الجمعة، 07 ربيع الأول 1442| 2020/10/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 4 اکتوبر 2019

۔حکومت کا قیمتوں کا تعین کرنا غیر شرعی اور معاشی مسائل کا موجب ہے

-عمران خان کی اقوامِ متحدہ میں تقریر بھینس کے آگے بین بجانا  اور اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے کر جانا ہے

۔ آئی ایم ایف سے کیے گئےوعدوں کو نبھانے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے زہر قاتل ہے

تفصیلات:

 

حکومت کا قیمتوں کا تعین کرنا غیر شرعی اور معاشی مسائل کا موجب ہے

30 ستمبر کو ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ مالی سال 19-2018 میں سندھ میں گنے کی فصل میں رکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں چینی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ سال 18-2017 میں 216 لاکھ ٹن گنے سے 228 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی جبکہ اس سال 159 ٹن گنے سے 172 ٹن چینی کی پیداوار سامنے آئی۔ اخبار کے مطابق پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ حکومت کا گنے کے کاشتکاروں کو دی گئی قیمت کے تعین میں تاخیر ہے۔ حکومتِ سندھ پچھلے 5 سال سے گنے کی قیمت 182 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کیے ہوئے ہے جو کہ اب کاشتکاروں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ اس سے ان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیںہوتی۔

 

پاکستان میں کئی فصلوں کیلئے حکومت قیمتِ خرید متعین کرتی ہے جن کا تعلق کئی بنیادی غذائی اجناس سے ہے جیسے گندم، گنا وغیرہ۔ چونکہ ان اجناس کی پیداوار فیکٹریوں اور ملوں میں استعمال ہوتی ہے جو منڈی میں دیگر اشیاء خردونوش مہیا کرتے ہیں، جیسے آٹا، چینی وغیرہ، اس بنیاد پر حکومت سب کے فائدے کا تعین کرتے ہوئے ایک ایسا تناسب اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے جس میں سب کو فائدہ پہنچ سکے۔ جہاں کچھ صنعتکار اس حکومتی پالیسی سے خوب پیسے بناتے ہیں، وہاں کئی لوگ بمشکل اپنا خرچہ نکال پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی دوائیاں بنانے والی کمپنیوں کا حکومت سے تنازعہ موجود ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی طرف سے کچھ دوائیوں کی قیمتوں کا تعین کر دینا ہے، جو دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں کچھ کمپنیوں کو فائدہ دیتا ہے۔

 

اسلام کا معاشی نظام ہی صحیح معنوں میں حکومتی دخل اندازی سے پاک معیشت کا نقشہ دیتا ہے جو طلب و رسد کے قانون ہی پر چلتی ہے۔ اسلام حکومت کی طرف سے قیمتوں کے تعین کو جائز قرار نہیں دیتا۔ امام احمد نے انس سے روایت کیا جنہوں نے کہا:

 

"رسول اللہ ﷺ  کے وقت میں قیمتیں چڑھ گئیں، تو لوگوں نےکہا، یا رسول اللہ ﷺ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ قیمتیں متعین کر دیں۔ آپ ﷺ نے کہا، (ان اللہ ھو الخالق القابض الباسط الرازق المسعر وانی لارجو ان القی اللہ ولا یطلبنی احد بمظلمۃ ظلمتھا ایاہ فی دم ولا مال) "بے شک اللہ ہی خالق، قابض، کھلے ہاتھ والا، رازق، قیمتیں متعین کرنے والا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس حال میں ملوں کہ کوئی میرے خلاف ظلم کی شکایت نہ کرے جو میں نے اس پر کیا، نہ جان میں اور نہ ہی مال میں"۔

 

اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکمران کی حیثیت میں قیمتوں کے تعین کو منع کیا۔ اسلامی ریاست ملکی معیشت میں صرف اس وقت دخل اندازی کرتی ہے جب کوئی منڈی کی طلب و رسد کے نظام کو خراب کرنے کی کوشش کرے، مثلاً ذخیرہ اندوزی یا اجارہ داری قائم کرنے کے ذریعے وغیرہ۔ بخاری نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث روایت کی، (لا یحتکر الا خاطی) "کوئی اجارہ داری نہیں کرتا، سوائے خطاکار کے"۔ اسی طرح کے دیگر کئی احکامات اسلامی نظام میں طلب و رسد کے قانون کی حقیقی معنی میں حفاظت کرتے ہیں جس کی بدولت معیشت میں استحکام قائم ہوتا ہے۔

 

عمران خان کی اقوامِ متحدہ میں تقریر بھینس کے آگے بین بجانا

اور اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے کر جانا ہے

ڈان اخبار کی 27 ستمبر کی خبر کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی صورتحال پر کہا، " ۔۔۔اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے ، اسی لئے اقوامِ متحدہ وجود میں آئی، آپ نے اس کو ہونے سے روکنا تھا۔۔۔ کیا عالمی برادری (بھارت کی)چاپلوسی کرے گی یا انصاف کیلئے کھڑی ہوگی  ۔۔۔یہ اقوامِ متحدہ کا امتحان ہے۔ آپ نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کی گارنٹی دی ہے۔۔"۔

 

ایسی صورتحال میں جب  کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد مسلمان جنہیں بھارتی درندوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے افواجِ پاکستان کی طرف براہِ راست فوجی امداد کے لئے دیکھ رہےہیں، تو بجائے اس کے  کہ افواجِ  پاکستان کے شیروں کو حرکت میں لایا جائے،  وزیرِ اعظم کی یہ تقریر مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کےمترادف ہے  کیونکہ اقوامِ متحدہ کامنافقانہ کردار  مسلمانوں پر واضح ہو چکا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کا قیام 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے فاتح ممالک  کی جانب سے اس لیے کیا گیا تھا تاکہ وہ چھوٹے اور کمزور ممالک کا استحصال "عالمی قوانین" کے نام پر کرسکیں اور اپنےمفادات کا تحفظ کریں ۔ ماضی میں اقوامِ متحدہ کی اس استحصالی شکل کو کئی مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، جیسا کہ جب  امریکہ نے اقوامِ متحدہ  میں عراق پر حملے کی قرارداد منظور کروانے میں  ناکامی کے بعد خود ہی عراق پر حملہ کردیا تو کیا اقوامِ متحدہ امریکہ کے خلاف کوئی کارروائی کرسکی۔ حال ہی میں جب روس یوکرین میں داخل ہوا اور کریمیا پر قبضہ کرلیا تو کیا عالمی برادری یا اقوامِ متحدہ روس سے یہ قبضہ چھڑواسکی ۔ اس کے مقابلے میں  آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیاسے مشرقی تیمور الگ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ فوراً حرکت میں آئی۔ اسی طرح رقبے کے لحاظ سے مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک سوڈان سے جنوبی سوڈان کو الگ کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے متحرک کردار ادا کیا۔ فلسطین اور کشمیر  کے مسئلے پر اس عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی اور مسلم سرزمین پر  یہود اور ہنود  کے وجود کو ہمیشہ دوام بخشا  ۔حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں عالمی انصاف یا قوانین نام کی کوئی چڑیا ہے نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کسی بھی قانون کے نفاذ کے لئے طاقت درکار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر کسی ملک کے پاس قانون کے نفاذ کے لئے درکار قوتِ نافذہ نہیں ہوتی۔  لہٰذاطاقت ور ریاست  دیگر ریاستوں  سے تو اپنے مفاد کے قوانین نافذ کرواتی ہے لیکن کوئی ملک خود اس طاقتور ملک سے قانون کی پاسداری نہیں کرواسکتا۔ یہ ہے عالمی قوانین اورعالمی برادری کا مکروہ چہرہ جہاں  کمزور کا تو استحصال کیا جا سکتا ہے لیکن طاقتور ممالک ان قوانین کو گھاس نہیں ڈالتے بلکہ صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ تو ایسے اداروں سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے جبکہ خاص طور پر کشمیر کے معاملے میں بھارت نواز امریکہ کا رویہ ہمارے سامنے ہے۔   تو کیا عمران خان عالمی برادری کا مکروہ چہرہ نہیں پہچانتے کہ عالمی برادری سے اپیلیں کرتے نہیں تھکتے؟ کیا یہ وہ عمران خان نہیں جو کچھ عرصے پہلے پاکستانیوں کو یہ جھانسہ دے رہے تھے کہ مودی کا آنا پاکستان کے لیے اچھا ہے؟ایسے نادان دوست سے تو دانا دشمن بہتر ہے ، جس کی غداری اور اسلام دشمنی نے دیانتداری اور ایمانداری کا لبادہ نہیں اوڑھا۔

  

                  کشمیر کے  مسئلےکے حل کے لئے پاک فوج کے ذریعہ منظم جہاد کر کے  کشمیر کو آزاد کرانے کے بجائے کبھی اقوامِ متحدہ، کبھی  عالمی عدالتِ انصاف اور کبھی ٹرمپ کی ثالثی کی بات کر کے پاکستانی حکمران جنرل باجوہ اور عمران خان اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہی کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے فیصلے طاغوت  کے پاس لے جانے سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

 

((أَلَمْ تَرَ إلى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إلى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيداً))

"کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک طاغوت کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے"( النساء4:60)۔

 

ہمارے یہ حکمران عمران اور باجوہ  ہمارےمعاملات طاغوت  یعنی امریکہ، برطانیہ، چین یا روس یا ان کے ذیلی اداروں اقوامِ متحدہ ، عالمی عدالت انصاف، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک ، ایف اے ٹی ایف  کے سپرد کرتے ہیں جو ہمیں ایک پستی سے دوسری پستی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں اور مسلم افواج پر فرض ہے کہ ہم ان طاغوتوں اور ان کے چیلے ہمارے حکمرانوں کا انکار کریں اور خلافت کو قائم کریں جو کشمیر سمیت مسلمانوں کے تمام مسائل کو اللہ کی شریعت کے مطابق حل کرے گی اور خوشحالی اور امن اس دنیا میں بھی ہمارا مقدر بنے گا اور ہم آخرت میں بھی  انشاءاللہ سرخرو ہونگے۔

 

آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ

ملکی معیشت کے لیے زہر قاتل ہے

روزنامہ ڈان اخبار نے 3 اکتوبر 2019 کو یہ خبر شائع کی کہ حکومت نے 2 اکتوبر 2019 کو بجلی کی قیمت میں ڈھائی روپے فی یونٹ اضافہ کردیا تا کہ  عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)  کے ساتھ ہونے والے پہلے سہہ ماہی  جائزہ اجلاس سے قبل بجلی کے شعبے کے لیے 125 ارب روپے اضافی جمع کیے جاسکیں۔ نیپرا کے چیرمین توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ نیپرا کو اعلیٰ ترین سطح سے کہا گیا کہ انہیں بجلی کی قیمت بڑھانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیپرا نے دن رات کام کیا تا کہ آئی ایم ایف سے جو وعدے کیے گئے ہیں انہیں پورا کیا جاسکے۔

 

                  پاکستان تحریک انصاف  (پی ٹی آئی)کی حکومت "تبدیلی" کے گھوڑے پر سوار عوام کی زندگی میں "مثبت" تبدیلی لانے کے بھر پور دعووں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ اس حکومت کے وزیر اعظم جناب عمران خان  عوام کی خدمت کرنے اور انہیں معاشی مسائل سے نکالنے کے لیے اس قدر پر جوش تھے کہ وہ اقتدار میں آنے سے قبل نہ صرف بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تنقید کیا کرتے تھے  بلکہ اس کا ذمہ دار حکمرانوں کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کو قرار دیتے تھے۔ وہ عوام سے یہ وعدہ کرتے تھے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے اور وہ آئی ایم ایف کے پاس بھی نہیں جائیں گے کیونکہ انہوں نے کوئی ملک ایسا نہیں دیکھا کہ جس نے آئی ایم ایف سے مدد لی ہو اور اس نے ترقی کی ہو۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے تو اب تک کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی لیکن خود ضرور تبدیل ہو گئی ۔ اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بھی کیا اور ان معاہدوں کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھا رہی ہے۔

 

                  آج کے صنعتی دور میں معاشی ترقی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ صنعتی اور تجارتی اداروں کو بجلی و گیس سستی سے سستی فراہم کی جائے تا کہ ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئے، جس سے  سستی اشیاء تیار ہوں، جنہیں لوگ باآسانی خرید سکیں اور اس طرح معیشت کا پہیا تیزی سے چلے۔ ایک طرف حکومت بھارت سے مقبوضہ کشمیر آزاد کرانے کے لیے فوجی کارروائی سے گریز کی وجہ یہ بتاتی ہے کہ ہمارے معاشی حالات خراب ہیں لیکن دوسری جانب بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھا کر مسلسل معیشت پر کاری ضربیں لگا رہی ہے۔    یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانوں کے بنائے نظام، چاہے وہ جمہوریت ہو یا فوجی آمریت ، کے پاس عوام کی فلاح کے لیے کوئی سوچ، منصوبہ اور نظام نہیں ہے۔ حقیقی تبدیلی کی سوچ ، منصوبہ اور نظام صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ سب سے پہلے اسلام اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ استعمارتی اداروں سے معاہدے کیے جائیں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے معاملات میں  کفار کی بالادستی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

"اور اللہ نے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ کفار کو اپنے معاملات پر کوئی اختیار دیں" (النساء 4:141)۔

 

اسی طرح  اسلام میں بجلی کے ادارے عوامی ملکیت ہوتے ہیں اور ریاست اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ عوام کے نمائندے کے طور پر ان کے معاملات چلائے اور انتہائی مناسب قیمت پر صارف تک پہنچائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

المسلمون شرکاء فی ثلاث: فی الماء، والکلا، والنار

"تین چیزوں میں مسلمان شراکت دار ہیں: پانی، چراہ گاہیں اور آگ(توانائی)" ۔

 

لہٰذا نبوت کے طریقے پر قائم خلافت میں ہی عوام آئے روز کی بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی سے نجات حاصل کریں گے۔

Last modified onاتوار, 13 اکتوبر 2019 04:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک