الجمعة، 13 محرّم 1446| 2024/07/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    14 من ذي الحجة 1445هـ شمارہ نمبر: 47 / 1445
عیسوی تاریخ     جمعرات, 20 جون 2024 م

پریس ریلیز

حزب التحریر کسی بھی  پیمانے سے عسکری گروہ نہیں ہے۔ یہ اسلامی ریاست خلافت کے قیام کے لیے مسلح افواج سے نصرۃ طلب کرکے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہے

 

ہم یہ وضاحتی پریس ریلیز حزب التحریر کے بارے میں "حزب التحریر کی تشکیل"( The making of HuT) کے عنوان سے کالم میں سنگین غلطیوں کے حوالے سے ڈان کی ادارتی ٹیم کے نام لکھ رہے ہیں۔ یہ مضمون 16 جون 2024 کو شائع ہوا تھا، اور اسے محمد علی باباخیل نے لکھا تھا، جو  "پاکستان: انتہا پسندی اور امن کے درمیان"  نامی کتاب کے مصنف ہیں ۔ ہم یہ پریس ریلیز آپ کے نام اس لئے لکھ رہے ہیں کیونکہ آپ کے اشاعتی ادارے کا پاکستان کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اثر ہے، اور اثر و رسوخ رکھنے والوں میں بہت سے ایسےلوگ موجود ہیں، جو حزب التحریر اور خلافت راشدہ کے دوبارہ قیام کے مطالبے پر غور کر رہے ہیں۔ ہماری جانب سے یہ تحریر لکھنے کا مقصد آپ سے یہ مطالبہ کرنا ہے کہ آپ صحافتی اخلاقیات اور سب سے بڑھ کر خبروں کی تصدیق کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنیاد پر ہماری وضاحت شائع کریں۔

 

ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ مذکورہ آرٹیکل میں درج ان تین غلط، خطرناک اور گمراہ کن بیانات کو واپس لیں؛ "حزب التحریر نے اپنے مذہبی پیغام کو پھیلانے کے لیے جہاد کی وکالت کی"، " یہ ایک ایسا موقف ہے جو اسے دیگر عسکریت پسند گروپوں سے ممتاز کرتی ہے" اور "حزب التحریر نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے تین مراحل کی نشاندہی کی: خفیہ دعوت، کھلی دعوت، اور جہاد"۔ حزب التحریر   نہ تو اپنے اہداف کے حصول کے لیے اور اور نہ ہی اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیےجہاد کو طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ حزب کسی بھی عسکریت پسند گروپ سے زیادہ یا کم نہیں، بلکہ کسی بھی پیمانے سے عسکری جماعت نہیں ہے۔ یہ خلافت کے قیام کیلئے عسکریت کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نبوی طریقہ کار نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں اپنے آپ کو صرف زبانی دعوت تک محدود رکھا۔ آپﷺنے وہاں کوئی جسمانی، مادی یا عسکری قوت استعمال نہیں کی۔ جب آپ کو عقبہ کی دوسری بیعت یعنی نصرۃ کی بیعت دینے والے لوگوں نے آپﷺ سے اہلِ منیٰ (قریش) سے جنگ کرنے کی اجازت چاہی، جو اس وقت مشرک تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لم نؤمر بذلك: "ہمیں ابھی تک جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ "

 

سیرت النبی ﷺ کے گہرے مطالعہ کے نتیجے میں، حزب التحریر یہ سمجھتی ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کا نبوی طریقہ خود ہتھیار اٹھانا نہیں ہے بلکہ اہل اقتدار سے نصرۃ (مادی حمایت) حاصل کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے اپنے آپ کو عرب قبائل کے جنگجوؤں کے سامنے پیش کیا۔ بار بار انکار کے بعد، مدینہ کے دو قبیلوں ،اوس اور خزرج کے فوجی کمانڈروں نے تحفظ اور بچاؤ کی بنیاد پر رسول اللہﷺ کوبیعت دی۔ انہوں نے بیعت کے ذریعے غیر مشروط طور پر اپنی طاقت اور قوت آپ ﷺ کے سپرد کی۔ عقبہ کی دوسری بیعت کے بعد ہی رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ انصار کے فوجی کمانڈروں نے مدینہ کو گھیرے میں لے رکھا تھا، جب آپ ﷺ خود مدینہ میں ایک حکمران کے طور پر داخل ہوئے اور ایک اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی۔

 

حزب التحریر جہاد کو ایک مقدس مذہبی فریضہ سمجھتی ہے جو خلیفہ کی قیادت میں مسلم فوج انجام دیتی ہے۔ حزب اس وقت پاکستان کی مسلح افواج اور تمام مسلم ممالک کی مسلح افواج سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ موجودہ لبرل ورلڈ آرڈر کی طرف سے ان پر عائد پابندیوں کو مسترد کریں جس نے مسلم افواج کو قومی سرحدوں کے دفاع تک محدود کررکھا ہے جو کہ مسلم دنیا پر مسلط استعمار، مغرب کی میراث ہے۔ مسلم افواج کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ متحرک ہوں، فلسطین کے مسلمانوں کو آزاد کرائیں، صیہونی وجود کو نابود کریں اور فلسطین کی مسلم سرزمین کو امت مسلمہ کے لیے دوبارہ حاصل کریں۔ ہماری مہم #ArmiesToAlAqsa نے بین الاقوامی طاقتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرپٹ برطانوی حکومت نے برطانیہ میں حزب التحریر پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ حزب اس صہیونی منصوبے کو، جسے برطانیہ نے اعلانِ بالفور کے ذریعے شروع کیا تھا، ختم کرنے کے لیے مسلم فوجوں کو پکار رہی ہے۔

 

شاید یہ ہمارا اس بین الاقوامی آرڈر کو مسترد کرنے کی مہم ہے، جس کے باعث مصنف نے حزب کو انتہا پسند قرار دیا ہے۔ یہ  وہ بین الاقوامی آرڈر ہے جو مغرب اور اس کے اتحادیوں کو تو مسلم امت کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن قومی حدود سے باہر مسلم فوجوں کو متحرک کرنے کو مسترد کرتا ہے۔ حزب ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ ہم مسلم دنیا میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں اور امت کے مفادات بشمول ان کی جان، زمین، مال اور عقیدے کا تحفظ چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم صرف اسلامی شریعت کے پابند ہیں۔

 

ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں گے اور ہمارا نقطہ نظر شائع کرنے کے لیے اپنے مذہبی فریضے کی پابندی کریں گے تاکہ حقائق آپ کے قارئین کے سامنے درست طریقے سے پیش کیے جاسکیں۔ مغرب اور اسلام کے درمیان جنگ میں مسلم گلی کوچوں میں واضح اور بالواسطہ طور پر خلافت کے دوبارہ قیام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اب یہ مسلم اشرافیہ پر ہے، بشمول اس کے دانشوروں کے، کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ اس جنگ میں کس جانب  ہیں۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک