الأحد، 04 شوال 1442| 2021/05/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    4 من رمــضان المبارك 1442هـ شمارہ نمبر: No: 1442 AH / 031
عیسوی تاریخ     جمعہ, 16 اپریل 2021 م

پریس ریلیز

حزب التحریر کے اراکین روشنی کے مینار ہیں، اور روسی حکام اُن پر ظلم اور تشدد کرتے ہیں۔

یہ طرز عمل ہمیں فاشزم اور نازی ازم کی یاد دلاتا ہے!

 

          2021 کے آغاز سے ، روس میں فیڈرل پینٹینٹریری سروس (FSIN) کے تہہ خانوں کے اندر ہونے والے وحشیانہ اذیت کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے آچکی ہیں۔ 23 فروری 2021 کو ، نووایا گزٹا(Novaya Gazeta) نے تشدد کی ویڈیو فوٹیج شائع کی۔ اس فوٹیج میں 2017 میں یاروسلاول(Yaroslavl) جیل میں دو قیدیوں پر کیے جانے والے تشددکی ویڈیو بھی شامل تھی ، جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا عیسائی تھا۔

 

     ایک ویڈیو میں ، دکھایا گیا ہے کہ قیدی کو مکمل طور پر برہنہ ہونے، زمین پر چت لیٹنے، اور ٹانگیں پھیلانے پر مجبور کیا گیا ہے ، جبکہ پولیس افسران کی ایک بڑی تعداد نے اسے گھیر رکھا تھا اور وہ اسے دیکھ رہے تھے۔ قیدی کے آس پاس موجود لوگوں میں ایک خاتون پولیس آفیسر بھی موجود تھی جس کے ہاتھ میں ایک آلہ آنال ایکسپینڈر (anal expander)موجود تھا جسے وہ اُس قیدی پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔ جب قیدی نے اس شرمناک عمل سے انکار کیا تو اسے زبردستی میز پر پھینکا گیا اور سب نے مل کر اسے ڈنڈے سے مارا۔ صحافی حضرات کا کہنا ہے کہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ یہ قیدی اسپتال میں اندرونی چوٹوں سے خون بہنے کی وجہ سے انتقال کرگیا ہو۔

 

     دوسری ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے کہ تقریباً 15 پولیس افسران ایک مسلمان قیدی کو باری باری بے دردی سے مار رہے ہیں، اور یہ عمل اس وقت کیا گیا جب اس کی قید کی مدت ختم ہوگئی تھی اور وہ جیل سے رہا ہونے والا تھا۔ ویڈیو میں صاف نظر آرہا تھا کہ اُن پولیس والوں نے اس مظلوم کو مارنے پیٹنے میں کس قدر زور لگایا کیونکہ وہ سب پسینے سے شرابور ہورہے تھے۔ بعد میں قیدی پر تشدد کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ قید خانے کے ملازمین نے اس کا ذاتی سامان زمین پر پھینکا تھا جس میں مقدس قرآن کی جلد بھی شامل تھی اور اس عمل کے جواب میں اس قیدی نے اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ قیدی اس بدترین تشدد کے بعد بھی زندہ رہا، لیکن قید سے رہائی کے بعد اسے دو ہفتے اسپتال میں گزارنے پڑے۔

 

     نیز ، ان تفصیلات کے درمیان روس میں ایف ایس آئی این (FSIN) میں قیدیوں پر وحشیانہ اذیت کے بارے میں جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ جیل کے حکام قیدیوں پر ظلم کرنے کے لیے اُن قیدیوں کو استعمال کرتے ہیں جو ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جنہیں وہ "کارکن" کہتے ہیں۔ گلاگو ڈاٹ نیٹ (Gulagu.net) کے انسانی حقوق کے منصوبے نے اراکوتسک (Irkutsk) جیل میں تشدد اور زیادتی سے متعلق دستاویزی حقائق شائع کیے ، جہاں "کارکنوں" نے سیکیورٹی اہلکاروں کی درخواست پر دوسرے قیدیوں سے اعتراف جرم حاصل کیا۔

 

     ہم یہاں تشدد کے وحشیانہ پن  کے بارے میں تمام حقائق کی فہرست پیش نہیں کریں گے جو روس میں ایف ایس آئی این کے تہہ خانوں میں زیر حراست افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے ، جس کا ذکر گلاگو ڈاٹ نیٹ نے کیا تھا۔ ہم صرف اس بات کا ذکر کریں گے کہ روس میں ایف ایس آئی این کے ڈائریکٹر الیگزینڈر کلاشنکوف نے 25 فروری2021 کو فیڈریل کمیشن کے اجلاس میں اراکوتسک (Irkutsk) خطے میں اپنے دفتر میں ہونے والی تفتیش کے نتائج کے بارے میں کیا کہا تھا۔ زیر حراست افراد میں سے 41 افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 47 افراد کی عصمت دری کی گئی۔سرکاری طور پر یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ زیر حراست افراد سے زیادتی کرنے والوں میں سے تین ایچ آئی وی / ایڈز کا شکار ہیں۔

 

     ہم ان قیدیوں کے مذہبی پس منظر کو نہیں جانتے ہیں جنھیں اراکوتسک (Irkutsk)میں روسی فیڈرل پینٹینٹریری سروس کے مراکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ، لیکن روس میں زیر حراست افراد کے ساتھ معاملات میں غیر انسانی سلوک کے بارے میں یہ وہ حقائق ہیں جو صرف اس سال کے آغاز سے شائع ہوئے ہیں، اور یہ معلومات پورے روس میں فیڈرل پینٹینٹریری سروس کے مراکز کے کام کی نوعیت کے بارے میں ایک عمومی آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ جان جائیں کہ روس میں مسلمانوں پر قانونی بنیاد کے بغیر مقدمے چلائے جاتے ہیں اور سخت حالات میں قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، تو آپ کو ان حالات کا اندازہ ہوگا جس کا وہ مسلمان سامنا کرتے ہیں جنہیں دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے جھوٹے الزامات میں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ یہ تشدد اور تکالیف اس کے علاوہ ہے جہاں مسلمان قیدیوں کو بھوکا رکھا جاتا ہے اور کھانے میں انہیں صرف سور کا گوشت دیا جاتا ہے۔

 

     انسانی حقوق کے دفاع کے یادگار مرکز (The Memorial Center for the Defence of Human Rights)نے اپنی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں 297 سیاسی قیدیوں کی فہرست بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں شامل تقریباً تمام نام مسلمانوں کے ہی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے زیادہ تر افراد اسلامی حزب التحریر (191افراد) کے رکن تھے ، اس کے علاوہ دیگر مسلم جماعتوں سےتعلق رکھنے والے بھی اس فہرست میں شامل ہیں جیسے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے  اور سعید نورسی کے پیروکار۔ رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ یہ فہرست نامکمل ہے۔ مذکور نام صرف ان لوگوں کے ہیں جن کے مقدمات مطالعہ کے لئے دستیاب ہیں۔اور یہ کہ میموریل سینٹر کے مطابق ظلم کے شکار افراد کی تعداد اس فہرست سے کم از کم تین یا چار گنا زیادہ ہے ، لیکن اس فہرست میں ان کے ناموں کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ ان کے بارے میں مطلوبہ معلومات نہیں پہنچی تھیں، یا ابھی تک ان کا مکمل مطالعہ نہیں کیا جاسکا ہے۔مرکز کا کہنا ہے کہ یہ صرف وہ تعداد ہے جس کو مرکز دریافت کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

 

     اس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کئی سال قبل حزب التحریر سے وابستگی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو ’دہشت گرد‘ تنظیم کی درجہ بندی میں رکھا گیا جبکہ اس درجہ بندی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی۔ ان کے خلاف یہ الزامات لگائے گئے کہ وہ ایک ’دہشت گرد‘ تنظیم سے تعلق رکھتے ہے۔ یہ الزامات ان کے خلاف روسی فوجداری ضابطہ کی ایک شق کے تحت لگائے گئے جس کے تحت شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والوں کو 3 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

 

     اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قانون کو سخت بنانے، اوراس کے اطلاق میں کی جانے والی سختی کے ساتھ ، آج نئے الزامات سامنے لائے گئے ہیں۔ یہ نئے الزامات ایک قانون "دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینا " کی ایک نئی شق کے تحت لائے جارہے ہیں، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہوسکتی ہے۔ عدالتوں کی طرف سے عائد کردہ جیل کی شرائط میں بھی قید کو  24 سال تک کی توسیع دےدی گئی ہے۔

 

     یہ بات معروف ہے کہ قوانین مختلف ممالک میں مختلف ہیں اور قوانین ایک دوسرے سے بھی مختلف ہیں، لیکن مختلف قوانین کے باوجود جھوٹے الزامات لگانے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، لہٰذا کسی بات کو ایسی بات کے ساتھ بیان کرنا جو اس سے ٹکراتی ہو عقلی بنیاد کے خلاف ہے۔ اسی طرح حزب التحریر پر یہ الزام لگانا کہ یہ "دہشت گرد"کارروائیوں میں ملوث ہےایسے ہی ہے جیسے سچ کو الٹا کردیا جائے۔ دنیا بھر کے لوگ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حزب التحریر نے اپنی دعوت کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے اس کی بنیاد فکر، دلیل اور ثبوت پر ہے، اور وہ نہ خود اور نا ہی اپنے اراکین کو اس متعین طریقہ کار سے ہٹنے کی اجازت دیتی ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں میں اس کا سیاسی، ثقافتی اور فکری کام اس بات کا ثبوت ہے۔ ان حقائق کے باوجود حزب التحریر کے اراکین بے بنیاد مقدمات اور الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔

 

     قوانین سخت بنانے کے ساتھ ہی تاتارستان، بشکورسٹن (Bashkortostan)، ماسکو، سینٹ پیٹرس برگ، چیلیابنسک (Chelyabinsk)، ٹیو مین (Tyumen)اور دیگر شہروں میں حزب التحریر کے اراکین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور کریمیا پر قبضے کے بعد وہاں کے مسلمان بھی اسی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں۔ تاہم ، سیکیوریٹی ادارے صرف عدالت کے کام کو محدود کرنے اور غیر انسانی حالات میں مسلمانوں کے خلاف جیل کی سزا جاری کرنے تک ہی محدود نہیں تھے، بلکہ انہوں نے وہاں بھی جھوٹے الزامات لگانے شروع کردیئے جہاں لوگوں نے قید کی سزا مکمل کرلی تھی۔ ان میں سے کچھ تاریک واقعات یہ ہیں:

 

     میرزاباروت میرزاشاريبوف (Mirzaparot Mirzasharibov) کو سینٹ پیٹرس برگ میں حزب التحریر کا رکن ہونے کی وجہ سے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جب وہ 21 مارچ 2019 کو جیل میں پہنچے تو "کارکن" گروہ نے ان پر وحشیانہ تشدد کیا۔ جب وہ جیل کے ایف ایس آئی این کے کمرے میں داخل ہوئے تو ایک اہلکار نے ان کی گردن پر چھری رکھ دی اور پھر ایک اور اہلکار کے ساتھ مل کر ان سے حزب التحریر کے متعلق سوالات کرنے شروع کردیے۔ میرزاباروت نے ان دو اہلکاروں کے سوالات کے جوابات دیے اور انہیں جماعت کے کام سے آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ ان کا کام فکری ہے اور وہ مادی ذرائع استعمال نہیں کرتے اور یہ مقدمہ جھوٹا ہے۔ ان پر "دہشت گردی" کا مقدمہ پینل کوڈ پارٹ 1کے آرٹیکل 205 کی سیکشن 2 کے تحت چلایا گیا، اور 5 سال قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد انہیں دوبارہ 3 سال قید کی سزا دے دی گئی جس میں سے 2 سال انہوں نے قید کے کمرے میں جبکہ 1 سال انتہائی سیکیوریٹی والے قید خانے میں گزارنے ہیں۔

 

     غالولين رينات(Galolin Rinat) چیلیابنسک (Chelyabinsk)کے رہائشی ہیں۔ غالولین کو حزب التحریر کا رکن ہونے کی وجہ سے انتہائی سیکیوریٹی کے قید خانے میں 5 سال قید کی سزا ہوئی۔ جس دن انہیں رہا ہونا تھا، ان پر ایک نیا جھوٹا الزام عائد کردیا گیا۔ ان کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل سے جانے سے روک دیا گیا، اور انہیں تفتیش کے لیے روانہ کیا گیا۔ 17 اگست 2018 کو دوبارہ 8 سال انتہائی سیکیوریٹی کے قید خانے میں قید کی سزا ہوئی۔ یہ سزا انہیں پینل کوڈ پارٹ 2 آرٹیکل 205 کی سیکشن 5 کے تحت سنائی گئی جس کا عنوان ہے:"دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں میں شرکت کرنا"۔ اس قانون کو اس حقیقت کے باوجود لاگو کیا گیا کہ حزب التحریر "دہشت گرد" تنظیم نہیں ہے اور اس کو اس درجہ میں نہیں رکھا جاسکتا۔

 

     رحمن حجاييف ذكر الله (Rahman Hajayev Zikrullah) کو حزب التحریر کا رکن ہونے کی وجہ سے ماسکو میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی سزا جب ختم ہوئی تو انہیں قیدیوں میں حزب التحریر کے افکار کی دعوت دینے کے الزام میں سزا سنائی دی گئی۔ 13 دسمبر 2018 کو انہیں رشین فیدریشن  کے پینل کوڈ پارٹ 2 کے آرٹیکل 205 کی سیکشن 2 کے تحت ساڑے چودہ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ سات سال اس الزام پر قید کاٹنے کے بعد کہ وہ حزب التحریر کے ساتھ کام کرتے ہیں، ذکر اللہ کو دوبارہ اسی الزام میں سزا سنا دی گئی لیکن اس بار الفاظ مختلف تھے اور سزا دگنی تھی۔

 

     27 جنوری 2021 کو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اسی قسم کا فیصلہ کاذان (Kazan)کے رہائشی عثمانوف ذاكير جون (Usmanov Zakir John) کے خلاف بھی دیا گیا تھا۔ 2017 میں انہیں پینک کوڈ پارٹ 2کے آرٹیکل 205 کی سیکشن 2 کے تحت 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور پھر اکتوبر 2020 میں پہلی مشرقی فوجی عدالت نے پارٹ 1آرٹیکل 205 کی سیکشن 1، "دہشت گرد تنظیم کی دعوت دینا"، پارٹ1 آرٹیکل 205 کی شق 2 اور "کھلے عام دہشت کردی کا جواز پیش کرنا" کے تحت 9 سا قید کی سزا انتہائی سیکیورٹی کی جیل میں گزارنے کی سنائی۔ اس سزا کے تحت 9 میں سے 5 سال جیل کے کمروں میں گزارے جائیں گے۔

 

     أسغات حفيظوف(Asghat Hafizov) کو دسمبر 2017 میں ساڑھے سترا سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے پہلے اس پر "دہشت گرد" سرگرمیوں کو منظم کرنے کا الزام عائد کیا (پینل کوڈ پارٹ 1، آرٹیکل 205،سیکشن 5)، پھر اس میں بنیاد پرستی (پینل کوڈ پارٹ 1، آرٹیکل 205، سیکشن 2) کا اضافہ کیا، اور پھر اس پر ہی بس نہ کیا اور "دہشت گرد" سرگرمیوں میں شمولیت (پینل کوڈ پارٹ 2، آرٹیکل 205، سیکشن 5) اور "دہشت گرد" تنظیم میں لوگوں کو شامل کرنے(پینل کوڈ پارٹ 1، آرٹیکل 205، سیکشن 1) کا مزید اضافہ کردیا۔

 

     حزب التحریر کے رکن حميد إيغامبيردييف (Hamid Ighamberdiev) جو پہلے ہی 16 سال کی قید کاٹ رہے ہیں ان کے خلاف ایک نیا مقدمہ تیار کیا گیا ہے۔ انہیں بیلغو رود (Belgorod)کی جیل سے ماسکو منتقل کر کے قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔

 

     یہ تمام مقدمات کھلا ظلم اور ناانصافی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مسلمان قیدیوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کے حقیقت کا مکمل آئینہ دار بھی نہیں ہیں خصوصاً وہ جن کا تعلق حزب التحریر سے ہے۔

 

     روس کے انسانی حقوق کے چیف وکیل ، ليف باناماريوف (Lev Ponomarev) نے کہا کہ حکومت کے وحشیانہ مظالم کو برداشت کرنا مشکل ہے۔میموریل انٹرنیشنل سینٹر کے زیر اہتمام لیکچر میں اپنی تقریر میں ، ليف باناماريوف نے کہا: "حزب التحریر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر یہ الزام عائد نہیں کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں یا تیاری کرتے ہیں ، ان پر ایسی کارروائیوں کا الزام کسی عدالت کے فیصلے میں نہیں ہوتا ہے ، اور انہیں 24 سال ، 20 سال ، 18 سال تک کی عجیب و غریب قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔ ہمیں ہر کونے سے اس مسئلے کے متعلق آواز اٹھانی چاہیے۔۔۔۔ مقدمات باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قید میں رکھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ سینکڑوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں ، اور کچھ کو دوسری بار قید کردیا جاتا ہے۔میرے نقطہ نظر سے یہی اصل فاشزم ہے۔ "

     اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، 

﴿وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

"ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے"(البروج:8)۔

 

     حزب التحریر کوئی ’دہشت گرد‘ جماعت نہیں ہے ، اور اس کے خلاف اس طرح کے الزامات ایک مذموم جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہیں ، اس جماعت کی تاریخ اور 1953  میں اس کے قیام کے بعد سے اس کی سرگرمیوں کو دیکھنے والا کوئی بھی شخص اس جھوٹ کو آسانی سے مسترد کرسکتا ہے ۔

 

     ہم ليف باناماريوف اور میموریل سنٹر برائے ہیومن رائٹس ڈیفنس کی مسلم سیاسی قیدیوں کے معاملے میں دلچسپی لینے اور حزب التحریر کے مقدمات میں ظلم و ستم کے شکار افراد کے دفاع میں ان کی سرگرمی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم تمام دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں ، وکلاء ، انسانی حقوق کے محافظوں اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مسلم سیاسی قیدیوں کے مفادات کا دفاع کیا ، اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو غیرجانبدار نہیں رہے اور انہوں نے بے گناہ مسلمان قیدیوں کو مدد کی پیشکش کی۔ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مسلم قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کریں ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

 

     اس سلسلے میں حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس مجرم روسی حکومت کی جیلوں میں بند اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی حمایت اور مدد کے لئے ایک وسیع مہم شروع کرنے کا اعلان کرتا ہے ، لہذا ہماری ویب سائٹ اور ہماری سوشل میڈیا سائٹس کی پیروی کریں۔

        

انجینئر صلاح الدین عضاضہ

ڈائیریکٹر مرکزی میڈیا آفس ، حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک