الجمعة، 14 ذو القعدة 1442| 2021/06/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
قرغیزستان

ہجری تاریخ    25 من ذي القعدة 1438هـ شمارہ نمبر: 02/1438
عیسوی تاریخ     جمعرات, 17 اگست 2017 م

ملک میں موجود اسلامی فضاء مسلمانوں نے قائم کی ہے:

کیا یہ اللہ کی طرف سے ایک انعام نہیں ہے جس کی علماء کو لازمی حفاظت کرنی چاہیئے؟!

 

قرغیزستان میں صدارتی انتخابات 2017 کے اواخر میں منعقد کیے جائیں گے۔ اس مرتبہ انتخابات ملک میں سخت سیاسی تناؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ باوجود اس بات کے کہ دستور اتامباییف کو آئندہ اقتدار میں ایک اور مدت کی اجازت نہیں دیتا، وہ اپنے ساتھیوں کو اقتدار میں رکھنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ قرغیز اسٹیبلشمنٹ میں سے تقریباً کوئی بھی نہیں ہے جو صدر اتامباییف کی حمایت کرتا ہو۔ البتہ اتامباییف طاقت کی لگام کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے ریاستی انتظامیہ، عدالت، سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والی وزارتوں کے ذریعے کوشش کر رہا ہے۔ قرغیزستان کے سیاسی اداکار طاقت کی دوڑ میں اسلامی ماحول کے ذریعے جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سیاسی اداکار مسلمانوں کے دل جیتنے کے لئے مسلم قائدین، یعنی علماء اور امام حضرات کو اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی کمیونٹی کے بااثر افراد کو استعمال کرنے کی کوشش کرہے ہیں۔ 

 

لہٰذا ہم مسلمانوں کے درمیان موجود علماء اور بااثر افراد کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں اور مسلمانوں کو ان سیاسی نعروں میں کفر کے ساتھیوں کے ساتھ نہ جڑنے دیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ہمارے حالیہ صدارتی انتخابات ملک میں حالات کو کشیدہ کر دیں۔ سیکیورٹی اداروں  نے پہلے ہی مسلمانوں کی طرف سےمبینہ تخریبی کاروائیوں کی تشہیر کے ذریعے بے چینی پھیلانا شروع کر دی ہے۔ اس طرح وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  اپوزیشن کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسلامی جماعتوں یا افراد کے نام پر غداری پر مبنی کچھ کاروائیاں کروا سکتے ہیں اگر حالات زیادہ کشیدہ ہو جائیں۔  البتہ کچھ اسلامی قائدین اس کو مسترد کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو الیکشن میں ایک یا  دوسری پارٹی کی حمایت کرنے کے لئے پکار رہے ہیں۔  تمام امیدوار کے منشور  کی بنیاد غیر اسلامی ہے۔ ان میں سے کچھ ہمیشہ کی طرح الیکشن سے پہلے اپنے آپ کو اسلامی فرد کے طور پر ظاہر کرنے کے لئے جزوی عبادات شروع کر دیتے ہیں۔

 

ہمارے علماء امت سے مخاطب ہو کر یہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک ایسے امیدوار کو منتخب کرنا فرض ہے جو ’’اسلامی‘‘ ہو۔ یہ علماء اس اصول پر بات کرتے ہیں: ’’ایک مسلمان کو اپنی دھرتی، مذہب، معاشرے اور قوم اور اس کی ترقی سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیئے‘‘۔ ظاہر ہے کہ یہ موقف  صحیح ہے۔ یہ ایک مسلمان کے لئے گناہ ہے کہ وہ جس ماحول میں رہتا ہے اس کی ترقی سے لاتعلق ہو جائے۔ البتہ اسلامی محرک کو ہر چیز کی ترقی پر لازمی حاوی ہونا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں تبدیلی کے لئے حالات  یا واقعات سے اخذ نہیں کرنا چاہیے۔عوامی زندگی میں کسی بھی تبدیلی کو شریعت کی بنیاد پر حل ہونا چاہیے۔ قرغیزستان میں صدارتی انتخابات  کفریہ اصولوں پرمنعقد کئے جا رہے ہیں اور اس کو سمجھنے کے لئے کسی کو اسلامی عالم ہونے کی ضرورت نہیں۔وہ تمام جماعتیں اور افراد جن کو ووٹ دینے کے لئے ہمارے علماء پکارتے ہیں، وہ جمہوری اصولوں پر مبنی اپنے منشور کے ساتھ الیکشن لڑتے ہیں جو ’’ریاست سے مذہب کی علیحدگی ‘‘ کے عقیدے سے نکلتے ہیں۔ اگر یہ امیدوار کہہ بھی دیں کہ وہ اسلام کو بنیاد بنائیں گے، تب بھی ان کے منصوبے کفار کے ساتھ مفاہمتی اصولوں پر بنائے گئے ہیں۔ اللہ نے علماء اور بااثر اسلامی افراد کو امت کی قیادت کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ اس نعمت کا غلط استعمال ایک عظیم گناہ ہے۔انہیں ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جواب دینا ہوگا جو ان کی اتباع کریں گے۔

 

عزیز علماء!  آپ مسلمانوں کو معمولی اور وقتی فائدے کے لئے مختلف  جماعتوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو اسلام پر صحیح یقین نہیں رکھتیں۔ اور آپ اپنے اعمال کی توجیہہ پیش کرنے اور اپنا اخلاص ثابت کرنے کے لئے ان اسلامی اصطلاحات اور جواز کو استعمال کر رہے ہیں جو اسلامی فقہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ تاریخ آپ کو مسلمانوں کا غلط استعمال کر کے انہیں مکروہ سیاسی کھیل میں شامل کرنے پر سیاہ باب میں یاد کرے گی۔ ظاہر ہے کہ آپ کہیں گے کہ ’’ہمیں لازمی اپنے اسلامی مفادات کا تحفظ کرنا ہے چاہے کفر کے نظام میں رہ کر کریں، جبکہ آپ اس سے لاتعلق ہونے کی طرف بلا رہے ہیں‘‘۔  لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ہم حرکت کی طرف بلا رہے ہیں۔ البتہ اسلامی معاشرے کی ترقی کفر کے بتائے ہوئے طریقے یا اس کے ساتھ تعاون کے ذریعے نہیں ہو گی اور نہ ان اصولوں پر ہو گی جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھتے، لہٰذا یہ ایک حکومت نہیں بنا سکتے اور نہ ہی نظام اور قوانین کو اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ اصول کہ ہم اپنی زندگی کے خود مالک ہیں، جمہوری عقیدے سے نکلتا ہے جبکہ ہمارا یمان ہے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور صرف وہی طاقت کا منبع ہے۔ اس نے اپنا دین لوگوں تک پہنچایا اور ہمیں حکم دیا کہ اس کے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ لہٰذا ایک مسلمان صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور صرف اسی سے مدد کی امید رکھتا ہے۔ اور ایک مسلمان کوئی بھی کام کرے تو لازمی ہے کہ اللہ کے احکام کے مطابق کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے اسی قانون کی پیروی کی اور کفر کے ساتھ مفاہمت نہیں کی اور سخت مشکلات میں بھی دعوت کے مشن کو ہزار سال تک اٹھائے رکھا۔ ان میں سے کسی نے بھی آسان راستے تلاش نہیں کیے۔ یہ ایمان نہیں ہے کہ لچک کے ساتھ کفر سے تعاون اور مفاہمت کی جائے یعنی اسلام کو کفر کے ساتھ ملانے پر راضی ہوا جائے۔

 

لہذا ہم حزب التحریر   قرغیزستان کی طرف سے اپنے  علماء کو پکارتے ہیں کہ کفار کی سازشوں سے محتاط رہیں۔ اس بنیاد پر کہ ہم ایک اسلامی سیاسی جماعت ہیں، ہم آپ کو اسلام کے سیاسی مقام سے مخاطب کریں گے۔ ہم اسلام کے علم اور شریعت کے قوانین کی بنیاد پر امت کے نمائندوں کو آگاہ کرنے کی کوششوں پر آپ کو سراہتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ ہم میں ہر ایک کو لازمی دوسری جماعت کو بھی اسلامی قوانین کے دائرے میں رکھنا ہے۔ کیونکہ ہر اسلامی رہنما اہم ہے۔ کفار اس حقیقت کو جانتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں تقسیم کریں اور ہمارے درمیان اختلاف کے بیج بو کر علماء کو اپنا طرفدار بنا لیں۔ اسلام کو بلند کرنے کے لئے ہر اسلامی سرگرمی اہم ہے۔ اس حکمت عملی پر مبنی سرگرمیوں سے اسلام کو عالمی فتح حاصل ہو گی انشاءاللہ۔

 

صدر میڈیا آفس/حزب التحریر

قرغیزستان

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
قرغیزستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://hizb-turkiston.net
E-Mail: webmaster@hizb-turkiston.net

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک