السبت، 09 ربيع الأول 1448| 2026/08/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال و جواب

 

عقل کے طور پر قلب (دل) کے معانی

 

(عربی سے ترجمہ)

 

محمد امین کے لئے

 

 

========================

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہمارے محترم امیر ! میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو کہ ذیل میں درج ہے :

قرآن اور حدیث دونوں میں قلب اور قلوب کے الفاظ کثرت سے غور و فکر کرنے کے حوالے سے استعمال ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر:

 

﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا﴾

’’پس کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ عقل سے کام لیتے؟“ [سورۃ الحج؛ 22:46]

 

تو ایسا کیوں ہے؟ کیا غور وفکر کرنے اور سوچنے کا مرکز دماغ نہیں ہے، اس کے ساتھ ان حقائق کا موجود ہونا بھی ضروری ہے جو حواس کے ذریعے ادراک کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے حزب میں پڑھا ہے؟ درحقیقت سائنسی طور پر بھی یہی بات ثابت ہے۔ لہٰذا غوروفکر کرنے اور سوچنے کے عمل کے حوالے سے قلب اور قلوب کے الفاظ کے معنی کو کس طرح سے سمجھا جائے؟

 

مجھے آپ کے حسنِ توجہ اور عنایت پر مکمل بھروسا ہے اور امید ہے کہ آپ اس سوال پر نظر فرمائیں گے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کو برکت عطا فرمائے اور آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

 

*جواب:*

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

لفظ قلب (دل) سے مراد وہ معروف عضو ہے جو بدن کے اندر موجود ہے، لیکن یہ اس لفظ کا واحد معنی نہیں ہے؛ بلکہ اس کے دیگر معانی بھی ہیں، جن میں عقل بھی شامل ہے اور اس کا تعین سیاق و سباق کے ذریعے کیا جاتا ہے :

 

1-   ابن منظور الافریقی المصری نے لسان العرب میں لکھا ہے:(والقَلْبُ مُضْغةٌ من الفُؤَاد مُعَلَّقةٌ بالنِّياطِ ابن سيده القَلْبُ الفُؤَاد مُذَكَّر صَرَّح بذلك اللحياني والجمع أَقْلُبٌ وقُلوبٌ الأُولى عن اللحياني وقوله تعالى نَزَلَ به الرُّوحُ الأَمِينُ على قَلْبك قال الزجاج معناه نَزَلَ به جبريلُ عليه السلام عليك فَوَعاه قَلْبُك وثَبَتَ فلا تَنْساه أَبداً وقد يعبر بالقَلْبِ عن العَقْل قال الفراءُ في قوله تعالى إِن في ذلك لَذِكْرى لمن كان له قَلْبٌ أَي عَقْلٌ قال الفراءُ وجائزٌ في العربية أَن تقولَ ما لَكَ قَلْبٌ وما قَلْبُك معك تقول ما عَقْلُكَ معكَ وأَين ذَهَبَ قَلْبُك؟ أَي أَين ذهب عَقْلُكَ؟ وقال غيره لمن كان له قَلْبٌ أَي تَفَهُّمٌ وتَدَبُّرٌ وَرُوي عن النبي ﷺ أَنه قال أَتاكم أَهل اليَمن هم أَرَقُّ قلوباً وأَلْيَنُ أَفْئِدَةً فوَصَفَ القلوبَ بالرِّقة والأَفْئِدَةَ باللِّين وكأَنَّ القَلْبَ أَخَصُّ من الفؤَاد في الاستعمال)

 

