بسم الله الرحمن الرحيم
سوال کا جواب
امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویز
(ترجمہ)
سوال:
5 دسمبر 2025 کو ٹرمپ نے عوامی سطح پر امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی کی 33 صفحات پر مشتمل دستاویز کا اعلان کیا۔ اس دستاویز اور اس سے پہلی دستاویزات، مثلاََ بائیڈن کی حکمتِ عملی، میں کیا فرق ہے؟
جواب:
ان دستاویزات پر غور و خوض اور گہری نظر ڈالنے سے ہمیں ریپبلکن ٹرمپ کی 2017 اور 2025 میں شائع شدہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویزات، یا 1988 میں ریگن، 1990 میں بش سینئر، 2002 میں بش جونیئر کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات، اور ڈیموکریٹک صدور؛ 1994 اور 1998 میں کلنٹن، 2010 اور 2015 میں اوباما اور 2022 میں بائیڈن کی جانب سے اعلان کردہ دستاویزات کے درمیان اصل اور جوہر کے اعتبار سے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ واحد فرق صرف اسلوب اور استعمال شدہ زبان کا ہے اور بس؛ ان سب کا مقصد عالمی سطح پر امریکی بالادستی کو برقرار رکھنا اور اسے مستحکم کرنا ہے۔ جہاں ریپبلکنز بغیر کسی لگی لپٹی یا گھماؤ پھراؤ کے اور نہایت بے باکی سے دنیا میں امریکی قیادت کا اظہار کرتے ہیں، وہیں ڈیموکریٹس اسے پرکشش اور دھوکہ دہی پر مبنی الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی گمراہ کن باتوں کے ذریعے اور کبھی لفاظی اور چرب زبانی کے ذریعے۔ میں اس جواب میں، جیسا کہ سوال میں پوچھا گیا ہے، حکمتِ عملیوں کے درمیان پائے جانے والے فرق پر توجہ مرکوز کروں گا بجائے اس کے کہ ان کی تفصیلات میں جاؤں، سوائے اس حد تک جو بائیڈن اور ٹرمپ کی حکمتِ عملی کے فرق کو واضح کرنے کے لیے مناسب ہو۔ اس کی وضاحت کے لیے میں کہتا ہوں (اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے):
1- ہم نے 18 نومبر 2016 کو جو 'سوال و جواب' جاری کیا تھا اس میں درج ذیل بات کہی گئی تھی: "...امریکی پالیسی کے بنیادی خطوط ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان مختلف نہیں ہیں، بلکہ صرف طریقے (اسلوب) مختلف ہیں۔ اس کی وجہ دونوں پارٹیوں کے قیام کا پس منظر ہے؛ ریپبلکن پارٹی کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ اس جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آئے جس کا وہ راگ الاپتے ہیں، بلکہ ان پر 'کاؤ بوائے' والا رویہ غالب ہے جو تکبر اور عناد سے بھرا ہوا ہے، اور وہ اسی ماحول سے پروان چڑھے ہیں اور آج بھی اسی کے زیرِ اثر ہیں۔ کاؤ بوائے ثقافت کا جھکاؤ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو طاقت کا مظاہرہ کرے، کسی کو مارے تو کسی کو قتل کرے، اور یہاں وہاں دھماکے کرے۔ انہیں بے گناہ لوگوں کے قتل جیسے جرائم کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ یہ ان کے اپنے ملک میں عام ہے، اور وہ اپنی خواہشات کے مطابق اسلحہ اٹھانے اور اسے استعمال کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ امریکی سینیٹ نے پیر کے روز ڈیموکریٹک پارٹی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا جس میں انفرادی اسلحہ خریدنے والوں کی مجرمانہ اور نفسیاتی تاریخ کی چھان بین کو وسعت دینے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ اس طرح، ریپبلکنز کو اسلحہ ڈیلرز کی لابی کے غلبے کی وجہ سے اسلحہ رکھنے کے لیے ضوابط بنانے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ دوسری طرف، ڈیموکریٹک پارٹی پر دھوکہ دہی اور جھوٹی جمہوریت کا لبادہ اوڑھنا اور انگریزوں کے اسلوب کی نقل کرنا غالب ہے، وہ زہریلی چیز کو چکنی چپڑی باتوں کے غلاف میں پیش کرتے ہیں، یعنی وہ مسکراتے ہوئے آپ کو قتل کر دیتے ہیں، جب کہ ریپبلکن پارٹی خالص زہر پیش کرتی ہے اور دانت پیستے ہوئے آپ کو موت کے گھاٹ اتارتی ہے۔ اسی لیے ڈیموکریٹک صدور دھوکہ دہی اور سادہ لوح لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے میں زیادہ ماہر ہوتے ہیں، جبکہ ریپبلکن صدور کسی کو دھوکہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی دشمنی کھلی اور اعلانیہ ہوتی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے صدور کی حالیہ تاریخ کی مثالوں پر نظر ڈالنے سے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بش صلیبی جنگ (Crusade) کی بات کرتا ہے اور اوباما قاہرہ میں قرآن کی آیت کا حوالہ دیتا ہے... حالانکہ دونوں ہی اسلام کے خلاف گہری سازشیں کرتے ہیں! اسی لیے جیسا کہ ہم نے پہلے کہا: 'ڈیموکریٹک صدور دھوکہ دہی اور سادہ لوح لوگوں کو جیتنے میں زیادہ ماہر ہوتے ہیں، جبکہ ریپبلکن صدور کسی کو دھوکہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی عداوت کھلی اور واضح ہوتی ہے'۔ یہاں تک کہ دونوں پارٹیوں کے انتخابی نشانات میں بھی معنی کا ایک فرق ہے جو ہماری بات سے میل کھاتا ہے۔ جب سے جرمن نژاد امریکی کارٹونسٹ تھامس ناسٹ نے (1870 اور 1874 میں) 'ہارپر میگزین' میں ایک خاکہ شائع کیا جس میں ایک گدھے کو شیر کی کھال پہنے دکھایا گیا تھا تاکہ جانوروں کے ایک گروہ کو ڈرایا جا سکے، جن میں ایک بپھرا ہوا بڑا ہاتھی بھی تھا جو اپنے ارد گرد کی چیزیں توڑ رہا تھا... تب سے گدھا ڈیموکریٹک پارٹی کا اور ہاتھی ریپبلکن پارٹی کا نشان بن گیا۔ یہ دونوں نشانات دونوں پارٹیوں کی اصل تصویر کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس طرح، ٹرمپ کے اقدامات ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے روایتی اقدامات سے ہٹ کر نہیں ہیں، سوائے ان ذاتی خصوصیات کے جو ایک شخص کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں، لیکن ریپبلکن پارٹی کی عمومی خصوصیات تقریباً پارٹی کے تمام امیدواروں پر صادق آتی ہیں..." (اقتباس ختم ہوا)۔
2- چنانچہ، ریپبلکنز میں سرایت شدہ تکبر، اور ڈیموکریٹس کا گمراہ کن اور دھوکہ دہی پر مبنی اسلوب، دونوں پارٹیوں کے صدور کی جانب سے جاری کردہ تزویراتی (اسٹریٹجک) دستاویزات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے:
* بائیڈن کی حکمتِ عملی، مثال کے طور پر، تعاون، جمہوریت، انسانی حقوق اور سفارت کاری جیسے گمراہ کن الفاظ کے ذریعے امریکی قیادت کو دوام بخشنے اور بالادستی اور عالمی نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے...
* جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، جن کی شخصیت میں حد سے زیادہ غرور، اقتدار کا جنون، نمود و نمائش کی محبت، دانشمندی کی کمی اور اندرونی تنازعات اور مخالفین کو دیوار سے لگانے کا میلان ایک قسم کی سرشاری کے ساتھ نمایاں ہے، تو اس کا مقصد "پہلے امریکہ" (America First) اور "طاقت کے ذریعے امن" جیسے کھلے اور بے نقاب نعروں کے ذریعے عالمی سطح پر امریکی قیادت کو برقرار رکھنا ہے، بلکہ وہ تو اپنے اتحادیوں کی کھلم کھلا توہین کرنے تک چلے جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی اسٹریٹجک دستاویز میں اس کا واشگاف اظہار ان الفاظ میں کیا: ("اور اس حکمتِ عملی کا مقصد ان تمام فوائد اور دیگر چیزوں کو یکجا کرنا ہے تاکہ امریکی طاقت اور بالادستی کو مزید تقویت دی جائے اور ہمارے ملک کو ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ عظیم بنایا جائے"۔ امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویز 2025۔ https://www.mc-doualiya.com/)
اسی طرح، "ترجیحات" کے عنوان کے تحت ذکر کردہ تقریباً تمام ذیلی عنوانات میں امریکی بالادستی کے تحفظ، اسے مضبوط بنانے اور برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جو کہ یہ ہیں: امن کے ذریعے تنظیمِ نو، معاشی تحفظ، متوازن تجارت، سپلائی چینز اور اہم مواد تک رسائی کو محفوظ بنانا، دفاعی صنعتوں کی بنیاد کو بحال کرنا، توانائی کی بالادستی، اور مالیاتی شعبے میں امریکی تسلط کا تحفظ اور اسے فروغ دینا۔
3- وہ قومی حکمتِ عملی کی دستاویزات جن کا اعلان ڈیموکریٹک صدور، مثلاً بائیڈن، اوباما اور کلنٹن نے کیا، وہ نام نہاد 'نرم طاقت' (Soft Power) اور بین الاقوامی اداروں جیسے کہ اقوامِ متحدہ اور نیٹو (NATO) کے ذریعے امریکی بالادستی کو چلانے پر مبنی تھیں۔ ان میں جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی دھوکہ دہی پر مبنی اصطلاحات کو بطورِ عذر استعمال کیا گیا۔ ڈیموکریٹس کی قومی حکمتِ عملی کی دستاویز کے مطابق، امریکہ "دنیا کا سپاہی" ہے، اور اگرچہ اس کردار کے کچھ اخراجات اور بوجھ ہیں، لیکن وہ اسے امریکی عالمی نظام کے تسلسل اور اپنے استعماری اثر و رسوخ کو پھیلانے کے لیے ایک لازمی ٹیکس کے طور پر ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
دوسری طرف ریپبلکنز کی حکمتِ عملیوں میں، جیسا کہ نکسن اور ٹرمپ کی دستاویزات میں نظر آتا ہے، منطق مختلف ہے؛ وہ اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کی فراہم کردہ حفاظت اور اس کی حفاظتی چھتری کے بدلے قیمت ادا کریں۔ یہ بات ٹرمپ کی 2025 کی دستاویز میں "بوجھ کی تقسیم اور اخراجات کی منتقلی" کے ذیلی عنوان کے تحت واضح طور پر سامنے آئی، جس میں انہوں نے شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے ممالک کو پابند کیا کہ وہ "اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد دفاع کے لیے مختص کریں"۔(امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویز 2025۔ https://www.mc-doualiya.com/)
جیسا کہ ظاہر ہے، اگرچہ اپنائے گئے اسالیب مختلف ہیں، استعمال شدہ ذرائع جدا ہیں اور حالات و واقعات کے لحاظ سے ترجیحات میں فرق ہے، لیکن قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویزات کا بنیادی ہدف ایک ہی رہتا ہے، چاہے وہ ٹرمپ کی طرف سے جاری ہوں یا بائیڈن، اوباما، بش، کلنٹن یا اس استعماری ریاست کے کسی بھی دوسرے صدر کی جانب سے۔ وہ واحد اور مستقل مقصد یہ ہے: امریکہ کی عالمی قیادت کا تحفظ، اس کی بالادستی کو مستحکم کرنا اور ریاستہائے متحدہ کے مدمقابل کسی بھی طاقت کو ابھرنے سے روکنا!
4- چنانچہ، ٹرمپ نے جس حکمتِ عملی کی دستاویز کا اعلان کیا ہے وہ اہداف کے لحاظ سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ ان اہداف تک پہنچنے کے لیے اپنائے گئے طریقوں میں تبدیلی ہے۔ جیسا کہ 18 نومبر 2016 کے 'سوال و جواب' میں بھی یہ ذکر کیا گیا تھا کہ: (جہاں تک سابقہ صدر کے دور میں رائج بنیادی مسائل پر امریکی پالیسی کی تبدیلی کا تعلق ہے، تو توقع یہی ہے کہ اس کے خدوخال تبدیل نہیں ہوں گے، بلکہ صرف طریقے بدلے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ امریکی نظام کو مختلف ادارے کنٹرول کرتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے اختیارات کم یا زیادہ ہوتے ہیں... یہ ادارے امریکی پالیسی کے بنیادی خطوط کو تقریباً مستحکم رکھنے میں اثر انداز ہوتے ہیں، سوائے طریقوں کے فرق کے...)۔ اقتباس ختم شد
5- اس کی تصدیق ریاستہائے متحدہ کی تشکیل کے بعد امریکی سیاسی جماعتوں کے ظہور کے جائزے سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ان سب کی بنیاد ایک ہی ہے جو امریکہ کی بالادستی اور جبر و استبداد کو برقرار رکھتی ہے، اور یہ جماعتیں صرف اسلوب اور ذاتی سرکشی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں:
الف- یورپ سے (بھاگ کر آنے والوں اور سیاحوں) نے جب امریکہ، خاص طور پر شمالی امریکہ پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے اصل باشندوں 'ریڈ انڈینز' کو غلام بنا لیا، تو انہوں نے ایک ریاست کی تشکیل پر کام شروع کیا.. ہم وکی پیڈیا سے نقل کرتے ہیں [...بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع تیرہ برطانوی نوآبادیات نے، جن میں پہلی انگریزی نوآبادی ورجینیا تھی، 4 جولائی 1776 کو اعلانِ آزادی جاری کیا جس میں برطانیہ "عظمیٰ" سے اپنی آزادی اور ایک وفاقی حکومت کی تشکیل کا اقرار کیا گیا تھا۔ 17 ستمبر 1787 کو فلاڈیلفیا کنونشن نے موجودہ امریکی دستور کو اپنایا اور اگلے سال 1788 میں اس کی توثیق کر دی گئی، جس نے ان ریاستوں کو ایک مرکزی حکومت والی واحد جمہوریہ کا حصہ بنا دیا۔ پھر اس نے فرانس، اسپین، میکسیکو اور روس سے علاقے حاصل کیے، اور جمہوریہ ٹیکساس اور ہوائی کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا.. پھر اگلے سال 1789 میں باقاعدہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قیام عمل میں آیا.. اور جارج واشنطن ریاستہائے متحدہ کے پہلے صدر (1789-1797) بنے..]
ب- ڈیموکریٹک ریپبلکن پارٹی کانگریس کے ایک ایسے دھڑے سے نکلی جس میں الیگزینڈر ہیملٹن کی مرکزی پالیسیوں کے مخالفین شامل تھے، جنہوں نے صدر جارج واشنطن کے دور میں وزیرِ خزانہ کے فرائض انجام دیے تھے۔
ج- ڈیموکریٹک ریپبلکن پارٹی 1828 تک قائم رہی جہاں سے اینڈریو جیکسن کے حامیوں کے ہاتھوں موجودہ ڈیموکریٹک پارٹی وجود میں آئی.. پھر 1854 میں موجودہ ریپبلکن پارٹی بنی اور ابراہم لنکن 1865 میں پہلے امریکی ریپبلکن صدر بنے...]
6- لہٰذا، ان جماعتوں کی اصل ایک ہی ہے یعنی امریکی تسلط مسلط کرنا، اور یہ صرف اپنے طریقوں، مکاری کی حد اور ذاتی فرعونیت کے درجے میں مختلف ہیں۔ ان کا اختلاف ان تین چیزوں سے آگے نہیں بڑھتا:
مثال کے طور پر ٹرمپ نے جس نئی تزویراتی دستاویز کا اعلان کیا ہے وہ 'کاؤ بوائے' کے متکبرانہ رویے کی بدترین شکل ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، جہاں ڈیموکریٹس لومڑی کی طرح زہر کو چکنائی کے جھوٹے غلاف میں پیش کرتے ہیں (یعنی جمہوریت، انسانی حقوق اور سفارتی لفاظی کے نقاب تلے)، وہاں ریپبلکنز زہر کو ویسے ہی مسلط کرتے ہیں، جبکہ وہ دانت پیس رہے ہوتے ہیں اور کھلی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا نعرہ "پہلے امریکہ" اپنی حقیقت میں استعماری بھتہ خوری کی پالیسی کے سوا کچھ نہیں، جو حلیفوں کے ساتھ بھی 'تحفظ کے بدلے رقم دو' کے اصول پر ٹیکس مسلط کرتی ہے۔
7- اس طرح ٹرمپ اور بائیڈن کی حکمتِ عملی پر گہری نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلوب، مکاری اور ذاتی سرکشی کے سوا کوئی اختلاف نہیں.. اگرچہ جو کچھ ہم نے پہلے ذکر کیا وہ اس پر دلالت کرتا ہے، لیکن دونوں حکمتِ عملیوں میں متعدد بین الاقوامی مسائل کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سے بہت سے مسائل، جیسے یورپ اور چین کے بارے میں ان کا نظریہ تقریباً ایک جیسا ہے۔ البتہ کچھ معاملات میں اسلوب، مکاری اور ذاتی سرکشی کا فرق ظاہر ہوا ہے جیسے کہ 'نصف کرہ غربی' (Western Hemisphere) میں، اور کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں وہ ایک ایسے مکر پر متفق ہو گئے ہیں جو اس خطے اور اس کے لوگوں کے حق میں نہایت برا ہے، جیسا کہ مشرقِ وسطیٰ.. ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ نصف کرہ غربی اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بائیڈن اور پھر ٹرمپ کی حکمتِ عملی کا ذکر کریں گے:
الف- نصف کرہ غربی: چونکہ 'مونرو نظریہ' (Monroe Doctrine) کا تعلق اسی سے ہے، اس لیے ہم مونرو اور اس کے نظریے کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہیں:
(مونرو 1817 سے 1825 تک ریاستہائے متحدہ کے پانچویں صدر رہا۔ اس نے 1819 میں اپنی انتظامیہ کے ذریعے فلوریڈا کی ریاست حاصل کی.. اور 1823 میں مونرو نظریے کا اعلان کیا جس میں اس نے براعظم امریکہ کے معاملات میں کسی بھی یورپی مداخلت کی مخالفت کی.. یہ بیان امریکی صدر جیمز مونرو کے ایک پیغام کی صورت میں سامنے آیا جو اس نے 2 دسمبر 1823 کو امریکی کانگریس کو پیش کیا تھا۔ مونرو نظریے نے نصف کرہ غربی کی تمام ریاستوں کی آزادی کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں یورپی مداخلت کے ذریعے ظلم کا نشانہ بننے یا ان کے مستقبل کے فیصلے میں مداخلت سے بچایا جا سکے.. وکی پیڈیا سے کچھ تصرف کے ساتھ)۔
اس کے بعد آنے والے امریکی صدور نے اپنے اپنے مختلف اسالیب، مکاری اور سرکشی کے ساتھ اس پر عمل درآمد جاری رکھا.. ہم ذیل میں بائیڈن اور ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں اس حوالے سے جو کچھ سامنے آیا ہے اس کا مختصر ذکر کریں گے تاکہ دونوں کے درمیان فرق واضح ہو سکے:
* بائیڈن کی حکمتِ عملی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خطہ: (ریاستہائے متحدہ کے لیے سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا علاقہ ہے، جہاں سالانہ تجارت 1.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، اس کے علاوہ مشترکہ اقدار، جمہوری روایات اور خاندانی روابط بھی موجود ہیں.. اس حکمتِ عملی کی نظر میں ریاستہائے متحدہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ براعظم امریکہ کے ممالک میں اپنی کمپنیوں کو فعال کرنے کے لیے کام کرے.. بائیڈن کی حکمتِ عملی یہ بھی بتاتی ہے کہ ریاستہائے متحدہ اپنے سرحدی ڈھانچے کو جدید بنانا جاری رکھے گی، اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر ہجرت کا ایک منصفانہ، منظم اور انسانی نظام تشکیل دے گی.. اسی طرح وہ ہجرت کے قانونی راستوں کو وسعت دینے اور اسمگلنگ کے خلاف جنگ جاری رکھے گی..)۔ وہ کسی دوسری بڑی طاقت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کا کوئی ایسا موثر اثر و رسوخ ہو جو امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرے یا اس سے آگے بڑھے، لیکن اس کے لیے دھوکہ دہی اور مکارانہ طریقے جیسے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق استعمال کیے جاتے ہیں... اور فوجی کارروائی آخر میں ہوتی ہے، شروع میں نہیں۔
* جہاں تک ٹرمپ کی حکمتِ عملی کا تعلق ہے، تو وہاں فوجی کارروائیوں کی دھمکی شروع ہی میں دے دی جاتی ہے، چاہے ان پر عمل درآمد نہ بھی ہو! ٹرمپ کی حکمتِ عملی تکبر، دھونس اور دھمکیوں سے خالی نہیں ہے۔ اس کی حکمتِ عملی میں (کچھ تصرف کے ساتھ) درج ذیل باتیں آئی ہیں: [..امریکی سلامتی کے تحفظ اور نصف کرہ غربی (خود امریکہ، کناڈا اور جنوبی امریکہ) پر اپنا کنٹرول بحال کرنے اور بیرونی طاقتوں کو وہاں افواج تعینات کرنے سے روکنے کے لیے 'مونرو نظریے' کا اطلاق.. اور وہ اسے "ریاستہائے متحدہ امریکہ کا مخصوص علاقہ" قرار دیتا ہے].. اسی لیے ٹرمپ نے کینیڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس میں شامل ہو کر 51 ویں ریاست بن جائے۔ اس نے پاناما کو دھمکایا کہ وہ چین کے ساتھ معاہدے منسوخ کرے، جس پر پاناما نے انہیں منسوخ کر دیا۔ اسی طرح اس نے 3 جنوری 2026 کو وینزویلا پر حملہ کیا، اس کے دارالحکومت کراکاس پر بمباری کی اور وہاں کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا، یہ ایک ایسی فرعونیت ہے جس سے ناپسندیدہ روایتی استعمار کی بو آتی ہے! اس نے نصف کرہ غربی کے ساتھ اس سلوک کو 'ٹرمپ نظریہ' کا نام دیا جو مونرو نظریے کا تکملہ ہے.. بلکہ ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں کا دائرہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ تک پھیلا دیا، جبکہ ڈنمارک نیٹو کا رکن ہے! ٹرمپ کی سرکشی بالکل عیاں ہے!!
ب- مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ، اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا (کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں وہ ایک ایسے مکر پر متفق ہو گئے ہیں جو اس خطے اور اس کے لوگوں کے حق میں برا ہے جیسے کہ مشرقِ وسطیٰ)، تو دونوں حکمتِ عملیوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ انہوں نے یہودی وجود کی حمایت اور حکمرانوں کے اس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی توسیع کا اعلان کیا.. اور نہ ہی صرف امت کی دولت بالخصوص خلیج کے تیل وغیرہ پر ڈاکے ڈالنے پر.. اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں بشمول آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی پر تسلط برقرار رکھنے پر.. انہوں نے صرف ان چیزوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی نص بھی شامل کی، جس کا ان کی مکارانہ لغت میں مطلب "اسلام اور اسلام کا نظامِ حکومت" ہے۔ چنانچہ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی میں کہتا ہے: (اور اس خطے کو دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنا...)، جبکہ بائیڈن اپنی حکمتِ عملی میں کہتا ہے: (اور دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنا...)۔ ان سب سے مراد اس خطے کے لوگوں کی آیئڈیالوجی یعنی "اسلام" کو خطرہ بننے سے روکنا ہے، کیونکہ یہاں کے لوگ مسلمان ہیں جو اپنی اسلامی آیڈیالوجی کی بنیاد پر اپنی ریاست قائم کرنے، اپنے ملکوں کو امریکی و مغربی تسلط سے آزاد کرانے، ان کے تابع نظاموں کو گرانے اور یہودی وجود کو ختم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف نارملائزیشن کے معاہدوں کو دفن کرنے تک محدود نہیں ہے۔
8- خلاصہ یہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے امریکی صدور کی جانب سے جاری کردہ "قومی سلامتی کی حکمتِ عملی" کی دستاویزات کا بنیادی ڈھانچہ اور جوہر مستقل رہا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جو چیز بدلتی ہے وہ عمل درآمد کے طریقے، مکاری اور امریکی بالادستی کو مسلط کرنے، اسے تحفظ دینے اور برقرار رکھنے میں ذاتی فرعونیت ہے.. اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ، اور اپنی پوری طاقت اس بات پر لگانا کہ اسلام کی ریاست "خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ" قائم نہ ہو سکے.. لیکن وہ کتنا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ خلافتِ راشدہ کا محض ذکر ہی ان کی نیندیں اڑا دیتا ہے، جیسا کہ امریکی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے چند دن پہلے 21 دسمبر 2025 کو کہا کہ "یہ اسلامی نظریہ ہماری آزادی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، کیونکہ یہ اپنی بنیاد میں ایک سیاسی نظریہ ہے جو ایک عالمی خلافت قائم کرنا چاہتا ہے"۔ اور ہم کہتے ہیں:
﴿مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ﴾
"اپنے غصے میں جل مرو" (سورۃ آلِ عمران: آیت 119 )،
کیونکہ امتِ مسلمہ ضرور بیدار ہوگی اور اللہ کے حکم سے اس جبر و استبداد کے دور کے بعد جس میں ہم جی رہے ہیں، اپنی ریاست 'خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ' قائم کرے گی: «...ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَتَ» (پھر جبر کی حکومت ہو گی، وہ تب تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر اللہ جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہو گی، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے) اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اور اس وقت ظالم ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کا انجام وہی ہوگا جو خلافت کے قیام کے بعد کسریٰ اور قیصر کا ہوا تھا:
﴿بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ﴾
"یہ ایک پیغام ہے، تو کیا نافرمان قوم کے سوا کوئی اور ہلاک کیا جائے گا؟" ( سورہ الاحقاف: آیت 35)
25 رجب 1447ھ
مطابق 14 جنوری 2026ء






