الإثنين، 12 جمادى الأولى 1444| 2022/12/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

یوکرین میں روسی جنگ کے اثرات

 

سوال:

 

   1/10/2022 کو فرانس 24 نے یہ خبر نشر کی کہ:" یوکرینی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ  اس کی فوج  روسی فوج کا محاصرہ کرنے کے بعد ملک کے مشرق میں لیمان (دونیسٹک کے علاقے) میں داخل ہو گئی ہے۔۔۔"۔   روسی صدر  پوٹین نے یوکرین کے میدان جنگ میں بڑی  پسپائی کے بعد   بدھ کے دن  (دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار )  اپنے ملک میں فوج میں جبری بھرتی کا حکم دیا۔۔۔یورو نیوز 21/9/2022 )۔ یہ حکم یوکرین کی جانب سے جوابی حملہ کرکے  ان وسیع علاقوں کو واپس لینے کے بعدجاری ہوا جن پر روس نے قبضہ کیا تھا:"  یوکرین کے نائب وزیر دفاع نے اتوار  کے دن  الحرۃ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  یوکرین نے  روس   سے  یوکرین  کے مشرق میں ان دس ہزار مربع کلومیٹر علاقوں کو واپس  لےلیا  ہے جن پر روس نے قبضہ کیا تھا۔۔۔انہوں نے وضاحت کی کہ کیف (یوکرین کا دارالحکومت) کو مغربی ممالک سے بھرپور مدد ملی اور ہم نےملک کے مشرقی علاقے میں جوابی حملے میں کامیابی حاصل کی۔۔۔"( ہفتہ 18/9/2022 )۔

 

    اب سوال یہ ہے کہ: کیا روس واقعی عسکری لحاظ سے کمزور ہے؟ یا مغربی اسلحے کی سپلائی  ڈرامائی طور پر دوگنا ہوگئی؟کیا روس میں ریزرو فوجیوں کو جزوی طور پر متحرک کرنے سے معاملات بدل جائیں گے؟ اس کے علاوہ روس کی جانب سے  یوکرین کے چار علاقوں کو روس میں ضم کرنے کے کیا نتائج ہوں گے اگرچہ اگلے ہی دن یوکرین نے لیمان واپس لےلیا جو اس کا حصہ ہے؟ کیا روس یوکرین کے علاقوں کو روس میں ضم کرنے کے منصوبے سے پیچھے ہٹے گا؟

 

جواب:

 

  ان تازہ حقائق کی وضاحت اور ان کے اثرات  کو سمجھنے کےلیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طاقت کے توازن کو تبدیل  کرنے کا عملی اور تیز طریقہ  جنگیں ہی ہیں،  تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے،   اوریوکرین میں جنگ  پر نظر دوڑانے سے  یہ واضح ہوجاتا ہے کہ:

 

1۔ روس نے یوکرین میں جنگ  صرف دونباس کے علاقے میں روسی زبان بولنے والوں کے دفاع میں شروع نہیں کی تھی  اگرچہ وہ اس کا واویلا کرتا تھا بلکہ اس نے جنگ  کی آگ روس کے بین الاقوامی مقام  کو مضبوط کرنے کےلیے بھڑکائی۔  وہ جنگ کی آگ بھڑکا کر یورپ ،امریکہ اور نیٹو سے  سیکیورٹی  کے حوالے سے یقین دہانیاں (گارنٹیز)  چاہتا تھا،  جس میں  یوکرین کو نیٹو میں شامل نہ کرنا بھی تھا۔   روس کے یہ اہداف  جو روس کی اس سوچ کے پیداوار ہیں کہ  دنیا کے اول درجے کی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود روس  کو بین الاقوامی برادری میں اس کے شایان شان مقام نہ دیا جارہا درحقیقت   روس پر ظلم ہے۔  جنگ  شروع ہونے سے پہلے ماسکو کے  ہر بیان سے  یہ بات واضح تھی۔ اس کی تصدیق روس کی جانب سے  ان گارنٹیز پر اصرار  سے ہوتی ہے اور یہ   کہ امریکہ اور مغرب  اسے تحریری گارنٹیز دیں ۔  اس لیے  یہ بات بہت اہم ہے کہ  امریکہ  اور اس کی پیروی میں یورپ  نے  روسی جنگ کو صرف یوکرین کی سر زمین پر روسی دعویداری یا مشرقی یوکرین  میں روسی بولنے والوں کے دفاع کے طور پر نہیں دیکھا  بلکہ اسے بین الاقوامی  نظام کے خلاف بغاوت کے طور پر دیکھا۔   امریکہ اور مغرب نے جو پوزیشن اس بار اختیار کی ہے وہ 2014 میں روس کی جانب سے جزیرہ نما کریمیا کو روس میں ضم کرنے کے وقت سے مختلف تھی، یعنی اس بار انہوں نے اس کو ایک بڑے ملک کی جانب سے اُس عالمی نظام سے بغاوت کے طور پر دیکھا جس کی امریکہ تن تنہا قیادت کر رہا ہے۔

 

2۔ یہی وجہ ہے کہ روس کے خلاف امریکی اور یورپی رد عمل شدید تھا،   جبکہ روس کو اس  ردعمل کی توقع نہیں تھی  جوسیاسی حماقت کےلیے مشہور ہے۔۔۔یوں امریکہ اور یورپ نے اس پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کیں،  بیرونِ ملک اس کے اثاثے منجمد کیے، ان سب ممالک نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کیے جبکہ یورپ کو  روسی  تیل اور گیس کی  سخت ضرورت ہے۔   یورپ خاص کر جرمنی دوبارہ مسلح ہونے لگا اور امریکہ  نےیورپ کو ساتھ لے کر  یوکرین  کی عسکری مدد میں اضافہ کیا۔ روس کے یوکرین  کی جنگ میں  پھنستے ہی امریکہ نے اپنے آپ کو مغرب کےبلا شرکت غیرے قائد کے طور مزید نمایاں کیا جو اس سے قبل صدر ٹرمپ کے دور میں مشکوک ہو گیا تھا۔  اس کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں موجود بہت سارے  اختلافات کو بند کردیا۔   روسی قوت ، جو ماسکوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، کی حقیقت جنگ کے شروع میں ایسی واضح نہیں تھی جیسا کہ اب یوکرین میں داخل ہونے کے  چھ مہینے گزرنے کے بعد  واضح ہے۔  امریکہ نے یوکرین کی بتدریج عسکری مدد کی،  اوراس حوالے سے وہ ماسکو کے  ردعمل پر نظر رکھ رہا تھا ، اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ روس کی سرخ لکیریں ایک ایک کر کےگرتی چلی گئی، اور پھر امریکہ اور اس کی پیروی میں اس کے اتحادیوں نے  روس کی سرخ لکیریں روند ڈالی۔   پھر امریکہ اس سے بھی آگے بڑھ کیا مگر روس اس کو روک نہیں سکا،  ان سرخ لکیروں کو  ختم کرنے کا مقصدیوکرین کو عسکری مدد فراہم کرنا اور اس مدد میں مقدار اور معیار کے لحاظ سے اضافہ تھا، یعنی کورین کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ  دفاعی پوزیشن سے نکل کر حملے کرنے کی پوزیشن میں آجائے۔ ۔۔۔یوں امریکہ جو پہلےیوکرین کو جزیرہ کریمیا میں روس پر حملے کےلیے نہیں اکساتاتھا اب اس کو اکسانے لگا ہے۔۔۔

 

3۔ اپنی اسٹریٹجک حماقت کے ساتھ روس بھپر کر یوکرین کی زمینوں  پر قبضہ کرنے کے دوڑ پڑا، اوریوکرین پر برتری کے احساس کی وجہ سے  دارالحکومت کیف کی جانب بہت آگے تک بڑھ گیا، مگر اس پر قبضہ کرنے میں ناکام ہوکر  دونباس  کی طرف پسپا ہوا۔  مگر اس پسپائی نے روسی فوج کی بڑی کمزوری کو نمایاں کردیا۔  روس نے نہ تو اپنے طیاروں کو سامنے لاکر یوکرین کی فضاؤں کو کنٹرول کیا، نہ ہی  پیش قدمی کرنے والی اپنی فوج کو لاجسٹک(نقل وحمل) فراہم کر سکا، اپنی انٹیلی جنس کی  توقع کے برعکس یوکرینی مزاحمت سے ششدر رہ گیا۔   روسی فوج کی اس  کمزوری نے واشنگٹن کے اندر یوکرین میں روس کو شکست دینےکی امیدیں اجاگر کی۔معلوم ہوا کہ روسی صدر پوٹن کے روسی طاقت کے بارے میں بیانات ان کی فوج کی میدان جنگ میں خراب کارکردگی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔  اس زمینی حقیقت کے واضح ہونے کے بعد وہ ممالک  جو پہلے اپنے سفارتخانے بند کرکے اپنے عملے کو واپس بلا چکے تھے، انہوں نے وپاسی کا سفر اختیات کیا اور سفارت خانے دوبارہ کھول لیے، جس کے بعد  مغربی عہدیداروں کا یوکرینی دارالحکومت میں تانتا بندھ گیا۔۔۔

 

4۔  اس کے بعد امریکہ یوکرین کےلیے اپنی عسکری امداد کے اہداف کا اعلان کرنے لگا، اور ان امریکی اہداف کا اعلان ماسکو پر بجلی بن کر گرا۔ امریکہ نےمصنوعی سیاروں کے ذریعے یوکرین کےلیے انٹیلی جنس معلومات  جمع کیں اور اسے  عسکری مشورے دیے ،  یہاں تک کہ امریکی چیف آف اسٹاف  نے کہا کہ وہ  اپنے یوکرینی ہم منصب سے ہفتے میں سات بار ٹلیفونک گفتگو کرتا ہے(الجزیرہ ٹی وی ستمبر 2022 )۔  یوں ہر لحاظ سے امریکہ یوکرین کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھتاہے  مگر خود براہ راست اس میں ملوث نہیں ہورہا۔ امریکہ ہر ہفتے یوکرین کو اربوں ڈالر عسکری امداد دینے کا اعلان کرتاہے۔  جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ روس کو یوکرین میں شکست دے کر بڑے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں پرعزم ہے،  اوراب روس کو بھی  امریکہ کے اس ہدف کا ادراک ہوچکا  ہےمگر  اب بہت دیر ہو چکی ہے!

 

5۔ اسی طرح  روس کی اسٹریٹیجک کمزوری   کی نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے  یورپ کی جانب سے دن دھاڑے  یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ وہ روس سے  تیل اور گیس  کی درآمد سے جان چھڑانے کی راہ پر گامزن ہے، جنگ کے ان چھ مہینوں میں یورپ کو گیس اور تیل کی سپلائی جاری رکھی،  یعنی اس نے ان ملکوں کو تیل اور گیس کی سپلائی بند کرنے میں پہل نہیں کی جو صبح شام اس کے خلاف اپنی دشمنی کا اعلان کر رہے ہیں۔   یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ماسکو کو مال کی سخت ضرورت ہے اگرچہ وہ  یہ ڈینکیں ماراتاہے کہ  مغربی پابندیوں سے اس کی معیشت متاثر نہیں ہوئی اور روبل پابندیوں کے سامنے میں ڈٹا ہوا ہے! اگرچہ روس نے ستمبر 2022 کے اوائل میں "نورڈ  اسٹریم" گیس پائپ لائن میں دھماکے کے بعد گیس کی سپلائی منقطع کردی مگر اس نے بہت زیادہ تاخیر کی، وہ اعلان کرتا رہا کہ وہ  قابل اعتماد انرجی سپلائر ہے،  یہ تو ایک بات ہے ، جبکہ دوسری طرف یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی   دوسری لائنیں  جیسے "یامال"جو پولینڈ سے گزرتی ہے، "پروگریس "  اور " سیوز" لائنیں  جو یوکرین سے گزرتی ہیں، "ترک اسٹریم" جو ترکی سے گزرتی ہے، ان کو کھلا رکھا ،  سوائے ان جزوی لائنوں کے جن کو  پولینڈ اور یوکرین نے  کاٹ دیا ہے روس نے کوئی دوسری لائن  بند نہیں کی۔  روس کو مال کی ضرورت نے بین الاقوامی سطح پر اس  کی عزت کو پامال کیا۔   یہ عمل  جنگ سے پہلے ان کوششوں کے منافی ہے جو عالمی مقام  کو بہتر کرنے کےلیے تھیں!۔۔۔

 

6۔ اس کے علاوہ روس کو چین کے حالیہ موقف سے جھٹکا لگا جو ستمبر 2022 کے وسط میں سمرقند میں منعقد ہونے والی  شنگھائی تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقعے پر سامنے آیا ، یعنی خارکوف میں روسی ہزیمت کے فوراً بعد۔  چین کے موقف کا اظہار خود روسی صدر نے کیا اور   یوکرین جنگ کے بارے میں کہا کہ وہ "چین کے خوف اور تشویش" کو سمجھتے ہیں ۔ پوٹین نے اپنے چینی ہم منصب سے یوکرین  میں روسی جنگ شروع ہونے کے بعد ہونے والی پہلی ملاقات میں کہا کہ روس یوکرین بحران کے حوالے سے  چین کے "متوازن" موقف کی قدر کرتاہے۔( الجزیرہ 15/9/2022 )۔  یوں روس کو یہ معلوم ہوگیا کہ جس چین نے  یوکرین میں  جنگ سے ذرا  پہلے اس کے ساتھ "طویل المیعاد"  تعاون کا معاہدہ کیا تھا اب اس کا موقف "متوازن" ہے  یعنی وہ نہ روس کے ساتھ ہے نہ ہی یوکرین اور مغرب کے ساتھ ہے۔   ایسا ہی ہوا کہ  چین نے  شنگھائی سربراہی کانفرنس میں روس کے ساتھ مشترکہ بیانات اور صدر کے بیانات  میں "یوکرین" کا نام تک نہیں لیا،  بلکہ اس کی طرف اشارے کرتا رہا۔    کوئی بھی عقلمند اس بات پر شک نہیں کرسکتا کہ امریکہ نے چین کو  یوکرین جنگ میں روس کی کسی بھی قسم کی مدد کے خطرے سے خبردار کیا۔   یہ ایسا امر ہے کہ  بلاشبہ چین نے اپنی بین الاقوامی تجارت  میں خسارےکے خوف سے یہ موقف اپنایا ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے سیکیورٹی کونسل میں روس کی جانب سے یوکرین کے چار علاقوں کو ضم کرنے کے قرارد میں اس کی حمایت نہیں کی۔  فرانس 24 نے 1/10/2022 کو یہ خبر دی:" روس نے جمعہ کو  یوکرین کے چار علاقوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی مذمت میں پیش کی جانے والے  بین الاقوامی قرار داد کو سلامتی کونسل میں پاس ہونے سے روکنے کےلیے "ویٹو" کیا۔۔۔اس قرار داد کو  امریکہ اور البانیہ نے تیار کیا تھا اور دس ممالک نے اس کی حمایت کی جبکہ چار ممالک چین،ہندوستان، برازیل اور گابون نے  ووٹ نہیں ڈالا۔۔۔)۔

 

7۔ جو کچھ کہا گیا اس کی روشنی میں  یوکرین پر روسی حملہ جس کے ذریعے روس  یوکرین کو اپنی شرائط کے سامنے نہیں جھکا سکا، روس کی خطرناک عسکری کمزوری کو ظاہر کرتاہے۔   یہ امریکہ اور مغرب کی جانب سے یوکرین کی بڑی  اور اعلیٰ عسکری مدد کو بھی ظاہر کرتاہے،  جس میں سے کچھ کا اعلان کیا گیا اور کچھ کو مخفی رکھا گیا ، اور  چونکہ روس نے یہ نئی حقائق دیکھ لیے ہیں  جن کی وہ جنگ سے پہلے توقع نہیں کررہا تھا، اس لیے لاوروف نے 12/9/2022 کو کہا کہ  روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات کو مسترد  نہیں کرتاہے۔(الجزیرہ 12/9/2022 ) ، مگر اسے اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ  روس کی جانب سے  جنگ کے شروع کے دنوں میں جو سرنڈر کی  شرائط یوکرین کی میز پر رکھی گئی تھیں، وہ  ملیامیٹ ہوچکی ہیں۔   ان روسی شرائط کو دوبارہ یوکرین کےسامنے رکھنے   کی اس کے سوا کوئی امید نہیں کہ روس  ایٹمی اسلحہ استعمال کرے۔   یہ روس کا آخری ممکنہ کارڈ ہو سکتاہے،  مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ایٹمی اسلحے کا استعمال  امریکہ کو کسی نہ کسی شکل میں جنگ میں کھینچ لائے گا،  جب روس یوکرین کی فوج کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتی جس کو امریکی امداد مل رہی ہے تو پھر امریکہ کے جنگ میں کودجانے کے بعد وہ کیسے جیت سکتاہے۔   یوں یوکرین پر حملے کے بعد روس "شش وپنج" کی صورت حال سے دوچار ہے۔

 

8۔ روس نے ان تمام خطروں کو بھانپ لیا ہے، اس کے صدر نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے چنانچہ روسی صدر ولادی میر پوٹن نے جزوی طور پر ریزرو فوج کو حرکت میں لانے کا اعلان کیا، اور اپنے ملک کے ایٹمی خطرے سے دوچار ہونے کی طرف اشارہ کیا۔( الجزیرہ نیٹ 21/9/ 2022 )۔  اسی طرح   لوگانسک، دونیتسک، خیرسون اور زاپوریزحزیحا  کے علاقوں کے روسی حمایت یافتہ نمائندوں نے روس سے الحاق کےلیے   23 اور 27 ستمبر  کو ریفرنڈم کا اعلان  کیا۔ (اناتولیہ نیوز ایجنسی ترکی، 21/9/2022 ) ۔۔۔پھر  ریفرنڈم ہو بھی گیا  اور یہ علاقے ضم ہو گئے۔۔۔الجزیرہ نیٹ نے 30/9/2022 کو  یہ خبر نشر کی: روسی صدر پوٹن نے  اعلان کیا ہے کہ لوگانسک، دونیتسک، زاپوریزحزیحا اور خیر سون اب  روس کے علاقے ہیں اور صدر نے اپنے طویل خطاب میں کہا کہ عالمی نظام پر مغرب کا کنٹرول ہے جبکہ یوکرینی صدر زیلینسکی نے روسی اقدام کے جواب میں "فیصلہ کن قدم" اٹھانے کا اعلان کیا۔  اس کے باوجود یوکرینی فوج  نےمذکورہ چار علاقوں کے اندر  عسکری کارروائی جاری رکھی۔۔۔فرانس 24 نیٹ  میں 1/10/2022 کو یہ خبر شائع کی گئی کہ : یوکرینی  فوج کے ترجمان نے  اعلان کیا کہ اس کی فوج  نے ماسکو کےلیے انتہائی اہمیت کے علاقے میں روسی فوج کا محاصرہ کرنے کے بعد ملک کے مشرق میں لیمان کے علاقے میں داخل ہوئی  جبکہ روس نے اعتراف کیا کہ  لڑائی جاری ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ  نکل آئے ہیں۔   یہ ماسکو کی جانب سےسیاسی دباو کے بعد ہوا  جب روسی صدر  پوٹن نے جمعہ کو یوکرین کے چار علاقوں کو روس میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔۔۔ یوکرینی وزارت دفاع نے ٹوئیٹ کیا کہ، "  یوکرینی ائراسٹرائک فورسز دونیتسک کے علاقے لیمان میں داخل ہوچکی ہیں) اس سے کچھ دیر پہلے یوکرائنی فوج نے کہا کہ اس نے دونیستک میں واقع   اس علاقے میں  ہزاروں روسی فوجیوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے جس کو روس نے جمعہ کے دن ضم کرلیا تھا"۔ 

 

9۔ جو کچھاب تک ہوا، اس کے بعد روسی موقف کو باریک بینی سے دیکھنے سےیہ واضح ہوجاتاہے کہ: 

 

ا۔ جیسا کہ تاریخ میں ہمیشہ روس کی ذہنیت رہی ہےکہ  روس  زمینی کامیابی چاہتاہے اور کسی بھی قیمت پر اس کی حفاظت چاہتاہے۔ اسی لیے جن علاقوں پر  کلی یا جزوی قبضہ کیا ہوا ہے ان میں ریفرنڈم کروا کر ان کو روس میں ضم کرہا ہے،  اس کو ایک امرواقعہ بنارہا ہے۔ روس یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ نئے علاقے ( لوگانسک، دونیتسک، زاپوریزحزیحا اور خیرسون) روسی سرزمین ہے اور ان پر حملہ روس پر حملہ ہے، ان کے دفاع کےلیے ممکنہ طور پر ایٹمی اسلحے کے استعمال کی ضرورت ہوسکتی ہے  جو کہ بقول روس کے یہ"عسکری ایٹمی ڈاکٹرائن" ہے، یعنی وہ امریکہ اور یورپی ممالک خوفزدہ کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ روسی سرزمین پر حملے کےلیے  یوکرینی فوج کی مدد  نہ کریں ،اور ساتھ ہی  یوکرینی فوج کو بھی خوفزدہ کردیں۔ یہ سب کچھ روسی فوج کی کمزوری پر دلالت کرتاہے کہ وہ  یوکرین میں ناکامی کے بعد ایٹمی اسلحے کی نمائش پر مجبور ہوا ہے اگرچہ یہ   جنگوں میں ایٹمی اسلحے کے استعمال کےممنوع ہونے  کے عالمی معاہدے  کی خلاف ورزی ہے۔۔۔

 

ب۔  تین لاکھ ریزرو فوج کو جزوی طور پر حرکت میں لانے  کا اعلان جس کے ذریعے تین لاکھ سپاہیوں کا نام لکھا جارہا ہے، شاید اس سے بھی زیادہ کا نام لکھا جائے، یہ سب بھی  روسی فوج کی کمزوری پر بلواسطہ دلالت کرتاہے کہ وہ یوکرین میں روسی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، وہاں ہونے والے جانی نقصان نے اس کو ریزرو فوج  کو حرکت میں لانے پرمجبور کیا ،  اس کے باوجود روس واویلا کر رہا ہے کہ وہ   جنگ نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ محض ایک   خاص عسکری آپریشن ہے۔

 

10۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یوکرین کی جنگ میں مزید شدت آئے گی  جس کے اردگرد بہت خطرات ہوں گے۔ اگر روس نے اپنی عزت و وقاردوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو   وہ  آنے والے دنوں میں یوکرین میں   ہر خشک وترکو جلاکر راکھ کردے گا، یہ بھی تب ہے اگر وہ ایسا کرنے کی طاقت  اور ارادہ رکھتاہو، جبکہ بہت سی نشانیاں اس کے برخلاف ہیں،  اس کے پاس صلاحیت اورارادے کا فقدان ہے۔  روس نے وقت ہاتھ سے نکلنے کے بعد  یہ ادراک کر لیا ہے کہ اس کو  یوکرین کے محاذ پرامریکہ اور یورپی ممالک کا سامنا ہے، اگرچہ یورپی ممالک نے کسی حد تک روس کے لیے اپنا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا ہے مگر  امریکہ نے روس کے قدموں تلے سے قالین کھینچ لیا ہے۔ یورپی ممالک نےاس سال کے اختتام تک روسی تیل سےدستبردار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور  اس کے بعد روسی گیس سے بھی، اس سب کی وجہ سے یورپی ممالک روسی چیلنج  کا بہت شدت سے مقابلہ کررہے ہیں، یہ جرمنوں کی جانب سے روس کا سامنا کرنے اور جرمنی کے مسلح ہونے سے واضح ہے۔  روس  یوکرینی علاقوں میں ریفرنڈم  اور ان کو روس میں ضم کرکے  میدان میں کامیابیوں کو یقینی بنانا چاہتاہے تاکہ سب یہ تسلیم کریں،  وہ ان علاقوں کی حفاظت کےلیے ایٹمی اسلحے کے استعمال  کے خوف کو قائم رکھنا چاہتاہے،  مگر مغرب نے اس کےریفرنڈم کو مسترد کیا اور یوکرین کی عسکری مدد پر اصرار کیا،  بلکہ یوکرین کو زیادہ جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کیا،  اور اس طرح روسی پریشانی  میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 

11۔ جہاں تک ریزروز کو حرکت میں لانے کا تعلق ہے ،عسکری ماہرین کے مطابق  غیر تربیت یافتہ ریزرو فوج کو حرکت میں لانے سے روسی فوج کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، روسی فوج کی کمزوری کا معاملہ   ایسا گھمبیر ہے کہ جس کو تعداد میں اضافہ کرکے کم نہیں کیا جا سکتا۔  یہ قیادت کا مسئلہ اور آلات کی عدم دستیابی کا مسئلہ ہے جو روس میں میسر نہیں ہیں۔  اگرچہ  روس نے  اپنے عسکری فیکٹریوں اور فوج کےلیے عسکری پیداوار کو  ایسے بھر پور طریقے سے متحرک کیا ہوا ہے  کہ گویا عالمی جنگ لڑ رہا ہے، لیکن پھر بھی یہ فیصلہ کن نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ  اور یورپی ممالک  یوکرینی فوج  کو ہر وہ اسلحہ فراہم کر رہے ہیں جو اس کےلیے ضروری ہے، اور  اگر یوکرین روسی فوج  کو بھاری نقصان  پہنچانے کے سلسلے کو جاری رکھتا ہے  تو روس کے اندر سے جنگ روکنے کےلیے کریملن پر دباؤ میں اضافہ ہوجائےگا۔ بحر بال ٹیک میں روسی گیس پائپ لائن نورڈ اسٹریم میں میں دھماکوں سے  اس دباؤ میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں سستی روسی  قدرتی گیس کے حوالے سے یورپی امیدیں ختم ہوجائیں گی۔ اور   اس سب کی وجہ سے روس کو یورپی کی دشمنی میں اضافے کا سامنا ہوگا اور وہ یوکرینی فوج کی مدد میں اضافہ کریں گے  اور سستی روسی گیس کےلیے روس کے ساتھ صلح کےلیے یورپ میں اٹھنے والی آوازیں مزید کمزور ہوجائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی موقف میں پسپائی  سے بھی روس کے اس احساس میں اضافہ ہوا ہے کہ  امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں میدان میں وہ تنہا ہے، یعنی چین  بڑی حد تک روس کی مدد سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔   ان سب باتوں سے اندرونی طور کریملن پر تنقید میں اضافہ ہوگا  کہ اس کے اندازے غلط تھے، جس سے روس مزید حیران وپریشان ہوگا۔

 

12۔  جہاں تک روسی  ایٹمی دھمکیوں کی بات ہے تو پہلے بات تو یہ ہے  اس  دھمکی کے پیچھے عملی ارادہ نہیں کیونکہ مغربی انٹیلی جنس نے ابھی تک روسی ایٹمی قوت میں کوئی  حرکت نہیں دیکھی ہے اس لیے  مغرب کو یہ یقین ہے کہ  پوٹن عملی طور پر ایٹمی طاقت استعمال کرنے کی بجائے صرف دھمکیاں دے کر ڈرانے کی کوشش کر رہاہے۔ چونکہ امریکہ اور یورپی ممالک نے  روسی ایٹمی طاقت سے مرعوبیت نہیں دکھائی اگرچہ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ان دھمکیوں کو سنجیدہ لے رہے ہیں،  شاید اس لیے بھی کہ جنگ کا محاذ یوکرین   ہے مغرب نہیں۔   اس کے باوجود امریکہ نے کہا ہے کہ وہ روس کی جانب سے یوکرین میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا جواب دے گا۔  امریکہ نے اگر  روس اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ کو روکنے کےلیے روایتی ہتھیاروں سے بھی جواب دیا تو روس   اس آخری  دفاعی اسلحے سے بھی محروم ہوجائےگا  جو اس کے پاس ہے اور اس کا یہ  اسلحہ تباہی  جنگ کے بعد بھی  اس کےلیے مصیبت بن جائے گا۔

 

13۔  جہاں تک روس کی جانب سے مذکورہ علاقوں کو ضم کرنے سے رجوع  کرنےکی بات ہے جیسا کہ سوال میں آیاہے تو اس کا مطلب ہے بین الاقوامی مقام   سے گرنا اور اس کے اثرورسوخ کا خاتمہ  جو کہ روسی قیادت کےلیے بہت گراں معاملہ ہے۔   اس لیے توقع اس بات کی ہے کہ روس  ان چار علاقوں کو ضم کرنے پر ڈٹا رہے گا  یعنی ان علاقوں کی سرحدوں پر جن کو ضم کرنے کےلیے  ریفرنڈم  کیا گیا اور اس کے علاوہ علاقوں کو بھی ضم کرنے کی کوشش کرے گا جو خار کیف میں  اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔  اس سے روسی صدر اپنی قوم کے سامنے" طاقتور" نظر آئے گا کہ اس نے زمین پر روس کےلیے  نئی کامیابیاں حاصل کیں ہیں  جیسا کہ 2014 میں  جزیرہ نما کریمیا کو حاصل کیاتھا۔   اگریہ ہو بھی گیا تو  یہ اس ریاست کےلیے بہت چھوٹا ہدف ہوگا  جو اپنے آپ کو بڑی طاقت کہتی ہے جس نے  مختصر وقت میں پورے یوکرین کو نگلنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اور مغربی ممالک   روس کی جانب سے ہتھیائے گئے ان علاقوں کو واپس لینے کےلیے یوکرین کی حوصلہ افزائی  اور اس کی فوج کی مدد کر رہے ہیں۔  ایک طرف مغرب کی جانب سے یوکرین کی فوجی مدد  تو دوسری طرف روس کی جانب سے ریزرو فوج کو حرکت میں لانے  سے  اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یوکرین میں میدان کارزار گرم رہے گا،  اور یہ  جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ روس کی جانب سے  ایٹمی اسلحہ استعمال کیے بغیر جنگ جیتنے کے امکانات کم ہیں  اس لیے یوکرین جنگ دنیا کےلیے خطرات کے مزید دروازے کھول سکتی ہے۔۔۔ چونکہ روسی وزیر خارجہ لاو روف  کہہ رہا ہے کہ روس مذاکرات سے انکار نہیں کر رہاہے  مگر امریکہ اور اس کے ساتھ خاص طور پر  برطانیہ اس عزم کا  اظہار کر رہے ہیں کہ یوکرین  وہ میدان ہے جہاں روس کو پھنسا کر بڑے ممالک کی فہرست سے باہر کیا جائے۔ ارادوں کی اس کشمکش میں یوکرین کے میدان  میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے اور معاملات مکمل طور پر الٹ پلٹ ہو سکتے ہیں۔

 

14۔ آخر میں آج دنیا کے بڑے ممالک اپنے وحشیانہ لالچ کی وجہ سے دست وگریبان ہیں اور  ہر قسم کی انسانی اور اخلاقی اقدار سے محروم ہیں۔  اگر ان کا ہدف پورا ہوتا ہو تو ان کےلیے ظلم عدل ہے چاہے اس سے دوسروں کو نقصان پہنچے،  چاہے وہ سرتاپا شر ہو۔  ان ممالک نے زمین کو فساد سے بھردیاہے۔ دنیا ان کے زوال اور اللہ  رب اللعالمین کی مدد اور خلافت کی جدوجہد کرنے والوں کی محنت سے نبوت کے نقش قدم پر خلافت راشدہ کے دوبارہ قیام سے ہی بہتر ہو سکتی ہے

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

"اس دن مؤمن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہی جس کی چاہتاہے مدد کرتا ہے وہی غالب اور رحم والا ہے۔"(الروم، 5-4)

 

6 ربیع الاول 1444 ہجری

2/10/2022 

Last modified onجمعہ, 14 اکتوبر 2022 13:47

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک