الخميس، 09 رمضان 1447| 2026/02/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    8 من رمــضان المبارك 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/25
عیسوی تاریخ     بدھ, 25 فروری 2026 م

 

پریس ریلیز

«إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ، وَيُتَّقَى بِهِ»

 

"بے شک خلیفہ ڈھال ہے، جس کے پیچھے رہ کر جنگ کی جاتی ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن سے) بچاؤ کیا جاتا ہے۔" (متفق علیہ)

 

خلافت ہی ایران اور غزہ سمیت تمام مسلم علاقوں کو امریکی صلیبی حملوں سے محفوظ رکھے گی۔

 

صلیبی فرعون ٹرمپ کی جانب سے ایران کو "ڈیل" فائنل کرنے کے '10 سے 15 دن کے الٹی میٹم' کا وقت پورا ہو رہا ہے، جس کے ساتھ ہی خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دو امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراھم لنکن خطے میں جنگی پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔ اس جنگی دھمکیوں کے ماحول میں امریکہ ایران سے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو سرینڈر کرنے کے مطالبات کر رہا ہے، جیسے کہ وہ زمین کا بادشاہ ہو، جس کے سامنے انکار کی جرات بھلا کوئی کیسے کر سکتا ہے! امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے مڈل ایسٹ سٹیو وٹکاف نے ٹرمپ کی اس فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ حیران ہے کہ (اتنی بڑی جنگی طاقت کے سامنے) اب تک ایران جھکا کیوں نہیں؟ اس نازک صورتحال میں حزب التحریر ولایہ پاکستان اہل قوت، افواج اور امت کے سامنے درج ذیل نکات رکھنا چاہتی ہے:

 

1) ایران پر حملہ اُس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس سلسلے میں اب تک امریکہ براہ راست افغانستان، عراق، شام، یمن، ایران اور غزہ پر حملہ آور ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان، صومالیہ، لیبیا جیسے ممالک بھی امریکی ملٹری اپریشن، ڈرون حملوں، فضائی کاروائیوں اور دیگر زمینی جنگی اقدامات سے محفوظ نہیں رہے۔ امریکی جنرل اور نیٹو کے سابق کمانڈر، جنرل ویسلے کلارک پہلے ہی پینٹاگون کے ان منصوبوں کا ذکر کر چکے ہیں جس کا مقصد سات اسلامی مسلم ممالک پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس میں لبنان، شام، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور عراق شامل ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کب تک ہم ایک ایک کر کے مسلم سرزمینوں پر امریکی غلبے اور مسلمانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتے رہیں گے؟ اور یہ سوچتے رہیں گے کہ ہماری باری کبھی نہیں آئے گی؟ یہ قومی شناخت اور قومی بارڈرز ہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی طاقت کا شیرازہ بکھیر کر ہمیں کفار کے لیے تر نوالہ بنا دیا ہے۔

 

2) امریکہ کے افغانستان اور عراق سمیت دیگر مسلم ممالک پر حملے خطے کی مسلم ممالک کی عملی مدد اور وہاں پر موجود امریکی فوجی اڈوں کے بغیر ممکن نہیں تھے۔ امریکہ، سعودی عرب، اردن، کویت اور قطر جیسے ممالک کی مدد سے ہی عراق پر حملہ آور ہونے کے قابل ہوا، افغانستان پر امریکی حملے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، شام کے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے امریکہ کو شامی حکومت کی مدد حاصل تھی، حتی کہ غزہ کے اوپر امریکہ اور یہودی وجود کی مشترکہ جنگ میں خطے کے تمام مسلم ممالک نے امریکہ اور یہودی وجود کا ساتھ دیا۔ اور اب یہ خائن حکمران ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر غزہ پر امریکی قبضے کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا کردار انتہائی گھناونا ہے، جو صرف اور صرف امریکہ کے ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان، ترکی، مصر جیسا ایک ملک بھی ایران کا ساتھ دے تو خطے میں موجود امریکی جنگی طاقت آبنائے ہرمز میں ہی دفن ہو جائے۔ اگر پاکستان اپنے ہائپرسونک میزائلوں سے امریکی بحری بیڑوں کو ڈبو دے، تو امریکہ کی کمر ہی ٹوٹ جائے۔ امریکہ کے جدید بحری بیڑے اپنے تمام تر دفاعی نظاموں کے باوجود عملا sitting ducks ہیں۔ یقیناً امت کا ناسور اس کے امریکہ نواز حکمران ہیں جن سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر امت کی حالت زار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

 

3) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«ذِمَّةُ المُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ۔۔۔وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ»

"مسلمانوں کی ذمہ داری (عہد و امان) ایک ہے۔۔۔ اور وہ (سب) دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں۔" (ابی داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)۔

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ»

"مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے، اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔" (صحیح مسلم)۔

 

ایرانی حکومت کے مسلمانوں کے خلاف مسلسل ظالمانہ طرز عمل کے باوجود، اسلام یہ لازم کرتا ہے کہ ہم مسلم سرزمین کے دفاع کے لیے ایک ہوں۔ ہمارے لیے اللہ کا حکم قومی مفاد اور مصنوعی فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہے۔ اگر پاکستان، ایران اور ترکی ایک خلافت کے تحت وحدت اختیار کر لیں، تو یہ ریاست وسیع رقبے، کثیر آبادی، زرعی وسائل، توانائی کے بڑے ذخائر، عظیم جنگی افواج، ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس، جدید ترین جنگی جہازوں، میزائلوں اور ائیر ڈیفنس سسٹم اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہو گی، جس پر حملہ کرنے کی جرات کسی کافر ملک میں نہیں ہو گی، خواہ وہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس ریاست کی افواج کے متحرک ہونے سے قبل ہی یہودی وجود پر سکتہ طاری ہو جائے گا، اور یقیناً یہ خلافت ہی ہو گی جو مسلم افواج کو جہاد کے لیے متحرک کر کے یہودی ریاست کا خاتمہ کرے گی۔ حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود اہل قوت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ امت کی طاقت کو یکجا کرنے اور اللہ کے حکم کو پورا کرنے کی خاطر حزب التحریر کو خلافت کے قیام کیلئے فوراً نصرۃ فراہم کریں، اور موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کو کافر ممالک کے اوپر پلٹ دیں۔ یقیناً یہ اللہ کے فضل سے ان اہل قوت کے لئے توشہ آخرت بن جائے گا، اور ان شاءاللہ، اللہ آپ کو انصارؓ کے اجر سے نوازے گا، جنہوں نے پہلی بار اسلامی ریاست کے قیام کیلئے رسول اللہ ﷺ کو بیعت دی تھی۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک