الجمعة، 19 ربيع الثاني 1442| 2020/12/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    6 من ربيع الاول 1442هـ شمارہ نمبر: 1442 / 20
عیسوی تاریخ     جمعہ, 23 اکتوبر 2020 م

پریس ریلیز

مشرقی ترکستان کے ایغور مسلمان امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم سے منہ موڑنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا

 

بھارتی میڈیا چینل "دی وائر" کے 12 اکتوبر 2020 کو نشر ہونے والے انٹرویو میں پاکستان  کے نیشنل سیکیوریٹی ایڈوائزر معیدیوسف نے  مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں ایغور مسلمانوں پر چینی حکام کے وحشیانہ اور بے رحمانہ مظالم کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے نہ صرف صاف انکار کردیا بلکہ اس مسئلہ کو "نان ایشو" قرار دیا۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس اور ان مسلمانوں کی شہادتوں کو یکسر مسترد کر دیا جو چین میں مسلمانوں پر ظلم کے گواہ ہیں اور انٹرویو کے دوران کہا کہ ہمارے وفود نے وہاں کے دورے کیے ہیں اور ہم سو فیصد وہاں کی صورتحال سے مطمئن ہیں ۔

 

مشرقی ترکستان کے ایغور نسل  کے مسلمانوں پر چینی حکام کے انسانیت سوز مظالم کی خبریں صرف میڈیا نہیں دیتا بلکہ چین سے باہر مقیم ایغور مسلمان کئی دہائیوں سے چینی حکام کے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان ایغور مسلمانوں میں سے کئی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کئی کئی سال چینی کیمپوں میں گزارے ہیں ۔ چینی حکام ایغور مسلمانوں کو رمضان کے روزے رکھنے سے روکتے ہیں، نوجوانوں کو مساجد میں جانے سے روکتے ہیں، خواتین کو اسلامی لباس پہنے سے روکتے ہیں اور اپنے مظالم میں اس قدر وحشی ہیں کہ مسلمانوں کی نسل کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مسلم خواتین کو زبردستی مانع حمل انجیکشن لگاتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت چینی کیمپوں میں دس لاکھ سے زائد ایغور مسلمان مرد و خواتین قید ہیں، جس کا اقرار خود چینی حکام بھی کرتے ہیں، جہاں مسلمانوں کی ذہن سازی کی کوشش کی جاتی ہے اور انہیں سور کا گوشت کھانے اور شراب پینے پر مجبور کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی اسلامی شناخت اور عقیدے سے دستبردار ہو جائیں ۔

 

باجوہ-عمران حکومت  اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ  سے محبت کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹتی ہے ورنہ وہ رسول اللہﷺ کی امت پر ہونے والے شیطانی مظالم  سے کسی صورت انکار نہ کرتی ۔ باجوہ-عمران حکومت ڈھٹائی سے ایغور مسلمانوں پر چین کے وحشیانہ مظالم کی حقیقت کا انکار کررہی ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور یہ جھوٹ بول رہی ہے کہ ان کے وفود نے وہاں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی۔

لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ" جھوٹوں پراللہ کی لعنت"(آل عمران، 3:61)۔

 

         باجوہ-عمران حکومت کا اس مسئلے کو "نان ایشو" کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مدینے جیسی ریاست بنانے کی باتیں محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں  کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

   تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

" تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے"(بخاری)۔ 

 

لیکن یہاں ایغور مسلمانوں کی شدید تکالیف پر باجوہ-عمران حکومت کی نیند تو نہیں اڑتی بلکہ یہ حکومت کافر چینی حکومت کا الٹا دفاع کررہی ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

ایک امت ہونے کے ناطے ہم نہ صرف مظلوم مسلمانوں بلکہ کسی بھی مظلوم انسان کو اقتصادییا فوجی مفاد کے لیے ظالموں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا‌ۚ

" اورتمکوکیا ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ "(االنساء، 4:75)۔

 

اللہ کے اس حکم پر مسلمانوں نے اس وقت تک عمل کیا جب تک ان کی خلافت قائم تھی۔ اللہ کے اسی حکم پر عمل کرنے کے لیے خلافت نے  محمد بن قاسم کو ہندو راجہ داہر اور طارق بن زیاد کو  عیسائی بادشاہ  روڈیرک (Roderic)کے خلاف جنگ کرنے کے لیے بھیجا اور ان  مسلم کمانڈروں نے ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا ۔ لیکن آج مسلمانوں کی خلافت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف کفار کا ہاتھ روکنے کے بجائے ان کے مظالم پر خاموشی اختیار کررہا ہے بلکہ ظالم کافر ممالک کا ساتھ دے رہا ہے ۔  لیکن  باجوہ-عمران حکومت یہ جان لے کہ ایغور مسلمانوں کا مسئلہ ہمارے لیے نان ایشو نہیں بلکہ زندگی و موت کا مسئلہ ہے بالکل ویسے ہی جیسے کشمیر و فلسطین ہمارے لیے زندگی و موت کا مسئلہ ہے اور چند ٹکوں کے لیے ہم ایغور مسلمانوں کی حمایت سے دستبردار ہو کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غیض و غضب کو دعوت نہیں دے سکتے۔ آنے والی خلافت کشمیر و فلسطین کے ساتھ ساتھ ایغور مسلمانوں کو بھی کفار کے مظالم سے نجات اور آزادی دلائے گی۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد سے ایسا کرنا مشکل نہیں۔

  وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ

" اورجوشخص اللہ کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بے شک اللہ توانا اور غالب ہے"(الحج، 22:40)۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک