الثلاثاء، 02 ربيع الأول 1444| 2022/09/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب: رزق ہر وہ چیز ہے جس سے نوازا جاتا ہے

 

محمد تمیزا کیلئے

 

سوال:  

السلام علیکم ور حمۃ اللہ  وبرکاتہ

  اے جلیل القدر شیخ اور عالم! برائے مہربانی مجھے اس سوال کا جواب دیں جس کا تسلی بخش جواب مجھے معلوم نہیں،  اللہ سے دعا ہے یہ جواب مجھے آپ کی طرف سے ملے۔

 

سوال یہ ہے کہ کیا رزق  صرف مال تک محدود ہے یعنی ہر وہ چیز جس کا شرعی سبب سے مالک بننا ممکن ہے؟ یا نقد ،منقول اور غیر منقول مال، سب رزق کا حصہ ہے، کیا یہی رزق کی تمام اقسام ہیں؟

 

مثال کے طور پر نیک بیوی، صحت، کامیابی،  نیک اولاد بھی رزق میں شامل ہے؟

 

اللہ آپ کو جزائے خیر دے

 

محمد الحارثی

 

جواب:

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

رزق ہر وہ چیز ہے جس سے نوازا جاتاہے:

 

1۔ لسان العرب میں آیاہے: [ رزق عطاء ہے، یہ مصدر ہے  جیسے آپ کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کو رزق دیا۔۔۔بارش کو بھی رزق کا نام دیا جاتاہے ،اللہ تعالی فرماتاہے،

 

﴿وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزْقٍۢ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ﴾

" اور اللہ نے آسمان سے جورزق اتارا جس سے بنجر زمین کو آباد کیا"(الجاثیہ:5

 

  اور اللہ تعالی نے فرمایا ،

 

﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴾

"اور تمہارا رزق آسمان میں ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیاہے"(الذاریات:22

 

مجاہد نے کہا کہ یہ بارش ہے  اور یہ لغت کی وسعت ہے۔۔۔اور ارزاق الجند  "سپاہیوں کی اجرت" ، ارتزقوااورالرزقۃ فتح کے ساتھ ایک بار،جمع الرزقات "سپاہیوں کے کھانے"، ارتزق الجندانہوں نے اپنا رزق لے لیا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے،

 

﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾

"اور تم اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو"(الواقعہ:82)،  

 

یعنی اپنے رزق کے شکر کو  جیسا  کہ کہاوت ہے، مطرنا بنوء الثریا"ثریا(ستارہ) ڈوبونے پر بارش ہوئی" (یعنی بڑی مشکل سے بارش ہوئی) ۔یہ اس اللہ سبحانہ وتعالی کے اس قول کی طرح ہے،

 

﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ 

"اور گاؤں سے پوچھو" (سورۃ یوسف: 82

 

یعنی گاؤں والوں سے پوچھو۔ اسی طرح رزق الامیر جندہ"  امیر نے اپنے سپاہیوں کو رزق دیا"  (اجرت یا معاوضہ  دیا)، انہوں نے معاوضہ لیا، یہ بھی کہا جاتاہے رزق الجند رزقۃً "سپاہیوں نے ایک معاوضہ لیا" یعنی صرف ایک،  روزقوا رزقتین"دو اجرتیں  لیا"، یعنی دو مرتبہ۔ ابن بری۔۔۔]

 

2۔  القاموس المحیط میں ہے کہ: الرزق بالکسر" رزق کسرہ  (زیر)کے ساتھ" جس سے فائدہ اٹھایا جاتاہے،  جیسے مرتزق(اجرتی)، مطر (بارش) جمع ارزاق، اور فتح کے ساتھ  مصدر حقیقی  ایک مرتبہ  کےلیے "ۃ" کے ساتھ، جمع رزقات   ت متحرکہ کے ساتھ اور یہ سپاہیوں کی اجرت۔ رزقہ اللہ  "اللہ نے اس کو رزق دیا "یعنی اللہ نے اس تک  رزق پہنچایا، فلاں نے اس کا شکر کیا۔ یہ اسی طرح  ہے 

 

﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾

"اور تم اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو"(الواقعہ:82

 

3۔  الصحاح فی اللغۃ میں آیا ہے: [الرِزْقُ: ما يُنْتَفَعُ به والجمع الأرْزاقُ "رزق: جس سے فائد اٹھایا جاتا ہے جمع ارزاق ہے"۔  الرزق عطاء ، یہ اس قول کا مصدر ہے  رزقہ اللہ" اللہ نے اس کو رزق دیا"۔  الرزقۃ فتح کے ساتھ ایک ہی مرتبہ، جمع رزقات،  یہ سپاہیوں کی اجرت ہے۔  ارتزق الجندیعنی انہوں نے اپنا رزق لے لیا۔ اللہ تعالی فرماتاہے: 

 

﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾

"اور تم اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو"(الواقعہ:82

 

یعنی اپنے رزق کے شکر کو(جھٹلاتے ہو)۔ یہ اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے،

 

﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ 

"اور گاؤں سے پوچھو" (سورۃ یوسف: 82

 

یعنی گاؤں والوں سے پوچھو۔ بعض دفعہ بارش کو رزق کہا جاتاہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: 

 

﴿وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزْقٍۢ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ﴾

"اور اللہ نے آسمان سے جورزق اتارا جس سے بنجر زمین کو آباد کیا"(الجاثیہ:5

 

 اسی طرح اللہ نے فرمایا: 

 

﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴾

"اور تمہارا رزق آسمان میں ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیاہے"(الذاریات:22)،  یہ لغت کی وسعت ہے]

 

4۔ اور رزق کے بارے میں الکراسۃ میں آیا ہے: [ جہاں تک رزق کے مسئلے کا تعلق ہے تو بہت ساری قطعی الدلالہ آیات  ہیں جن سے اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا کہ  جو شخص قرآن پر ایمان  رکھتا ہے وہ  اس بات پر بھی ایمان رکھے کہ  رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی جسے چاہتا ہے دیتاہے۔ رزق کا مسئلہ قدر کے مسئلے سے جدا ہے، قدر یہ ہے کہ اللہ فلاں امر کو اس کے واقع ہونے سے پہلے ہی جانتاہے اس لیے اس کو لکھا اور مقدر کیا،  جبکہ رزق صرف یہ نہیں کہ  اللہ صرف جانتا ہے کہ فلاں کو رزق ملے گا،  جس کو لکھ دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  یعنی رزق کے قدر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ رزاق(رزق دینے والا) اللہ ہے بندہ نہیں،  اسی پر آیات دلالت کرتی ہیں: 

 

﴿لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ﴾

"ہم تم سے رزق کا سوال نہیں کرتے تمہیں ہم رزق دیتے ہیں"(سورة طه:132

 

اور فرمایا

 

﴿وَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًا طَيِّبًا ۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ﴾

"اور اللہ نے تمہیں جو پاک اور حلال رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ"(سورة المائدة:88

 

اسی طرح

 

﴿اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ﴾

"اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے وہی طاقتور غالب ہے"(سورة الشوریٰ:19)۔۔۔]

 

5۔  مال کے علاوہ جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے: جیسے نیک اولاد ،صحت وعافیت اور وہ  سب  جو اس دائرے میں داخل ہیں جو انسان پر حاوی ہے، یہ اختیار عمل نہیں قضاء ہے،  اس میں رزق اور وہ تمام افعال شامل ہیں جو آپ کے اختیار کے بغیر آپ پر واقع ہوتے ہیں۔۔۔الکراسہ میں قضاء و قدر کے موضوع میں (الرأي الصواب في مسألة أفعال العباد)"بندوں کے افعال کے مسئلے میں درست رائے" کے عنوان سے یہ آیاہے:

 

[ بندوں کے افعال کے حوالے سے اس مسئلے میں درست رائے یہ ہے کہ انسان دو دائروں میں زندگی گزارتاہے: ایک دائرہ جس پر انسان  حاوی ہے، یہ وہ دائرہ ہے جو اس کے تصرفات کے ضمن میں آتاہے  اس کے اندر وہ  اپنے  اختیار سے اپنے افعال کو انجام دیتاہے،  دوسرا دائرہ اس پر حاوی ہے یہ وہ دائراہ ہے اس میں جتنے افعال اس سے صادر ہوتے ہیں یا اس پر واقع ہوتے ہیں ان میں اس کا کوئی اختیار نہیں، اس کی دو قسمیں ہیں:  ایک قسم جو نظام کائنات کا تقاضا ہے،  دوسری قسم وہ افعال ہیں جو اس کی طاقت سے باہر ہیں، ان میں اس کا اختیار نہیں مگر وہ نظام کائنات کا تقاضا بھی نہیں۔  جو نظام کائنات کا تقاضا ہیں ان میں وہ  نظام کائنات کے مطابق اس کے  ساتھ جبرا ًچلتا ہے، کیونکہ وہ کائنات اور حیات کے ساتھ ایک مخصوص نظام کے مطابق چلتاہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا،  اس لیے اس دائرے میں اعمال اس کے ارادے کے بغیر واقع ہوتے ہیں اس میں وہ چلایا جاتا ہے اس کا کوئی اختیار نہیں۔۔۔

 

وہ تمام افعال  جو اس دائرے میں آتے ہیں جو انسان پر حاوی ہے ان کو قضاء کہا جاتاہے، کیونکہ یہ صرف اللہ کا فیصلہ ہیں، اس لیے ان افعال  پر بندے کا محاسبہ نہیں ہوگا چاہے ان میں   انسان کےلیے جتنا بھی نفع یا نقصان  ،پسند یا ناپسند ہو،  یعنی انسان کی تفسیر کے مطابق ان میں جتنا بھی خیر یا شر ہو،  اس پر انسان کا کوئی اثر نہیں،  نہ انسان ان کے بارے میں جانتاہے،  نہ ہی ان کاموں کے ہونے کے بارے میں، انسان نہ  مطلقاً ان کو کر سکتا ہے نہ ترک کرسکتاہے، انسان پر لازم ہے  کہ وہ اس قضاء پر ایمان رکھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔۔۔]ختم شد۔

امید ہے یہ کافی ہوگا اور اللہ ہی زیادہ علم اور حکمت والا ہے۔

 

آپ کا بھائی 

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

11 صفر 1444 ہجری

بمطابق7ستمبر2022

امیر حزب التحریر

Last modified onجمعرات, 15 ستمبر 2022 02:09

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک