الأربعاء، 18 ذو الحجة 1442| 2021/07/28
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    10 من ذي الحجة 1442هـ شمارہ نمبر: 1442 AH / 045
عیسوی تاریخ     پیر, 19 جولائی 2021 م

پریس ریلیز

حزب التحریر کی طرف سے عید الاضحیٰ مبارک ہو

 

الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد

(ترجمہ)

 

 

اللہ کے نام سے، جو رحمن اور رحیم ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے، جو تمام کائنات کا مالک ہے، جو فتح اور بااختیار بنانے کی خوشخبری لاتا ہے ، اور جو عظیم آیات سے ہمیں خبردار کرتا ہے۔ دعائیں اور سلامتی اس پر ہے جس نے ہمیں ایک ایسا قانون عطا کیا ہے جس کے ذریعہ دل ہلکے ہوجاتے ہیں ، ذہن روشن ہوجاتے ہیں ، اور حالات  بہتر ہوجاتے ہیں، اور ہمارے لئے خلافت  قائم کی جس میں زمینیں وسیع ہوگئیں تھیں ، زندگی خوشحال ہوگئی تھی ، اور مختلف نسلیں بھائیوں کی حیثیت سے متحد تھیں۔۔۔ہمارے آقا ، اعلیٰ ترین تخلیق محمدﷺ اور ان کے اہل خانہ اور اُن کےساتھیوں پر۔

 

نماز عید کے بعد مصافحہ کرنے والوں کی خوشی ، مسلم گھروں میں بچوں کی خوشی ، اطاعت کرنے والے عبادت گزاروں کی خوشی اور ذی الحجہ کے ان دس دنوں کے اجر کا پھل ، عزیز الجبار کو قربانیوں کی پیش کش ، اور ان لوگوں کے لئے رسومات کو مکمل کرنے کی خوشی جو مقدس گھر تک پہنچنے کے قابل تھے۔

 

بابرکت عید الاضحیٰ میں خوش آمدید۔۔۔ اُن خوشیوں میں خوش آمدید جو دلوں کو اطمینان دیتی ہیں۔۔۔اُن خوش خبریوں، بشارتوں، میں خوش آمدید جو قریب ہی ہیں۔۔۔

 

اس بابرکت موقع پر ، مجھے حزب التحریر کے اراکین کی طرف سے اس خاص امت کو خصوصی مبارکباد پیش کرنے پر خوشی ہے جس کو لوگوں کے لیے اٹھایا گیا، وہ امت جس کا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، اللہ سے دعا گو ہیں کہ یہ عید کی خوشی جلد آنے والی راحت اور واضح کامیابی کی نوید ثابت ہو۔

میں حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے سربراہ اور اس کے تمام کارکنوں کی طرف سے ، حزب التحریر کے امیر ، ممتاز عالم ، عطا بن خلیل ابو الرشتہ کو خصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ نبوت کے نقش قدم  پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لئے اس دعوت کی قیادت اور نصرت  (فوجی مدد)کی درخواست کرنے میں ان کی رہنمائی فرمائے۔

 

اے مسلمانو!

اللہ نے ان اقوام کے اندر ایسے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے جو ان کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، اُن کے احساسات کو سمجھتے ہیں اور ان کی حالت کا اظہار کرنے کے اہل ہیں۔ جب وہ لوگ، جنہیں اللہ نے اِن صلاحیتوں سے نوازا ہے ، اپنے لوگوں سے خطاب اور نصیحت کرنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ لوگوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں اور وہ ان لوگوں کی حیثیت اختیار کرتے ہیں جو اپنے لوگوں کے لئے رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں۔  اس عید پر ہم ان سے خصوصی طور پر خطاب کریں گے ، تاکہ ان کو ان کے کردار کی اہمیت کی یاد دلائیں ، اور امت کو ان کے حوالے سے اپنا حق معلوم ہوجائے۔

 

اسلامی امت میں عوامی رائے عامہ تشکیل دینے والے تمام لوگ:

آپ کے پاس پلیٹ فارم ، ویب سائٹس ، قلم ، صفحات ، چینلز ، اخبارات ، پروگرام اور میڈیا پلیٹ فارمز ، دعوتی اور غیر دعوتی پلیٹ فارمز ، اور میڈیا کے ہر طرح کے مواد بنانے والے، اور آپ میں سے جو اسلام کے معاملات کی آگاہی رکھتے ہیں، زندگی اور لوگوں کے امور کے متعلق آگاہی رکھتے ہیں، اور آپ میں سے ہیں۔ جو زندگی کے معاملات اور لوگوں کے امور سے آگاہ ہیں اور جو زندگی گزارنے اور سنجیدگی سے متعلق معاملات بھی انجام دیتے ہیں: اس عید پر ہم آپ سب کو آپ کی اہلیت کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں کہ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امت اسلامیہ کے لوگوں میں مشورے ، رائے دینے اور رہنمائی کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا، 

«أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ كَانَ مَوْقُوفاً مَعَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُغَادِرُهُ وَلَا يُفَارِقُهُ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا. ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾»

"جب بھی کوئی کسی کو طلب کرے گا ، تو قیامت تک اس کے ساتھ رہے گا ، نہ اسے چھوڑے گا اور نہ ہی اس سے جدا ہوگا ، چاہے کوئی آدمی دوسرے آدمی کو پکارے ، پھر آپﷺ نے تلاوت فرمائی؛"اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے"(الصافات:24)۔

 

ہمیں تین حقائق کا یقین ہے کہ ان کے متعلق اسلامی امت کا عوامی شعور اور عوامی رائے قائم ہوچکی ہے۔

 

پہلی حقیقت: یہ ہے کہ امت نے اچھی طرح سے یہ جان لیا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے اسلام ہی وہ طریقہ کار ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ  قبول فرماتے ہیں۔

 

دوسری حقیقت: یہ ہے کہ  ایک صدی کی زبردست جدوجہد  کے بعدامت یہ بات اچھی طرح سے جان گئی ہے کہ اس کی عزت اور خوشحالی صرف اور صرف خلافت کے قیام سے منسلک ہے۔

 

تیسری حقیقت: یہ ہے کہ اسلامی امت ہدایت یافتہ اسلام کی حکمرانی کی واپسی کا مطالبہ کررہی ہے جو کہ صحابہ کرام ؓ کے دور میں موجود تھی۔  امت اس کے لیے اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے  اگر اسے اس بات کا احساس  اور اس کے حصول کے راستے کے بارے میں یقین ہو۔

 

ان تین حقائق کے متعلق ہمیں امت مسلمہ کی موجودہ رائے عامہ کے بارے میں یقین ہے ، لیکن یہ حقائق امت کی ترقی کے لیے اسے نجات کے راستے پر چلانے  کے لئے کافی نہیں ہیں۔ بلکہ جب اسے سازشوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے اسلامی نظریہ کی تفصیلات جاننے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں امت مسلمہ کے بیٹوں میں رائے عامہ بنانے والوں کا کردار سامنے آتا ہے کہ وہ امت کو اسلامی خیال کی تفصیلات فراہم کریں۔ یہاں ہمیں ان مثالوں کا حوالہ دینا ہوگا جو اس ذمہ داری کی اہمیت اور سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب رائے عامہ بنانے والا - جو  اسلامی امت کے اتحاد سے پیار کرتا ہے اور اس کی خواہش رکھتا ہے – جب وہ وطن پرستی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سیاسی آئیڈیا  اپنے سامعین کے سامنے پیش کرتا ہے ، یا وہ مسلم ممالک میں اقوام کی خودمختاری کا احترام کرنے کی ذمہ داری کی حمایت کرتا ہے، جیسے کہ دوسرے ممالک کے مسلمانوں کو شہریت دینے اور ان کے سفری ویزا دینے اور انکار کرنے کے قوانین وغیرہ ، اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ قوم پرستی کا خیال اور قومی خودمختاری کے نتیجے میں ہونے والے قوانین خطرناک سیاسی نظریات کے سوا کچھ نہیں ہیں ، اور ان کا مقصد امت اسلامی کے اتحاد کے نظریے پر حملہ کرنا ہے ۔    بلکہ اسے حب الوطنی کے حرام ہونے کا ذکر اور اپنے عوام کو اس کے خطرے سے خبردار کرنا چاہیےتھا۔ بلکہ  اسے ضروری اسلامی تعلیم لینے میں سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیےتھا تا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں بلکہ اسلامی شریعت کے طریقہ کار کے مطابق انسانی وفاداری اور ان کے مفادات کے بارے میں ایک فہم پیش کرسکے۔

اس طرح کی لاپرواہی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جب مسلم ممالک کا ایک شہر کسی فوجی حملے کی زد میں آجاتا ہے تو ، میڈیا مواد بنانے والے اپنے خلوص کے ساتھ ، حملہ آور پر حملہ کرتے ہیں اور حملے کا شکار ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ، لیکن وہ امت کی اس طرح رہنمائی نہیں کرتےکہ کافر کا حملہ پسپا کرنے کے لیے مسلم افواج کو حرکت میں لایا جائے ، اس اصلاح کی بجائے ، وہ امت اسلامیہ میں مغربی ممالک میں رائے عامہ کو شرمندہ کرنے والی مہموں کے ذریعہ عوامی رائے پر قابض ہوجاتے ہیں ، پھر وہ دنیا کے ممالک بالخصوص کفار اور مغرب کے استعمار پسند ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جنگ روکنے کے لئے مداخلت کریں!جب کہ ان کا فرض تھا کہ امت میں عوامی رائے کو متحرک کریں تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ مسلم شہروں کا دفاع ان کی بیرکوں میں بیٹھی مسلم فوجوں کو کرنا ہے۔

اسلامی امت میں عوامی رائے عامہ تشکیل دینے والے تمام لوگ:

 

ہم، حزب التحریر، خالص اسلامی افکار کے ذریعہ امت کی مدد کرنےکی آپ کی ذمہ داری آپ کو یاد دلاتے ہیں۔ حزب التحریر آپ کے ہاتھ میں سیاسی فکری مواد رکھتا ہے جسے اسلامی قوانین کے ماخذ سے دلیل کی مضبوطی کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہوتا ہے۔ اس میں حزب سیاسی و فکری چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے شرعی رائے اور امت کو درپیش عصر حاضر کے مسائل کے شرعی حل پیش کرتی ہے۔ لہٰذا ، ہوشیار رہو ،اے پلیٹ فارم کے مالکان اور رائے عامہ بنانے والے ، محتاط رہیں کہ آپ امت کو ایسے سیاسی تجربات مہیا کریں جو آپ کے نفس کی خواہش پر مبنی ہو ، جو آپ کو گمراہ کردے اور آپ لوگوں کو اپنے ساتھ دھوکہ دیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، 

[لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ]

"(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھیاٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیںگے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں"(النحل:25)۔

 

الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد

 

عید مبارک، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 

انجینئر صالح الدین عضاضہ

ڈائریکٹرمرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک