بسم الله الرحمن الرحيم
مسلمانوں کی افواج کو 'فتنہ' کی طویل جنگوں میں جھونکنے کے امریکی منصوبے کو روکیں
5 اکتوبر 2026 کو 'ڈان' نے رپورٹ کیا کہ "پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مملکت میں فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فوری تعیناتی پر متفق ہو گئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے پیر کے روز ریاض میں 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کے تحت ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد یہ بیان جاری کیا۔"
مسلم دنیا کے بارے میں امریکی اسٹریٹجک وژن یہ ہے کہ امریکی مفادات کے حصول کے لیے مسلم افواج اور وسائل کا استحصال کیا جائے۔ ایران کے مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کی جانب سے زمینی کاروائی شروع کرنے میں ناکامی اور ایران کے علاقائی 'پراکسیز' کو شکست دینے میں یہودی وجود کی ناکامی کے بعد واشنگٹن اب مسلم حکمرانوں میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں سے "ڈو مور" کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جب تک ان قابض حکمرانوں کا افواج اور امتِ مسلمہ پر کنٹرول برقرار رہے گا، مسلم دنیا مسلمانوں کے مابین جاری 'فتنہ' کی جنگوں کی دہکتی آگ میں جلتی رہے گی۔ امریکی منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی افواج کو طویل اور کم شدت والی فرسودہ کن جنگوں میں الجھا کر کمزور کیا جائے، تاکہ کسی بھی مسلم ریاست کو واشنگٹن سے آزادی حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ اس طرح واشنگٹن امریکی صلیبیوں، مغرب میں اپنے سرپرستی یافتہ یہودی وجود اور مشرق میں اپنے سرپرستی یافتہ ہندو ریاست کے غلبے کو محفوظ بنانے کا خواہاں ہے۔
*اے مسلمانوں اور ان کے علماء!* اپنی سرزمین، دولت اور جانوں پر ٹرمپ کے ایجنٹوں اور پیروکاروں کے تسلط کو توڑ ڈالیں۔ ہر قسم کے 'طاغوت' کے رد کا مطالبہ کریں، خواہ وہ ٹرمپ کے اتحاد اور بلاکس ہوں، یا وہ بین الاقوامی قانون ہو جس کی تاریخی بنیاد دعوت اور جہاد کے ذریعے خلافت کی مسلسل توسیع کے خلاف صلیبی مزاحمت پر رکھی گئی تھی۔
*اے مسلمانوں کی افواج!* اسلام نے مدینہ کے اوس اور خزرج کو اس مسلسل باہمی تصادم سے نجات دلائی تھی جس نے انہیں رومیوں اور فارسیوں کے مقابلے میں کمزور کر دیا تھا۔ اسلام نے انہیں ایک ایسی متحد عسکری قوت میں یکجا کر دیا جس نے فارس اور روم کی سرزمینوں کو اسلام کے لیے فتح کیا۔ غداروں کو اپنی صفوں میں سے ہٹائیں اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اپنی نصرہ پیش کریں۔
حزب التحریر آپ کو پکار رہی ہے، لہٰذا لبیک کہیں!
ابنِ اسحاق سے مروی ہے کہ ابوبکر ؓنے اپنے خطبے میں فرمایا، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمِيرَانِ , فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ ذَلِكَ يَخْتَلِفْ أَمَرُهُمْ وَأَحْكَامُهُمْ، وَتَتَفَرَّقُ جَمَاعَتُهُمْ، وَيَتَنَازَعُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، هُنَالِكَ تُتْرَكُ السُّنَّةُ، وَتَظْهَرُ الْبِدْعَةُ، وَتَعْظُمُ الْفِتْنَةُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى ذَلِكَ صَلَاحٌ "مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ (ایک وقت میں) انکے دو حکمران ہوں، کیونکہ جب بھی ایسا ہو گا تو ان کے معاملات اور فیصلوں میں اختلاف واقع ہو جائے گا، اور ان کی اجتماعیت بکھر جائے گی، اور ان کے درمیان تنازعات پیدا ہو جائیں گے؛ تب سنت متروک ہو جائے گی، بدعت ظاہر ہو جائے گی اور فتنہ بڑھ جائے گا۔ اور کسی کے معاملے میں بھی درستگی نہیں رہے گی"۔
مصعب عمير
Latest from
- ہندوستان کی اصلاح جمہوریت کے ’طاغوت‘ میں شرکت سے نہیں، اسلام کی دعوت سے ممکن ہے
- الرایہ اخبار: شمارہ 620 کی نمایاں سرخیاں
- متفرقات الرایہ – شمارہ 619
- الراية-سیسی کنانہ کی فوج کو استعماری کفار کے لیے تو فیاضی سے پیش کر رہا ہے، مگر مسلمانوں کے معاملے مین بخل کر رہا ہے!
- الراية-اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی اہم ترین بحثیں




