بسم الله الرحمن الرحيم
چین کے اسٹریٹجک وژن کا مطالعہ اور اس کی بین الاقوامی پالیسی میں تبدیلی!
الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483
اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ
بمطابق، ستمبر 2026ء
تحریر : مُناجي محمد
اس مضمون کا آغاز میں ایک ایسے تعارف سے کرتا ہوں جو اس وقت چین میں رونما ہونے والی بڑی اسٹریٹجک تبدیلیوں کو سمجھنے کی ضرورت کے حوالے سے ناگزیر ہے۔ لامحالہ طور پر یہ ضروری ہے کہ چین کے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنے کے پس پردہ بنیادی اسباب، حالات، اور اسٹریٹجک و جیواسٹریٹجک مواقع کا جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ میں چین کی اقتصادی، عسکری، ٹیکنالوجی اور سیاسی طاقت میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے عالمی مقاصد کا جائزہ بھی شامل ہے، اور اس حد تک کہ اب چین بین الاقوامی صورتحال اور عالمی سیاست پر اپنا ایک منفرد اثر ڈال رہا ہے۔ حال ہی میں، 17 جون 2026ء کو عوامی جمہوریہ چین کی اسٹیٹ کونسل کے انفارمیشن آفس نے ایک وائٹ پیپر جاری کیا جس کا عنوان تھا، ”زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات“، جس میں چین کے اسٹریٹجک وژن اور مستقبل کے عالمی نقطۂ نظر کا اظہار کیا گیا تھا۔
چین کا ایک عالمی طاقت بن کر ابھرنا کوئی ایسا الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا جو بین الاقوامی ماحول، عالمی صورتحال کے گرد موجود جیوپولیٹیکل سیاسی حالات، یا مغربی امریکی بین الاقوامی نظام کو درپیش شدید بحرانوں سے کٹا ہوا ہو۔ بلکہ چین کی یہ طاقت اہم تاریخی واقعات کے ذریعے پروان چڑھی اور مجتمع ہوتی گئی، جن میں سب سے نمایاں واقعات سرد جنگ کا خاتمہ، سوویت یونین کا انہدام اور امریکہ کے یک قطبی (unipolar) غلبے کا ظہور تھا۔ سوویت یونین پر فتح کی خوشی میں امریکہ کی اسٹریٹجک مصروفیت اور بنیادی تشویش ایک ایسی سلطنت کی تعمیر اور غلبے کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنا تھا جس کے ذریعے دنیا کو ایک واحد غالب قطب کی حیثیت سے چلایا جا سکے۔ یہ ذرائع اور کچھ نہیں بلکہ توانائی کے ذرائع، خام مال اور بنیادی قدرتی وسائل تھے۔ اور عالمِ اسلام جس کے پاس بے شمار وسائل، اپنی دولت اور تیل اور گیس کے سمندر موجود تھے، اور پھر اس کا مضمر عنصر اسلام تھا جس کی جڑیں کافی گہری تھیں اور وہ اپنی اسٹریٹجک قوت دوبارہ حاصل کر رہا تھا، چنانچہ اسلام، امریکہ کے لئے اسٹریٹجک مصروفیت اور بنیادی تشویش بن گیا۔ چنانچہ امریکہ کی جنگیں جو کہ خلیج، افغانستان اور ہارن آف افریقہ کے علاقوں میں برپا کی گئیں، وہ جنگیں اسٹریٹجک جنگیں تھیں جن کا مقصد امریکہ کی سلطنت کو تشکیل دینا اور اس کی یک قطبی بالادستی کو مستحکم کرنا تھا، جسے امریکہ نے ”ایک نئے عالمی نظام“ کے قیام کے طور پر پیش کیا۔ یوں اس غیر معمولی بین الاقوامی صورتحال نے چین کے لئے ایک تاریخی اسٹریٹجک موقع اور لمحہ پیدا کیا۔ امریکہ اپنی سامراجی مہمات میں الجھا ہوا تھا، جبکہ چین نے خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی معیشت تعمیر کی، اپنے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی پیداواری صلاحیتوں کو ترقی دی، اور اپنے تعلیمی نظام کو آگے بڑھا کر اور اپنے ریسرچ، ٹیسٹنگ اور ایجادات کے سینٹرز کی استطاعت کو مضبوط کرکے اپنی ٹیکنیکل بنیاد قائم کی۔ اگرچہ یہ تاریخی لمحہ امریکی بالادستی کا دور دکھائی دیتا تھا، لیکن اس نے چین کو ایک ایسا سازگار بیرونی ماحول فراہم کیا جس میں وہ امریکی کنٹرول اور پابندیوں سے آزاد ہو کر خالص اسٹریٹجک فوائد حاصل کرسکا۔ اس مرحلے کے دوران جدید چین کی اصلاحات کے معمار، ڈینگ شیاؤ پنگ (Deng Xiaoping) کے مشہور قول ”اپنی صلاحیتیں چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو“سے متاثر بیجنگ کے محتاط طرزِ عمل اپنانے نے بھی اس کی کافی مدد کی، جس کا مقصد غالب امریکی طاقت کے ساتھ براہِ راست الجھنے سے بچنا تھا۔ مزید یہ کہ، کمیونسٹ نظام کی شکست، یورپی مشرقی بلاک کی ریاستوں کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے تناظر میں امریکہ نے ایک گہرے اور غلط اسٹریٹجک اندازہ پر انحصار کر لیا: اور وہ یہ کہ سوشلسٹ عوامی جمہوریہ چین کا بھی یورپی سوشلسٹ بلاک کی ریاستوں جیسا انجام ہو گا، اور چینی سوشلسٹ ریاست اور نظامِ حکمرانی میں بھی لازماً انتشار پیدا ہو جائے گا۔ اس اندازے نے چین کی حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، جس کا مخلوط نظام کمیونسٹ فریم ورک کے اندر ریاستی سوشلزم کے مقابلے میں ریاستی سرمایہ دارانہ سوشلزم سے زیادہ قریب تھا، نیز یہ کہ مشرقی چین اور مشرقی یورپ کے درمیان ثقافتی اور تہذیبی اختلافات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
پھر سوویت یونین کے انہدام اور کمیونسٹ رکاوٹوں کے خاتمے کے ساتھ ہی لبرل حالات سرمایہ دارانہ نظام کے لئے معیشت، سیاست اور روزمرہ زندگی پر اپنی بالادستی اور غلبہ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سازگار ہوگئے۔ اس نئی قسم کی لبرل ازم—”نیو لبرل ازم“—کے نتائج میں مغربی لبرل ماڈل کی گلوبلائزیشن اور عالمی تجارت (سرمایہ دارانہ کمپنیوں کی تجارت) سے تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کا خاتمہ شامل تھا، جیسا کہ جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرفس اینڈ ٹریڈ (GATT) معاہدہ اور 1995ء میں قائم ہونے والی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں اس کا اظہار ہوا۔ اس اقتصادی گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا نے بین الاقوامی تجارت میں بے مثال توسیع اور صنعتی پیداوار کو کم لاگت اور کم ضوابط والے علاقوں میں منتقل ہوتے دیکھا۔ چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کرکے اور اپنی صنعتی صلاحیتوں، تکنیکی مہارتوں اور افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر اس لہر سے فائدہ اٹھایا۔ عالمی معیشت میں چین کا کردار بڑھنے لگا، یہاں تک کہ چین کو ”دنیا کی ورکشاپ“ کہا جانے لگا۔ 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چین کی شمولیت کے بعد اس حیثیت کو مزید تقویت ملی، اور 2003ء سے 2008ء کے عرصے میں جب اس کی صنعتی برآمدات دوگنی ہوگئیں تو یہ حیثیت اور مستحکم ہو گئی۔ چین کو بڑے پیمانے پر ”دنیا کی فیکٹری“ کے نام سے جانا جانے لگا، جو ایک ایسی اصطلاح بن گئی جو کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اور مالیاتی اخبارات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئی اور خاصی مقبول ہوئی۔ یوں چین مغربی سرمایہ دارانہ پروڈکشن کی لائن میں دور کونے میں لگی ایک ریاست کی حیثیت سے نکل کر عالمی اکنامک سپلائی چینز میں ایک بنیادی اور مرکزی ملک میں تبدیل ہوگیا۔
چین کے اس معاشی عروج کے ساتھ اکنامک کشش کا مرکز ایشیا کی طرف منتقل ہونا شروع ہوا، کیونکہ عالمی پیداوار اور تجارت میں ایشیا کا حصہ بڑھ رہا تھا، اور چین اس کے سب سے بڑے مستفید ہونے والوں میں سے ایک تھا۔ اس کامیابی کو چین کی سیاسی قیادت، وسیع داخلی مارکیٹ، وسیع صنعتی بنیاد، اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری نے مزید تقویت دی۔
پھر تیسرے ہزار سالہ دور کی نئی صدی کا آغاز ہوا، جس میں مغربی امریکہ کے بین الاقوامی نظام میں زوال اور تھکن کے آثار اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے بحرانوں میں شدت ظاہر ہوئی۔ ان بحرانوں میں 2008ء کا عالمی مالیاتی بحران چینی حکمتِ عملی میں ایک اسٹریٹجک موڑ اور گہری تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ عالمی معیشت کے تخمینوں پر مبنی مالیاتی میکانزم اور اداروں سے چین کا نسبتاً الگ رہنا اسے 2008ء کے ویسٹرن قرضوں کے بحران کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کا باعث بنا۔ چین کے اس تحفظ کو اس کے وسیع زرمبادلہ کے ذخائر، ریاست کے زیرِ سایہ بینکاری شعبے، بلند داخلی بچت اور عوامی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور داخلی طلب کو ابھارنے کی مضبوط صلاحیت نے مزید تقویت دی۔ چنانچہ چین نے 2008ء کے بحران کو محض ایک سخت اقتصادی امتحان کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک ایسے فیصلہ کن لمحے کے طور پر دیکھا جس نے ویسٹرن مالیاتی ماڈل کی حدود کو عیاں کر دیا تھا۔ اس صورتحال نے چینی اشرافیہ کے اپنے ماڈل کی مضبوطی پر اعتماد کو تقویت دی، جس میں مالیات، پیداوار اور تجارت پر مرکزی ریاستی کنٹرول موجود تھا، اور یہ ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے چین کو بین الاقوامی نظام میں انضمام کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھا کر سنجیدگی سے اس نظام کی تشکیلِ نو کے بارے میں کہیں زیادہ بلند عزائم کے ساتھ سوچنے پر مجبور کیا۔ چنانچہ 2013ء میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا آغاز کیا، جو ایک اقتصادی طاقت سے عالمی جیوپولیٹیکل سیاسی کردار کی طرف اس کی منتقلی کا اشارہ تھا۔ اس کے علاوہ امریکی ریاست کے سیاسی، اسٹریٹجک اور عسکری بحرانوں نے بھی ایک معاون عامل کے طور پر کردار ادا کیا۔ امریکہ کا یہ بحران سرمایہ دارانہ نظام کی داخلی تقسیم اور اس کے سیاسی و ثقافتی اثرات، بڑھتی ہوئی داخلی امریکی تقسیم اور اس کے ریاست و خارجہ پالیسی پر اثرات، اور امریکی عسکری طاقت کو پہنچنے والے دھچکوں سے پیدا ہوا تھا، جنہوں نے یک طرفہ بالادستی برقرار رکھنے میں امریکی طاقت کی حدود اور اوقات کو واضح کر دیا تھا۔ بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں اور مغربی امریکی قیادت کی کشش میں کمی کے ساتھ، بیجنگ نے امریکی ریاست کے بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صنعتی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی بنیاد اور بین الاقوامی تعلقات کو وسعت دی، اور اپنی اقتصادی حیثیت کو جیوپولیٹیکل سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل کرتے ہوئے خود کو ویسٹرن انٹرنیشنل آرڈر سے فائدہ اٹھانے والی ایک ریاست کی حیثیت سے بڑھا کر اس نظام کے قواعد کو چیلنج کرنے اور اسے ازسرِنو تشکیل دینے والی طاقت بننے کی طرف پیش قدمی کی۔
اور اس پیش قدمی کو ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل انقلاب نے مزید تقویت دی۔ ڈیجیٹل معیشت کے عروج کے ساتھ طاقت کا پیمانہ صرف صنعتی پیداوار تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیٹا اور سیمی کنڈکٹرز بھی اس میں شامل ہو گئے۔ چین نے شروع میں ہی یہ جانچ لیا تھا کہ مستقبل کی دوڑ ٹیکنالوجی اور ٹیکنیکل اسٹینڈرڈز کے گرد مرکوز ہوگی۔ چنانچہ اس نے سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری تیز کردی تاکہ خود اپنی مخصوص چینی ٹیکنالوجی تیار کرسکے، بالخصوص حساس شعبوں میں غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لئے، اور یوں اس کے بعد چین نے اپنی ایجادات کے ذریعے عالمی منڈیوں میں اپنے ہمعصروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
چین کا عروج صرف اس کی داخلی طاقت کا نتیجہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ اس عالمی نظام کے بتدریج کمزور ہونے کا بھی نتیجہ تھا جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے قائم کیا اور یہ نظام اس کی قیادت میں ہی چلتا رہا، اور اسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مزید مضبوط کیا گیا تھا۔ اس عالمی نظام کے ستون امریکی معیشت کی قیادت میں مغربی اقتصادی غلبہ، امریکی قیادت تلے عسکری برتری، اس نظام کی خدمت کرنے والے بین الاقوامی ادارے، اور اکنامک گلوبلائزیشن تھے۔ کئی دہائیوں تک ان عناصر نے ایک دوسرے کو تقویت دئیے رکھی: عسکری طاقت نے امریکہ اور مغرب کے لئے سکیورٹی کی چھتری فراہم کی؛ بین الاقوامی اداروں نے عالمی اقتصادی تعلقات کے ایک بڑے حصے کو منظم کیا اور مغربی بالادستی مسلط کرنے کے لئے جبری دباؤ کے حربوں کے طور پر کام کیا؛ جبکہ گلوبلائزیشن نے دنیا کی معیشتوں کو مغربی معیشت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا۔
تاہم حالیہ دہائیوں میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے مغربی انٹرنیشنل آرڈر کے ستوں کمزور کر دئیے ہیں۔ ایشیائی معیشتوں کے عروج کے ساتھ ہی عالمی معیشت میں مغرب کا حصہ نسبتاً کم ہو گیا ہے، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے مقابلہ میں اضافہ ہوا، اور ایسے علاقائی طاقت کے مراکز ابھرے جو اپنے فیصلے کرنے میں زیادہ آزاد تھے۔ مزید یہ کہ، بعض بین الاقوامی اداروں کو نمائندگی اور قانونی جواز کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کثیر القطبی (multipolar) دنیا کے بارے میں مباحثوں نے زور پکڑ لیا۔ اسی دوران گلوبلائزیشن ایک زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی: مغربی معیشت پر انحصار گہرا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرنے کے بجائے اب یہ مغرب کے ساتھ مقابلہ کا ذریعہ اور میدان بھی بن گئی۔ اس صورتحال نے سپلائی چینز، ٹیکنالوجی کی سکیورٹی، اہم وسائل اور غیر ملکی ذرائع پر انحصار کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کیا۔ گلوبلائزیشن، اس کے فلسفے اور اس کے قواعد اختلاف اور بحث کا موضوع بن گئے، جبکہ تحفظ پسند پالیسیاں—پابندیوں اور ٹیرف کی جنگوں کے ساتھ—متبادل کے طور پر پیش کی گئیں، جس کے نتیجے میں جیوپولیٹیکل عوامل ایک بار پھر عالمی معیشت کے مرکز میں آگئے۔
جیسے جیسے مغربی انٹرنیشنل آرڈر کے ستون متزلزل ہوئے، طاقت کے تصور میں بھی ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ پہلے اثر و رسوخ بنیادی طور پر عسکری اور مالی صلاحیتوں سے وابستہ ہوا کرتا تھا، لیکن ٹیکنالوجی نے اپنے ہارڈویئر، ڈیٹا، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، ٹیکنیکل اسٹینڈرڈ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ مل کر عالمی مقابلہ کی دوڑ میں مرکزی حیثیت اختیار کر لی ہے، جبکہ سائبر جنگ نے ریاستوں کی اسٹریٹجک ترجیحات میں مرکزی مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ بیسویں صدی کے وسط میں وضع کیے گئے قواعد بہت سے ابھرتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لئے ناکافی ہوگئے، جس نے ان کی تجدید یا ازسرِنو تدوین کے بارے میں وسیع بحث کو جنم دیا۔ یوں سیاسی کشیدگی اور تقسیم اس سوال پر پیدا ہونے لگی کہ آیا مغربی امریکی نظام کو اپنی موجودہ شکل میں جاری رہنا چاہئے یا اسے تبدیل اور ازسرِنو تشکیل دینا چاہئے، جبکہ امریکہ اسے برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اصلاحات اور نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کا مطالبہ کرتا رہا۔
دوسری طرف، چین کی قیادت میں مباحثے شروع ہوئے جو انٹرنیشنل آرڈر کے اداروں کے اندر اثر و رسوخ کی ازسرِنو تقسیم یا ایسے نئے فریم ورک قائم کرنے کے بارے میں تھے اور ان مباحثوں سے عالمی معیشت میں تبدیلیوں اور طاقت کے نئے توازن کی عکاسی ہوتی تھی۔ یہ اسٹریٹجک تبدیلی چین کے کردار کے حوالے سے اس منتقلی کی عکاسی کرتی ہے کہ جو ریاست پہلے ویسٹرن انٹرنیشنل آرڈر میں انضمام کی خواہاں تھی، اب وہ ایسی ریاست ہے جو اس نظام کو ازسرِنو تشکیل دینے کی خواہش رکھتی ہے۔ چین کی اس اسٹریٹجک تبدیلی کو محض ایک نئی اقتصادی طاقت کے عروج کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے چین کے خود اپنے حوالے سے انٹرنیشنل آرڈر میں اپنی حیثیت کے بارے میں اور عالمی صورتحال کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر میں بتدریج اور مسلسل اسٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
2008ء کا عالمی مالیاتی بحران چینی اسٹریٹجک سوچ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، کیونکہ بیجنگ اس نتیجے پر پہنچا کہ مغربی ماڈل کو وہ فکری اور اقتصادی بالادستی حاصل نہیں رہی جو سرد جنگ کے بعد سے اسے حاصل تھی۔ اس کے بعد سے چین صرف بین الاقوامی نظام کے فوائد سے فائدہ اٹھانے پر ہی مطمئن نہیں رہا، بلکہ اس نے اپنے اثر و رسوخ کے آزاد ذرائع تعمیر کرنا شروع کیے۔ ان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، نئے مالیاتی ادارے، جیسے BRICS بینک، اپنی ٹیکنیکل موجودگی اور اثر و رسوخ میں توسیع، اور دنیا کے مختلف خطوں جیسا کہ گلوبل ساؤتھ، جس میں افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیائی ممالک شامل ہیں، ان میں اپنے جیو اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات چین کے انٹرنیشنل نظام میں انضمام کی حیثیت سے نکل کر خود اپنے اثر و رسوخ کی طرف منتقلی کا اظہار تھے، جس کے بعد ویسٹرن انٹرنیشنل آرڈر کی ازسرِنو تشکیل کی کوشش کا مرحلہ آیا۔
اس دہائی کا آغاز چین کی اسٹریٹجک تبدیلی میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ 2020ء سے وائٹ پیپرز کے ایک سلسلے نے چین کے اسٹریٹجک وژن کو بیان کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ بین الاقوامی نظام میں انضمام کے مرحلے سے باہر نکل کر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ اس عالمی نظام کو خود منظم کرنے اور اس کے قواعد کو ازسرِنو تشکیل دینے کے لئے ایک متبادل وژن وضع کرے۔ چین اب موجودہ نظام کے اندر صرف ایک بڑا حصہ مانگنے پر اکتفا نہیں کررہا، بلکہ اس نے ایسے معیارات، قواعد، ادارے اور تصورات پیش کرنا شروع کر دئیے ہیں جو اس کے اسٹریٹجک وژن اور چینی ثقافت کے عناصر کی عکاسی کرتے ہیں اور مغربی ماڈل کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ کرتے ہیں۔ 2021ء کے وائٹ پیپر ”چین: وہ جمہوریت جو کہ کام کر سکتی ہے“ میں بیجنگ نے مغربی لبرل فریم ورک سے باہر جمہوریت کی نئی تعریف پیش کی اور جسے اس نے ”جمہوریت کا مکمل عمل“ قرار دیا—جسے نظام کی جانب سے عوام کے مفادات، ترقی اور استحکام کی خدمت کرنے کی صلاحیت کے طور پر بیان کیا گیا—اور یہ اقدام امریکہ اور مغرب کی اجارہ داری کے خلاف بغاوت کے آغاز کی علامت تھا۔ 2023ءکے وائٹ پیپر ”مشترکہ مستقبل کی عالمی برادری: چین کی تجاویز اور اقدامات“ میں بیجنگ نے عالمی نظام کے بارے میں اپنے وژن کو مزید واضح طور پر پیش کیا، اس میں موجودہ نظام پر تنقید کو بھی شامل کیا گیا اور ان فکری بنیادوں کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا جن پر سرد جنگ کے بعد یہ نظام قائم کیا گیا تھا۔ 2023ء کے بیلٹ اینڈ روڈ وائٹ پیپر میں چین نے اپنے اقدام کو دنیا کے سامنے محض ایک انفراسٹرکچر کے منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ عالمی تجارت، مالیات اور باہمی رابطے کے نیٹ ورکس کو چینی وژن کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے کے جیواسٹریٹجک اقدام کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح 2025ء کے وائٹ پیپر ”نئے دور میں نیشنل سکیورٹی“ میں بیجنگ نے امریکی قیادت اور اس کے عالمی نظام کے تحت دنیا کو منتشر اور غیر مستحکم قرار دینے پر زور دیا۔ اس نے چینی سلامتی کو ان بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ جوڑا جن سے عالمی نظام کو گزرنا لازمی ہوگا تا کہ چین کے عروج کی راہ کا تحفظ ممکن ہو سکے، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ مسئلہ محض حالات پر مبنی ایسا تنازع نہیں جسے حل کیا جاسکے، بلکہ مسئلہ خود نظام کے تعلقات اور قواعد کی بنیاد میں ہے۔ اس سال 2026ء کے تازہ ترین وائٹ پیپرز چین کی انٹرنیشنل آرڈر کو ازسرِنو تشکیل دینے کی کوشش کا سب سے واضح اظہار ہیں۔ یہ پیپرز داخلی ترقی اور ایک محفوظ علاقائی حصار کی بحث سے آگے بڑھ کر عالمی حکمرانی کے نظام، عالمی سکیورٹی، عالمی ترقی، عالمی تہذیب اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
اپنی اسٹریٹجک تبدیلی میں چین تصورات کی ثقافتی تشکیلِ نو اور اصول و ضوابط کی ازسرِنو تشکیل بھی چاہتا ہے تاکہ یہ اس کے وژن اور مفادات کے مطابق عالمی نظام کی تشکیل کی طرف راہ ہموار کر سکیں۔ چین طاقت اور سکیورٹی کی توجہ کو صرف مضبوط عسکری طاقت کے ساتھ مخصوص تعلق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، اور طاقت و سکیورٹی کے تصور کو ٹیکنالوجی، ڈیٹا، صنعتی اور ڈیجیٹل اسٹینڈرڈ اور سائبر صلاحیتوں تک وسعت دیتا ہے، تاکہ یہ طاقت، سکیورٹی اور دھاک بٹھانے اور دشمن کو باز رکھنے کے بنیادی ذرائع بن جائیں۔ اس کے بعد وہ ان اہم مسائل میں چین کی حیثیت اور مقام پر زور دیتا ہے جو عالمی سکیورٹی پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس سے چین اصول و ضوابط کی تشکیل اور عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل میں ایک کلیدی فریق بننے کا اہل ثابت ہوتا ہے، اور اس نظام کے اندر ایک بڑی جیوپولیٹیکل طاقت کا کردار ادا کر رہا ہے۔
چین بین الاقوامی ماحول کی ازسرِنو تشکیل کو خود نظام کی ازسرِنو تشکیل میں ایک فیصلہ کن عامل سمجھتا ہے، اس طرح کہ طاقت کے نئے توازن قواعد کی تبدیلی کا ایک فطری نتیجہ بن جائیں۔ اس تصور کی جڑیں مغربی نظریات کی نسبت چینی ثقافتی ورثے میں کہیں زیادہ ہیں، کیونکہ چین اپنی ثقافت کے تصورات کو جدید زبان میں نئے مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ہنری کسنجر نے اپنے حالیہ تجزیوں میں اس معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی نظام کے ایک مختلف تصور کے تحت کام کرتا ہے اور اپنے اسٹریٹجک وژن کے لئے ایشیائی تاریخ میں توازن کے تصور سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، جہاں کسی ایک واحد طاقت کو دوسروں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے۔
چینی سیاسی تاریخ—جو مسلسل شاہی خاندانوں کی حکمرانی پر قائم رہی—اور چینی سیاسی ثقافت اپنی بنیاد اور اساس کنفیوشس ازم میں رکھتی ہے، جو ایک فکری، اخلاقی اور سیاسی نظام ہے جس کی بنیاد چھٹی صدی قبل مسیح میں کنفیوشس (Confucius) نے رکھی تھی۔ دو ہزار سال سے زیادہ عرصے تک کنفیوشس ازم نے چینی ریاست، معاشرے اور ثقافت کی ثقافتی، سیاسی اور انتظامی بنیاد کو تشکیل دیا۔ آج بھی چین کی ثقافت، سیاست اور انتظامی امور میں اس کا اثر واضح طور پر موجود نظر آتا ہے، حتیٰ کہ 1912ء میں شاہی حکمرانی کے خاتمے، جمہوریہ کے قیام اور ریاست کی جانب سے سوشلسٹ نظام اپنانے کے بعد بھی۔ چنانچہ چینی اسٹریٹجک سوچ اپنی سیاسی تاریخ اور چینی سیاسی ثقافت سے معمور ہے۔ درحقیقت چینی مسئلے کے تجزیے میں ایک بڑی خامی چین کے منفرد ثقافتی، تہذیبی اور سیاسی کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔
عصرِ حاضر کی چینی حکمتِ عملی پر سب سے نمایاں اثرات میں سے ایک سن زو (Sun Tzu) کے جنگی فلسفے میں پایا جاتا ہے—جو چینی تاریخ کا سب سے مشہور عسکری مفکر ہے، جس کی طرف ”آرٹ آف وار“ کی تصنیف منسوب کی جاتی ہے، اور یہ کتاب چینی عسکری، اسٹریٹجک اور سیاسی فکر کی سب سے زیادہ بااثر کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس نے جنگ کو محض روایتی طاقت کا امتحان نہیں سمجھا بلکہ اسے عقل کا امتحان قرار دیا۔ اس کا مشہور قول ”جنگ کا اعلیٰ ترین فن یہ ہے کہ دشمن کو لڑے بغیر ہی زیر کرلیا جائے“ کسی تنازع سے مکمل طور پر بچنے کی دعوت نہیں ہے، بلکہ یہ اسٹریٹجک ماحول کو اس طرح تبدیل کرنے کی ہدایت ہے کہ براہِ راست تصادم غیر ضروری ہوجائے—اور یہی آج چینی حکمتِ عملی کا بنیادی فلسفہ ہے۔
چنانچہ چینی اسٹریٹجک سوچ اپنے ثقافتی پس منظر اور منفرد سیاسی روایت سے مسلسل رہنمائی اور تحریک حاصل کرتی ہے، اور حقیقت کے عناصر کو ازسرِنو ترتیب دینے کے بارے میں مسلسل سوچتی ہے تاکہ ایسا عالمی ماحول تشکیل دیا جاسکے جو اس کے مقاصد کی خدمت کرتا ہو، یہاں تک کہ اس کا مطلوبہ مقصد رونما ہونے والے واقعات کے فطری تسلسل کا خودبخود نتیجہ بن جائے۔ اسی وجہ سے چین بڑی بڑی فتوحات کے اعلانات میں کم دلچسپی رکھتا ہے اور طویل المدت ماحول اور رجحانات کی تشکیل پر کہیں زیادہ توجہ مرکوز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس سوال پر اتنی توجہ نہیں دیتا کہ امریکہ کو کیسے شکست دی جائے، بلکہ وہ ایسی راہیں تلاش کرتا ہے کہ عالمی معیشت اور تجارت، ٹیکنالوجی اور مالیات کے نیٹ ورکس کی ساخت اس طرح کیسے تبدیل ہو کہ طاقت کے مراکز کا ایشیا اور چین کی طرف منتقل ہونا ایک فطری نتیجہ بن جائے۔
اس نقطۂ نظر سے حالیہ وائٹ پیپرز کو ایسے دستاویزات کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے جن کا مقصد غالب طاقت کے ساتھ براہِ راست اسٹریٹجک کشمکش کا اشارہ دینے کے بجائے عالمی نظام کے قواعد کی نئی تعریف اور ازسرِنو تشکیل کرنا ہے۔ ان دستاویزات میں عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیرِ نو، گلوبل ساؤتھ کے کردار میں توسیع، مقامی کرنسیوں کے استعمال کا فروغ، کثیر فریقی اداروں کی ترقی، اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل اکانومی میں نئے معیارات وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ تمام کوششیں ایک ہی مقصد کی طرف مرکوز ہیں: یعنی اس ماحول اور نظام کی ازسرِنو تشکیل اور تبدیلی جو موجودہ ویسٹرن انٹرنیشنل آرڈر کی میزبانی کررہا ہے۔
عالمی ماحول کو ازسرِنو تشکیل دینے کی اپنی کوشش میں—اور بیجنگ کے اس یقین کی بنیاد پر کہ مغرب اب دنیا کی آبادی یا معیشت کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا—چین ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی اقوام کو آنے والے نظام میں اہم پارٹنرز کے طور پر مخاطب کرتا ہے۔ چین کے بیانات نظریاتی نہیں اور نہ ہی متنازع ثقافتی مسائل کو اٹھانے پر مبنی ہیں؛ بلکہ وہ سرمایہ کاری، مالیات، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور تجارت میں اپنے اقتصادی ذرائع اور اضافی مالیاتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کا ایک وسیع اتحاد قائم کرتا ہے۔ اس سے چینی اثر و رسوخ گلوبل ساؤتھ کی اقوام کی اقتصادی ترقی کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے، اور یوں اس بلاک کو چینی حکمتِ عملی کے لئے عالمی ماحول کی ازسرِنو تشکیل کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس نقطۂ نظر سے چین کا بنیادی ڈھانچے، سپلائی چینز، صنعتی معیارات، مصنوعی ذہانت، کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور نئے مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کی طرف رخ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ محض اقتصادی ذرائع نہیں ہیں؛ بلکہ چین انہیں اس ماحول کی ازسرِنو تشکیل کے ذرائع سمجھتا ہے جس کے اندر عالمی طاقت کام کرتی ہے۔ اپنے اسٹریٹجک وژن میں چین اس خیال سے آگے ہی نہیں بڑھتا کہ عالمی نظام کو تبدیل کرنے کے لئے غالب طاقت کا تختہ الٹنا ضروری ہوتا ہے۔ بلکہ وہ ایک زیادہ پیچیدہ اور باریک مفروضے پر عمل کرتا ہے کہ : اگر وہ معیارات اور قواعد ہی تبدیل کردیے جائیں جن کے ذریعے نظام کام کرتا ہے، تو اس عمل کا فطری نتیجہ خود نظام کے مرکز میں تبدیلی اور منتقلی ہوگی—یعنی اداروں کو تبدیل کرنے سے پہلے قواعد کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔
عالمی نظام کے موجودہ اصول و ضوابط میں خلل ڈالنے کے لئے چین نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا تاکہ امریکی ڈالر کی بالادستی کو کمزور کیا جاسکے، متوازی ادائیگی اور لین دین کے نیٹ ورکس تعمیر کرنا تاکہ SWIFT نظام کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جاسکے، نئے ترقیاتی بینک قائم کرنا تاکہ مغربی عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی اجارہ داری کو توڑا جاسکے، مغربی اجارہ داریوں میں خلل ڈالنے کے لئے ٹیکنیکل اسٹینڈرڈز وضع کرنا، اور مغربی ڈیجیٹل بالادستی کا مقابلہ کرنے کے لئے آزاد ڈیجیٹل نیٹ ورکس تیار کرنا شامل ہیں۔ سرمایہ کاری اور مالیاتی وسائل کے ذریعے چین ان طریقوں کو وسیع پیمانے پر رائج کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک متوازی ماحول پیدا ہو جو بین الاقوامی اداروں کو اس کے مطابق ڈھلنے پر مجبور کرے، یوں قواعد میں تبدیلی ایک مطالبہ اور فطری نتیجہ بن جائے اور دوسروں کو اس نئے فریم ورک کے اندر کام کرنے پر مجبور کر دے۔ قواعد کی ازسرِنو تشکیل کے لئے یہ طریقۂ کار بالکل وہی ہے جسے چین سپلائی چینز، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، فائنانس، چینی صنعتی، ڈیجیٹل اور سائبر اسٹینڈرڈز، اضافی مالیاتی وسائل اور مالی مراعات کے ذریعے تعمیر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عالمی طاقت کے مرکز میں اس بتدریج تبدیلی کے ابتدائی آثار پہلے ہی دکھائی دے رہے ہیں: تجارت کا مرکز ایشیا کی طرف منتقل ہورہا ہے، مینوفیکچرنگ کا مرکز پہلے ہی ایشیا میں ہے، ترقی کا مرکز ایشیا کی طرف بڑھ رہا ہے، تکنیکی ایجادات کا زیادہ تر حصہ ایشیا سے آرہا ہے، اور ایشیا پر جیو اسٹریٹجک توجہ بڑھ رہی ہے۔ یوں چین بین الاقوامی ماحول کی تیاری کو اس طریقے کے طور پر دیکھ رہا ہے جس سے اصول و ضوابط میں اس کی تجویز کردہ تبدیلیاں نظام کی تباہی کے بجائے اس نظام کی اصلاحات دکھائی دیں۔
چین کی اسٹریٹجک منطق اور منصوبہ بندی اس اسٹریٹجک مساوات کو حل کرنے پر مرکوز ہے : یعنی نظام کے قواعد کو کس طرح ایسے ازسرِنو تشکیل اور ڈیزائن کیا جائے کہ چین کا عروج ان قواعد کا ایک منطقی اور فطری نتیجہ بن جائے۔ چین اپنے اسٹریٹجک کام کو سخت گیر طاقت کے دائرے میں نہیں بلکہ قواعد، معیارات اور اداروں کی ازسرِنو تشکیل میں دیکھتا ہے تاکہ بین الاقوامی ماحول کو نئے سرے سے ڈیزائن کرکے عالمی کششِ ثقل کے مرکز کو دوبارہ متعین اور منتقل کیا جاسکے، جبکہ دوسروں کو ان قواعد، معیارات اور اداروں کے اندر کام کرنے کی طرف راغب کیا جائے جنہیں اس نے اپنے مفادات اور وژن کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ازسرِنو تشکیل دے دیا ہے۔ چین کے وائٹ پیپرز بنیادی طور پر اس کے اپنے عالمی نظام کے وژن کے اسٹریٹجک خاکے ہیں، کیونکہ چین محض اس نظام کا ایک ستون بننے کے بجائے اس نئے نظام کا بنیادی معمار بننے کی کوشش کررہا ہے—اور یہی چینی بالادستی کی ایک طویل المدت بنیاد ہے۔
یہ حکمتِ عملی ایک مخصوص چینی وژن ہے، اور اس کی حدود اور خامیوں پر بحث کی جاسکتی ہے۔ تاہم اہم معاملہ، جسے نظر انداز یا فراموش نہیں کرنا چاہیے، یہ ہے کہ یہ تمام اسٹریٹجک کوششیں حقیقت میں ایک ایسی ایک فکری تحقیق کے طریقۂ کار کی ہیں کہ اس ثقافتی نظام—فلسفے اور نظام کی جڑ—کے مقاصد اور اہداف کو کیسے حاصل کیا جائے۔ حکمتِ عملی اپنی اہمیت کے باوجود ثقافتی تصور کے مقاصد اور غرض کو حاصل کرنے کا محض عملی ذریعہ ہوتی ہے، اور یہاں وہ تصور مغربی سرمایہ دارانہ لبرل تصور ہے۔ بنیادی تصور کی سطح پر چین کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی نیا پن پیش کرتا ہے؛ اس کی کنفیوشسی ثقافت کا اثر ذرائع اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی سے متعلق بعض عملی طریقۂ کار سے آگے نہیں بڑھتا۔ چین اس ثقافتی نظام کے قلب میں موجود سرمایہ دارانہ تصور تک نہیں پہنچتا—جو اقدار تخلیق کرنے، تصورات کو جنم دینے، نظام تشکیل دینے اور معنی، مقاصد اور اہداف متعین کرنے کے لئے تہذیبی رحم کی حیثیت رکھتا ہو۔ حکمتِ عملی تصور کے تابع اور اس کے اغراض و مقاصد کی خادم رہتی ہے، اور محض اس تصور کے نفاذ کے آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ چین اپنے لئے کوئی منفرد تہذیبی وژن پیش نہیں کرتا؛ بلکہ گزشتہ صدی کے آغاز سے، یعنی 1912ء میں جمہوریہ چین کے قیام، سوشلسٹ طرزِ حکمرانی اپنانے اور بعد ازاں سرمایہ دارانہ معیشت کو اس میں ضم کرنے کے بعد سے چین مغربی تہذیبی و سیاسی وژن کے ساتھ منسلک اور اس کا پابند رہا ہے۔ اور اس کے پاس اپنا کوئی منفرد ثقافتی اور تہذیبی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایسا کوئی منصوبہ پیش کرنے کا دعوٰی کرتا ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ آج دنیا کا مسئلہ حکمتِ عملی اور اسٹریٹجک سوچ سے آگے بڑھ کر اس تہذیبی نظام تک پہنچتا ہے جو انسان، اس کی بقا کے مسائل، اس کے نظام ہائے زندگی اور اس کی تسکین و اطمینان سے متعلق ہے۔ آج انسانی عقل کے سامنے جو سوال موجود ہے وہ مغربی سیکولر سرمایہ دارانہ تہذیبی نظام، یعنی اس نظام کے تباہ کن نتائج اور تہذیبی المیے کا متبادل تلاش کرنا ہے، نہ کہ ایسا راستہ وضع کرنے کی حکمتِ عملی جو بالکل انہی زہریلے اور تباہ کن سرمایہ دارانہ لبرل نتائج اور اہداف تک پہنچاتا ہو۔
مسئلہ مغربی سیکولر سرمایہ دارانہ تہذیبی نظام، اس کے فلسفۂ وجود، اس کے نظام ہائے زندگی اور اس کے غیر انسانی مقاصد و اہداف میں ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے وجود کی وجہ ہی کھو دی ہے، اپنے تمام مقاصد کو ختم کرچکا ہے، اور مکمل بے معنویت، مکمل سفاکیت اور اپنے سرمایہ دارانہ گروہ کے بے لگام غلبے پر آ پہنچا ہے۔ اپنے مذموم عزائم کی خاطر سرمایہ داروں کا یہ گروہ کرۂ ارض اور اس پر موجود ہر شخص کو جلا دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ لہٰذا مسئلہ یورپی-امریکی سرمایہ دارانہ گروہ کو چینی سرمایہ دارانہ گروہ، چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کی ریاست سے تبدیل کرنا نہیں ہے۔ زہریلا سرمایہ دارانہ تصور ان سب میں مشترک اور ایک ہی ہے خواہ یورپ، امریکہ یا چین کے ذریعے پیش کیا جائے، اور اس سرمایہ دارانہ تصور کے تباہ کن نتائج خود اس نظام کے خمیر اور نظام کی بنیادی فطرت سے جنم لیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام، اپنے سفاک وژن کی زیادتی اور اپنی تہذیب کی بربریت کے ساتھ، ایک سنگین المیہ اور تباہی کا ایک منصوبہ بن چکا ہے۔
ثقافتی سطح پر دیکھا جائے تو چین کوئی نئی بنیاد نہیں رکھتا، کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کرتا، اور نہ ہی اپنا کوئی متبادل ثقافتی و تہذیبی منصوبہ رکھتا ہے یا پیش کرنے کا دعوٰی کرتا ہے۔ یعنی چین کا یہ تصور خود وہی بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے، اور اس کے اندر چین کا سب سے بڑا قدم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ تباہی کی کدال امریکہ کے ہاتھ سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لے لے، تاکہ قواعد کی تبدیلی کی حکمتِ عملی کے ذریعے معیشت اور سرمایہ دارانہ بالادستی کے مرکز کو امریکہ -یورپ کے مغرب سے چینی مشرق کی طرف منتقل کیا جاسکے۔
جب تک یہ سرمایہ دارانہ نظام، جو کہ نوعِ انساں کی تباہی کا سبب ہے، قائم رہے گا، انسانیت کا مسئلہ بھی برقرار رہے گا اور اس کا المیہ بھی قائم رہے گا۔ حل صرف نظام کے خاتمے یا اس کی بنیادی ریاست، امریکہ، کے زوال میں، یا اس کو ختم کرنے اور طاقت کے مرکز اور سرمایہ دارانہ بالادستی کے مرکز کو چین منتقل کرنے میں نہیں ہے۔ بلکہ حل اس ثقافتی، تہذیبی اور سیاسی متبادل میں ہے جو دنیا کو اس اندھی جاہلیت کے اندھیروں سے آزاد کرے جس میں یورپی اور امریکی مغرب نے دنیا کو بدبختی اور خودکشی کے طور پر دھکیل دیا ہے۔ یقیناً چین وہ متبادل نہیں ہوگا، کیونکہ وہ صرف مغرب کی ظالمانہ جاہلیت کا ایک تسلسل ہی ہے جو کہ اس کا وہ چینی ایڈیشن ہے، جو مزید مصیبتوں اور زیادہ بربادی کا حامل ہے۔ بلکہ حقیقی نجات اور حقیقی آزادی تمام جہانوں کے رب کے پیغام میں ہے: یعنی اسلام کا منفرد تہذیبی منصوبہ اور اس کی منفرد اور ممتاز خلافتِ راشدہ۔ تو کیا اسلام کے فرزند اب بھی اپنے جلدی نہیں کریں گے تاکہ کفر کو اس کی تمام شکلوں اور رنگوں سمیت ختم کر دیں اور اسلام کی عظیم عمارت قائم کریں، یعنی نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ، جو اللہ کی زمین پر اس کے بندوں کے لئے ایک نور، ہدایت، عدل اور رحمت ہو؟
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿الر ۚ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾
”الٓرٰ، یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائیں، اس زبردست، قابلِ تعریف ذات کے راستے کی طرف“ [ سورۃ ابراہیم؛ 14:1]
مزید فرمایا؛
﴿الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾
”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے“ [ سورۃ الحج؛ 22:41]
اور مزید ارشاد ہے،
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ﴾
”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“ [ سورۃ یوسف؛ 12:21]
Latest from
- جمہوری انتخابات: ایک فرسودہ اور ناکارہ فارمولا
- برکس: کیا عالمی نظام بدل رہا ہے؟ یا اس کے اندر طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں؟
- امریکہ دارفور کو الگ کرنے کے لیے فوجی قیادت کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کو ایک سخت ڈنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے
- احمد الشرع حکومت کی طرف سے یہود کے ساتھ نارملائزیشن کی انتھک کوششیں
- رایہ اخبا ر شمارہ نمبر 618





