الجمعة، 19 ربيع الثاني 1442| 2020/12/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    20 من ربيع الاول 1442هـ شمارہ نمبر: 1442 / 26
عیسوی تاریخ     جمعہ, 06 نومبر 2020 م

پریس ریلیز
پاکستان میں کسان اور زراعت سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم کا شکار ہیں،

صرف خلافت ہی کسان اور زراعت کی حقیقی ترقی کو یقینی بنائے گی

 

            4 نومبر 2020 سے پنجاب بھر کے کسان لاہور میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس احتجاج نے اس وقت خونی رنگ اختیار کرلیا جب 5 نومبر کو انتظامیہ نے ان کے خلاف لاٹھی چارج کیا اور کسانوں پر آنسو گیس کے گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں ایک کسان رہنما زخمی ہو گئے جو بعد میں ہسپتال میں انتقال فرما گئے۔  کسانوں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ گندم اور گنّے کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے کیونکہ مہنگے بیج، کیڑے مار ادویات، کیمیائی کھاد اوربجلی کے باعث پیداواری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے اور وہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔  اس کے علاوہ پاکستان میں مزارعت کے باعث کئی کسان جاگیرداروں کو کرایہیا فصل کا ایک مخصوص حصہ دینے کے پابند ہوتے ہیں اس بات سے قطع نظر، کہ ان کی فصل اچھی ہوئی ہے یا بری۔  ٹڈی دل کے حملے کے بروقت تدارک نہ کرنے نے معاملہ اور گھمبیر کر دیا ہے۔  زرعی شعبے کو درپیشیہ تمام مسائل سرمایہ دارانہ نظام کے نفاذ کی وجہ سے ہیں۔ اس پر مستزاد کسانوں  سے کم قیمت پر خریدی گئی گندم اور گنا ملوں میں پراسیسنگ کے بعد عوام کو کئی گنا زیادہ داموں پر فروخت کیا جا رہا ہے، اور میڈیا رپورٹس کےمطابق عوام اور سرکاری خزانے کو صرف چینی کیمد میں 400 ارب سے زیادہ کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے ۔  درحقیقتیہ  سرمایہ دارانہ نظام حکومت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ  پیداوار میں استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکس عائد کرے۔ بیج، کیڑے مار ادویات اور کیمیائی کھاد کے مہنگے ہونے کی بنیادی وجہ ان پر عائد جنرل سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز ہیں ، اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام نے پیٹرول اور بجلی کے شعبے کو نجی شعبے کے حوالے کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرے دن بجلییا پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔  اور یہ سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے جو زرعی زمین کے مالک کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ زمین کسان کوفصل میں ایک مخصوص حصے یا مخصوص رقم کے بدلے کرائے پر دےسکے جس کے نتیجے میں نقصان کی صورت میں کسان تقریباً مکمل نقصان اٹھاتا ہے اور نفع کی صورت میں مکمل نفع کا مالک نہیں بن سکتا۔

 

            اسلام زراعت اور زرعی زمین کے حوالے سے منفرد قوانین فراہم کرتا ہے۔ اسلام پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکس عائد نہیں کرتا جس کے نتیجے میں بیج، کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات سستی ہوجاتی ہیں۔ اسلام توانائی کے شعبے کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے جس کے باعث پیٹرول اور بجلی کسانوں کو مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی ہے اور وہ کم قیمت پر ٹیوب ویل چلاسکتا ہے۔یوں جب پیداواری لاگت کم ہوجاتی ہے تو کسان کو اپنی فصل کے لیے کسی امدادی قیمت کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔ اسلام میں زرعی زمین کو کرائے پر دینےیا زرعی پیداوار کے کسی مخصوص حصے کے عوض دینے کی ممانعت ہے۔ زرعی زمین کے مالک کو خود کاشتکاری کرنی ہوتی ہے یااسے یہ زمین اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کیلئے چھوڑنی ہو گی۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ))'

'جس کے پاس زمین ہو تو خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے''(بخاري)۔

اور یہ بھی صحیح روایت سے ثابت ہے :

((أنه نهى عن أن يؤخذ للأرض أجر أو حظ، وعن أن تكرى بثلث أو ربع))

''آپ نے زمین پر اجرت اور حصہ لینے اور پیداوار کے تیسرےیاچوتھے حصے کے بدلے کرایے پر دینے سے منع فر مایا''۔

 

اسی طرح اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی غیر آباد زمین پر باڑ لگا لے تو وہ اس کا مالک بن جاتا۔ بخاری نے عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((مَنْ أَعْمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لأَحَدٍ فَهْوَ أَحَقُّ))

''جو ایسی زمین کو آباد کرے جو کسی کی نہیں تو آباد کرنے والا ہی اس کا حقدار ہے''۔

 

زرعی زمین کا مالک زرعی زمین کو مسلسل تین سال تک بیکار نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر زرعی زمین کا مالک تین سال تک زمین کاشت نہیں کر پاتا تو اس سے یہ زمین واپس لے لی جاتی ہے اور ایسے شخص کے حوالے کر دی جاتی ہے جو اس زمین کو کاشت کر سکے۔ یوں زراعت کے متعلق اسلام کے قوانین زرعی پیدوار کو زمین کی ملکیت سے منسلک کر کے زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔

اے پاکستان کے مسلمانو! پہلے سرمایہ دارانہ نظام نے پاکستان کی صنعت کو مفلوج کیا اور اب  یہ نظام زراعت کو تباہ کررہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی بہتری کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کو لپیٹ دیا جائے اور نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کی جائے جو پاکستان کو اسلامی قوانین کے نفاذ کے ذریعے زرعی طاقت بنادے گی۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک