرتے ہیں؛ بلکہ اس کا احیاء ان مردوں اور عورتوں سے ہوتا ہے جن کے دل اسلام سے لبریز ہوں،اس حد تک کہ اسلام ان کے خیالات پر حکمرانی کرنے والا جذبہ بن جائے، وہ پیمانہ بن جائے جس سے وہ زندگی کو تولتے ہیں، اور وہ نور بن جائے جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں۔ آج کے دور میں ہمیں ایک ایسے ایمان کی کتنی شدید ضرورت ہے جو بدلتے حالات کے ساتھ متزلزل نہ ہو، فتنوں اور ترغیبات کے سامنے کمزور نہ پڑے، اور آزمائشوں کے بوجھ تلے نہ ٹوٹے،ایک ایسا ایمان جس کی جڑیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ دلی تعلق میں پیوست ہوں، نہ کہ محض یادداشت اور اس میں محفوظ معلومات میں۔ جب ایک مومن اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو قرآنِ مجید اس کے دل کی بہار بن جاتا ہے، عبادت اس کا سکون بن جاتی ہے، اور اسلام اس کی پوری زندگی بن جاتا ہے،نہ کہ زندگی کا محض ایک جزو۔
یہاں سے حقیقی استخلاف (زمین میں خلافت و نیابت) کا سفر شروع ہوتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ استخلاف کا فریضہ ایسی امت کے سپرد نہیں کرتا جو اپنے دین کو صرف زبان سے محفوظ رکھتی ہو۔ بلکہ وہ اسے ایک ایسی امت کے سپرد فرماتا ہے جس کے دلوں میں ایمان رواں دواں ہو،ایک ایسی امت جو اس پر عمل کرتی ہے، اس کی خاطر قربانیاں دیتی ہے، اور اس پر ثابت قدم رہتی ہے، یہاں تک کہ اسلام وہ روح بن جاتا ہے جس کے سہارے وہ جیتی ہے اور وہ عالمگیر پیغام بن جاتا ہے جسے وہ دنیا تک پہنچاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری امت اپنی اس طاقت اور اثر و رسوخ کا ادراک کرے جو اس کے پاس موجود ہے۔ وقت آ پہنچا ہے کہ امت اپنی اندرونی قوتوں اور اثر کی وسعت کو پہچانے، اور اس محتاجی و انحصار کی کیفیت سے نجات حاصل کرے جس نے اس کی تقدیر کو بڑی طاقتوں کے فیصلوں اور کشمکش سے باندھ رکھا ہے۔ ہماری سرزمینیں محض بین الاقوامی رقابت کا اکھاڑا نہیں ہیں؛ بلکہ وہ دنیا کا دھڑکتا ہوا دل، عالمی تجارت کا سنگم، اور وہ بحری راہداریاں ہیں جن سے قوموں کی دولت اور معیشتیں گزرتی ہیں۔ وہ امت جو ان آبناؤں، سمندروں اور اسٹریٹجک گزرگاہوں پر قابض ہے جہاں سے عالمی تجارت کا ایک وسیع حصہ گزرتا ہے، اسے ہرگز محض ایک تماشائی نہیں بنے رہنا چاہیے جبکہ دوسرے اس کے مستقبل کا خاکہ تیار کریں اور اس کی قسمت کا فیصلہ کریں۔
حقیقی طاقت محض ہتھیار رکھنے میں نہیں ہے، بلکہ ارادے اور خود مختاری کے اظہار میں، اور اپنے اسٹریٹجک مقام، دولت اور صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لانے میں ہے۔ چنانچہ خود مختار فیصلہ سازی کی بحالی اور معاشی و سیاسی قوت کی تعمیر اب کوئی فکری عیاشی یا جذباتی نعرے بازی کی بات نہیں رہی؛ بلکہ یہ امت کے تحفظ اور اس کے وقار کی حفاظت کے لیے ناگزیر وجودی ضرورت بن چکی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں ہماری سرزمینوں کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے یہاں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرتی ہیں، تو ہمارے اپنے لوگوں کے لیے یہ کہیں زیادہ شایانِ شان ہے کہ وہ اس تہذیبی مقام کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں جو ان کی عزت اور وقار کا مظہر ہے۔ تب ہم دوسروں کی مساوات میں محض ایک بے جان عدد نہیں رہیں گے، بلکہ ایک ایسی ہیبت ناک اور عظیم قوت بن جائیں گے جو واقعات کو جنم دیتی ہے اور طاقت کے عالمی توازن کو متاثر کرتی ہے،تاریخ کے ان اوراق کی بازگشت بن کر جب اسلامی امت نے اپنی تقدیر کی باگ ڈور خود سنبھال رکھی تھی اور اپنے پاس موجود ان اثاثوں اور مقامات کی قدر و قیمت کو پوری طرح سمجھتی تھی، جن کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں ملتی۔ اگر ہماری امت نے اسلام کو اپنا معیار نہ بنایا تو دوسروں کے نظریات اس کا معیار بن جائیں گے۔
اگر امتِ مسلمہ اپنے معاملات میں خود بات نہیں کرے گی، تو دوسرے اس کی طرف سے بولیں گے؛ اگر وہ اپنے منصوبے کی علمبردار نہیں بنے گی، تو دوسرے اپنے منصوبے اس پر مسلط کریں گے؛ اور اگر وہ اسلام کو اپنا معیار نہیں بنائے گی، تو دوسروں کے افکار اس کا معیار بن جائیں گے۔ اے امتِ مسلمہ کے لوگو! اسلام کو اپنے زمانے کے تابع نہ بناؤ؛ بلکہ اپنے زمانے کو اسلام کے معیار کے تابع کرو۔ یہ سوال نہ کرو کہ کافر استعماری مغرب سے آنے والی ہر چیز کے ساتھ اسلام کو ہم آہنگ کیسے کیا جائے؛ بلکہ یہ دریافت کرو کہ ہم اپنی زندگیوں کو دوبارہ اسلام کی طرف کیسے لوٹا سکتے ہیں۔ آج تمہاری امت کو کتنا شدید تقاضا ہے کہ وہ اپنا شعور، اپنے دین پر اعتماد، اپنی شناخت اور اپنا اتحاد دوبارہ حاصل کرے؛ تاکہ وہ ظلم، غلامی، جبر، لوٹ مار اور مغربیت کا مقابلہ کرنے میں اسلام کو اپنا مشعلِ راہ بنائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کا طلبگار ہوگا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا“ [سورۃ آل عمران:آیت 85]۔
اے اللہ! امت کو اپنے دین کی طرف احسن طریقے سے واپس لوٹا دے؛ اسے اپنے دین کی گہری سمجھ، اپنی زمینی حقیقت کا ادراک، اور حق پر ثابت قدمی عطا فرما؛ اس کے درمیان عدل قائم فرما؛ اس کی صفوں کو اسلام پر متحد فرما؛ اور اسے ایک ایسی امت بنا دے جو تمام انسانیت تک اسلام کی رسالت (پیغام) پہنچانے والی ہو۔
===




