بسم الله الرحمن الرحيم
احمد الشرع حکومت کی طرف سے یہود کے ساتھ نارملائزیشن کی انتھک کوششیں
تحریر: استاد منیر ناصر
(ترجمہ)
حالات و واقعات کے دھارے پر گہری نظر رکھنے والے ہر باخبر مبصر پر یہ بات مخفی نہیں کہ حالیہ دنوں میں شام اور یہودی وجود کے مابین تعلقات کس ڈگر پر جا پہنچے ہیں؛ جہاں میدانی سطح پر ایک نمایاں کشیدگی دیکھنے میں آئی جس میں غاصب یہودی وجود کی افواج نے ترک افواج کی موجودگی کا بہانہ بنا کر 'ابو الظہور' کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
اور اس یہودی وجود کے سیاست دانوں کے بیانات نے اس سرخ لکیر کی توثیق کی کہ شام کی سرزمین پر کسی صورت ترک فوجی اڈے یا مہماتی ٹھکانے قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواہ وہ شمال ہی میں کیوں نہ ہوں جیسا کہ ابو الظہور ہوائی اڈے کے معاملے میں پیش آیا۔
اس کے مقابلے میں، الشیبانی کے بیانات سامنے آئے جو ان کے بقول کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کی نفی کرتے تھے، جن کے ساتھ ان حملوں کی ایک بوجھل و بے اثر زبانی مذمت بھی شامل تھی؛ یہ ایک ایسا تکراری اور ناگوار موقف ہے جو یہودی وجود اور اس کی متواتر جارحیت کے مقابلے میں طویل دہائیوں پر محیط آلِ اسد کے نظام کے ردِعمل کی من وعن عکاسی کرتا ہے، جس میں اس کی جارحیت کو روکنے یا اسے ملک سے مٹانے کے لیے کسی بھی حقیقی و عملی اقدام کا سراغ نہیں ملتا۔
اس خلاف ورزی اور جارحیت کا کمر توڑ فوجی جواب دینے کے بجائے، یکایک اردن کی میزبانی میں ہونے والے ایک ایسے اجلاس کا اعلان سامنے آیا جس نے شام کے وزیرِ خارجہ اور یہودی وجود کے موساد چیف کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اس اعلیٰ سطحی انٹیلی جنس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کا بنیادی محور "سیکیورٹی معاہدے اور سرحدوں کو پرسکون بنانے" جیسے دلفریب اور فریب کارانہ عنوانات کے تحت نارملائزیشن کے عمل کو آگے بڑھانا تھا۔ بند کمروں میں دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی شقوں کو ڈھانپنے والی شدید پردہ داری اور مطلق راز داری کے باوجود، افشا ہونے والی معلومات اور سیاسی اشاروں کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق اس معاہدے کے بنیادی خدوخال واضح کرنے کے لیے کافی ہیں؛ جس کا اصلی مقصد یہودی وجود، شام اور ترکی پر مشتمل ایک مشترکہ سیکیورٹی آپریشنز روم قائم کرنا ہے، جو براہِ راست اور کھلے عام امریکی نگرانی و سرپرستی میں کام کرے گا۔
اردن کے اجلاس کے صرف دو ہفتے بعد، شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے ترکی کے ایک غیر اعلانیہ دورے کے دوران اپنے ترک ہم منصب حقان فیدان اور انقرہ میں متعین امریکی سفیر و شام و عراق کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے ٹام براک سے ملاقات کی۔ باخبر ذرائع نے 'العربی الجدید' کو بتایا کہ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں سیکیورٹی امور اور علاقائی معاملات کی ازسرِ نو ترتیب سرِ فہرست تھی۔ میڈیا کی بلیک آؤٹ اور ان ملاقاتوں کے تفصیلی مندرجات سے متعلق سرکاری بیانات کے فقدان کے باوجود، تمام قرائن اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں یہودی وجود کے ساتھ حتمی معاہدے کی صورت گری کو مکمل کرنے کی انتھک کوششوں کا حصہ ہیں۔ اور شاید پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک ٹویٹ کے ذریعے الشیبانی کی ستائش کرتے ہوئے اس ملاقات پر براک کا واضح تبصرہ پورے منظرنامے کا خلاصہ پیش کرتا ہے، کیونکہ یہ امریکی وژن کے مطابق اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کی ترتیب میں شام کی رویہ اور پابندی پر امریکہ کے اطمینان کو ظاہر کرتا ہے۔
یہاں، اس خطرناک موڑ اور فیصلہ کن مرحلے پر، ہمارے لیے چند بنیادی نکات پر رک کر غور کرنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ ان عظیم قربانیوں اور اس مقصد کو دوبارہ ذہنوں میں تازہ کیا جا سکے جس کے لیے پاکیزہ خون بہایا گیا تھا، اور ان اصلی مقاصد و اہداف کی یاد دہانی کرائی جا سکے جن کی خاطر عوام میدان میں نکلے تھے: پہلا: امریکی سرپرستی کا وہم اور متوازن اتحادی کا دھوکہ۔ بلا شبہ امریکہ، جو اہل غزة کے خلاف خوفناک جنگ اور نسل کشی میں یہودی وجود کا سب سے بڑا پشتیبان اور براہِ راست معاون ہے، وہ کسی صورت میں بیک وقت شام کے مسلمانوں کا دوست یا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ امتِ مسلمہ سے امریکہ کی عداوت ہر صاحبِ بصیرت کے لیے روزِ روشن کی طرح عیاں اور مسلّم حقیقت ہے۔ بلکہ نزدیک تر تاریخی شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ ہی اپنے عوام کے خلاف جنگ میں سابقہ مجرم نظام کے حق میں لڑائی کے توازن کو برقرار رکھنے والا پسِ پردہ حامی اور بنیادی محرک تھا، خواہ اس نے سیاسی فریب کاری پر مبنی بیانات کے ذریعے کھلم کھلا اس کے برعکس دعویٰ ہی کیوں نہ کیا ہو۔ امریکہ نے اس مجرم کو کھلی چھوٹ دیے رکھی کہ وہ لوگوں کو قتل کرے اور شہروں کو ان کے رہائشیوں کے سروں پر مسمار کر دے، اور خود محض چند برائے نام پابندیوں پر اکتفا کیا جو نہ تو کسی مجرم حکومت کا تختہ الٹ سکتی تھیں اور نہ ہی کسی گھناؤنے جرم کو روک سکتی تھیں، تا آنکہ وہ آج آ کر خود کو علاقے میں امن اور حل کا کافل و سرپرست بنا کر پیش کر رہا ہے!
بلاشبہ تاریخ سودے بازی کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتی، اور جو قوم اپنے دشمنوں کے وژن کو قبول کر لے اور اپنے عہد و پیمان نیز اپنے شہداء کے خون کے بدلے مشکوک سیکیورٹی معاہدوں کا سودا کر لے، وہ اپنے ہاتھوں اپنی غلامی اور بربادی کا پروانہ لکھتی ہے۔ اور آج کا اصل فرض یہ ہے کہ اپنی بنیادوں اور ایمانی اصولوں کی طرف رجوع کیا جائے، اور وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے اپنے قطب نما (رخ) کی تصحیح کر لی جائے۔