’’قلب‘‘ فؤاد (دل) کا گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے جو نِّياطِ ( بڑی خون کی رگوں کے ساتھ) جڑا ہوا ہوتا ہے۔ ابن سیدہ نے بیان کیا کہ قلب ہی فؤاد ہے—یہ مذکر اسم ہے، جیسا کہ اللحياني نے صراحت کی ہے—اور اس کی جمع اَقْلُب اور قُلُوب ہے، اول الذکر جمع اللحياني سے منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’روح الامین اسے آپ کے قلب پر لے کر نازل ہوئے‘‘ اس کے معانی کے بارے میں الزجاجؒ نے وضاحت کی: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام اسے آپ کے پاس لے کر آئے؛ آپ کے قلب نے اسے سمجھ لیا اور محفوظ کر لیا، پس آپ اسے کبھی نہیں بھولو گے‘۔ قلب کا لفظ براہِ راست عقل کے اظہار کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ الفراءُ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’بے شک اس میں اس شخص کے لئے نصیحت ہے جس کے پاس قلب ہے‘‘ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد ’’عقل‘‘ ہے۔ فراء نے مزید کہا کہ عربی لغت میں یہ کہنا ٹھیک ہے کہ ’’تمہارے پاس تو قلب ہی نہیں ہے‘‘ یا یہ کہ ’’کیا تمہارا قلب تمہارے ساتھ ہے؟‘‘ یعنی ’’کیا تمہاری عقل تمہارے ساتھ ہے؟‘‘ یا یہ کہ ’’تمہارا قلب کہاں چلا گیا؟‘‘ یعنی ’’تمہاری عقل کہاں چلی گئی؟‘‘ بعض دوسرے اہلِ لغت نے ’’جس کے پاس قلب ہو‘‘ کا مطلب یہ بیان کیا ہے، یعنی ’’جس کے پاس فہم اور تدبر ہو‘‘۔ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں؛ وہ سب سے زیادہ نرم قلوب اور سب سے نرم أَفْئِدَةَ (دل) والے ہیں‘‘۔ چنانچہ آپ ﷺ نے قلوب کو نرم اور أَفْئِدَةَکو نرمی کے ساتھ بیان فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمال کے اعتبار سے قلب، فؤاد سے زیادہ خاص ہے‘۔

 

2-   الجواہریؒ کی تصنیف (الصحاح فی اللغۃ) میں بیان کیا گیا ہے : ….]القَلْب: الفؤاد، وقد يعبَّر به عن القلب. قال الفراء في قوله تعالى:”إنَّ في ذلك لَذِكرى لمن كانَ له قَلْبٌ“: أي عقل [

 

’’قلب : فؤاد (دل) ہے؛ اور کبھی اس کے ذریعے قلب یعنی دل (جسمانی عضو) کا اظہار بھی کیا جاتا ہے‘‘۔ فراء نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس فرمان ’’بے شک اس میں اس شخص کے لئے نصیحت ہے جس کے پاس قلب ہے‘‘ کے بارے میں کہا: ’’یعنی عقل….

 

3-   الفیروزآبادي کی تصنیف القاموس المحیط میں بیان کیا گیا ہے:

]قَلَبَه يَقْلِبُه حَوَّلَه عن وجْهِه، كأَقْلَبَه وقَلَّبَه، وأصابَ فُؤادَه، يَقْلُبُه ويَقْلِبُهُ، والشيءَ حَوَّلَه ظَهْراً لِبَطْنٍ، كقَلَّبَه.....والقَلْبُ: الفُؤادُ، أو أخَصُّ منه، والعَقْلُ، ومَحْضُ كلِّ شيءٍ... وبالضم: سِوارُ المرأة، والحَيَّةُ البَيْضاءُ،.......،[

 

’’قَلَبَه يَقْلِبُه‘‘ : اس نے اسے اس کی سمت سے پھیر دیا، جیسے ’’أَقْلَبَه‘‘ اور ’’قَلَّبَه‘‘، اور اس نے اس کے فؤاد (دل) کو ٹھیس پہنچائی، اور کسی شۓ کے بارے میں، ’’يَقْلُبُه‘‘ اور ’’يَقْلِبُهُ‘‘؛  'اس نے اسے اندر سے باہر کر دیا'، جیسے ’’قَلَّبَه‘‘….. اور القَلْبُ (دل) : تو یہ فؤاد ہے، (یا اس سے زیادہ مخصوص ہے)، یعنی عقل ہے، اور ہر چیز کا خالص اصل ہے….. اور ضمہ کے ساتھ القُلْبُ : عورت کا کنگن اور سفید سانپ ہے …….

[

مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی ، اور اللہ ہی بہتر جاننے والاہے اور نہایت حکمت والا ہے۔

 

 

آپ کا بھائی،

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

30 صفر 1448 ہجری

بمطابق 13 اگست، 2026 عیسوی

#امیر_حزب_التحریر

#Amir_Hizb_ut_Tahrir

Last modified onہفتہ, 22 اگست 2026 18:12

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک