الجمعة، 09 جمادى الأولى 1444| 2022/12/02
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

معلومات(information) کے دور سے فائدہ اٹھا نا

 

موجودہ دور کو ''معلومات کا دور''(Information age) کہا جاتا ہے۔ ریاستی اور نجی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نہ صرف عوام کے خیالات اور رائے میں تبدیلی لانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو ایسی سابقہ معلومات بھی فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ مختلف مسائل پر اپنی رائے یا نقطہ نظر بناتے ہیں۔ لیکن چند ایسے معاملات بھی ہیں جن میں نجی میڈیا ریاست کی معاونت پر انحصار کرتا ہے جیسا کہ سیکیوریٹی کے معاملات اور استعماری ریاستوں کے عزائم اور ان کے منصوبوں کو بے نقاب کرنا وغیرہ۔ ریاست کو میڈیا کی بھر پور معاونت کرنی چاہیے اور یقیناً ریاست ِخلافت شہریوں کے حقوق اور معاملات کی دیکھ بحال اور اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کے لیے میڈیا کو بھر پورمعاونت فراہم کرے گی تا کہ وہ اپنے اس کردار کو احسن طریقے سے ادا کرسکے۔ اسلام کی دعوت اور ریاست کے لیے معلومات چند اہم معاملات میں سے ایک ہے۔ لہذا میڈیا کی سرپرستی اور نگرانی خلیفہ براہ راست ایک آزاد ادارے کے ذریعے کرے گا جیسا کہ عدلیہ یا مجلس امت کے ادارے ریاست خلافت میں اسلام کے نفاذ اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے براہ راست خلیفہ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

 

 

میڈیا کی موجودہ صورتحال

 

موجودہ صورتحال میں پاکستان کی قیادت میں موجود غدار ،مغربی استعماری ممالک کے منصوبوں کی حمائت اور ان کی تکمیل اور اپنی غداری کو چھپانے کے لیے نجی میڈیا پر بے پناہ دباؤ ڈالتے ہیں ،لہٰذا میڈیا استعماری طاقتوں کے گھناؤنے منصوبوں کو بے نقاب کرنے اور حکمرانوں کا احتساب کرنے کی ذمہ داری کو ادا نہیں کرپاتا۔یہ غدّار، خفیہ ایجنسیوں کی ایک فوج کو میڈیا مالکان اور صحافیوں کو دباؤ میں لانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے مامور کردیتے ہیں۔ یہ خطرہ اس قدر حقیقی اور زبردست ہوتا ہے کہ وہ صحافی بھی جو اپنی رائے کے اظہار میں بے باک اور دیانتدار ہوتے ہیں ،اپنے نقطہ نظر کو چھپانے لگتے ہیں یا اس کی سختی کو کم کردیتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ غدّار مالیاتی دباؤیعنی قرضوں کی منسوخی یا چھوٹے میڈیا گروپوں کو اشتہارات کی بندش کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک ریاستی میڈیا کا تعلق ہے تو یہ غدّار اسے ملک میں امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذاوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی میڈیا عوام کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہے اور اب نجی میڈیا بھی عوام کا اعتماد کھوتا نظر آتا ہے۔ نجی میڈیا کی نیک نامی میں کمی اب اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ عوام سوشل میڈیا یا براہ راست میل جول سے حاصل ہونے والی معلومات اور نقطہ ہائے نظر کومعلومات کے حصول کا واحد قابل اعتبار ذریعہ سمجھنے لگے ہیں ۔

 

جہاں تک اقدار کی ترویج کا تعلق ہے تو یہ غدّار اس بات کو مناسب سمجھتے ہیں کہ معاشرے کو میڈیا کے ذریعے کرپٹ اور ناکام مغربی اقدار و افکار سے بھر دیا جائے۔ ان اقدار و افکار میں مادیت پرستی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر اکسانا،جنسِ مخالف سے بغیر نکاح کے تعلق کو قائم کرنا اور عورت کے مقام ،عزت و عفت کو بے وقعت کرنا شامل ہیں اور یہ سب کچھ آزادی کے نام پر کیا جارہا ہے۔ مشرف کے وقت سے معاشرے کے لیے اعلیٰ اخلاقی پیمانوں کو وضع کرنے میں میڈیا کا کردار زوال پزیر ہوتا جا رہا ہے،یہاں تک کہ ایک عرصے تک قابل احترام اور قدامت پرست سمجھا جانے والا ریاستی میڈیا بھی اپنی نیک نامی کھو چکا ہے اور لوگ نہ صرف اب اس پر تنقیدبلکہ اس کا بائیکاٹ تک کر رہے ہیں۔

 

 

میڈیا کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا

 

 ریاست خلافت دنیا پر اسلام کی بالادستی کو قائم کرنے میں سرکاری اور نجی میڈیا کو اپنے کردار کی ادائیگی میں بھر پور معاونت فراہم کرے گی اور ان کی نگرانی کرے گی۔میڈیا اسلام کواتنی مضبوطی اور موئثر طریقے سے پیش کرے گا کہ لوگ اسلام کی جانب متوجہ ہوں ،اس کا مطالعہ کریں اور اس پر غورو فکر کریں۔اس کے علاوہ میڈیا مسلم علاقوں کو ریاست خلافت میں ضم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔میڈیازندگی کے مختلف معاملات کے حوالے سے اسلامی ثقافت کو پیش کرے گا تا کہ لوگ ان افکار سے آگاہ ہوں اور انھیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرسکیں۔ میڈیا حربی استعماری قوموں کے شیطانی منصوبوں کو بے نقاب کرے گا جو کہ دنیا بھر میں فتنہ اور فساد برپا کر رہے ہیں اور خانہ جنگیوں کو بھڑکا کر اور ان کو جاری و ساری رکھنے کے لیے مددو معاونت فراہم کر کے مختلف ممالک کو اپنے حلقہ اثر میں لاتے ہیں اور پھران کی دولت کو اس قدرلوٹتے ہیں کہ ان ممالک کے عوام بدترین غربت اوراستحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر پوری انسانیت کو انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے،ان پر اسلام کی قیادت کو قائم کرنے اور اسلام کی ترویج کی ریاست کی ذمہ داری کی ادائیگی میں میڈیا معاونت فراہم کرے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں

(ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَـدِلْهُم بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ)

''اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔''(النحل، 16:125)

 

 

میڈیا کی نگرانی

 

حزب التحریرکے پاس جہاں اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرنے کے لئے وسیع تیاری اور تجربہ ہے،جس میں میڈیا کی نگرانی بھی شامل ہے وہیں حزب التحریر کے پاس میڈیا کے معاملات کو چلانے کا ضروری تجربہ بھی موجود ہے۔حزب کے میڈیا آفس کے پاس اس وقت بھی ایک عالمی سطح کا نیٹ ورک موجود ہے جس کی شاخیں پوری مسلم دنیا اور غیر مسلم ممالک میں موجود ہیں۔ یہ میڈیا آفس تندہی سے میڈیا کو حزب سے متعلق معلومات،مختلف موضوعات اور مسائل پر حزب کا نقطہ نظر ، موقف اور پالیسیزمہیا کرتا ہے اور خلافت کے قیام کے بعد بھی اپنی موجودہ حیثیت میں کام کرتا رہے گا۔ میڈیا آفس نے بہت سارے اسلوب اختیار کیے ہیں جن میں ویڈیو اور آڈیوپروڈکشنز،میگزینزاور مختلف ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

 

حزب کے امیر اور معزز فقہی شیخ عطا ابو رشتہ نے کئی دہائیوں سے جہاں حزب میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں ہیں وہیں وہ اردن میں حزب التحریر کے ترجمان کے فرائض بھی ادا کرچکے ہیں۔ شیخ عطا کو میڈیا کے مسائل اور اس کے طریقہ کار کے حوالے سے وسیع تجربہ اور معلومات حاصل ہیں۔ لہٰذا ایک خلیفہ کی حیثیت سے ان شأ اللہ ان کی میڈیا کے معاملات کی دیکھ بھال کی صلاحیت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔

 

حزب التحریرنے ریاست خلافت کے دستور کی دفعہ103 میں اس کا اعلان کیا ہے کہ ''میڈیا وہ محکمہ یا ادارہ ہے جو ریاست کے نشرواشاعت کے احوال کا ذمہ دار ہو تا ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرے اور ان کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔داخلی طور پر :ایک مضبوط اور مربوط اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کام کرتا ہے جوخباثت کو باہر کرے اور پاک چیزوں کو اپنے اندر سمائے۔خارجی طور پر:حالت امن اور حالت جنگ میں اسلام کی عظمت اس کے عدل اور اس کی عسکری قوت کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ۔اسی طرح انسانی نظام کے فساد،اس کے ظلم اور اس کی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔''

 

حزب نے اپنی کتاب ''ریاست خلافت کے ادارے'' میں یہ لکھا ہے کہ ''ریاست کے قیام کے بعد ایک قانون جاری کیا جائے گا جس میں ریاست کی معلومات کے حوالے سے پالیسی کے بارے میں عمومی احکامات ،احکام شرعیہ کے مطابق بیان کیے جائیں گے۔ ریاست، اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل اور مضبوط اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے اس پالیسی کی پیروی کرے گی ۔یہ پالیسی قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہوگی اور جس سے صرف خیر ہی خیر ظاہر ہوگا۔ اس پالیسی میں وحشیانہ ، حیوانیت اور ایسے تصورات کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جو معصیت کی راہ پر لے جائے اور نہ ہی غلط اور گمراہ ثقافت کی اس میں کوئی آمیزش ہو گی۔ وہ ایک اسلامی معاشرہ ہوگا جو بدی کا خاتمہ کرے گا اور خیر کو پھیلائے گا اور تمام کائنات کے خالق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے گا۔''

 

 

خلافت تیزی سے پھیلتےنجی میڈیا کو مدد اوررہنمائی فراہم کرے گا

 

 الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اسلامی قوانین کی لازمی پیروی کی جائے گی چاہے اس کا تعلق خبروں،حالات حاضرہ یادستاویزی فلموں سے ہو۔اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ میڈیاکے اداروں میں معلومات کے اجراہ کے وقت اسلامی قوانین اور معاشرتی نظام کی مکمل اتباع کی جارہی ہے۔کیونکہ نجی میڈیا ایک کاروبار ہے اس لیے میڈیا کے ادارے دوسرے اداروں کی طرح ریاست کے خزانے یعنی بیت المال سے قرضے اور کریڈٹ لائن کی سہولیات حاصل کرسکیں گے۔ ٹیلی وژن اسٹوڈیوز اور پرنٹنگ پریس وغیرہ کو بنانے اور قائم کرنے کے لیے بھاری رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو جن کو مالی معاونت کی ضرورت ہو گی انھیں بلاسودی قرضے اور گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ ریاستی اداروں اور عوامی اداروں کی جانب سے اشتہارات دینے میں کسی مخصوص استحقاق ،رعایت،اقربہ پروری یا پسند و ناپسند کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔خلیفہ کی جانب سے پہلے ہی اس بات کا اعلان کردیا جائے گا کہ ہنگامی صورتحال کو چھوڑ کر عوامی ضرورت کے پیغامات کے لیے ریاست کو کتنا وقت یا جگہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاست الیکٹرانک میڈیا کے لیے بینڈ وڈتھ مخصوص کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایک ہی نام سے دو ادارے کام نہ کریں۔ ان معاملات کو سرانجام دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک مرکزی ادارہ موجود ہو۔

 

حزب التحریرنے ریاست خلافت کے دستور کی دفعہ104 میں اعلان کیا ہے کہ''نشرو اشاعت کے اس ادارے(میڈیا) کے لیے لائسنس(این او سی)کی کوئی ضرورت نہیں جس کا مالک ریاست کا شہری ہو بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے اورصرف یہ بتایا جائے گا کہ وہ کس قسم کے میڈیا کے ذرائع استعمال کررہے ہیں۔پھر ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے(صحافی)اپنی ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میں ذمہ دار ہوں گے۔ کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی بھی شہری کا ہوتا ہے۔''

 

 

سیکیوریٹی کے معاملات

 

جہاں تک سیکیوریٹی کے معاملات کا تعلق ہے تو جن معلوما ت کا تعلق ریاست کے معاملات سے بہت قریبی ہو جیسے فوجی معاملات، فوجوں کی نقل و حرکت یا جنگ کی صورتحال یا فوجی صنعتوں سے خبریں اور معلومات وغیرہ تو میڈیا کو خلیفہ کی جانب سے لازماً یہ بتایا جائے گا کہ کن معلومات کو شائع کیا جاسکتا ہے اور کن کو نہیں۔

 

بسم الله الرحمن الرحيم

معلومات(information) کے دور سے فائدہ اٹھا نا

موجودہ دور کو ''معلومات کا دور''(Information age) کہا جاتا ہے۔ ریاستی اور نجی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نہ صرف عوام کے خیالات اور رائے میں تبدیلی لانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو ایسی سابقہ معلومات بھی فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ مختلف مسائل پر اپنی رائے یا نقطہ نظر بناتے ہیں۔ لیکن چند ایسے معاملات بھی ہیں جن میں نجی میڈیا ریاست کی معاونت پر انحصار کرتا ہے جیسا کہ سیکیوریٹی کے معاملات اور استعماری ریاستوں کے عزائم اور ان کے منصوبوں کو بے نقاب کرنا وغیرہ۔ ریاست کو میڈیا کی بھر پور معاونت کرنی چاہیے اور یقیناً ریاست ِخلافت شہریوں کے حقوق اور معاملات کی دیکھ بحال اور اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کے لیے میڈیا کو بھر پورمعاونت فراہم کرے گی تا کہ وہ اپنے اس کردار کو احسن طریقے سے ادا کرسکے۔ اسلام کی دعوت اور ریاست کے لیے معلومات چند اہم معاملات میں سے ایک ہے۔ لہذا میڈیا کی سرپرستی اور نگرانی خلیفہ براہ راست ایک آزاد ادارے کے ذریعے کرے گا جیسا کہ عدلیہ یا مجلس امت کے ادارے ریاست خلافت میں اسلام کے نفاذ اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے براہ راست خلیفہ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

میڈیا کی موجودہ صورتحال

موجودہ صورتحال میں پاکستان کی قیادت میں موجود غدار ،مغربی استعماری ممالک کے منصوبوں کی حمائت اور ان کی تکمیل اور اپنی غداری کو چھپانے کے لیے نجی میڈیا پر بے پناہ دباؤ ڈالتے ہیں ،لہٰذا میڈیا استعماری طاقتوں کے گھناؤنے منصوبوں کو بے نقاب کرنے اور حکمرانوں کا احتساب کرنے کی ذمہ داری کو ادا نہیں کرپاتا۔یہ غدّار، خفیہ ایجنسیوں کی ایک فوج کو میڈیا مالکان اور صحافیوں کو دباؤ میں لانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے مامور کردیتے ہیں۔ یہ خطرہ اس قدر حقیقی اور زبردست ہوتا ہے کہ وہ صحافی بھی جو اپنی رائے کے اظہار میں بے باک اور دیانتدار ہوتے ہیں ،اپنے نقطہ نظر کو چھپانے لگتے ہیں یا اس کی سختی کو کم کردیتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ غدّار مالیاتی دباؤیعنی قرضوں کی منسوخی یا چھوٹے میڈیا گروپوں کو اشتہارات کی بندش کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک ریاستی میڈیا کا تعلق ہے تو یہ غدّار اسے ملک میں امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذاوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی میڈیا عوام کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو چکا ہے اور اب نجی میڈیا بھی عوام کا اعتماد کھوتا نظر آتا ہے۔ نجی میڈیا کی نیک نامی میں کمی اب اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ عوام سوشل میڈیا یا براہ راست میل جول سے حاصل ہونے والی معلومات اور نقطہ ہائے نظر کومعلومات کے حصول کا واحد قابل اعتبار ذریعہ سمجھنے لگے ہیں ۔

جہاں تک اقدار کی ترویج کا تعلق ہے تو یہ غدّار اس بات کو مناسب سمجھتے ہیں کہ معاشرے کو میڈیا کے ذریعے کرپٹ اور ناکام مغربی اقدار و افکار سے بھر دیا جائے۔ ان اقدار و افکار میں مادیت پرستی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر اکسانا،جنسِ مخالف سے بغیر نکاح کے تعلق کو قائم کرنا اور عورت کے مقام ،عزت و عفت کو بے وقعت کرنا شامل ہیں اور یہ سب کچھ آزادی کے نام پر کیا جارہا ہے۔ مشرف کے وقت سے معاشرے کے لیے اعلیٰ اخلاقی پیمانوں کو وضع کرنے میں میڈیا کا کردار زوال پزیر ہوتا جا رہا ہے،یہاں تک کہ ایک عرصے تک قابل احترام اور قدامت پرست سمجھا جانے والا ریاستی میڈیا بھی اپنی نیک نامی کھو چکا ہے اور لوگ نہ صرف اب اس پر تنقیدبلکہ اس کا بائیکاٹ تک کر رہے ہیں۔

میڈیا کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا

 ریاست خلافت دنیا پر اسلام کی بالادستی کو قائم کرنے میں سرکاری اور نجی میڈیا کو اپنے کردار کی ادائیگی میں بھر پور معاونت فراہم کرے گی اور ان کی نگرانی کرے گی۔میڈیا اسلام کواتنی مضبوطی اور موئثر طریقے سے پیش کرے گا کہ لوگ اسلام کی جانب متوجہ ہوں ،اس کا مطالعہ کریں اور اس پر غورو فکر کریں۔اس کے علاوہ میڈیا مسلم علاقوں کو ریاست خلافت میں ضم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔میڈیازندگی کے مختلف معاملات کے حوالے سے اسلامی ثقافت کو پیش کرے گا تا کہ لوگ ان افکار سے آگاہ ہوں اور انھیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرسکیں۔ میڈیا حربی استعماری قوموں کے شیطانی منصوبوں کو بے نقاب کرے گا جو کہ دنیا بھر میں فتنہ اور فساد برپا کر رہے ہیں اور خانہ جنگیوں کو بھڑکا کر اور ان کو جاری و ساری رکھنے کے لیے مددو معاونت فراہم کر کے مختلف ممالک کو اپنے حلقہ اثر میں لاتے ہیں اور پھران کی دولت کو اس قدرلوٹتے ہیں کہ ان ممالک کے عوام بدترین غربت اوراستحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر پوری انسانیت کو انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے،ان پر اسلام کی قیادت کو قائم کرنے اور اسلام کی ترویج کی ریاست کی ذمہ داری کی ادائیگی میں میڈیا معاونت فراہم کرے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں (ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَـدِلْهُم بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ) ''اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔''(النحل، 16:125)

میڈیا کی نگرانی

حزب التحریرکے پاس جہاں اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرنے کے لئے وسیع تیاری اور تجربہ ہے،جس میں میڈیا کی نگرانی بھی شامل ہے وہیں حزب التحریر کے پاس میڈیا کے معاملات کو چلانے کا ضروری تجربہ بھی موجود ہے۔حزب کے میڈیا آفس کے پاس اس وقت بھی ایک عالمی سطح کا نیٹ ورک موجود ہے جس کی شاخیں پوری مسلم دنیا اور غیر مسلم ممالک میں موجود ہیں۔ یہ میڈیا آفس تندہی سے میڈیا کو حزب سے متعلق معلومات،مختلف موضوعات اور مسائل پر حزب کا نقطہ نظر ، موقف اور پالیسیزمہیا کرتا ہے اور خلافت کے قیام کے بعد بھی اپنی موجودہ حیثیت میں کام کرتا رہے گا۔ میڈیا آفس نے بہت سارے اسلوب اختیار کیے ہیں جن میں ویڈیو اور آڈیوپروڈکشنز،میگزینزاور مختلف ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

حزب کے امیر اور معزز فقہی شیخ عطا ابو رشتہ نے کئی دہائیوں سے جہاں حزب میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں ہیں وہیں وہ اردن میں حزب التحریر کے ترجمان کے فرائض بھی ادا کرچکے ہیں۔ شیخ عطا کو میڈیا کے مسائل اور اس کے طریقہ کار کے حوالے سے وسیع تجربہ اور معلومات حاصل ہیں۔ لہٰذا ایک خلیفہ کی حیثیت سے ان شأ اللہ ان کی میڈیا کے معاملات کی دیکھ بھال کی صلاحیت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔

حزب التحریرنے ریاست خلافت کے دستور کی دفعہ103 میں اس کا اعلان کیا ہے کہ ''میڈیا وہ محکمہ یا ادارہ ہے جو ریاست کے نشرواشاعت کے احوال کا ذمہ دار ہو تا ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرے اور ان کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔داخلی طور پر :ایک مضبوط اور مربوط اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کام کرتا ہے جوخباثت کو باہر کرے اور پاک چیزوں کو اپنے اندر سمائے۔خارجی طور پر:حالت امن اور حالت جنگ میں اسلام کی عظمت اس کے عدل اور اس کی عسکری قوت کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ۔اسی طرح انسانی نظام کے فساد،اس کے ظلم اور اس کی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔''

حزب نے اپنی کتاب ''ریاست خلافت کے ادارے'' میں یہ لکھا ہے کہ ''ریاست کے قیام کے بعد ایک قانون جاری کیا جائے گا جس میں ریاست کی معلومات کے حوالے سے پالیسی کے بارے میں عمومی احکامات ،احکام شرعیہ کے مطابق بیان کیے جائیں گے۔ ریاست، اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل اور مضبوط اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے اس پالیسی کی پیروی کرے گی ۔یہ پالیسی قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہوگی اور جس سے صرف خیر ہی خیر ظاہر ہوگا۔ اس پالیسی میں وحشیانہ ، حیوانیت اور ایسے تصورات کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جو معصیت کی راہ پر لے جائے اور نہ ہی غلط اور گمراہ ثقافت کی اس میں کوئی آمیزش ہو گی۔ وہ ایک اسلامی معاشرہ ہوگا جو بدی کا خاتمہ کرے گا اور خیر کو پھیلائے گا اور تمام کائنات کے خالق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے گا۔''

خلافت تیزی سے پھیلتےنجی میڈیا کو مدد اوررہنمائی فراہم کرے گا

 الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اسلامی قوانین کی لازمی پیروی کی جائے گی چاہے اس کا تعلق خبروں،حالات حاضرہ یادستاویزی فلموں سے ہو۔اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ میڈیاکے اداروں میں معلومات کے اجراہ کے وقت اسلامی قوانین اور معاشرتی نظام کی مکمل اتباع کی جارہی ہے۔کیونکہ نجی میڈیا ایک کاروبار ہے اس لیے میڈیا کے ادارے دوسرے اداروں کی طرح ریاست کے خزانے یعنی بیت المال سے قرضے اور کریڈٹ لائن کی سہولیات حاصل کرسکیں گے۔ ٹیلی وژن اسٹوڈیوز اور پرنٹنگ پریس وغیرہ کو بنانے اور قائم کرنے کے لیے بھاری رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو جن کو مالی معاونت کی ضرورت ہو گی انھیں بلاسودی قرضے اور گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ ریاستی اداروں اور عوامی اداروں کی جانب سے اشتہارات دینے میں کسی مخصوص استحقاق ،رعایت،اقربہ پروری یا پسند و ناپسند کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔خلیفہ کی جانب سے پہلے ہی اس بات کا اعلان کردیا جائے گا کہ ہنگامی صورتحال کو چھوڑ کر عوامی ضرورت کے پیغامات کے لیے ریاست کو کتنا وقت یا جگہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاست الیکٹرانک میڈیا کے لیے بینڈ وڈتھ مخصوص کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایک ہی نام سے دو ادارے کام نہ کریں۔ ان معاملات کو سرانجام دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک مرکزی ادارہ موجود ہو۔

حزب التحریرنے ریاست خلافت کے دستور کی دفعہ104 میں اعلان کیا ہے کہ''نشرو اشاعت کے اس ادارے(میڈیا) کے لیے لائسنس(این او سی)کی کوئی ضرورت نہیں جس کا مالک ریاست کا شہری ہو بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے اورصرف یہ بتایا جائے گا کہ وہ کس قسم کے میڈیا کے ذرائع استعمال کررہے ہیں۔پھر ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے(صحافی)اپنی ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میں ذمہ دار ہوں گے۔ کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی بھی شہری کا ہوتا ہے۔''

سیکیوریٹی کے معاملات

جہاں تک سیکیوریٹی کے معاملات کا تعلق ہے تو جن معلوما ت کا تعلق ریاست کے معاملات سے بہت قریبی ہو جیسے فوجی معاملات، فوجوں کی نقل و حرکت یا جنگ کی صورتحال یا فوجی صنعتوں سے خبریں اور معلومات وغیرہ تو میڈیا کو خلیفہ کی جانب سے لازماً یہ بتایا جائے گا کہ کن معلومات کو شائع کیا جاسکتا ہے اور کن کو نہیں۔

9شوال 1443 ہجری                                     حزب التحریر

10 مئی 2022ء                                                                                ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ :9 من شوال 1443هـ
عیسوی تاریخ : منگل, 10 مئی 2022م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک