ایک ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی جنگوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے، چین خاموشی اور تدبر کے ساتھ اکیسویں صدی کے سب سے خطرناک جغرافیائی و سیاسی مرکز یعنی تائیوان کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یمن میں المناک واقعات زندگی کے تمام پہلوؤں میں بدتر ہوتے جا رہے ہیں، لیکن بنیادی خدمات کی عدم دستیابی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور معاش پر براہ راست اور شدید اثرات مرتب کر رہی ہے
گزشتہ 2 جون کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں 50 افریقی ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی، جس کا اہتمام کوریائی حکومت نے آزادانہ طور پر کیا تھا، اصولی طور پر ایک اعلیٰ سطح کی سیاسی کامیابی اور سفارتی لحاظ سے واقعی ایک تاریخی واقعہ قرار دی جا رہی ہے
ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان نے اقتصادی اخبار 'نکی ایشیا' (Nikkei Asia) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہودی وجود کو "بالآخر مشرق وسطیٰ کے ایک نئے علاقائی سیکورٹی ڈھانچے میں ضم کیا جا سکتا ہے