السبت، 26 ذو القعدة 1443| 2022/06/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

معیشتوں کو برباد کرنے والے عالمی سرمایہ دارانہ معاشی آرڈر کو ریاستِ خلافت دفن کردے گی

 

 

            خبر: بدھ، 18 مئی 2022 کو پاکستانی کرنسی نے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 200 روپے کی نفسیاتی حد کو چھو لیا۔ روپے کی تیزی سے گرتی قدر کی بنیادی وجہ ملک کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور زیادہ درآمدات ہیں، اور اس صورتحال کے نتیجے میں  عوام مہنگائی کی دلدل میں غرق ہو رہے ہیں۔

 

 

 

            تبصرہ:  سری لنکا کے ڈیفالٹ اور اس کے  ہولناک نتائج کے سامنے آنے کے بعد اب پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان کو رواں مالی سال 30 جون 2022 کے اختتام تک تقریباً 16 ارب امریکی ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا ہے۔ موجودہ عالمی معاشی آرڈر کے تحت، اگر پاکستان سود پر قرضے یا برآمدات کے ذریعے امریکی ڈالر حاصل نہیں کرپاتا ہے، تو وہ تیل اور دیگر ضروری اشیاء درآمد نہیں کر سکے گا۔ پاکستان نے مالی سال18-2017میں بھی اسی بحران کا سامنا کیا تھا، جب کرنٹ اکاونٹ  کا خسارہ 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا ۔ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت پاکستان کو کئی دہائیوں سے اس شیطانی چکر، کرنٹ اکاونٹ خسارے، کا سامنا ہے۔ پاکستان کی درآمدات 75 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ برآمدات صرف 30 ارب ڈالر ہیں، اس طرح 45 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ تقریباً 30 ارب ڈالر بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھجوانے (Remittances)کے بعد بھی 15 ارب ڈالر کا ایک بڑا خلا پھر بھی باقی رہتا ہے۔

 

 

                  پاکستان کی بصیرت سے عاری حکمران اشرافیہ کے پاس آئی ایم ایف (IMF) سے رجوع کرنے اور اس شیطانی چکر کو جاری رکھنے کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط معیشت کو تباہ اور قرض کی دلدل  کو مزیدگہرا کرتی ہیں۔آئی ایم ایف  تیل، بجلی، گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے کا حکم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروبار اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ساتھ ہی ربا (سود)  مبنی قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کے نسخے  مہنگائی کا سونامی برپا کر کے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ پھر، ہر نئی حکومت ، جانے والی پچھلی حکومت کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے جس کا ارتکاب  وہ خود بھی یہ کہہ کر  کرتی  ہے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور ہمیں یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی!

 

 

                  بریٹن ووڈز معاہدے اور نظام کے ذریعے قائم ہونے والے موجودہ عالمی معاشی نظام نے مغرب اور چین میں دولت کے ارتکاز کو یقینی بنایا ہے، جس سے باقی دنیا بے آسرا اور غربت کا شکار ہو گئی ہے۔ اس عالمی معاشی آرڈر کے نتیجے میں واشنگٹن کے پڑوس میں واقع  لاطینی امریکی ممالک، قرضوں میں ڈوبتے ، اور مسلسل نادہندگی (ڈیفالٹ) کا شکار رہتےہیں، حالانکہ  ان میں سے بہت سے ممالک وسائل سے مالا مال ہیں۔ 15 فروری 2022 کو ورلڈ بینک نے ایک انتباہ جاری کیا کہ تقریباً ستر ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں سری لنکا، مصر، ارجنٹائن، کینیا، پیرو، جنوبی افریقہ، ترکی اور بھارت  بھی شامل ہیں۔

 

 

                  موجودہ عالمی معاشی آرڈر ناانصافی پر مبنی ہے کیونکہ بین الاقوامی تجارت صرف ایک ریاست، امریکہ، کی کرنسی سے منسلک ہے، لہٰذا اگر امریکی معیشت کو ٹھنڈ لگ جائے تو پوری دنیا کو چھینک آجاتی ہے، یعنی اگر امریکہ کسی معاشی مسئلہ سے دوچار ہو تو پوری دنیا اس کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہر ملک کو ڈالر جمع کرنے کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے جو وہ برآمدات کے ذریعے پورا نہیں کر پاتے کیونکہ اکثر و بیشتر ان کی معیشت زراعت یا صرف بنیادی صنعتوں جیسا کہ ٹیکسٹائل یا فوڈ پروسیسنگ پر مشتمل ہوتی  ہے، جس میں بننے والی اشیاء کم قیمت ہوتی ہیں۔  لہٰذا زراعت اور بنیادی صنعتوں کی لاکھوں  ٹن  زائد پیداوار کو برآمد کرنے سے حاصل ہونے والے ڈالر انتہائی قلیل ہوتے ہیں جو ملکی درآمدات کے لیے درکار ڈالرز سے بہت کم ہوتے ہیں۔  اس کے بعد ڈالر کے فرق کو پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف اپنے تباہ کن نسخوں سے مداخلت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معیشت  وینٹی لیٹر پر چلی جاتی ہے۔

 

                  پاکستان اور پوری دنیا کو ایک نئے عالمی معاشی نظام کی ضرورت ہے۔ اسلامی شرعی قانون کے تحت، مقامی اور بین الاقوامی تجارت سونے اور چاندی یا سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی میں ہوتی ہے۔ صدیوں تک دورِ خلافت میں بین الاقوامی تجارت اسی طرح سے ہوتی رہی ہے اور نبوت کے نقش قدم پر خلافت کی واپسی پر دوبارہ بین الاقوامی تجارت اسی طرح انجام پائے گی، انشاء اللہ ۔ اس کے علاوہ، خلافت توانائی سے مالا مال مسلم سرزمینوں کو مسلمانوں کی ایک واحد ریاست میں  یکجا کرے گی، اور اس طرح  تیل اور گیس کی مہنگی درآمدات کی ضرورت کو ختم کردے گی۔ خلافت تیز رفتار صنعت کاری کی نگرانی کرے گی، مہنگی  مشینری اور ٹیکنالوجی کی درآمدات کی ضرورت کو کم کرے گی۔ خلافت سود کی برائی کو ختم کر دے گی، جس کی وجہ سے دنیا کے وسائل سے مالا مال دنیا کے سب سے بڑے ممالک کی منظم بربادی ہوئی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ

"اور دولت صرف تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔"(الحشر، 59:7)۔

 

                 

 

                 

 

حزب التحریر کےمرکزی میڈیا آفس کے لیے انجینئر شہزاد شیخ نے یہ مضمون لکھا۔

 

معیشتوں کو برباد کرنے والے عالمی سرمایہ دارانہ معاشی آرڈر کو ریاستِ خلافت دفن کردے گی

            خبر: بدھ، 18 مئی 2022 کو پاکستانی کرنسی نے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 200 روپے کی نفسیاتی حد کو چھو لیا۔ روپے کی تیزی سے گرتی قدر کی بنیادی وجہ ملک کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور زیادہ درآمدات ہیں، اور اس صورتحال کے نتیجے میں  عوام مہنگائی کی دلدل میں غرق ہو رہے ہیں۔

            تبصرہ:  سری لنکا کے ڈیفالٹ اور اس کے  ہولناک نتائج کے سامنے آنے کے بعد اب پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان کو رواں مالی سال 30 جون 2022 کے اختتام تک تقریباً 16 ارب امریکی ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا ہے۔ موجودہ عالمی معاشی آرڈر کے تحت، اگر پاکستان سود پر قرضے یا برآمدات کے ذریعے امریکی ڈالر حاصل نہیں کرپاتا ہے، تو وہ تیل اور دیگر ضروری اشیاء درآمد نہیں کر سکے گا۔ پاکستان نے مالی سال18-2017میں بھی اسی بحران کا سامنا کیا تھا، جب کرنٹ اکاونٹ  کا خسارہ 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا ۔ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت پاکستان کو کئی دہائیوں سے اس شیطانی چکر، کرنٹ اکاونٹ خسارے، کا سامنا ہے۔ پاکستان کی درآمدات 75 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ برآمدات صرف 30 ارب ڈالر ہیں، اس طرح 45 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ تقریباً 30 ارب ڈالر بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھجوانے (Remittances)کے بعد بھی 15 ارب ڈالر کا ایک بڑا خلا پھر بھی باقی رہتا ہے۔

                  پاکستان کی بصیرت سے عاری حکمران اشرافیہ کے پاس آئی ایم ایف (IMF) سے رجوع کرنے اور اس شیطانی چکر کو جاری رکھنے کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط معیشت کو تباہ اور قرض کی دلدل  کو مزیدگہرا کرتی ہیں۔آئی ایم ایف  تیل، بجلی، گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے کا حکم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروبار اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ساتھ ہی ربا (سود)  مبنی قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کے نسخے  مہنگائی کا سونامی برپا کر کے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ پھر، ہر نئی حکومت ، جانے والی پچھلی حکومت کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے جس کا ارتکاب  وہ خود بھی یہ کہہ کر  کرتی  ہے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور ہمیں یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی!

                  بریٹن ووڈز معاہدے اور نظام کے ذریعے قائم ہونے والے موجودہ عالمی معاشی نظام نے مغرب اور چین میں دولت کے ارتکاز کو یقینی بنایا ہے، جس سے باقی دنیا بے آسرا اور غربت کا شکار ہو گئی ہے۔ اس عالمی معاشی آرڈر کے نتیجے میں واشنگٹن کے پڑوس میں واقع  لاطینی امریکی ممالک، قرضوں میں ڈوبتے ، اور مسلسل نادہندگی (ڈیفالٹ) کا شکار رہتےہیں، حالانکہ  ان میں سے بہت سے ممالک وسائل سے مالا مال ہیں۔ 15 فروری 2022 کو ورلڈ بینک نے ایک انتباہ جاری کیا کہ تقریباً ستر ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان ممالک میں سری لنکا، مصر، ارجنٹائن، کینیا، پیرو، جنوبی افریقہ، ترکی اور بھارت  بھی شامل ہیں۔

                  موجودہ عالمی معاشی آرڈر ناانصافی پر مبنی ہے کیونکہ بین الاقوامی تجارت صرف ایک ریاست، امریکہ، کی کرنسی سے منسلک ہے، لہٰذا اگر امریکی معیشت کو ٹھنڈ لگ جائے تو پوری دنیا کو چھینک آجاتی ہے، یعنی اگر امریکہ کسی معاشی مسئلہ سے دوچار ہو تو پوری دنیا اس کا شکار ہو جاتی ہے۔ ہر ملک کو ڈالر جمع کرنے کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے جو وہ برآمدات کے ذریعے پورا نہیں کر پاتے کیونکہ اکثر و بیشتر ان کی معیشت زراعت یا صرف بنیادی صنعتوں جیسا کہ ٹیکسٹائل یا فوڈ پروسیسنگ پر مشتمل ہوتی  ہے، جس میں بننے والی اشیاء کم قیمت ہوتی ہیں۔  لہٰذا زراعت اور بنیادی صنعتوں کی لاکھوں  ٹن  زائد پیداوار کو برآمد کرنے سے حاصل ہونے والے ڈالر انتہائی قلیل ہوتے ہیں جو ملکی درآمدات کے لیے درکار ڈالرز سے بہت کم ہوتے ہیں۔  اس کے بعد ڈالر کے فرق کو پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف اپنے تباہ کن نسخوں سے مداخلت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معیشت  وینٹی لیٹر پر چلی جاتی ہے۔

                  پاکستان اور پوری دنیا کو ایک نئے عالمی معاشی نظام کی ضرورت ہے۔ اسلامی شرعی قانون کے تحت، مقامی اور بین الاقوامی تجارت سونے اور چاندی یا سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی میں ہوتی ہے۔ صدیوں تک دورِ خلافت میں بین الاقوامی تجارت اسی طرح سے ہوتی رہی ہے اور نبوت کے نقش قدم پر خلافت کی واپسی پر دوبارہ بین الاقوامی تجارت اسی طرح انجام پائے گی، انشاء اللہ ۔ اس کے علاوہ، خلافت توانائی سے مالا مال مسلم سرزمینوں کو مسلمانوں کی ایک واحد ریاست میں  یکجا کرے گی، اور اس طرح  تیل اور گیس کی مہنگی درآمدات کی ضرورت کو ختم کردے گی۔ خلافت تیز رفتار صنعت کاری کی نگرانی کرے گی، مہنگی  مشینری اور ٹیکنالوجی کی درآمدات کی ضرورت کو کم کرے گی۔ خلافت سود کی برائی کو ختم کر دے گی، جس کی وجہ سے دنیا کے وسائل سے مالا مال دنیا کے سب سے بڑے ممالک کی منظم بربادی ہوئی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ "اور دولت صرف تمہارے امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔"(الحشر، 59:7)۔

                 

                 

حزب التحریر کےمرکزی میڈیا آفس کے لیے انجینئر شہزاد شیخ نے یہ مضمون لکھا۔

Last modified onپیر, 23 مئی 2022 16:34

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک