الأربعاء، 19 ذو القعدة 1447| 2026/05/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال و جواب

 

لبنان اور یہودی وجود کے مابین غدارانہ مذاکرات

 

(عربی سے ترجمہ)

 

سوال:

 

واشنگٹن میں لبنان اور یہودی وجود کے سفیروں کے مابین مذاکرات منعقد ہوئے۔ ان مذاکرات کو اعلیٰ سطح کے امن مذاکرات گردانا جا رہا ہے، جس کے تحت دس دن کی جنگ بندی کی گئی، جسے بعد میں 24 اپریل، 2026ء کو بڑھا کر تین ماہ تک کر دیا گیا۔ تاہم، یہودی وجود اپنی جارحیت میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔”قابض فوج نے اعلان کیا کہ اس نے راتوں رات جنوبی لبنان میں پچاس سے زائد مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کئے... الجمہور، 2 مئی، 2026ء“۔

 

تو آخر اس جارحیت کا کیا مقصد ہے، یا پھر اسے یوں سمجھا جائے جیسا کہ ٹرمپ نے کہا کہ، طاقت کے ذریعے امن کا قیام؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر آخر لبنان کے حکمران اس قدر غداری پر مبنی مذاکرات کو یوں کھلے عام کیسے قبول کر سکتے ہیں، کجا یہ کہ خفیہ طور پر ہوتے، کیا یہ اقدامات نارملائزیشن کی راہ ہموار کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں؟ براہِ کرم وضاحت فرما دیں، ہم آپ کے شکر گزار اور ممنون ہیں۔

اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے !

 

جواب:

 

مذکورہ بالا سوالات کے جواب کی وضاحت کے لئے ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیں گے :

 

1-2025ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ برسرِ اقتدار آ جانے کے ساتھ ہی ٹرمپ کے پرانے منصوبے، یعنی ”ابراہام معاہدات“ کو بھی نئے سرے سے سامنے لے آئے، جس میں ”نارملائزیشن“ کے وعدے کئے گئے، اور مزید یہ کہ یہودی وجود کو طاقت فراہم کر کے خطے میں غلبہ دینے اور امریکی مفادات کے ایک بڑے حصے کی نگرانی اس کے سپرد کرنے کی بات کی گئی۔

 

14 اپریل، 2026ء کو واشنگٹن میں لبنان میں امریکہ کے ایجنٹوں اور یہودی وجود کے مابین ہونے والے مذاکرات کا آغاز اُس سکیورٹی معاہدے سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر تھا، جسے حکومت قتل و غارت روکنے، تباہی کے خاتمے اور جنوب کی آزادی کی ایک کاوش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ درحقیقت، یہ مذاکرات ٹرمپ کی ”نارملائزیشن ٹرین“ میں سوار ہونے کے لئے ایک بھرپور پیش رفت تھی۔

 

اگرچہ یہ ”پہلا“ اجلاس سفیروں کی سطح پر ہی تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے معاملات میں تیزی لانے کی غرض سے اعلان کر دیا کہ 'لبنانی صدر، عون جوزف اور یہودی وجود کے وزیرِاعظم، نیتن یاہو کے مابین ٹیلیفون پر مزید گفتگو ہوگی، اور یہ بھی نشاندہی کی کہ اس نوعیت کا رابطہ دہائیوں سے نہیں ہوا' (i24،16 اپریل، 2026ء)۔ بہرحال جب یہ ٹیلیفونک رابطہ نہ ہو سکا تو ٹرمپ نے نارملائزیشن کے معاملات میں تیزی برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔ ٹرمپ کے وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر سے رابطہ کیا، اور پھر خود ٹرمپ نے بھی لبنانی صدر کو فون کیا— جو کہ ایک ایسا اقدام تھا جس پر لبنان میں امریکہ کے ایجنٹوں نے بہت شیخیاں بگھاریں  اور اتراتے ہوئے اسے انتہائی فخریہ انداز سے پیش کیا۔

 

بعد ازاں ٹرمپ نے ایک انوکھی نوعیت کے سفارتی اقدام کا اعلان کیا کہ : وہ ”اسرائیل“ کے وزیرِاعظم، بنجمن نیتن یاہو اور لبنان کے صدر، جوزف عون کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے (سعودی نیوز، 16 اپریل، 2026ء)۔ بہرحال، لبنانی قیادت کی طرف سے کھوکھلی تردید کے باوجود، لبنان کا اس ”نارملائزیشن ٹرین“ میں سوار ہونا اب کھل کر ظاہر ہو چکا ہے۔

 

2- پھر اس کے بعد لبنان کے صدر، عون اور اس کے وزیرِاعظم کی جانب سے اس حوالے سے بیانات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا :

 

ا) لبنانی عوام سے کئے گئے اپنے ایک خطاب میں، عون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ : ”میں آپ سے صاف گوئی اور پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ : یہ مذاکرات نہ تو کسی کمزوری کی علامت ہیں، نہ پسپائی کی، اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت کی۔ بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ہمارے حقوق پر ہمارے پختہ یقین، اپنے عوام کے لئے ہماری فکر، اور اپنے وطن کی ہر ممکن طریقے سے تحفظ کرنے کی ذمہ داری سے جنم لیتا ہے—خصوصاً اس عزم سے کہ ہم لبنان کے سوا کسی کے لئے جان قربان کرنے کو تیار نہیں۔ مذاکرات کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں، اور نہ کبھی ہوگا، کہ ہم کسی حق سے دستبردار ہو جائیں، کسی اصول کو ترک کر دیں، یا اس قوم کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کر لیں۔ ہم ہزاروں لبنانیوں کو کھو چکے ہیں؛ یہ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، اور ہم انہیں کبھی نہ بھلا پائیں گے۔ میں کسی اور لبنانی کو ہرگز جان نہیں گنوانے دوں گا، اور نہ ہی اپنے عوام کے قتل وغارت کا یہ سلسلہ جاری رہنے دوں گا—چاہے وہ دوسروں کے مفادات و اثر و رسوخ کی خاطر ہو یا قریب و دور کی طاقت کی سیاسی بساط کے لئے ہو“ (انڈیپنڈنٹ عربیہ، 18 اپریل، 2026ء)۔

 

ب) جہاں تک وزیرِاعظم، نوف سلام کا تعلق ہے، انہوں نے فرانس کے صدر، میکرون کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا : ”انہیں لبنان کے تمام پارٹنرز کی مدد درکار ہوگی، جبکہ رواں ہفتے کے آخر میں واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر براہِ راست مذاکرات جاری رہیں گے“۔ مزید بیان دیتے ہوئے نوف سلام نے کہا کہ، ”ہم اس راستے پر اپنے اس پختہ یقین کے تحت گامزن ہیں کہ ڈپلومیسی کرنا کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک ذمہ دارانہ عمل ہے—تاکہ اپنے ملک کی خودمختاری کی بحالی اور اپنے عوام کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی جائے“ (انڈیپنڈنٹ عربیہ، 21 اپریل، 2026ء)

 

ج) اس کے بعد عون نے حمایت آمیز سعودی کردار پر انحصار کیا، جیسا کہ اخبار الریاض نے رپورٹ کیا، ”جوزف عون نے سعودی کردار کو سراہا اور ولی عہد و وزیرِاعظم، محمد بن سلمان کی کوششوں کی قدردانی کی، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات دانشمندی اور توازن سے مرتب کردہ ہیں… اور یہ کہ سعودی کوششیں مضبوط مؤقف پر مبنی ہیں جو خصوصاً حالیہ عسکری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے مشکل حالات میں لبنانی عوام کی حمایت کرتی ہیں۔ سعودی مملکت کی جانب سے جنگ بندی کے لئے کئے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کا عزم واضح تھا، اس کے ساتھ ساتھ پائیدار سفارتی حل کو فعال بنانے کی کوشش بھی جاری ہے، تاکہ امن کا حصول اور لبنان کے استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے“ (الریاض اخبار، 19 اپریل، 2026ء)

 

3- بعد ازاں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، یہودی وجود نے لبنان میں ایران کی حزب کے خلاف جنگ بند کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پا چکی تھی۔ یہودی وجود کے وزیرِاعظم نے اعلان کر دیا کہ ایران کے ساتھ اس جنگ بندی معاہدہ میں لبنان شامل نہیں ہے، اور اس نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے، جنگ بندی کے نفاذ کے پہلے ہی دن یہودی وجود کے طیاروں نے بیروت پر اور مجموعی طور پر لبنان کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کر دی۔ ”گزشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کا آغاز ہونے کے بعد سے اب تک ہونے والے اسرائیل کے لبنان پر کئے جانے والے حملوں میں حالیہ فضائی حملے شدید ترین نوعیت کے تھے، حالانکہ ایران کی پشت پناہی سے چلنے والے اس گروپ، حزب اللہ نے امریکہ اور ایران کے مابین دو ہفتوں کی جنگ بندی معاہدے کے بعد سے شمالی اسرائیل میں اور لبنان میں اسرائیلی افواج پر اپنے حملے روک دیئے تھے“۔ خبر رساں ادارے، Axiosنے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کیرولین لیویٹ (Caroline Leavitt) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ”لبنان، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ نہیں ہے“(فرانس-24، 04 اپریل، 2026ء)

 

4- اس امریکی مؤقف کے تناظر میں، لبنان میں موجود امریکہ کے ایجنٹوں کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف بیان بازی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے خانہ جنگی پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مثال کے طور پر، ”لبنانی وزیرِاعظم، نوف سلام نے منگل کے روز بیان دیا کہ ”حکومت ایران کی پشت پناہی سے چلنے والی پارٹی، حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی، تاہم وہ اسے دھمکیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دے گی، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لئے’اسرائیل‘ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری ہیں“(انڈیپنڈنٹ عربیہ، 21 اپریل، 2026ء)“۔

 

اس بات سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہودی وجود اور لبنانی حکومت، اگرچہ اپنے اپنے طور پر ہی سہی، لیکن دونوں ہی لبنان میں موجود ایران کی حزب کو غیر مسلح کرنے کے لئے پیش رفت کر رہے ہیں۔

 

5- تاہم، ایران کی جانب سے اس بات پر مسلسل دباؤ کے پیشِ نظر کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے، امریکہ نے ابتدا میں انکار کے بعد لبنان میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی۔ ”امریکی صدر نے لبنان میں دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا“ (آر ٹی، 16 اپریل، 2026ء)۔ امریکہ اس جنگ بندی کو اس نظر سے دیکھتا ہے کہ لبنان کو نارملائزیشن کی جانب دھکیلا جائے۔ امریکی صدر، ٹرمپ نے کہا، ”میں نے لبنان کے نہایت معزز صدر، عون جوزف اور ’اسرائیل‘ کے وزیرِاعظم، بنجمن نیتن یاہوکے ساتھ شاندار اور انتہائی مثبت گفتگو کی ہے“۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ، ”ان دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لئے وہ باضابطہ طور پر شام 5 بجے (مشرقِ وسطیٰ کے معیاری وقت کے مطابق) سے 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز کر دیں گے“۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ، ”34 برس کے عرصہ میں پہلی بار، اس منگل کے روز دونوں ممالک نے یہاں واشنگٹن ڈی سی میں ہمارے گریٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ، مارکو روبیو کی موجودگی میں اکٹھے ملاقات کی“۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ، ”میں نے نائب صدر، جے ڈی وینس اور سیکرٹری آف اسٹیٹ، روبیو کو، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، ڈین رازن کین (Dan Caine) کے ہمراہ، ’اسرائیل‘ اور لبنان کے ساتھ مل کر پائیدار امن کے حصول کے لئے کام کرنے کی ہدایات کر دی ہیں“۔ اپنے بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا، ”دنیا بھر میں جاری 9 جنگوں کے مسائل کو حل کرنا میرے لئے اعزاز رہا ہے، اور اس جنگ کا مسئلہ حل کرنا میرے لئے دسواں ہو گا، تو آئیے، اسے حل کرتے ہیں“! (ٹروتھ سوشل، 16 اپریل، 2026ء)

 

6- پھر ٹرمپ نے یہودی وجود اور لبنان کے مابین جنگ بندی کو تین ہفتوں تک بڑھا دینے کا اعلان کیا، ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ ’اسرائیل‘ اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی جائے گی۔ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ یہ فیصلہ جمعرات کو اوول آفس میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد کیا گیا، جس میں امریکی صدر، نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، ’اسرائیل‘ کے لئے امریکی سفیر مائیک ہوکابی، اور لبنان میں امریکی سفیر میشال عیسیٰ (Michel Issa) شریک تھے“ (اسکائی نیوز عربیہ، 24 اپریل، 2026ء)۔ تاہم ان تمام اعلانات کے باوجود، حملے جاری رہے! ”’اسرائیل‘ جنوبی لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے...“ (آر ٹی عربی، 30 اپریل، 2026ء)۔

 

”اس کے علاوہ، ’اسرائیلی‘ فوج نے گزشتہ دو دنوں کے دوران بڑے پیمانے پر یکے بعد دیگرے متعدد حملے کئے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ لبنانی حکام کے مطابق 84 کے قریب مختلف ‘اسرائیلی’ حملوں کے نتیجے میں تقریباً 29 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، ان حملوں میں فضائی حملے، آرٹلری گولہ باری، اور رہائشی عمارتوں پر بمباری بھی شامل تھی“ (الجزیرہ، یکم مئی، 2026ء) ... اور حتیٰ کہ آج کے دن بھی، ”قابض وجود کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ رات جنوبی لبنان میں 50 سے زائد مقامات پر حملوں کے سلسلہ میں اپنی کاروائیاں سرانجام دی ہیں ...“ (الجمہور، 02 مئی، 2026ء) ...

 

امریکہ اس لئے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تا کہ طاقت کے زور پر اس کے متکبرانہ تصور کے مطابق نام نہاد امن قائم کیا جائے! اور اسی کام کو پایۂ تکمیل پہنچانے کے لئے یہودی وجود لبنان کے ان دیہی علاقوں میں نئے ملٹری کیمپ قائم کر رہا ہے جہاں پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے، اور وہ ایران کی حزب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ان علاقوں کو بفر زون کا علاقہ قرار دے رہا ہے، اور یہ ایک اسی طرح کا منظر نامہ دہرایا جا رہا ہے جو غزہ میں حماس اور صفراء لائن کے نام سے کیا گیا تھا !

 

7- یوں، لبنان کے حکمران اور دیگر مسلم ممالک کے حکمران، بجائے اس کے کہ فلسطین کو آزاد کرائیں اور یہودی وجود کا خاتمہ کریں، لیکن یہ حکمران اس ناجائز وجود کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے (نارملائزیشن) کی تگ ودو کر رہے ہیں۔ یہ حکمران امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ مل کر اس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان حکمرانوں کو قطعی یہ فکر اور احساس تک نہیں ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی کرنا کس قدر خطرناک ہے، اور جو نہ صرف اس دنیا میں ذلت کا سبب ہے بلکہ آخرت میں تو دردناک عذاب کا باعث ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً﴾

”جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ بے شک عزت تو ساری صرف اللہ ہی کے لئے ہے“ [سورۃ النساء؛ 4:139[

 

یہ حکمران اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کافر ریاستوں کا اولین مقصد اپنے مفادات کی حفاظت کرنا ہے اور وہ اسی کام میں لگی رہتی ہیں اور دن رات اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتی ہیں۔ اگر کبھی وہ اپنی خارجہ پالیسی کے دائرۂ اثر میں آنے والی کسی ریاست یا اپنے ہی ایجنٹوں سے بظاہر کسی قسم کی رضا مندی کا اظہار کر بھی لیتے ہیں تو اس کا مطلب ان کی خیر خواہی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے مقاصد کو چھپا بھی رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار کھلم کھلا ظاہر بھی کرتے ہیں، چاہے یہ حکمران، خواہ کوئی بھی ہوں، یہودی وجود کے حقیقی اتحادی ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ حکمران، خواہ وہ امریکہ کے مدار میں گردش کر رہے ہوں یا اس کے ایجنٹ ہوں، اگر وہ یہ جان سکتے کہ امریکہ انہیں اس وقت قطعاً کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا جب اس کے مفادات انہیں راستے سے ہٹانے کا تقاضا کرتے ہوں، تو یہ حکمران تاریخ کے اسباق سے ہی کچھ سبق سیکھ سکتے تھے۔ کتنے ہی اتحادی اور ایجنٹ ایسے گزرے ہیں جنہیں امریکہ نے اپنا مقصد پورا کر چکنے کے بعد کوڑے دان میں ردی کی مانند پھینک دیا تھا۔

 

اگر ان حکمرانوں میں ذرہ برابر بھی کوئی سمجھ بوجھ ہوتی تو انہوں نے کفار کو سرے سے ہی مکمل طور پر رد کر دیا ہوتا، لیکن یہ حکمران تو بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، اور وہ واپس نہیں آئیں گے۔ کافر استعمار کے ساتھ ان حکمرانوں کی وفاداری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جب ان میں سے کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرے اس کی مدد تک کرنے کے لئے حرکت میں نہیں آتے۔ اور پھر ان میں سب سے بہتر وہ گردانے جاتے ہیں جو صرف ہلاک شدگان اور زخمیوں کا شمار کر لیتے ہیں ! مسلمانوں کے لئے بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ ایک واحد امت ہیں؛ ان کا امن بھی ایک ہے اور ان کی جنگ بھی ایک ہے۔ امت کے کسی ایک بھی حصے پر حملہ پوری امت پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اگرچہ امت کے ہر حصے پر شرعی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے کسی علاقہ پر حملہ کے خلاف جارح قوت کا مقابلہ کرے، لیکن بہرحال صرف یہ اقدام ہی مسئلے کا دائمی حل نہیں ہے۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب مزاحمت کر رہے ہیں، اور لبنان میں ایران کی حزب مزاحمت کر رہی ہے، لیکن ان سب سے مل کر بھی مسئلے کا حل تب تک نہیں ہو گا جب تک خلافت کا قیام نہ ہو جائے، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے اس کی شریعت کو نافذ کرے گی، تاکہ وہ فتح حاصل کرے اور اللہ کے اذن سے غالب آئے، اور عدل و جہاد کے ذریعے دنیا کو منور کرے، یہاں تک کہ اللہ اسے اپنی نصرت سے سرفراز فرمائے۔

 

8- یہی حل ہی وہ واحد حل ہے جو امت کو نجات دلائے گا، امت کی کھوئی ہوئی عزت و وقار کو بحال کرے گا، اس کی طاقت کو مضبوط کرے گا اور اسے اس قابل بنا دے گا کہ امت کے دشمن اس امت پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور ایسا سب صرف خلافتِ راشدہ کے احیاء کے ذریعے سے ہی ممکن ہے کہ جس کے عدل و انصاف اور خیر وبھلائی سے یہ کرۂ ارض منور ہو جائے گی۔ ماضی میں جیسے خلافت نے روم کے قیصر اور فارس کے شہنشاہوں کا غرور و تکبر خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا، بالکل اسی طرح آنے والی خلافت ان کفار کی پیروی کرنے والوں جیسا کہ ظالم ٹرمپ اور کافر استعمار میں موجود اس کے حواریوں کی فرعونیت کی بھی دھجیاں بکھیر کر رکھ دے گی۔ اور جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، تو وہ تو اس قدر بے وقعت ہے کہ اس کو کوئی اہمیت دی جائے۔ وہ بالکل ایسے ہی ہیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرما دیا ہے،

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾

”وہ تمہیں معمولی سی تکلیف پہنچانے کے سوا تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو وہ تمہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے، اور پھر ان کی کوئی مدد نہ ہو گی“]آل عمران؛ 3:111[۔

 

یہودی وجود تو خود اپنے سہارے پر کھڑے ہونے کے  بھی قابل نہیں ہیں۔ اگر لوگوں کی حمایت اور مدد ان کے ساتھ نہ ہو تو وہ لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا،

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾ 

”ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے، جہاں کہیں بھی وہ جائیں۔ سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے عہد میں آ جائیں اور لوگوں کے عہد میں“]آل عمران؛ 3:112[۔

 

یہود نے اللہ ﷻ سے تو پہلے ہی اپنا ناطہ توڑ لیا ہے اور اب ان کے پاس اگر لوگوں (مغرب، امریکہ اور مسلمانوں کے غدار حکمرانوں) کا سہارا نہ ہو تو یہ وجود لڑنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ اور یہ غدار حکمران تو ایسے ہیں کہ وہ یہود کی سفاکانہ جارحیت کے خلاف ایک انگلی تک بھی نہیں ہلاتے۔ چنانچہ اصل مسئلہ ان حکمرانوں میں ہے جو مسلمانوں کے علاقوں میں مسلط ہوئے بیٹھے ہیں کیونکہ وہ کافر استعمار کے وفادار ہیں اور مسلمانوں اور اسلام کے دشمن ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی اصل مصیبت ان کے یہ حکمران اور ان کی یہ وفاداریاں ہیں جو وہ کافر استعمار کے ساتھ نبھائے ہوئے ہیں۔ یہ حکمران انہی کفار کے احکامات کی بجاآوری کرتے ہیں اور ہر اس کام سے رکے رہتے ہیں جس کے لئے وہ کفار انہیں منع کر دیں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان حکمرانوں کی اطاعت اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ ہوتی اور وہ اللہ کی شریعت کا نفاذ کرتے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں جہاد کرتے تا کہ اسلام اور مسلمانوں کی عزت ووقار بلند ہوتا اور کفر اور کفار ذلیل و رسوا ہوتے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

”اور اس روز مؤمنین اللہ کی مدد سے خوش ہو جائیں گے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے اور وہ غالب نہایت مہربان ہے“  ]الروم؛ 30:[4-5

 

15ذوالقعدۃ، 1447ھ

بمطابق، 02 مئی، 2026ء

 

 

 

 

Last modified onمنگل, 05 مئی 2026 15:42

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک